سحری میں ایسا کیا پئیں، جس سے روزہ کے دوران نہ لگے پیاس؟ ڈائٹیشین کے ٹپس رکھیں گے تازہ اور توانا
رمضان کے مقدس مہینے میں کروڑوں مسلمان روزہ رکھتے ہیں، جو ایمان اور روحانیت کا اہم حصہ ہے۔ روزہ کے دوران بغیر کھانے پینے کے طویل وقت گزارنا جسم کے لیے چیلنج ہو سکتا ہے، خاص طور پر پانی کی کمی سے ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے سحری کے وقت صحیح غذائیت اور مشروبات کا استعمال نہایت ضروری ہے تاکہ جسم دن بھر ہائیڈریٹ اور توانائی سے بھرپور رہے۔
نوئیڈا کے مانس اسپتال کی ڈائٹیشن کامنی سنہا کے مطابق سحری میں 1-2 گلاس سادہ پانی پینا بہت اہم ہے، کیونکہ رات بھر سونے سے جسم پانی کھو دیتا ہے۔ اچانک بڑی مقدار میں پانی پینے کی بجائے تھوڑا تھوڑا پانی پئیں، اور سحری میں 2-3 گلاس پانی آہستہ آہستہ پینا بہتر ہے۔ ناریل پانی ایک بہترین انتخاب ہے کیونکہ اس میں قدرتی الیکٹرولائٹس جیسے پوٹاشیم اور سوڈیم موجود ہوتے ہیں، جو جسم میں مائع کا توازن برقرار رکھنے اور دن بھر ڈی ہائیڈریشن کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ڈائٹیشن کے مطابق دودھ یا کم چکنائی والے دہی سے بنی اسموتھی سحری میں شامل کرنے سے دن بھر توانائی اور پیاس پر قابو رہتا ہے۔ دودھ میں موجود پروٹین اور قدرتی شکر آہستہ آہستہ توانائی فراہم کرتی ہے، اور دہی میں موجود پروبائیوٹکس ہاضمہ بہتر رکھتی ہیں اور پیٹ کو طویل عرصے تک بھرا محسوس کرواتی ہیں۔ اسموتھی میں کیلا، کھجور یا بھیگے ہوئے چیا سیڈز شامل کرنا فائدہ مند ہے۔ چیا سیڈز پانی جذب کر کے جیل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس سے جسم میں نمی دیر تک برقرار رہتی ہے۔ تاہم بہت زیادہ میٹھے مشروبات سے بچیں کیونکہ زیادہ شکر پیاس بڑھا سکتی ہے۔
لیموں پانی یا سادہ لسی دن بھر ہائیڈریٹ رہنے کے لیے مفید ہیں، لیکن شکر کی مقدار متوازن ہونی چاہیے۔ ہلکا سا نمک ملا لیموں پانی جسم میں الیکٹرولائٹ بیلنس قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ پودینہ یا تلسی کے پتے ملا کر ہربل ڈرنک بھی بنایا جا سکتا ہے، جو جسم کو ٹھنڈک اور تازگی دیتی ہے۔ سحری میں چائے یا کافی سے بچنا چاہیے کیونکہ کیفین پانی خارج کرنے کا باعث بنتی ہے اور دن بھر پیاس بڑھ سکتی ہے۔سحری میں کھانے کا انتخاب بھی اہم ہے۔ زیادہ نمکین، تلا بھنا یا مصالحہ دار کھانا دن میں پیاس بڑھا سکتا ہے۔ اس کے بجائے اوٹس، دلیہ، مکمل اناج، انڈے، پھل اور سبزیاں شامل کریں۔ تربوز، کھیرا، سنترا جیسے پانی سے بھرپور پھل جسم کو اضافی ہائیڈریشن فراہم کرتے ہیں۔ پروٹین اور فائبر سے بھرپور خوراک توانائی آہستہ آہستہ جاری کرتی ہے، جس سے دن بھر تھکن کم محسوس ہوتی ہے۔ تاہم اگر آپ کو پہلے سے کوئی طبی مسئلہ ہے تو روزہ رکھنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں تاکہ صحت اور توانائی برقرار رہے۔
مریم نوازکے طیارہ خریدنے پر تنازع ، کتنی امیر ہیں نواز شریف کی بیٹی؟
پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز اس وقت لگژری طیارہ خریدنے کے معاملے پرسرخیوں میں ہیں۔ اس طیارے کو گلف اسٹریم جی 500 کہا جاتا ہے اور اسے ریاستی حکومت نے تقریباً 10 ارب پاکستانی روپے میں خریدا ہے۔ اس لگژری جیٹ کی خریداری نے پاکستان میں بحث چھیڑ دی ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ جب پاکستان کے عوام فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں تو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے اتنا مہنگا طیارہ خریدنا مناسب نہیں ہے۔ قابل غوربات یہ ہے کہ نواز شریف خاندان کا شمار پاکستان کے دولت مند گھرانوں میں ہوتا ہے۔ مریم نواز کے پاس بھی پیسوں کی کمی نہیں ہے۔گزشتہ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اپنے حلف نامے میں مریم نواز نے اپنے کل اثاثوں کی مالیت 84.2 کروڑ پاکستانی روپے ظاہر کی تھی۔ مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر کی جانب سے پاکستان کے حلقہ این اے 119 کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق، مریم لاہور میں 1500 کنال (188 ایکڑ) زمین کی مالک ہیں۔
