Saturday, 21 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





روزہ رکھنے والے افراد کیا کھائیں، کیا پئیں اور کن چیزوں سے پرہیز کریں؟
رمضان کے دوران سماجی زندگی خاصی متحرک ہوتی ہے اور لوگ افطار کے لیے رشتہ داروں اور دوستوں کو افطار پر مدعو کرتے ہیں یا خود مدعو ہوتے ہیں۔
یہ دعوتیں افطار اور سحری کے دسترخوانوں پر ہوتی ہیں جو عمدہ اور متنوع کھانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس دوران بعض افراد جسمانی سرگرمی کم کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض غیر صحت مند غذائی عادات کی وجہ سے اپنی بیماری کو بہتر طور پر کنٹرول نہیں کر پاتے۔
اس پس منظر میں عالمی ادارہ صحت نے رمضان کے لیے کچھ رہنما اصول وضع کیے ہیں جن پر عمل کر کے نہ صرف وزن کم کیا جاسکتا ہے بلکہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں بھی کمی لایا جاسکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے تجویز دی ہے کہ ان عادات کو روزوں کے بعد بھی برقرار رکھا جائے۔
عمومی ہدایات:
وافر مقدار میں پانی پئیں (کم از کم 10 گلاس) اور پانی سے بھرپور غذائیں جیسے سوپ، تربوز اور سبز سلاد استعمال کریں۔
کیفین والے مشروبات جیسے کافی، چائے اور کولا سے پرہیز کریں، کیونکہ کیفین پیشاب کی مقدار بڑھا کر جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ چینی والے مشروبات اضافی کیلوریز فراہم کرتے ہیں۔
زیادہ درجہ حرارت میں دھوپ سے بچیں اور ٹھنڈی، سایہ دار جگہ پر رہیں۔
افطار میں کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں؟
توانائی بحال کرنے کے لیے متوازن اور صحت بخش افطار کریں۔ روزہ کھولنے کے لیے تین کھجوریں کھائیں، کھجور فائبر کا بہترین ذریعہ ہے۔
افطار میں وافر مقدار میں سبزیاں شامل کریں تاکہ ضروری وٹامنز اور غذائی اجزا حاصل ہوں۔ ثابت اناج استعمال کریں جو توانائی اور فائبر فراہم کرتے ہیں۔گرل یا بیک کیا ہوا کم چکنائی والا گوشت، چکن اور مچھلی استعمال کریں تاکہ صحت مند پروٹین حاصل ہو۔
تلی ہوئی اور زیادہ چکنائی یا چینی والی پراسیسڈ غذاؤں سے پرہیز کریں۔ آہستہ کھائیں اور حد سے زیادہ کھانے سے بچیں۔
سحری میں کیا کھائیں؟
وہ افراد جو روزہ رکھتے ہیں خصوصاً بزرگ ، نوجوان، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین روزانہ ہلکی سحری ضرور کریں۔
سحری میں سبزیاں، ثابت گندم کی روٹی یا بن، پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے پنیر، دودھ یا انڈا شامل کریں۔
مٹھائیوں کا استعمال محدود رکھیں، کیونکہ رمضان میں استعمال ہونے والی اکثر مٹھائیاں چینی کے شیرے سے بھرپور ہوتی ہیں۔
میٹھے کے طور پر پانی سے بھرپور پھل جیسے تربوز، خربوزہ یا موسمی پھل مثلاً آڑو یا نیکٹرین بہتر انتخاب ہیں۔زیادہ چکنائی والی غذاؤں خصوصاً چربی والے گوشت، پف پیسٹری یا مکھن/مارجرین والی اشیا سے پرہیز کریں۔
نمک اور چکنائی سے متعلق احتیاط:
تلنے کے بجائے اسٹیم میں پکانا، ہلکے تیل میں ہلکا فرائی کرنا، سالن میں پکانا یا بیک کرنا بہتر رہے گا۔
زیادہ نمک والی اشیا جیسے ساسیجز، پراسیسڈ اور نمکین گوشت یا مچھلی، زیتون، اچار، سنیکس، نمکین پنیر، تیار شدہ کریکرز، سپریڈز اور ساسز (مایونیز، مسٹرڈ، کیچپ) سے پرہیز کریں۔
کھانا بناتے وقت نمک کم سے کم استعمال کریں اور دسترخوان پر نمک دان نہ رکھیں۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے مختلف جڑی بوٹیاں استعمال کریں۔
اپنی ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں کھائیں اور آہستہ کھائیں، کیونکہ زیادہ کھانا سینے کی جلن اور بے آرامی کا باعث بنتا ہے۔
شام کے اوقات میں باقاعدہ چہل قدمی جیسی ہلکی جسمانی سرگرمی اپنانے کی کوشش کریں۔











