*اور ملا سوم انعام*
*اسکول شیخ امام*
*_ہار ہو جاتی ہے جب مان لیا جاتا ہے*
*جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے*_
اللہ پاک کا بہت ہی بڑا کرم ہے کہ جاری تعلیمی سال کے آخری اسکولی مقابلے میں ایک مرتبہ پھر *شیخ امام پرائمری اسکول مالیگاؤں ضلع ناسک مہاراشٹر* نے کامیابی کا عَلَم تھامے رکھا۔
آج بروز بدھ 11 فروری 2026 مالیگاؤں کی جامعتہ الہدی ہائی اسکول کیمپس میں *آل مالیگاؤں قصہ گوئی* کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں شہر عزیز کی 23 اسکولوں نے اپنے ہونہار طلبہ کے ساتھ شرکت کی اور مقابلے کو دلچسپ مفید پُراثر اور مزیدار بنایا ۔۔
الحمداللہ! رب العزت نے اس مسابقے میں ایک بار پھر *شیخ امام پرائمری اسکول* کے جماعت *چہارم* کے طالب علم *محمد سعدین محمد اسماعیل* نے اپنے دلنشین انداز اور لب ولہجہ کی بنیاد پر *سوم انعام* کے حق سے نوازا۔ ۔طالب علم محمد سعدین محمد اسماعیل نے *مُناظرہ* عنوان سے اپنا قصہ پیش کرکے جج صاحبان کے ساتھ ہی ساتھ حاظرین و ناظرین کو متاثر بھی کیا۔اس طالب علم کو تیار کئے ہیں اسکول ہذا کے معلم *زاہد امین سر* اور قصے کا انتخاب کیا تھا *آصف اقبال سر* نے۔۔
انعام میں ایک خوبصورت *ٹرافی،بورڈ، رائٹنگ پیڈ،پیالے کا سیٹ، ایک باکس،ایک دعا کی کتاب ،ایک قصے کی کتاب فاتح اور شرکت کا سرٹیفکیٹ* جیسی چیزیں حاصل کی۔۔
اس عظیم کامیابی پر ہم اسکول کے ہیڈ ماسٹر شیخ تنویر سر ،معلیمن زاہد امین سر اور آصف اقبال سر طالب علم محمد سعدین محمد اسماعیل اور تمام اسٹاف کو ڈھیر ساری مبارکباد پیش کرتے ہیں اور مستقبل قریب میں بھی کامیابی کے سفر کو یونہی آگے آگے بڑھتے رہنے کی تمنا اور دعائیں پیش کرتے ہیں کہ
*کوششیں لاکھ کرو دوستو لیکن سن لو*
*کامیابی کا سہرا تو خدا دیتا ہے*
*مصنوعی رنگت کا فریب اور مٹتی ہوئی فطری پہچان*
از: آصف جلیل احمد (چونابھٹّی، مالیگاؤں)
عصرِ حاضر میں انسانی معاشرت جن فکری اور سماجی تضادات سے دوچار ہے ان میں ایک سنگین المیہ ظاہری رنگ و روپ کی وہ اندھی دوڑ ہے جس نے انسانی شعور کو مادیت کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران بازار و مارکیٹ میں رنگ گورا کرنے والی کریموں، فیس واش اور صابن کی جس تیزی سے بھرمار ہوئی ہے وہ محض ایک تجارتی رجحان نہیں بلکہ ایک گہرے نفسیاتی بحران کی علامت ہے۔ چکاچوند اشتہارات کے ذریعے یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ سماجی قبولیت، اعتماد اور کامیابی کا واحد راستہ "گوری رنگت" سے ہو کر گزرتا ہے۔
اسی فریبِ نظر میں مبتلا ہو کر ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی مصنوعات استعمال کر رہی ہے جو وقتی طور پر نکھار کا دھوکا تو دیتی ہیں مگر بعد میں جلد کی قدرتی ساخت کو تباہ کر دیتی ہیں۔ سائنسی تحقیقات کے مطابق ان غیر معیاری اور سستی مصنوعات میں پارہ (Mercury)، اسٹیرائڈز (Steroids) اور ہائیڈروکوئنون (Hydroquinone) جیسے خطرناک اجزاء پائے جاتے ہیں جو جلد کی حفاظتی تہہ کو مستقل نقصان پہنچاتے ہیں۔ نتیجتاً چند سالوں کے بعد چہرہ غیر معمولی حساس ہو جاتا ہے، سورج کی روشنی برداشت نہیں کر پاتا اور سرخی، خارش، سوزش اور قبل از وقت جھریاں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ اس بگاڑ کو بڑھاوا دینے میں سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ انسٹاگرام اور فیس بک پر نظر آنے والے وہ چہرے جو فلٹرز اور ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کے ذریعے غیر فطری چمک حاصل کر لیتے ہیں، نوجوان ذہنوں کے لیے حسن کا نیا معیار بن چکے ہیں۔