دولت مندمریم کے پاس نہیں ہے کار
انگریزی ادب میں پوسٹ گریجویٹ مریم کے پاس کار نہیں ہے۔ نامزدگی فارم میں دی گئی معلومات کے مطابق انہوں نے اپنے بھائی حسن نواز سے تقریباً 2.9 کروڑ روپے کا قرض لےرکھا ہے۔ ان کے پاس ۱7.5 لاکھ پاکستانی روپے کا سونا ہے۔ ان کے پاس مختلف بینک کھاتوں میں 1 کروڑ پاکستانی روپئے بھی جمع ہیں۔ وہ کئی کمپنیوں میں 12.2 ملین پاکستانی روپے کے شیئرز کی بھی مالک ہیں۔آرمی کیپٹن سے ہوئی ہے شادی
مریم کے شوہر محمد صفدر اعوان ہیں جن کی عمر 59 سال ہے۔ صفدر اب پاکستانی سیاست میں سرگرم ہیں۔ تاہم سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے پاک فوج میں خدمات انجام دیں۔ مریم نواز اور صفدر کے تین بچے ہیں۔
رمضان میں خود کو مذہبی، جسمانی اور مالی طور پر کیسے منظم کیا جائے؟
دُنیا بھر میں رہنے والے مسلمان رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اس کی اپنے اپنے انداز میں تیاری کرتے ہیں۔ کُچھ لوگ رمضان کو ایک ایسے مہینے کے طور پر دیکھتے ہیں جس میں وہ مذہبی طور پر اپنے اندر بہتری لانے کی کوشش کرتے ہیں، کُچھ لوگ اس مہینے کا انتطار اس لیے بھی کرتے ہیں کہ اس ماہ میں وہ اپنا بڑھا ہوا وزن کم کرنے کی کوشش کریں گے اور کُچھ لوگ نفسیاتی طور پر بھی اپنے اندر بہتری لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بس یوں سمجھ لیجیے کہ ہر فرد اس مہینے کو اپنے اپنے انداز میں گُزارنے کی کوشش کرتا۔
’روح کی پاکیزگی‘
دنیا بھر کے مسلمان اسلامی سال کے اس نویں مہینے یعنی ’رمضان‘ کے مہینے میں روزہ رکھتے ہیں۔ روزہ دین اسلام کے اہم اراکین میں سے ایک ہے اور اس پورے ایک مہینے تک طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کھانے پینے سے پرہیز کرنا ضروری ہوتا ہے۔
محقق ڈاکٹر ابراہیم الجرمی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رمضان کے مہینے کے بے شمار فوائد ہیں۔ مسلمانوں کو اس مہینے کی تیاری ایسے ہی کرنی چاہیے کہ جیسے کسی باوقار اور انتہائی شاندار یونیورسٹی میں داخلے کے لیے طالب علم اپنے آپ کو نصابی و تدریسی لحاظ سے ایک اچھا امیدوار ثابت کرنے کے لیے تیاری کرتا ہے۔‘انھوں اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں قرآن نازل ہوا اور مسلمانوں کو اس مہینے میں اس مقدس کتاب کے ساتھ قریبی تعلق رکھنا چاہیے وہ اس کا دور مکمل کریں یا پھر نمازِ تراویح میں با غور اس کی تلاوت سُنیں۔‘الجرمی مزید کہتے ہیں کہ ’اس مہینے میں مسلمانوں کو دعا اور توبہ کرتے ہوئے اپنے خدا کے قریب آنا چاہیے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’روزے کا مطلب بس یہی نہیں کہ کھانے پینے اور دیگر خواہشات سے دور رہا جائے بلکہ روزے کی حالت میں تو انسانی جسم کے ’اعضا کو بھی روزہ رکھنا چاہیے‘، اور وہ ایسے کہ اُن کی زبان سے جھوٹ نہ نکلے یعنی وہ جھوٹ نہ بولیں، اسی طرح اُن کی آنکھیں اور کان بھی جھوٹ اور دیگر بُرائیوں سے دور رہیں۔‘
الجرمی نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ ’انسان رمضان میں اپنے آپ کو نکھارنے کی کوشش کرے تاکہ وہ صبر و تحمل سے کام لے اور اس مہینے کی روحانیت کو پا سکے۔‘ماہر نفسیات اور نشے کے عادی افراد کا علاج کرنے والی ڈاکٹر شازہ ابو حمدیہ نے بی بی سی کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں ڈاکٹر ابراہیم الجرمی سے اتفاق کرتے ہویے کہا کہ ’ایک مسلمان کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اس مہینے کی فضیلت کو جان کر ماہ رمضان کے آغاز کے لیے خود کو تیار کرنا شروع کر دے اور یہ کہ یہ مہینہ اپنے آپ کو بُرائیوں سے دور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے خدا سے اُن تمام تر مسائل اور تکالیف کے دور کرنے کے لیے دعا مانگ سکتا ہے کہ جن کا اُسے سامنا ہے۔'ان کا مزید کہنا ہے کہ 'رمضان بہت سے لوگوں کے لیے غلط اور منفی رویوں کو ترک کرنے کا ایک موقع سمجھا جاتا ہے، یہاں تک کہ ان لوگوں کے لیے بھی جو نشے میں مبتلا ہیں۔'
