بالین شاہ بنے نیپال کے وزیراعظم ، عہدے کا لیا حلف
نیپال میں جنریشن زیڈ نے گزشتہ سال اقتدار میں تبدیلی لانے کا جو عہد کیا تھا وہ آج پورا ہو گیا ہے۔ نیپال کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی کے رہنما بالین شاہ نے ملک کے نئے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ وہ نیپال کے 47ویں وزیر اعظم بنے۔ صدر رام چندر پوڈیل نے انہیں آئین کے آرٹیکل 76(1) کے تحت اس عہدے پر مقرر کیا۔
بالین شاہ نے جمعہ کو رام نومی کے موقع پر کھٹمنڈو میں ایک عظیم الشان تقریب میں وزیر اعظم کے طور پر حلف لیا۔ انہوں نے کھٹمنڈو کے صدارتی محل شیتل نواس میں مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12:34 پر حلف لیا۔ اہم بات یہ ہے کہ حلف برداری کی تقریب ہندو رسومات کے مطابق منعقد کی گئی ۔ حلف برداری کی تقریب کے بعد، ایک انتہائی جذباتی لمحے کا مشاہدہ کیا گیا جب انہوں نے عبوری وزیر اعظم سشیلا کارکی کو گلے لگایا۔ گزشتہ سال جنریشن زیڈ کے احتجاج کے بعد نیپالی سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی کو عبوری وزیر اعظم بنایا گیا تھا۔بالین شاہ نے سابق وزیراعظم کو دی شکست
بالین شاہ کے وزیر اعظم بننے کا راستہ اس وقت صاف ہو گیا جب ان کی پارٹی راشٹریہ سواتنتر پارٹی نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ جس کے بعد جمعرات کو انہیں پارٹی کا پارلیمانی لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ اس الیکشن میں بالین شاہ نے سابق وزیر اعظم کے پی کو شکست دی۔ انہوں نے جھپا-5 سیٹ پر 49,614 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ شاہ کو 68,348 ووٹ ملے جبکہ اولی کو صرف 18,734 ووٹ ملے۔ اس فتح کو 1991 کے بعد نیپال کی پارلیمانی تاریخ میں سب سے بڑی فتح مانا جاتا ہے۔
کھٹمنڈو کے میئر رہ چکے ہیں بالین
بالین شاہ کی سیاست میں انٹری کافی دلچسپ رہی ہے۔ انہوں نے پہلی بار 2022 میں الیکشن لڑا اور کھٹمنڈو میٹروپولیٹن میونسپلٹی کے میئر بنے۔ وہ اس وقت ایک آزاد امیدوار کے طور پر جیتے، جس نے انہیں ملک بھر میں پہچان دی۔ 27 اپریل 1990 کو کھٹمنڈو میں پیدا ہونے والے بالین شاہ کا انجینئرنگ کا پس منظر ہے۔ انہوں نے بھارت میں Visvesvaraya ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی سے اسٹرکچرل انجینئرنگ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ انھوں نے پہلے کھٹمنڈو سے بیچلر کی ڈگری مکمل کی تھی۔بالین نے انجینئرنگ کی بھی حاصل کی تعلیم
ان کی انجینئرنگ کی تعلیم نے انہیں شہری ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے بارے میں گہری سمجھ دی، جو ان کے میئر کے دور میں واضح تھی۔ اب وزیر اعظم بننے کے بعد ان سے توقع ہے کہ وہ اس تجربے کو ملک کی ترقی کے لیے استعمال کریں گے۔ نیپال کی سیاست میں اس تبدیلی کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ ایک نوجوان اور غیر روایتی رہنما براہ راست اقتدار کی چوٹی تک پہنچ گیا ہے۔
ایران کی ٹرمپ کے دعوے کی تردید، توانائی کی تنصیبات پرحملہ مؤخرکرنے کے لیے نہیں کی گئی درخواست
جنگ بندی کے دعوؤں اور بیان بازیوں کے بیچ جنگ جاری ہے۔اس دوران ،امریکی صدرٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے ہی سرخیوں میں ہیں۔ ٹرمپ نے ایک اور دعویٰ کیا ہے۔انھوں نے 6 اپریل تک ایرانی پاور پلانٹس پر حملہ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ان سے حملہ ٹالنے کے لیے7 دنوں کی مہلت مانگی تھی۔
تاہم اب ایران نے ٹرمپ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امن مذاکرات کی سعی میں شامل ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکہ سے درخواست نہیں کی گئی۔ یہ بیان ٹرمپ کے دعوے کو چیلنج کرتا ہے۔ اگر ایران کی بات مانی جائے تو ٹرمپ دوسری بار حملہ کرنے سے پیچھے ہٹ گئےہیں اور فضیحت نہ ہو ایسا دکھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جیسے ایران ان سے التجا کر رہا ہے۔ایران کی درخواست پرحملہ مؤخرکرنے کا اعلان
دراصل ، ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کو 10 دن کے لیے مؤخرکر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ایران کی درخواست پر کیا گیا ہے اور یہ کہ مذاکرات بہت اچھی طرح سے جاری ہیں ۔ ٹرمپ نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ ایران نے سات دن کا وقت مانگا تھا لیکن انھوں نے 10 دن کی توسیع دے دی۔ تاہم ٹرمپ کے بیان کے چند گھنٹے بعد ہی ایران نے واضح کیا کہ اس نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ ٹرمپ نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو وہ 48 گھنٹوں کے اندر ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ کر دیں گے۔ اس کے بعد انھوں نے ڈیڈ لائن میں پانچ دن کی توسیع کی اور اب اسے 10 دن تک بڑھا دیا ہے۔تہران کا مذاکرات سے انکار
