*سنو کیا چل رہا ہے مالیگاؤں شہر میں ۔۔۔*
ایک طرف کارپوریشن کی زمین کو بیچ کر کھانے کی نیت ہے تو دوسری جانب سروے نمبر 16 کی سنڈاس کی دیوار کو توڑ کر ساپنگ سینٹر بنائے جانے کی گونج سنائی دے رہی ہے اور اس کے لیے وارڈ کے کارپوریٹروں کے ذریعے سات سات لاکھ روپے وصول کرنے کی بات بھی سنائی دے رہی ہے۔ وہیں قدوائی روڈ پر یا قدوائی روڈ سے لگ کر سینٹرل کھڈے کے بازو سے بڑی گٹر کے اوپر شاپنگ سینٹر بنا کر ہاکروں کو دینے کی بات بھی چل رہی ہے۔ اس میں وصولی وہ بھی چناؤ سے پہلے ہی ہو چکی ہے۔ ابھی تو صرف معمولی وصولی ہوئی ہے۔ یعنی 10 فیصد وصولی ہوئی ہے۔ آگے چل کر اور 90 فیصد وصولی ہونا باقی ہے۔ گالا بنے گا نہیں بنے گا یہ تو رب جانے اور بھی بہت سارے علاقوں میں کارپوریشن کی جگہوں جگہوں کی بندر بانٹ کے پلان جاری ہیں۔ شروع شروع میں ہی کچھ کارپوریٹر ایک اسکول گئے تھے جس کا ویڈیو بھی انہوں نے خود ہی وائرل کیا تھا کہ یہاں بچوں کو چارٹ کے مطابق مڈ ڈے میں یعنی کھانا نہیں مل رہا ہے۔ اب وہ بات کیا ہوئی سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ کھچڑی کا ٹھیکہ دار کسی اور کو سمجھ کر وزٹ کیے تھے مگر وہ تو اپنا والا نکلا۔ یعنی اپنا والا کچھ بھی کرے ہم کچھ نہ بولیں گے اور دیگر پارٹی کا کچھ کرے گا تو ہم چیخ پکار کریں گے۔ بہرحال مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی نئی باڈی کب کیا کر ڈالے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
فقط عبدالخالق صدیقی موبائل نمبر،7066280899
[قسط نمبر: 01]
کتاب: تجارتِ مصطفیٰ ﷺ اور جدید کاروباری اخلاقیات
تحریر: حبیب رشید
مقدمہ: معیشتِ انسانی اور اسلامی ضابطہ حیات
انسانی زندگی کے قیام اور بقا کے لیے معیشت (Economy) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ، چاہے وہ قدیم ہو یا جدید، مادی وسائل اور لین دین کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معیشت کا مقصد صرف "زیادہ سے زیادہ دولت" جمع کرنا ہے؟ یا اس کا مقصد انسانیت کی فلاح ہے؟
موجودہ دور کا سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) ہمیں سکھاتا ہے کہ "نفع" ہی اصل خدا ہے، چاہے وہ کسی کا حق مار کر حاصل کیا جائے یا دھوکہ دہی سے۔ اس کے برعکس، اسلام ہمیں ایک ایسا متوازن معاشی نظام دیتا ہے جہاں تجارت صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا راستہ ہے۔
قرآنِ کریم کا معاشی فلسفہ:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں ارشاد فرمایا:
"لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ"
(تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرو۔) — سورہ البقرہ: 198
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں "فضل" سے مراد تجارت اور کسبِ معاش ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے رزق کی تلاش کو اپنا فضل قرار دیا ہے۔ اسلام میں ایک تاجر جب صبح دکان کھولتا ہے اور نیت یہ کرتا ہے کہ میں حلال کماؤں گا تاکہ اپنے بچوں کی پرورش کر سکوں اور معاشرے کی خدمت کر سکوں، تو اس کا وہ پورا دن "عبادت" میں شمار ہوتا ہے۔
حلال رزق اور قبولیتِ دعا کا تعلق:
ایک مشہور حدیثِ مبارکہ میں ذکر ہے کہ ایک شخص طویل سفر کرتا ہے، اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں، وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر "یا رب! یا رب!" پکارتا ہے، مگر اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے اور اس کا لباس حرام کا ہے، تو اس کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے؟ (صحیح مسلم)۔