ابو حمدیہ کے مطابق یہ اس مہینے میں ایک فرد اپنے اندر موجود بُرائیوں سے اس طرح سے دور رہ سکتا ہے کیونکہ اس مہینے کے دوران مذہبی جذبات کمال عروج پر ہوتے ہیں، اس مہینے میں ایک شخص کی قوت ارادی اُسے مشکلات کو برداشت کرنے کی ہمت دیتی ہے۔ جو خاص طور پر نفسیاتی علاج اور عام طور پر ایک شخص کی ذہنی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘
'وزن کم کرنے کا ایک موقع'روزے کے صحت پر پڑنے والے فوائد کے باوجود کچھ لوگوں کو اس مہینے کے دوران اپنے کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی میں مُشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ وہ نسبتاً طویل وقت تک کے لیے کھانے پینے سے پرہیز کرنے کے نتیجے میں تھکاوٹ اور کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے ماہر غذائیت لیان البغدادی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رمضان کا مہینہ ہر اس شخص کے لیے ایک موقع ہے جو اپنی صحت کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ خاص طور پر اگر وہ چند کلو گرام وزن کم کرنا چاہتا ہے، بشرطیکہ وہ ایسا کرنے کے لیے صحیح طریقہ کار پر عمل کرے اُن کے پٹھے کمزور نا پڑیں بلکہ اُن کے جسم پر سے چربی کم ہو۔
البغدادی نے جسم کی ضروریات کے مطابق مناسب مقدار میں کھانا کھانے کی اہمیت کی نشاندہی کی ہے کیونکہ جسم نسبتاً طویل وقت کے روزے کی وجہ سے ’بھوک‘ کی کیفیت اور حالت کا شکار ہوتا ہے۔ نتیجتاً جسم چربی کو برقرار رکھتا ہے اور پٹھوں اور جسم میں موجود فلوئڈ کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ لہذا ماہرین چربی کم کرنے اور پٹھوں کو کمزوری سے بچانے اور فلوئڈز کی مناسب مقدار کو برقرار رکھنے کے لیے ورزش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
رمضان کے مہینے میں مناسب غذا کے بارے میں بغدادی کہتی ہیں کہ ’روزہ افطار کرنے اور سحر تک کے وقت کے درمیان متوازن خوراک پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔ وزن کم کرنے کے لیے سحری کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ جسم کو توانائی فراہم کرنے اور جسم کی روزمرہ توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا اور اس کی وجہ سے انسانی جسم سستی یا تھکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔‘وہ بتاتی ہیں کہ سحری کے کھانے میں ’پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس‘ جیسے دودھ، پنیر اور انڈوں کے علاوہ کھجور، سوپ اور ایک کپ سلاد شامل ہونا چاہیے۔ بشرطیکہ ان اجزاء کو آہستہ آہستہ کھایا جائے، جس سے انسان کے کھانے کی مقدار کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
البغدادی کے مطابق اس مہینے کے دوران بہت سے لوگوں میں رمضان کے مشہور مشروبات کا استعمال عام ہے کیونکہ ان میں شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اسی وجہ سے وہ کیلوریز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہر فرد کو ہی ان زیادہ میٹھے مشروبات سے دور رہنا چاہیے تاہم ان کے مقابلے میں لیموں اور پودینہ کا رس زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ ان سے تیار کیے جانے والا جوس یا مشروب روزے کی حالت میں انسانی جسم سے ضائع ہو جانے والے فلیوئڈ اور غذائی اجزا کی کی کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔‘
البغدادی نے زیادہ مگر مناسب مقدار میں پانی پینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
رمضان کے دوران کس وقت پر ورزش کی جا سکتی ہے؟