تہران کا موقف بالکل واضح ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے امریکہ کی 15 نکاتی امن تجویز پر تاحال کوئی حتمی جواب نہیں دیا ہے۔ اگرچہ بات چیت کے امکان کو رد نہیں کیا گیا ہے، تاہم کئی شرائط کو انتہائی سخت قرار دے کر مسترد کر دیا گیا ہے۔ ایران خاص طور پر اپنے میزائل پروگرام اور یورینیم کی افزودگی سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ اس نے واضح کیا ہے کہ وہ ان سرگرمیوں کو مستقل طور پر ختم کرنے کا کوئی عہد نہیں کرے گا۔
پیٹرول۔ڈیزل کی ایکسائزڈیوٹی میں کمی، حکومت کا بڑا فیصلہ
مرکزی حکومت نے پٹرول، ڈیزل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) سے متعلق ٹیکس اور برآمدی ضوابط میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ پیٹرول پر ایکسائزڈیوٹی 13 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 3 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر سے کم کر کے صفر کر دی گئی ہے۔ تاہم، اس کے نتیجے میں خوردہ قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تمام نئے ضوابط فوری طور پر نافذ ہو گئے ہیں۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد توانائی کے شعبے میں ٹیکس کے ڈھانچے کو معقول بنانا اور برآمدات سے متعلقہ دفعات کو واضح کرنا ہے۔
حکومت نے پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) اور ATF پر ضوابط 18 اور 19 کی دفعات کو لاگو نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سینٹرل ایکسائز رولز، 2017 میں ترمیم کی ہے۔ تاہم، یہ تبدیلی پبلک سیکٹر آئل کمپنیوں (PSUs) کو راحت فراہم کرتی ہے۔ اگر یہ کمپنیاں نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو ایندھن برآمد کرتی ہیں تو پرانے ضوابط لاگو ہوں گے اور انہیں وہی رعایت ملتی رہے گی۔ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کیوں ؟
حکومت نے برآمد کے لیے بھیجے جانے والے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر اسپیشل ایڈیشنل ایکسائز ڈیوٹی (SAED) کی شرح 18.5 فی لیٹر مقرر کی ہے۔ اس خصوصی ڈیوٹی کو پٹرول (موٹر اسپرٹ) کی برآمد پر صفر کر دیا گیا ہے، جس سے پٹرول کی برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید ، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر اضافی ایکسائز ڈیوٹی 3 فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ حکومت نے غیر ملکی ایئر لائنز کو برآمدات اور ایندھن کی فراہمی میں بھی راحت دی گئی ہے۔ اب، جب پیٹرول، ڈیزل، یا اے ٹی ایف غیر ملکی ایئر لائنز کو بطور ایندھن برآمد یا سپلائی کیا جاتا ہے، تو وہ بنیادی ایکسائز ڈیوٹی اور زرعی سیس (AIDC) کے تابع نہیں ہوں گے۔ اس سے بین الاقوامی ہوا بازی کے شعبے کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔
ایوی ایشن فیول پر ایکسائز ڈیوٹی
ہوا بازی کے ایندھن (ATF) کے معاملے میں، حکومت نے خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی کو بڑھا کر 50 فی لیٹر کر دیا ہے۔ تاہم، مفاد عامہ میں، ایک مزید نوٹیفکیشن نے ریلیف فراہم کیا ہے، جس نے مؤثر شرح کو کم کر کے 29.5 فی لیٹر کر دیا ہے۔ مزید ، کچھ شرائط کے تحت اس خصوصی ڈیوٹی سے برآمد شدہ ATF کو مکمل طور پر مستثنیٰ کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ حکومت نے درآمدی اے ٹی ایف پر بھی ریلیف دیا ہے۔ کسٹم ڈیوٹی جو کہ خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی کے مساوی تھی ہٹا دی گئی ہے۔
اس فیصلے سے امپورٹڈ اے ٹی ایف کی لاگت کم ہو سکتی ہے اور ایئر لائن سیکٹر کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ ان حکومتی فیصلوں سے تیل اور ہوا بازی کے شعبوں میں ٹیکس کے ڈھانچے کو واضح کیا جائے گا اور توقع ہے کہ برآمدات کو فروغ ملے گا۔ تاہم، ان تبدیلیوں کا حتمی اثر تیل کی بین الاقوامی قیمتوں اور مارکیٹ کے حالات پر منحصر ہوگا۔ایکسائز ڈیوٹی میں کمی سے کمپنیوں کو فائدہ
جب حکومت پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی کم کرتی ہے تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے اخراجات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر پٹرول اور ڈیزل کی پمپ قیمتوں میں فوری کمی نہیں کی گئی تو یہ فائدہ براہ راست کمپنیوں کو پہنچتا ہے۔ کم اخراجات کمپنیوں کے منافع کے مارجن میں اضافہ کرتے ہیں، جو ان کی کمائی اور نقد بہاؤ کو بہتر بناتے ہیں، ان کی بیلنس شیٹ کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس سے پہلے، جب خام تیل $120 فی بیرل تک پہنچ گیا تھا، تو کمپنیاں پیٹرول اور ڈیزل بیچنے میں نقصان اٹھا رہی تھیں، اس لیے بہت سے بروکریجز نے اپنے اسٹاک کو گھٹا دیا۔ اب ڈیوٹی میں کمی سے ریلیف ملتا ہے۔