اس نقالی کے انجام نے ہمارے شہروں میں ایک خاموش مگر بھیانک المیہ جنم دیا ہے۔ وہ چہرے جو کبھی فطری تازگی رکھتے تھے، آج جھلسے ہوئے، کھردرے اور بے رونق نظر آتے ہیں۔ بے شمار نوجوان ماہرینِ جلد کے کلینکوں کے چکر کاٹ رہے ہیں، مگر افسوس کہ جلد کو پہنچنے والا یہ بگاڑ اکثر ناقابلِ تلافی ثابت ہو رہا ہے۔ ممبئی اور پونے جیسے بڑے شہروں میں گورا بدن گورا چہرہ کرنے کے لیے مہنگے انجکشن لگوانے والوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ عارضی سفیدی چند دن میں ماند پڑ جاتی ہے، جبکہ اندرونی طور پر گردوں اور جگر جیسے حساس اعضا متاثر ہونے لگتے ہیں۔
یہاں یہ وضاحت نہایت ضروری ہے کہ مسئلہ زیبائش یا حسن کو بہتر بنانے کا نہیں، بلکہ اس کے غلط، نقصان دہ اور افراطی طریقوں کا ہے۔ اسلام فطری حسن کو سنوارنے اور پاکیزہ انداز میں زیبائش اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے، مگر نمائش، فریب اور خود کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ چہرے کی صفائی، مناسب نگہداشت، خوشبو، سلیقہ اور اعتدال کے ساتھ حسن میں اضافہ شریعت کے مزاج کے خلاف نہیں۔ اس لیے ہر کریم یا ہر فروش کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی انصاف نہیں۔ اصل خرابی وہاں جنم لیتی ہے جہاں حسن بڑھانے کے نام پر جلد کو تجربہ گاہ بنا دیا جائے، ناجائز اور مضر اجزاء استعمال کیے جائیں اور قدرتی رنگت کو احساسِ کمتری کی بنیاد بنا کر برباد کر دیا جائے۔
حسن کو بڑھانا جرم نہیں، مگر اسے جائز، محفوظ اور فطری طریقوں سے بڑھانا ضروری ہے۔ بدن ایک امانت ہے، جس کی حفاظت لازم ہے، نہ کہ وقتی چمک کے لیے اسے دائمی بگاڑ کے حوالے کر دیا جائے۔ زیبائش اگر وقار اور اعتدال کے ساتھ ہو تو بہتر ہے، اور جب وہ خود کو گورا دکھانے کی نمائش اور خود فریبی میں بدل جائے تو بعد میں خود اذیتی کا سبب بن جاتی ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اس تلخ حقیقت کو تسلیم کریں کہ حقیقی کشش کسی مصنوعی نسخے یا مہنگے علاج کی مرہونِ منت نہیں۔ اصل جاذبیت اس نور سے پھوٹتی ہے جو باطنی پاکیزگی اور نیک اعمال کا ثمر ہوتی ہے۔ قدرت کا اٹل اصول ہے کہ جن چہروں پر تقویٰ کی چھاپ ہوتی ہے، وہاں خودبخود ایک ایسی وقار آمیز روشنی ہوتی ہے جو کسی ظاہری ملمع کی محتاج نہیں۔ وضو کی برکت سے حاصل ہونے والی طہارت چہرے پر وہ تازگی بکھیر دیتی ہے جو دیکھنے والوں کے دل میں بے ساختہ احترام اور محبت پیدا کرتی ہے۔
سانولی رنگت والا انسان بھی اگر سیرت میں مضبوط ہو تو اس کے چہرے پر ایسا وقار اُنسیت جاذبیت اور عشق جھلکتا ہے کہ لوگ اس کی صورت کے نہیں بلکہ اس کے کردار کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم اس مصنوعی حسن کے بت کو پاش پاش کریں اور فطرت کی طرف لوٹ آئیں، اور اپنی نئی نسل کو یہ شعور دیں کہ دائمی چمک کسی بوتل یا انجکشن میں نہیں بلکہ اس بندگی میں ہے جو ربِ کریم کو راضی کر دے۔
رابطہ: 9225747141
ابلا ہوا انڈا یا آملیٹ، وزن کم کرنے کے لیے کس کا استعمال بہتر ہے؟