رمضان کے مہینے میں ورزش کرنا ایک صحت مند عادت سمجھی جاتی ہے جس پر کچھ لوگ عمل کرتے ہیں اس کے بہت سے فوائد ہیں جو انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔
سپورٹس ٹرینر مائی القادری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رمضان کے دوران ورزش انسانی جسم کے لیے ضروری ہے لیکن افطاری سے قبل ورزش کرتے وقت جسم پر دباؤ نہ ڈالنا بہتر ہے۔ افطار سے آدھے گھنٹے قبل ہلکی پھلکی ورزشیں جیسے چہل قدمی، جاگنگ اور سائیکلنگ کی جائے تاکہ جسم کو جلد از جلد اس میں سے کم ہو جانے والے فلوئیڈز اور نمکیات سے بھرا جاسکے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’افطار سے پہلے ورزش وزن میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔‘
جو لوگ افطار کے بعد ورزش کرنا چاہتے ہیں ان کے بارے میں قادری کا کہنا ہے کہ ’افطار کرنے کے کم از کم دو یا تین گھنٹے بعد ورزش کرنا ضروری ہے کیونکہ اس عرصے کے دوران کھانا موثر اور آرام سے ہضم ہوتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والی توانائی سے جسم کے اہم اعضا کو ری چارج کیا جا سکے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ افطار سے پہلے یا بعد میں کب ورزش کرنی ہے تو فٹنس ٹرینر نے جواب دیا: 'بہترین وقت جیسی کوئی چیز نہیں ہے اگر ہے تو بس یہ کہ ہر فرد اپنی صحت کے مطابق ورزش کرے۔ ہاں بس اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ورزش بھی اعتدال کے ساتھ کی جائے تاکہ جسم کو صحت کی ان علامات سے بچایا جا سکے جو روزے کے طویل گھنٹوں کے دوران سامنے آسکتی ہیں۔‘
کیا ہمیں رمضان کے دوران زیادہ بجٹ مختص کرنے کی ضرورت ہے؟
رمضان سے پہلے بازاروں میں اکثر بھیڑ لگی دکھائی دیتی ہے کیونکہ ہر شخص کو ہی اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ افطاری کے وقت ٹیبل پر ہر چیز ہونی چاہیے جس کی انھیں خواہش اور ضرورت ہے، اور اسی کے ساتھ یہ بھی کہ کسی چیز کی کمی نہ ہو۔
معاشی تجزیہ کار مازن ارشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ 'کچھ خاندانوں کے اس ماہ میں خرچ کے رجحان کی عکاسی یا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رمضان کے مہینے میں کھانے پینے کی اکثر وہ اشیا بھی زیادہ مقدار میں خرید لی جاتی ہیں کہ جن کی کم مقدار سے بھی کام چلایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی بھی چیز کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ان کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔'کچھ لوگ اس مہینے کو گُزارے کے لیے باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اضافی خرید وفروخت کے لیے بجٹ مختص کرتے ہیں۔
ایسے خاندانوں کے بارے میں ارشاد کہتے ہیں ’کچھ خاندان رمضان سے چند ماہ قبل ماہانہ کٹوتی کے ذریعے کچھ پیسے بچانا شروع کر دیتے ہیں۔‘
معاشی تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ ’جب کوئی روزہ دار روزہ افطار کرنے سے پہلے خریداری کرتا ہے تو وہ جذباتی حالت اور کیفیت میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ زیادہ پیسے خرچ کر دیتے ہیں اور اس بات کا اندازہ انھیں جلد ہی ہو جاتا ہے کہ انھوں نے جو خریداری کی ہے وہ ضرورت سے زیادہ ہے اور اضافی چیزیں یا تو ضائع ہو جائیں گی یا پھر اگر کھانے پینے کی ہیں تو بہت جلد خراب ہو جائیں گی۔‘
ارشاد نے اس بات پر زور دیا کہ ’خاص طور پر اس مہینے کے دوران خریداری کا عمل ضرورت پر مبنی ہونا چاہیے نہ کہ خواہش پر اور لوگوں کو اس مہینے کے دوران ہر گھر میں افطار کی بڑی دعوتوں کا اہتمام کیے بغیر ایک ہی جگہ پر کھانا اکٹھا کرنے اور اسے تقسیم کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔‘
رمضان کے مہینے کی تیاریاں کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہوں ان سب کے درمیان تعلق یہ ہے کہ یہ ایک مہینہ ہے جو ہر سال آتا ہے اور مسلمان اسے بھرپور انداز میں گزارنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