Tuesday, 17 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





*کیا ٹیپو سلطان کریں گے مالیگاؤں کی ترقی؟*
✍️ *وسیم رضا خان* ✍️ 
مالیگاؤں کی سیاست ایک بار پھر اسی پرانے ڈھرے پر لوٹ آئی ہے، جہاں ترقی کے 'ویژن' سے زیادہ دیواروں پر ٹنگی تصویروں کا وزن معنی رکھنے لگا ہے۔ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں ٹیپو سلطان کی تصویر کو لے کر کھڑا ہوا تنازع محض ایک انتظامی بحث نہیں ہے، بلکہ یہ اس گہرے اندھیرے کی علامت ہے جس میں شہر کو دھکیلا جا رہا ہے۔ ڈپٹی میئر شانِ ہند نہال احمد کے ذریعے تصویر ہٹا کر پھر سے لگانے کی وارننگ دینا یہ صاف کرتا ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی ترجیحات کیا ہیں۔ جب شہر کو بہتر سڑکوں، صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع کی ضرورت ہے، تب اقتدار پر قابض پارٹیاں مذہبی علامتوں کے ذریعے اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ مالیگاؤں نے جب جب شدت پسندی کی راہ چنی ہے، اس کا خمیازہ یہاں کی بھولی بھالی عوام اور شہر کے وقار نے بھگتا ہے۔ اسلام پارٹی کا اقتدار میں آنا اور پھر اس طرح کی متنازع سرگرمیوں میں شامل ہونا مخالفین کو موقع دینے جیسا ہے۔ لیکن سب سے بڑا نقصان اس 'سیکولر' ساکھ کا ہو رہا ہے، جس کا ثبوت ان مسلم لیڈروں کو دینا چاہیے تھا۔ عوام نے ترقی کے نام پر ووٹ دے کر جنہیں کرسی تک پہنچایا، وہ اب سیاست کی ایسی بے مطلب لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں جس کا انجام صرف شہر کی بدنامی میں ہوگا۔

اسلام پارٹی اپنی آئیڈیالوجی اور پارٹی کی توسیع کے نشے میں اس قدر چور ہے کہ اسے عوام کی بنیادی ضرورتیں نظر نہیں آ رہی ہیں۔ دوسری طرف سماجوادی پارٹی ممبئی میں بیٹھے اپنے آقاؤں کے اشاروں پر ناچنے اور شدت پسندی کی دوڑ میں پچھڑنے کے ڈر سے بس تماشہ دیکھ رہی ہے۔ ان کے درمیان سب سے تکلیف دہ پہلو ان 'اندھ بھکتوں' کا ہے جو اپنے لیڈروں کی ان بچکانہ لیکن خطرناک حرکتوں پر تالیاں بجا رہے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ وہ خود اپنے مستقبل کے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔

یہ تنازع صرف ایک تصویر کا نہیں ہے، یہ سرمایہ کاری اور ترقی کے راستے میں کھڑا کیا گیا ایک روڑا ہے۔ کوئی بھی حکومت یا ادارہ ایسے شہر میں سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہے گا جو ہر دوسرے دن مذہبی تنازعات کی وجہ سے سرخیوں میں رہتا ہو۔ اقتدار والوں کے ہاتھ میں آخر کار نہ اقتدار بچے گا اور نہ ساکھ، صرف راکھ رہ جائے گی۔ مالیگاؤں کی عوام کو اب یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا انہوں نے ایسی ہی طاقت کو منتخب کیا تھا؟ اگر لیڈر ترقی کے بجائے تصویروں اور مذہبی جذبات کو ڈھال بنا کر سیاست کریں گے، تو مستقبل میں عوام کے ہاتھ خالی ہی رہیں گے۔

مالیگاؤں کو اندھیرے کی طرف دھکیلنے والے یہ لیڈر تو اپنی روٹیاں سینک لیں گے، لیکن عام شہری صرف ایک پسماندہ اور بدنام شہر کا حصہ بن کر رہ جائے گا۔ وقت آگیا ہے کہ مالیگاؤں کے حکمراں اپنی ذمہ داری سمجھیں، ورنہ تاریخ انہیں ترقی کے 'قاتل' کے طور پر یاد رکھے گی۔ یاد رکھیں، مالیگاؤں کی ترقی کرنے کے لیے اب کوئی ٹیپو سلطان نہیں آنے والا۔

