رانچی سے دہلی کیلئے اڑی ایئرایمبولینس حادثہ کا شکار، طیارے میں سوار سبھی 7 افراد کی موت
Jharkhand Charter Plane Crash : رانچی سے دہلی جا رہی ایک ایئر ایمبولینس جھارکھنڈ کے ضلع چترا کے سمریا کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس میں سات افراد سوار تھے۔ رانچی ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر ونود کمار نے یہ معلومات دی۔ افسر نے بتایا کہ یہ حادثہ رانچی ہوائی اڈے سے ایئر ایمبولینس کے شام تقریباً سات بج کر 10 منٹ پر اڑان بھرنے کے بعد پیش آیا۔
ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر کمار نے ‘پی ٹی آئی-بھاشا’ کو بتایا کہ ‘رانچی سے سات لوگوں کو لے کر جا رہی ایک ایئر ایمبولینس چترا ضلع کے سمریا کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی۔ حادثے کی اطلاع ریاستی انتظامیہ سے موصول ہوئی ہے۔’ انہوں نے بتایا کہ ایمبولینس کا فضائی ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ایئر ایمبولینس میں سوار افراد کی معلومات بھی سامنے آ گئی ہیں۔ چارٹر طیارہ دو پائلٹ اڑا رہے تھے، جن کے نام کیپٹن وویک وکاس بھگت اور کیپٹن سوراج دیپ سنگھ تھے۔ اس کے علاوہ مریض سنجے کمار، ان کے ساتھ بطور اٹینڈنٹ ارچنا دیوی اور دھرو کمار سوار تھے۔ علاوہ ازیں ایئر ایمبولینس میں ڈاکٹر وکاس کمار گپتا اور پیرا میڈک سچیو کمار مشرا بھی سوار تھے۔
بتایا جا رہا ہے کہ مریض سنجے کمار بری طرح جھلس گئے تھے۔ ان کے جسم کا 65 فیصد حصہ جل چکا تھا۔ وہ 16 فروری کو اسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ رانچی کے Devkam Hospital and Research Center میں 41 سالہ سنجے کمار کو شدید جھلسنے کی حالت میں علاج کے بعد اعلیٰ مرکز ریفر کیا گیا تھا۔اسپتال کی جانب سے جاری ڈسچارج سمری کے مطابق مریض 16 فروری 2026 کو پیٹرولیم مادے سے لگی آگ میں 63 فیصد تک جھلسنے کے بعد داخل ہوا تھا۔
ایرانی شہریوں کے فون اچانک چمکنے لگے، ٹرمپ نے بھیجا ’خفیہ پیغام‘، پڑھ کر آگ ببولہ ہوجائیں گے خامنہ ای
تہران: ڈونلڈ ٹرمپ خود اپنے ملک میں ٹیرف کے معاملے پر بیک لیش کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی منظوری کی درجہ بندی گر چکی ہے، لیکن ان حالات میں بھی وہ ایران پر حملے کی ضد نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ امریکہ پہلے ہی ایران کو ڈرانے کے لیے جنگی بیڑہ تعینات کر چکا ہے۔ اس دوران انہوں نے علی خامنہ ای کو پریشان کرنے کے لیے ایک نئی چال چلی ہے۔ آج اچانک ایرانی شہریوں کے موبائل فون چمکنے لگے اور سب کے پاس ایک گمنام پیغام آنے لگا، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لکھا تھا۔ اس پیغام میں امریکی صدر کی تعریف اور خامنہ ای کے لیے ایک خطرناک وارننگ تھی۔
ایرانیوں کو آنے لگے خفیہ پیغاماتپیر کو لاکھوں ایرانی شہریوں کے موبائل فون پر جو گمنام پیغام آیا، اس نے پورے ملک میں خوف پیدا کر دیا۔ اس پیغام میں لکھا تھا: ’’امریکی صدر (ڈونلڈ ٹرمپ) باتوں کے نہیں، کام کے آدمی ہیں۔ بس انتظار کرو اور دیکھو۔‘‘ یہ پیغام ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹرمپ پہلے ہی ایران کو 10 دن کا الٹی میٹم دے چکے ہیں۔ تاہم یہ پیغامات کیسے اور کہاں سے بھیجے گئے، اس بارے میں ابھی تک زیادہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ایران میں اس پیغام نے جنگ کے خطرے کو اور بڑھا دیا ہے۔ خامنہ ای کے ملک میں اس وقت ایک طرف خلیج میں امریکی جنگی جہازوں کا اجتماع بڑھ رہا ہے، دوسری طرف خود ایران کے اندر طلبہ اور عام لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ حالات اتنے سنگین ہیں کہ امریکہ نے لبنان سے اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے کو فوری طور پر نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔ ہندوستان نے بھی اپنے شہریوں کو کسی بھی صورت میں جلد از جلد ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔
‘ٹرمپ نے شروع کی نفسیاتی جنگ’
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، پورے ملک میں لوگوں کو ڈرانے کے لیے یہ نفسیاتی جنگ شروع کی گئی ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر اگلے 10 دنوں کے اندر کوئی “ڈیل” نہ ہوئی تو “بری چیزیں ہونے والی ہیں۔” جنیوا میں جمعرات کو ہونے والی بات چیت سے پہلے ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ جھکنے والے نہیں ہیں۔
امریکی ایڈمرل باب ہارورڈ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس علاقے میں اتنی طاقت ہے کہ وہ چند ہی گھنٹوں میں ایران کے پورے پاور اسٹرکچر کو تباہ کر سکتا ہے۔جھکنے کو تیار نہیں خامنہ ای
ادھر ایران بھی جھکنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ خامنہ ای نے بھی مڈل ایسٹ میں امریکہ کے فوجی اڈوں پر ہتھیار تان دیے ہیں اور جنگی حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ سفارت کاری کے لیے اب بھی موقع موجود ہے، لیکن ایران دباؤ میں آ کر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
'بھارت اسرائیل کے ساتھ دوستی کی بہت قدر کرتا ہے'، اسرائیل دورے سے قبل پی ایم مودی کا بیان
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی 25 فروری کو (بروز بدھ) اسرائیل کا دو روزہ دورہ کرنے والے ہیں۔ اپنے دورے سے پہلے پی ایم مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے تہنیتی پیغام کے جواب میں اتوار کو کہا کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ اپنی مضبوط دوستی کی قدر کرتا ہے، جو اعتماد، اختراع، امن اور ترقی کے لیے مشترکہ عزم پر قائم ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وہ خوشگوار بات چیت کے منتظر ہیں۔ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں پی ایم مودی نے بھارت اور اسرائیل کے درمیان مضبوط تعلقات کی تعریف کی اور متنوع تعلقات پر زور دیا۔پی ایم مودی نے لکھا کہ "میرے دوست، وزیر اعظم نیتن یاہو کا شکریہ۔ میں بھارت اور اسرائیل کے بیچ رشتوں اور ہمارے آپسی تعلقات کے کثیر جہتی نوعیت پر آپ سے پوری طرح متفق ہوں۔ بھارت اسرائیل کے ساتھ اپنی مضبوط اور پائیدار دوستی کی بڑی قدر کرتا ہے، یہ دوستی باہمی اعتماد، اختراع اور امن اور ترقی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہے۔ اپنے متوقع اسرائیل دورے کے دوران بات چیت اور ہماری میٹنگ کا انتظار رہے گا۔
وزیر اعظم مودی کو اپنا "پیارا دوست" قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے آنے والے دورے کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت جدت، سلامتی اور علاقائی تعاون میں نئی بلندیوں پر پہنچ رہی ہے۔
اس سے قبل نیتن یاہو نے اسرائیلی کابینہ میں اپنی تقریر سے متعلق ایک بیان سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ اس میں نیتن یاہو نے بھارت اسرائیل اتحاد کی طاقت پر زور دیا اور مشرق وسطیٰ میں استحکام اور ترقی کے لیے پرعزم قوموں کا محور بنانے کے اپنے وژن کا خاکہ پیش کیا۔
نتن یاہو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ "ہماری کابینہ کی میٹنگ کے آغاز میں، میں نے اپنے پیارے دوست وزیر اعظم نریندر مودی کے آنے والے بدھ کو اسرائیل کے تاریخی دورے کے بارے میں بات کی۔ اسرائیل اور بھارت کے درمیان تعلقات دو عالمی رہنماؤں کے درمیان ایک مضبوط اتحاد ہے۔
ہم جدت، سلامتی، اور مشترکہ اسٹریٹجک وژن میں شراکت دار ہیں۔ ہم مل کر استحکام اور ترقی کے لیے پرعزم ممالک کی ایک مربوط قوم کی تعمیر کر رہے ہیں۔" انھوں نے مزید کہا کہ "اے آئی سے لے کر علاقائی تعاون تک، ہماری شراکت داری نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ پی ایم مودی، میں یروشلم میں آپ سے ملاقات کا منتظر ہوں!