Tuesday, 17 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




رات کو دیر سے سونے والوں کے لیے وزن کم کرنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟
اگر آپ رات کو اکثر دیر سے سو رہے ہیں تو وزن کم کرنے کی آپ کی تمام کوششیں بے اثر ہو سکتی ہیں، یا پھر ریورس بھی ہو سکتی ہیں، یعنی کم ہونے کے بجائے آپ کا وزن بڑھ سکتا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق وزن میں کمی کے بارے میں بات کرتے وقت زیادہ تر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ بنیادی چیز ڈائیٹ یعنی غذا اور ورزش ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ ایک اور اہم عنصر کو نظر انداز کرتے ہیں، اور وہ ہے نیند۔ خاص طور پر اس کا وقت اور دورانیہ۔
ہو سکتا ہے آپ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہوں، اچھی اور مناسب غذا وقت پر کھا رہے ہوں اور کبھی ورزش ترک نہ کرتے ہوں، مگر پھر بھی آپ کا وزن کم ہونے سے انکاری ہے۔ یا اس کے اُلٹ ہے یعنی وزن بڑھ رہا ہے تو پھر آپ وہی غلطی کر رہے ہیں۔یہ غلطی خاموشی سے تمام کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
جوپیٹر ہسپتال کے انٹرنل میڈیسن کے ڈائریکٹر فزیشن ڈاکٹر امیت صاراف نے بتایا کہ کس طرح دیر سے سونا، خاص طور پر آدھی رات کے وقت بستر پر جانا، میٹابولزم، ہارمون کے توازن، ہاضمے، اور مجموعی وزن میں کمی کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔
یہ اُن لوگوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے جو خوراک اور ورزش کے معمولات پر نظم و ضبط کے تحت عمل کرتے ہیں۔
رات 11 بجے کے بعد سونے سے وزن کیوں متاثر ہوتا ہے؟
وزن میں کمی عام طور پر کیلوریز کو جلانے سے ہوتی ہے۔ دیر سے سونے سے جسم کے قدرتی حیاتیاتی نظام میں بہت زیادہ مداخلت ہوتی ہے۔
اس حیاتیاتی نظام کو وقت کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر امیت صاراف نے وضاحت کی کہ ’رات ساڑھے دس کے بعد یہ آہستہ آہستہ ایک قدرتی ہاضمے کی سست روی کے مرحلے میں چلا جاتا ہے۔‘ڈاکٹر کے مطابق اگر کوئی دیر تک جاگتا رہتا ہے تو جسم تناؤ کی حالت میں رہتا ہے جو کورٹیسول کو بڑھاتا ہے۔
کورٹیسول تناؤ کا ہارمون ہے۔ ہنگامی صورتحال میں یہ جسم کو توانائی محسوس کرنے میں مدد کرتا ہے تاکہ فوری ردعمل ظاہر کر سکے۔ تاہم ایسا کرنے کے لیے یہ عارضی طور پر عام میٹابولک عمل میں خلل ڈالتا ہے۔
ڈاکٹر صاراف نے مزید کہا کہ ’جب رات کو کورٹیسول زیادہ رہتا ہے تو چربی کا ذخیرہ ہونا آسان ہو جاتا ہے اور چربی کو جلانے کا عمل آہستہ ہو جاتا ہے، چاہے کھانا کتنا ہی صحت بخش کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اچھی اور مناسب غذا بھی کھاتے ہیں وہ تب بھی وزن کم کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔‘











رمضان میں مسجد اقصیٰ کے گرد اسرائیلی پولیس کی تعیناتی، فلسطینیوں کا پابندیوں کا الزام
اسرائیلی پولیس کے حکام نے کہا ہے کہ رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ کے ارد گرد فورس تعینات کی جائے گی جبکہ فلسطینیوں نے اسرائیل پر احاطے میں پابندیاں عائد کرنے کا الزام لگایا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رواں ہفتے شروع ہونے والے ماہِ مقدس کے دوران لاکھوں کی تعداد میں مسلمان روایتی طور پر مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں، مذہب اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام سمجھی جانے والی یہ مسجد یروشلم شہر کے مشرقی حصے میں واقع ہے جس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا اور بعدازاں ساتھ ملا لیا تھا۔یروشلم پولیس کے سینیئر افسر اریڈ بریومین کا کہنا ہے کہ ’فوجیوں کو دن رات کمپاؤنڈ کے اندر تعینات کیا جائے گا جبکہ نماز کے وقت اضافی ہزاروں پولیس اہلکار بھی تعینات ہوں گے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کے لیے 10 ہزار اجازت نامے جاری کرنے کی سفارش کی ہے جن کو یروشلم میں داخلے کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔
انہوں نے اجازت ناموں کے لیے عمر کی حد کے حوالے سے تفصیل نہیں بتائی اور یہ بھی بتایا کہ فائنل تعداد کے بارے میں فیصلہ حکومت کرے گی۔
دوسری جانب فلسطینی یروشلم گورنریٹ کا کہنا ہے کہ اسے بتایا گیا ہے کہ اجازت نامے 55 برس سے زائد عمر کے مردوں اور 50 برس سے زائد کی خواتین کے لیے ہوں گے اور پچھلے برس بھی ایسا ہی طریقہ کار اپنایا گیا تھا۔
بیان میں اسرائیلی حکام پر الزام بھی لگایا گیا ہے کہ ان کی جانب سے سائٹ کے انتظامات دیکھنے والے اردن کے ادارے اسلامک وقف کو معمول کی تیاریوں سے روک دیا ہے جن میں سائبان کی تعمیر کے علاوہ طبی کلینکس کا قیام بھی شامل تھا۔
اسلامک وقف کے ذرائع کی جانب سے بھی پابندیوں کی تصدیق کی گئی ہے اور کہا ہے کہ رمضان شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل اس کے 33 ملازمین کو کمپاؤنڈ میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
طویل مدتی انتظامات کے تحت یہودی اس احاطے کا دورہ کر سکتے ہیں جو اس کو اپنے دوسرے مقدس ترین عبادت گاہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں تاہم دوسری جانب فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ اس کو ختم کیا جا رہا ہے۔
اریڈ بریومین نے اپنے بیان میں بھی اسی عزم کو دوہرایا ہے کہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران یہودی انتہاپسندوں کی بڑھتی تعداد نے عبادت پر پابندی کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جن میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اتمار بین گویر بھی شامل ہیں اور انہوں نے 2024 اور 2025 کے دوران سکیورٹی کے وزیر کی حیثیت سے یہاں پر عبادت کی تھی۔












بی این پی چیئرمین طارق رحمان کی آج بطور وزیراعظم حلف برداری ، بھارت سے اوم برلا شرکت کریں گے
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان آج بروز منگل منتخب اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیں گے۔ یہ سال 2024 میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد ڈھاکہ کی سیاست میں ایک نئی شروعات کی علامت ہے۔

بی این پی کے منتخب رکن پارلیمنٹ راشد الزمان ملت نے اے این آئی کو بتایا کہ “ارکان پارلیمنٹ کی حلف برداری کی تقریب ہمارے پارلیمنٹ ہاؤس میں صبح 9:30 بجے ہوگی۔” شام 4:00 بجے وزراء کی حلف برداری کے لیے ایک اور اجلاس ہوگا۔

واضح رہے کہ 12 فروری کو ہوئے انتخابات میں بی این پی نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ 300 نشستوں والی پارلیمنٹ میں بی این پی نے 151 سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ جماعت اسلامی، جو پہلے بی این پی کی اتحادی تھی نے حزب اختلاف کی جماعت کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا اور دوسری سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔ جماعت اسلامی نے حالیہ الیکشن میں خود کو ایک اہم اپوزیشن قوت کے طور پر مستحکم کر لیا ہے۔بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مطابق، بی این پی کی قیادت والے اتحاد نے 212 نشستیں حاصل کیں، جب کہ جماعت اسلامی کی قیادت والے بلاک نے 77 نشستوں پر جیت درج کی ہے۔ حسینہ واجد کی بنگلہ دیش عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔

بطور وزیر اعظم حلف لینے جا رہے طارق رحمان سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد 17 سال کی جلاوطنی ختم کر کے وطن واپسی کی اور عام انتخابات میں بی این پی کو بھاری اکثریت سے کامیابی دلائی۔

بھارت کی طرف سے لوک سبھا اسپیکر کی شرکت

پی ایم مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شرکت نہیں کریں گے۔ وزارت خارجہ نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا بنگلہ دیش کی نو منتخب حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں ہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس اہم تقریب میں اسپیکر کی شرکت بھارت اور بنگلہ دیش کے عوام کے درمیان گہری اور مضبوط دوستی اور دونوں ممالک کو باندھنے والی جمہوری اقدار کے تئیں بھارت کی غیر متزلزل وابستگی کی عکاسی کرتی ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*

یوپی میں کانگریس کا ہلہ بول! اسمبلی گھیراؤ کرنے پہنچے سیکڑوں کارکنوں پر لاٹھی چارج، متعدد گرفتار اتر پردیش میں آج من...