یہ نکتہ اس کتاب کی بنیاد ہے کہ اگر ہماری تجارت پاکیزہ ہوگی تو ہماری دعائیں اور زندگی بھی بابرکت ہوگی۔
بابِ اول: طلوعِ اسلام سے قبل کی تجارتی منڈی اور نبوی ﷺ کردار
نبوت کے منصب پر فائز ہونے سے قبل بھی مکہ کی وادی میں حضرت محمد ﷺ کی شخصیت ایک روشن ستارے کی طرح تھی۔ عرب کا معاشرہ اس وقت اخلاقی پستی کا شکار تھا، لیکن تجارت ان کا خون اور زندگی تھی۔ مکہ ایک بین الاقوامی "ٹریڈ سنٹر" تھا جہاں یمن، شام اور حبشہ کے قافلے آتے جاتے تھے۔
1. بچپن کے اسفار اور عالمی تجربات (Global Exposure)
حضور ﷺ نے کم عمری میں ہی تجارت کی باریکیاں سمجھنا شروع کر دی تھیں۔ جب آپ ﷺ نے اپنے چچا حضرت ابوطالب کے ساتھ شام کا سفر کیا، تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف مذاہب رکھنے والے تاجر کس طرح منڈیوں میں سودا بازی کرتے ہیں۔
قدیم مثال: اس دور میں مال کی فروخت کے لیے جھوٹی قسمیں کھانا عام تھا۔ تاجر گاہک کو متاثر کرنے کے لیے کہتا تھا کہ "خدا کی قسم! یہ مال مجھے اتنے میں پڑا ہے" حالانکہ وہ جھوٹ بول رہا ہوتا تھا۔
جدید مثال: آج کے دور میں اسے "فریبِ اشتہار" (Deceptive Advertising) کہا جاتا ہے۔ بڑی کمپنیاں ٹی وی پر ایسے دعوے کرتی ہیں جو حقیقت میں پروڈکٹ میں موجود نہیں ہوتے۔ آپ ﷺ نے اس زمانے میں بھی سچائی کو ترجیح دی اور ثابت کیا کہ نفع سچ بولنے میں زیادہ ہے۔
2. دیانت داری کا عملی نمونہ: سائب بن ابی سائبؓ کا واقعہ
حضرت سائب بن ابی سائبؓ مکہ کے ایک تاجر تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد فرمایا: "اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ (نبوت سے پہلے) میرے شریکِ تجارت (Business Partner) تھے، آپ کتنے بہترین ساتھی تھے، نہ جھگڑا کرتے تھے اور نہ ہی کسی معاملے کو الجھاتے تھے۔"
تجزیہ: آج کے دور میں پارٹنرشپ (Partnership) کا سب سے بڑا مسئلہ "ٹرسٹ ڈیفیسٹ" (Trust Deficit) یعنی اعتماد کی کمی ہے۔ پارٹنرز ایک دوسرے سے حساب چھپاتے ہیں۔ لیکن آپ ﷺ کا اسوہ سکھاتا ہے کہ پارٹنرشپ کی کامیابی شفافیت (Transparency) میں ہے۔
3. حضرت خدیجہؓ کی تجارت اور "مضاربت" کا اصول
حضرت خدیجہؓ مکہ کی سب سے کامیاب بزنس ویمن تھیں۔ وہ اپنا مال دوسروں کو "مضاربت" (اس میں ایک کا پیسہ ہوتا ہے اور دوسرے کی محنت) پر دیتی تھیں۔ انہوں نے جب آپ ﷺ کی امانت و دیانت کے قصے سنے تو آپ ﷺ کو شام بھیجا۔
واپسی پر آپ ﷺ نے انہیں پائی پائی کا حساب دیا اور مال میں ایسی برکت ہوئی جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔
قدیم نکتہ: اس زمانے میں لوگ دوسروں کا مال مار لینے یا حساب میں گڑبڑ کرنے کو "ہوشیاری" سمجھتے تھے۔
جدید نکتہ: آج کی کارپوریٹ دنیا میں اسے "ایتھیکل انویسٹمنٹ" (Ethical Investment) کہا جاتا ہے۔ سرمایہ کار ہمیشہ ایسے شخص کی تلاش میں ہوتا ہے جو ایماندار ہو۔ حضرت خدیجہؓ کا آپ ﷺ پر اعتماد اس بات کی دلیل ہے کہ "کردار" (Character) ہی سب سے بڑی "کرنسی" ہے۔
مہاراشٹر اسٹیٹ اُردو ساہتیہ اکادمی کی جانب سے کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی امداد کا اعلان