یہ کہانی تو مالیگاؤں شہر کی ہے، لیکن اس کہانی کے گرد گھومتی سچائی کو بھارت کے ہر اس شہر کے باشندوں کو سمجھنا ہوگا جسے لیڈر اپنے اشاروں پر ناچنے والی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں، یا یہ سمجھتے ہیں کہ انتخاب کے وقت عوام کو ان کے ووٹوں کی قیمت دے دی گئی ہے اور اب عوام ہمارے سامنے منہ نہیں کھول سکتی، پھر چاہے ہم اقتدار کے نشے میں شہر کو کیوں نہ بیچ ڈالیں۔ یاد رکھیں، عظیم ہستیوں کی تصویریں ایک اعزاز ہوتی ہیں، لیکن اگر کسی تصویر سے کسی اور کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچے گی، تو وہ عظیم شخصیت جس کی تصویر آپ نے لگائی ہے، کیا اس ٹھیس کو ختم کر پائے گی؟ یا کیا وہ عظیم شخصیت یہ دیکھ کر کہ آپ نے اس کی تصویر کو عزت دی ہے، آپ کے شہر کی ترقی کرے گی یا آپ کی ذمہ داریوں کو اپنی غیبی طاقت سے پورا کر دے گی؟ ایسے کئی سوالات ہیں...









*جعفر نگر وارڈ میں آوارہ کتوں کی بہتات: ایک سنگین مسئلہ*

​ہمارے محلے میں گزشتہ کچھ عرصے سے آوارہ کتوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے، جو اب اہل محلہ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ گلیوں اور چوراہوں پر کتوں کے جھنڈ نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے بچوں کا گھر سے باہر نکلنا اور بزرگوں کا مسجد یا بازار جانا دشوار ہو گیا ہے۔

​انتظامیہ کی لاپرواہی
​اس سنگین صورتحال کی سب سے بڑی وجہ نگر سیوکوں اور بلدیاتی عملے کی لاپرواہی ہے۔ بار بار شکایات کے باوجود انتظامیہ خوابِ غفلت میں ہے:
​کتوں کی نس بندی (Sterilization) کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔
​کوڑے دانوں کی بروقت صفائی نہ ہونے سے کتے وہاں خوراک کی تلاش میں جمع رہتے ہیں۔
​کتوں کو پکڑنے والی ٹیمیں مہینوں سے علاقے میں نظر نہیں آئیں۔
​انسانی جانوں کو خطرہ
​کتے اب نہ صرف راہگیروں پر بھونکتے ہیں بلکہ کئی معصوم بچوں اور بوڑھوں کو کاٹ کر زخمی کر چکے ہیں۔ پاگل کتوں کے کاٹنے سے ریبیج (Rabies) جیسی مہلک بیماری کا خطرہ ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہوئے بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔

​یہ نگر سیوکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاست سے بالاتر ہو کر عوامی تحفظ کو ترجیح دیں۔ اگر فوری طور پر ان کتوں کی منتقلی یا ان کی تعداد کنٹرول کرنے کے اقدامات نہ کیے گئے تو کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اہل محلہ کو اس خوف زدہ ماحول سے نجات دلائے

*عمیر سر نورانیہ*











*مفتی سراج احمد ملی(مفتی شہر)کے مدلل فتویٰ کی روشنی میں*
*چھ روزہ نماز تراویح کا مشترکہ اعلان اور مصلیان کیلئے رہنما ہدایات*
*جو لوگ رمضان میں سفر وغیرہ کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کے لیے ایک جگہ پورے رمضان میں قرآن کریم کا سننا ممکن نہ ہو، یا جو حضرات ایک سے زائد قرآن پاک سننے کا ذوق رکھتے ہوں، ایسے افراد کے لیے مندرجہ ذیل مقامات پر چھ روزہ نماز تراویح کا انعقاد کیا گیا ہے:*
*1) باغبان جماعت خانہ ، واقع نور باغ چوک ، ہزار کھولی*

*امام تراویح: مفتی محمد عامر یاسین ملی*

*(نوٹ: شیخ عثمان ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں ہونے والی تراویح جگہ کی سہولت کے پیش نظر یہاں ہوگی ۔*

*2)مدرسہ ثناء العلوم (ساٹھ فٹی روڈ ،داتارنگر)*

*امام : حافظ عبدالرحمن داعی و حافظ محمد عرفات*

*۲) قریش جماعت خانہ (عبد اللہ نگر)*

*امام:مفتی سالک زبیر ندوی*

*۳)محمڈن ہال (سردار نگر)*

*امام : حافظ محمد عمیس انعامی و حافظ نعیم احمد*
*-*-*
*مصلیان کے لیے رہنما ہدایات*