انڈے ناشتے کا لازمی جزو ہیں جن میں بھرپور غذائی خصوصیات ہوتی ہیں۔ چاہے آپ انہیں اُبال کر کھائیں یا آملیٹ کی صورت میں، دونوں انداز اپنے اپنے فوائد رکھتے ہیں۔ تاہم پروٹین کی مقدار اور وزن کم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے ان دونوں کے درمیان فرق آپ کی توقع سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق کچھ لوگ آملیٹ کو زیادہ پسند کرتے ہیں، جبکہ کچھ اُبلے انڈے پر انحصار کرتے ہیں۔ تیاری کے طریقے اور اضافی اجزا غذائیت کو کس طرح بدلتے ہیں، یہ جاننا آپ کو ایسا انتخاب کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو واقعی آپ کے صحت کے اہداف سے ہم آہنگ ہو۔ذیل میں دونوں کے سائنسی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ آپ فیصلہ کر سکیں کہ آپ کی پلیٹ پر مستقل جگہ کس کو ملنی چاہیے۔
اُبلا ہوا انڈا: سادہ، صاف اور پروٹین سے بھرپور
اُبلا ہوا انڈا انڈے کھانے کا سب سے سادہ طریقہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں پکانے کے دوران کوئی اضافی چیز شامل نہیں کی جاتی۔ نہ تیل، نہ دودھ اور نہ ہی مصالحہ، اس لیے اس کی کیلوریز صرف انڈے تک محدود رہتی ہیں۔ ایک بڑے اُبلے ہوئے انڈے میں تقریباً 6 سے 6.3 گرام مکمل پروٹین ہوتا ہے، جو جسم کے لیے تمام ضروری امینو ایسڈز فراہم کرتا ہے۔
جرنل آف دی امریکن کالج آف نیوٹریشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جو افراد ناشتے میں انڈے کھاتے ہیں وہ زیادہ دیر تک پیٹ بھرا محسوس کرتے ہیں اور اگلے 24 گھنٹوں میں کم کیلوریز استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھوک پر قابو پانے یا وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے اُبلے انڈے ایک قابلِ اعتماد انتخاب ہیں۔
پروٹین کے ساتھ ساتھ، اُبلے انڈے اہم غذائی اجزا بھی فراہم کرتے ہیں، جن میں وٹامن بی 12، وٹامن ڈی اور کولین شامل ہیں۔
اُبلے انڈے کو ترجیح دینے کی وجوہات
کیلوریز کی واضح اور کم مقدار
اضافی چکنائی شامل نہیں ہوتی
مقدار پر آسان کنٹرولآملیٹ: لذیذ، بھرپور اور حسبِ ضرورت
آملیٹ میں زیادہ ذائقے اور تنوع ہوتا ہے۔ بنیادی پروٹین وہی رہتا ہے، تقریباً 6 گرام فی انڈا۔ لیکن غذائیت کا مجموعی توازن استعمال ہونے والے اجزا کے مطابق بدل سکتا ہے۔ یہی چیز آملیٹ کو مختلف غذائی ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیتی ہے۔
تیاری کا طریقہ غذائیت کو کیسے بدلتا ہے؟
سادہ آملیٹ ہلکا اور صحت بخش رہ سکتا ہے، مگر کچھ اضافے اس کی کیلوریز تیزی سے بڑھا دیتے ہیں:
1 چائے کا چمچ تیل: تقریباً 40 اضافی کیلوریز
پنیر: چکنائی اور نمک میں اضافہ
پراسیسڈ گوشت: سیر شدہ چکنائی میں نمایاں اضافہ
سبزیاں: حجم، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتی ہیں
اگر آملیٹ کو کم سے کم تیل میں پکایا جائے اور اس میں پالک، شملہ مرچ، پیاز یا مشروم جیسی سبزیاں شامل کی جائیں تو یہ ایک متوازن غذا بن سکتا ہے، جو پروٹین کے ساتھ فائبر اور اہم مائیکرونیوٹرینٹس بھی فراہم کرتی ہے۔وزن کم کرنے کے لیے کون سا بہتر ہے؟
اگر آپ کیلوریز کا سخت حساب رکھتے ہیں تو اُبلا ہوا انڈا فطری طور پر بہتر انتخاب ہے۔ یہ سادہ، مقدار میں واضح اور پوشیدہ چکنائی سے پاک ہوتا ہے۔ تاہم ایک اچھی طرح تیار کیا گیا آملیٹ ایک اور فائدہ فراہم کرتا ہے: حجم۔ سبزیوں سے بھرا دو انڈوں کا آملیٹ زیادہ بھرپور محسوس ہوتا ہے، جس سے بھوک کم ہوتی ہے اور غی ضروری سنیکس سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ اسی لیے بعض ماہرینِ غذائیت دونوں طریقوں کو ضرورت کے مطابق باری باری استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