ممبئی (پریس ریلیز): مہاراشٹر اسٹیٹ اُردو ساہتیہ اکادمی نے اُردو زبان و ادب کی مختلف اصناف میں تخلیقی خدمات انجام دینے والے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کے پیشِ نظر ان کی کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اکادمی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق کیلنڈر سال ۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۴ء کے دوران اکادمی کو موصول ہونے والے مسودات کی ماہرین ادب کے ذریعے جانچ و پڑتال کے بعد مختلف ادبی زمروں میں متعدد مسودات کو مالی اعانت کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
اکادمی کے مطابق اس اسکیم کا بنیادی مقصد اُردو زبان و ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ معیاری تخلیقات کی اشاعت کو ممکن بنانا اور نئے و باصلاحیت قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس سلسلے میں منتخب کیے گئے مسودات کو اکادمی کے قواعد و ضوابط کے مطابق جزوی مالی اعانت فراہم کی گئی تاکہ یہ علمی و ادبی سرمایہ کتابی شکل میں قارئین تک پہنچ سکے۔
اکادمی کے کارگزار صدر حسین اختر نے امید ظاہر کی ہے کہ اس طرح کی اسکیموں کے ذریعے اُردو زبان و ادب کے تخلیقی سرمائے میں اضافہ ہوگا اور اہلِ قلم کو اپنی تحقیقی و ادبی کاوشوں کو منظر عام پر لانے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ اکادمی نے تمام منتخب مصنفین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ اُردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے اس طرح کی سرگرمیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔
2023 میں جن مسودوں کو مالی اعانت دی گئی ان کی تفصیل:
تحقیق اورتنقید :تفہیم کے دائرے میں(فردوس انجم)،اردو شاعری میں اخلاقی عناصر(ڈاکٹر تحسین کوثر)زیر نظر(ڈاکٹر محمد اسد اللہ)،بر محل اشعار کے تناظر میں سرقہ اور توارد(خلیق الزماں نصرت)
ادب اطفال:صبح نکلتا وہ سورج(علیم طاہر)،گلستاں(انصاری محمد جاوید)،مرچ شہزادی (انصاری مختار احمد)،تاروں بھرا آسمان(شاہ تاج خان)،افسانچہ اطفال(سراج فاروقی)
مضامین ترجمہ:وہ پھلوں کی ملکہ (ڈاکٹر سنمتر نوگھڑے)،ضیائے قلم(ضیاالرحمان قریشی)،مضامین محمدی (میر ذاکر علی)
سوانح ،سفرنامہ،سائنس:فکشن پر گفتگو(طاہر انجم صدیقی)،شعری کتابیات مالیگاوں(ڈاکٹر آصف فیضی)گلہائے ادب اپنے رنگ و بو میں(ڈاکٹر عبد العزیز عرفان)،نقش تحریر(وجاہت عبدالستار)،بت کہی (اشتیاق سعید)
شاعری: رنگ الفت(منظور فیض سبحانی)،یادرفتگاں (سید ہاشمی علی)،بساط سخن(عرفان قنوجی)،فسون شب (قدرت ناظم)،بچوں کا دل کھولاپوری(عبدالرزاق)نیرنگ نظر (راعنا حیدری)،دانائے سخن(عبدالرحمان سراج)
طنز و مزاح:پڑھتے پڑھتے مسکرانا(شکیل اعجاز)
2024 میں جن مسودوں کو مالی اعانت دی گئی ان کی تفصیل:
تحقیق اورتنقید :نورالحسنین کی ڈراما نگاری کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ(شیخ اظہر بشیر)،حسین الحق ناولوں کے آئینہ میں(رضوانہ رہبر)
ادب اطفال:آسیب کی گرفت میں(شعیب محمدمحسن)،معاشرتی کہانیاں (تبسم نازنین)
مضامین ترجمہ:کاوشیں (ڈاکٹر شیخ عمران)،عالمی لوک کہانیاں (عرفان عالم منشی)،سعادت حسن منٹو کی کہانیوںمیں سماجی شعور (ملک اکبر)
سوانح ،سفرنامہ،سائنس:پراگندہ کیمیات(ڈاکٹر رفیع الدین ناصر)،انڈا سیل سے بیوی کے نام خطوط(ڈاکٹر شیخ عبدالواحد)
شاعری:معراج رباعی(ابو سامہ ہارون رشید)،مہکتے لفظ (اظہر عاطف)،مدحت کے پھول (انیس عبدالرحمان پٹیل)،سخن کی خوشبو(حکم چند کوٹھاری)،گلہائے سخن (وجاہت حسین خان)، تنشق (شیخ مشتاق)
طنز و مزاح:آدھی دنیا کا مکمل آدمی(اظہر فاضل)
افسانہ،ناول:ستم ہائے روزگار(سہیم الدین صدیقی)،سن سکو گے(شاہ نواز اختر انصاری)،رات (رضوان نقی)