*(الف) جن حضرات کو واقعی سفری مجبوری درپیش ہو یا جو ایک سے زائد قرآن سننے کا ذوق رکھتے ہوں ، ایسے افراد اہتمام کے ساتھ شرکت کریں۔*

*(ب) نماز تراویح میں تکبیر تحریمہ کے ساتھ شریک ہوجائیں ،چھ اور دس روزہ ہی نہیں سوا اور ڈیڑھ پارے والی تراویح میں بھی بعض حضرات امام کے رکوع میں جانے تک بیٹھے رہتے ہیں ،یہ قرآن کی بے ادبی ہے اور ایسے لوگوں کا قرآن ادھورا رہ جاتا ہے ۔*

*(ج)تراویح چھ اور دس دن کی ہو یا بیس اورستائیس دن کی ،تکمیل قرآن کے بعد بھی پورا رمضان نماز تراویح پڑھنا مسنون ہے ،لہذا تکمیل قرآن کے بعد بھی نماز تراویح کی ادائیگی کا اہتمام کرتے رہیں۔*
*جزاکم اللہ خیرا*
*جاری کردہ : انتظامی کمیٹی برائے چھ روزہ تراویح (مولانا عبدالرحمن جمالی ثناء العلوم للبنات، اسامہ ٹیلر نور باغ ، محمد مدثر محمڈن ہال، ابوبکر صدیق قریش جماعت خانہ و نوجوانان ہزار کھولی و نور باغ مالیگاؤں)*









*مالیگاؤں کا 'تصویر تماشہ' اور حجاب کی سیاست: ترقی کے 'جنازے' پر چڑھتی سیاست*
✍️*وسیم رضا خان* ✍️
مالیگاؤں مہانگر پالیکا میں گزشتہ دس دنوں سے جو سرکس چل رہا ہے، وہ جمہوریت کے لیے کوئی خوش آئند اشارہ نہیں ہے۔ میئر نسرین شیخ اور ڈپٹی میئر شانِ ہند نہال احمد نے کرسیاں تو سنبھال لیں، لیکن ارادے 'عوامی خدمت' سے زیادہ 'جنگ' کے نظر آ رہے ہیں۔ جس شہر کو گڑھوں سے نجات، صاف پانی اور بہتر بنیادی ڈھانچے کی ضرورت تھی، وہاں کی اقتدار اب 'تصویر بنام تقدیر' کی لڑائی میں الجھ گئی ہے۔ مالیگاؤں کی سیاست میں حالیہ واقعات نہ صرف اقتدار کے مساوات کو ظاہر کرتے ہیں، بلکہ یہ شناخت کی سیاست اور ترقی کے ایجنڈے کے درمیان کشمکش کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ مالیگاؤں مہانگر پالیکا نے تاریخ تو رقم کی کہ دو اقلیتی خواتین—میئر نسرین شیخ اور ڈپٹی میئر شانِ ہند—اقتدار کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھیں، لیکن افسوس کہ یہ تاریخ ترقی کی سیاہی سے کم اور تنازعات کے رنگ سے زیادہ لکھی جا رہی ہے۔ عہدہ سنبھالتے ہی جس توانائی کو شہر کی سڑکوں، پانی اور صحت کی سہولیات پر خرچ ہونا چاہیے تھا، اسے 'ٹیپو سلطان' کی تصویر اور 'حجاب' کے گرد سمیٹ دیا گیا ہے۔

ڈپٹی میئر شانِ ہند کی جانب سے اپنے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر لگانا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی 'پولیٹیکل برانڈنگ' نظر آتی ہے۔ جب اپوزیشن (شندے گروپ کی شیوسینا) اس پر جارحانہ رخ اختیار کرتی ہے، تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ شہر کے مسائل سے زیادہ ضروری دونوں فریقوں کے لیے اپنی 'نظریاتی زمین' بچانا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی عظیم شخصیت کی تصویر لگانے سے ہی شہر کے عوام کے بنیادی مسائل حل ہو جائیں گے؟ جدوجہدِ آزادی میں شراکت ایک تاریخی حقیقت ہو سکتی ہے، لیکن کیا موجودہ دور کی بدحال سڑکوں کا حل ماضی کی تصویروں میں چھپا ہے؟ اقتدار میں آتے ہی علامتوں کی سیاست کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی کے ایجنڈے پر آپ کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ جب اپوزیشن اس پر حملہ آور ہوتی ہے، تو وہ بھی اسی پولرائزیشن (تفرقہ بازی) کی آگ میں گھی ڈالتی ہے جو مالیگاؤں کو دہائیوں سے پیچھے دھکیل رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا میئر اور ڈپٹی میئر نے عہدے کا حلف 'آئین' کا لیا تھا یا 'علامتوں' (Symbolism) کا؟