پاکستان کے خیبر پختونخوا میں خودکش حملہ، لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو اہلکار جاں بحق، ’فتنہ الخوارج‘ پر عائد کی گئی حملے کی ذمہ داری
راولپنڈی: پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک خودکش حملے کے نتیجے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کی تصدیق پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز )آئی ایس پی آر) نے کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع بنوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے جانے والے ایک آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ کی موت ہو گئی، جبکہ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش

فوج کے میڈیا ونگ کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کو علاقے میں دہشت گردوں اور ایک خودکش بمبار کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ کارروائی کے دوران بارودی مواد سے بھری گاڑی میں سوار خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن اس نے سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو ٹکر مار کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں دونوں اہلکار شہید ہو گئے۔

فتنہ الخوارج پر عائد حملے کی ذمہ داری

آئی ایس پی آر نے حملے کی ذمہ داری ’’فتنہ الخوارج‘‘ پر عائد کی، جو پاکستان حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ دہشت گردوں کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔

آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ کچھ اور حملہ آور بھی موجود تھے۔ اسی دوران سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو مار گرایا۔

رمضان کا احترام نہیں کر رہے دہشت گرد

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گرد افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا بھی احترام نہیں کر رہے۔ یہ کارروائیاں پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے جاری انسداد دہشت گردی مہم ’عزمِ استحکام‘ کے تحت کی جا رہی ہیں۔

فتنہ الخوارج کے خلاف بلا امتیاز کارروائی

اس دوران، پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ دہشت گردی قرار دیا اور شہداء کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف بلا امتیاز اور پوری قوت کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور مقدس مہینے کی حرمت پامال کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔









پی ایم مودی- لولا کے ساتھ حیدرآباد ہاؤس میں دو طرفہ مذاکرات کا آغاز، راشٹرپتی بھون میں برازیل کے صدر لولا دا سلوا کا شاندار استقبال
نئی دہلی :برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا کا ہفتہ کے روز نئی دہلی میں واقع راشٹرپتی بھون میں باضابطہ سرکاری استقبال کیا گیا۔ بھارت کی صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے معزز مہمان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ استقبالیہ تقریب کے بعد وزیر اعظم مودی اور برازیلی صدر کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں دو طرفہ مذاکرات کا آغاز ہوا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور گلوبل ساؤتھ ممالک کے تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔تجارت، ٹیکنالوجی اور عالمی امور پر تعاون بڑھانے پر گفتگو

صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا کا یہ سرکاری دورہ 18 سے 22 فروری تک جاری رہے گا۔ اپنے دورۂ بھارت کے دوران وہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر صدر دروپدی مرمو برازیلی صدر کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ بھی منعقد کریں گی۔ برازیلی صدر کے ہمراہ تقریباً 14 وزراء اور بڑی برازیلی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران پر مشتمل وفد بھی بھارت پہنچا ہے۔ وفد میں شامل وزراء اپنے بھارتی ہم منصبوں سے علیحدہ ملاقاتیں کریں گے، جب کہ ایک خصوصی بزنس فورم کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے، جس میں دونوں ممالک کے صنعت کار اور سرمایہ کار شرکت کریں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ دورہ بھارت اور برازیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ صدر لولا کا بھارت کا چھٹا دورہ ہے۔

دورے کے دوران بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی برازیلی صدر سے ملاقات کی اور دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم مودی اور صدر لولا عالمی و علاقائی امور، کثیرالجہتی اداروں میں تعاون، عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور گلوبل ساؤتھ سے متعلق اہم مسائل پر بھی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس اعلیٰ سطحی ملاقات سے بھارت اور برازیل کے تعلقات کو نئی رفتار ملے گی اور دونوں ابھرتی ہوئی معیشتیں عالمی سطح پر مشترکہ کردار ادا کرنے کی سمت مزید آگے بڑھیں گی۔

*🔴سیف نیوز اردو*

ٹیم انڈیا کی بلے بازی پوری طرح فلاپ، جنوبی افریقہ نے ہندوستان کو 76 رنز سے ہرایا India vs South Africa : جنوبی افریق...