مالیگاؤں میں مسلم خواتین کا قیادت میں آنا خواتین کی خود مختاری کی علامت ہو سکتا تھا، لیکن یہاں بھی 'حجاب' اور 'پروٹوکول' کے سوال نے جگہ لے لی۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ انتظامی عہدوں پر بیٹھنے والے شخص کو مذہبی علامتوں سے بالاتر ہو کر عہدے کے پروٹوکول کی پاسداری کرنی چاہیے۔ جس طرح ایک وردی والے کے لیے قوانین سب سے مقدم ہوتے ہیں، کیا ایک عوامی عہدے پر فائز خاتون کو بھی 'یونیفارم پروٹوکول' پر عمل نہیں کرنا چاہیے؟ اگر حجاب ایک ذاتی پسند ہے، تو اس کا وقار تب اور بڑھتا جب یہ 'انتظامی غیر جانبداری' کے آڑے نہ آتا۔ لیکن جب ان علامتوں کو سیاسی ہتھیار بنایا جاتا ہے، تو سوال اٹھنا لازمی ہے۔

اکثر جب اقتدار والوں سے ان کے کام کا حساب مانگا جاتا ہے، تو 'اقلیت ہونے' یا 'ٹارگٹ کیے جانے' کا کارڈ کھیل دیا جاتا ہے۔ مالیگاؤں کے عوام نے میئر اور ڈپٹی میئر کو اس لیے نہیں چنا کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کو ڈھال بنائیں، بلکہ اس لیے چنا کہ وہ شہر کی کایا پلٹ کریں۔ مالیگاؤں کی تنگ گلیوں اور گرد آلود راستوں کو نہ تو ٹیپو سلطان کی تصویر سے فرق پڑتا ہے اور نہ ہی حجاب پر ہونے والی بحث سے۔ انہیں فرق پڑتا ہے صاف پانی سے، روزگار سے اور ایک بہتر مستقبل سے۔

میئر نسرین شیخ اور ڈپٹی میئر شانِ ہند کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ اب کسی خاص طبقے یا پارٹی کی نمائندہ محض نہیں ہیں، بلکہ پورے مالیگاؤں کی محافظ ہیں۔ تصویروں کی سیاست اور حجاب کے تنازعات میں الجھ کر وہ ان امیدوں کا گلا گھونٹ رہی ہیں جن کے دم پر وہ اس کرسی تک پہنچی ہیں۔ آئینی عہدوں کا اپنا ایک وقار اور ایک غیر اعلانیہ 'یونیفارم پروٹوکول' ہوتا ہے۔ جب آپ ایک پورے شہر کی نمائندگی کرتے ہیں، تو آپ کی شناخت آپ کے مذہبی عقائد سے اوپر اٹھ کر ایک 'عوامی خادم' (Public Servant) کی ہونی چاہیے۔ انتظامی دفاتر 'عجائب گھر' یا 'مذہبی اکھاڑے' نہیں ہوتے؛ وہ خدمت کے مراکز ہوتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ سیاست کو دفتر کی دہلیز کے باہر چھوڑ کر، ترقی کی اس فائل کو کھولا جائے جو شاید دھول چاٹ رہی ہے۔

اقتدار کا نشہ جب علامتوں کی سیاست میں بدل جاتا ہے، تو عوام کی امیدیں دم توڑ دیتی ہیں۔ میئر اور ڈپٹی میئر کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ کسی مسجد یا مدرسے کی نہیں، بلکہ ایک سرکاری کارپوریشن کی سربراہ ہیں۔ اگر وہ اپنی توانائی تصویروں اور حجاب کے دفاع میں خرچ کریں گی، تو مالیگاؤں کی ترقی صرف کاغذوں اور تقریروں تک محدود رہ جائے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ مالیگاؤں کے یہ 'معززین' اپنی شناخت کی سیاست کو گھر چھوڑ کر آئیں اور ترقی کی اس فائل پر دستخط کریں جس کے لیے انہیں منتخب کیا گیا ہے۔ ورنہ تاریخ انہیں 'تاریخ بدلنے والوں' کے طور پر نہیں، بلکہ 'وقت برباد کرنے والوں' کے طور پر یاد رکھے گی۔

*🔴سیف نیوز اردو*

یوپی میں کانگریس کا ہلہ بول! اسمبلی گھیراؤ کرنے پہنچے سیکڑوں کارکنوں پر لاٹھی چارج، متعدد گرفتار اتر پردیش میں آج من...