Tuesday, 3 February 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*





آنکھوں میں اچانک سرخی آنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟
آنکھوں کو انسان کی شخصیت کا ہی نہیں بلکہ جسم کا بھی آئینہ کہا جاتا ہے جن کے ذریعے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے۔  
یہی وجہ ہے کہ آنکھوں کی رنگت سے بھی جسم میں ہونے والی بیماریوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن کبھی کبھی نیند کی کمی کی وجہ سے بھی آنکھوں میں سرخی آجاتی ہے۔ یا کبھی الرجی کے باعث بھی آنکھیں سرخ دکھائی دیتی ہیں۔ 
الرجل میگزین کے مطابق بعض اوقات آنکھوں میں سرخی کا آنا کسی قسم کے وائرس کا حملہ بھی ہوسکتا ہے، علاوہ ازیں بیکٹریا کا بھی اچانک حملہ آنکھوں کی سرخی کا سبب ہوسکتا ہے۔  آنکھوں میں سرخی کا آنے کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ تاہم اس کے تدارک کے لیے اسباب کا جاننا اہم ہوتا ہے جس کے بعد ہی علاج کیا جاتا ہے۔
اگر نیند کی کمی سے آنکھیں سرخ ہو رہی ہیں تو اس کے لیے مناسب حد تک نیند لینا ضروری ہے لیکن اگرسرخی کا سبب کوئی اور ہے تو اس صورت میں باقاعدہ علاج کرانا ضروری ہوتا ہے۔ 
آنکھوں کی سرخی کے اسباب: 
نیند کی کمی  
عام طور پرنیند کی قلت آنکھوں کی سرخی کا باعث ہوتی ہے، آنکھوں کی رگوں کو مطلوبہ مقدار میں آکسیجن میسر نہ آنا بھی سرخی کا سبب ہوتا ہے۔ 
نیند کی کمی کی وجہ سے آنکھیں طویل مدت تک کھلی رہتی ہیں جس کی وجہ سے آنکھ کی پتلی (قرنیہ) میں مطلوبہ رطوبت نہیں ہوتی اورآنکھ قدرے خشک ہو کر سرخ ہو جاتی ہے۔ 
اس حوالے سے سال 2022 میں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیند کی کمی سے آنکھوں کی خشکی بڑھ جاتی ہے جس سے آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں۔کانٹیکٹ لینس 
کانٹیکٹ لینس لگانے سے آنکھوں کو مطلوبہ مقدار میں آکسیجن میسرنہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ سرخ ہوجاتی ہیں۔ اگرلینس رات کو سوتے وقت بھی استعمال کیے جائیں تو ممکن ہے کہ آنکھوں میں انفیکشن ہو جائے۔ 
اس لیے ضروری ہے کہ لینس کا استعمال کثرت سے نہ کیا جائے اور اسے مطلوبہ طبی طریقے سے دھونے کے بعد لگایا جائے، سوتے وقت تو قطعی طور پر لینس نہ لگائیں۔ 
حساسیت یا الرجی
حساسیت یا الرجی دراصل عام مدافعتی ردعمل ہے، تاہم یہ کسیعمل کا محرک ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے آنکھوں میں الرجی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ 
الرجی کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں ادویات، گرد وغبار، فضائی آلودگی، بعض کیمیائی مواد مثلاً سویمنگ پولز میں کلورین کی زیادتی شامل ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو موسمی تبدیلی کی وجہ سے بھی آنکھوں کی الرجی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
نیلا پانی یا موتیا
وہ افراد جو موتیا یا نیلے پانی کے مرض میں مبتلا ہوتے ہوں ان کی آنکھیں بھی سرخ رہتی ہیں یا آنکھوں میں زیادہ دباؤ بھی سرخی کا باعث بنتا ہے۔ آنکھ پر دباؤ خطرے کا باعث بن سکتا ہے جس سے آنکھ کی شریان کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ وہ شریان ہوتی ہے جو آنکھ کے نیٹ ورک کودماغ کے مخصوص حصے تک پہنچاتی ہے۔ 
آنکھوں میں سرخی عام طورپر معمر افراد میں زیادہ ہوتی ہے جس سے زاویہ بصارت بھی متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ آنکھ اچانک سرخ ہوجانے کی صورت میں ضروری ہوتا ہے کہ فوری طور پر معالج سے رجوع کیا جائے بالخصوص آگر آنکھ کی سرخی کے ساتھ متلی کا احساس ہو، یا آنکھوں پر دباؤ پڑھے یا پھر سر میں درد ہو۔انفیکشن  
آنکھوں میں سرخی آنے کے اسباب میں وائرس کا حملہ بھی ایک اہم وجہ ہوتی ہے جس سے انفیکشن ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر باقاعدہ معائنہ کرنے کے بعد تشخیص کر کے ادویات جاری کرتے ہیں۔
کبھی کبھار نزلے یا شدید زکام کا شکار ہونے کی صورت میں بھی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔
جہاں تک بیکٹیریئل انفیکشن کا تعلق ہے تو یہ زیادہ تر بچوں میں عام ہوتی ہے جو اکثر آنکھوں کو رگڑنے سے بڑھ جاتی ہے اور یہ ایک سے دوسرے شخص کو بھی لگ سکتا ہے۔ اس لیے بیکٹیریئل انفیکشن کے دوران احتیاط برتنا بھی ضروری ہے۔ 
کیا آنکھوں میں سرخی متعدی ہے؟ 
اگرچہ محض آنکھوں میں سرخی ہونا ایک سے دوسرے میں منتقل ہونا ممکن نہیں ہوتا تاہم اس کےلیے وجوہات معلوم کرنا ہوتی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ سرخی محض نیند کی کمی کی وجہ سے ہے یا کسی وائرس بیکٹریا یا کسی بیماری کے باعث ہوئی ہے جو متعدی ہوسکتی ہے۔ 
آنکھوں کی بیماری یا سرخی اس وقت تک متعدی ہوسکتی ہے جب تک اس میں وہ علاماتیں رہتی ہیں جو کسی وائرس یا بیکٹریا کی وجہ سے سامنے آتی ہیں۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ اسباب کومعلوم کیاجائے۔ 
آنکھوں کی سرخی کا علاج  
آنکھوں کی سرخی کے علاج کے لیے بنیادی طور پر اسکی وجہ دریافت کرنا ہوتی ہے، اس کے بعد ہی مناسب طریقہ علاج تجویز کیا جاتا ہے جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔
1. اینٹی بائیوٹک ڈراپس  
آنکھوں کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹک قطریں دیے جاتے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ معالج آنکھوں کا معائنہ کرنے کے بعد بیماری کی تشخیص کریں اور اس کے بعد اینٹی بائیوٹک کی مقدار اور تناسب کا تعین کریں۔ آگرآنکھوں کی سرخی معمولی ہے تو یہ تین سے 5 دنوں میں از خود ختم ہوجاتی ہے جس کے لیے اینٹی بائیوٹک دوائی دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ 
اگر آنکھوں میں انفیکشن وائرل ہو یعنی کسی وائرس کی بنیاد پر ہو تو وہ 14 دن تک رہنے کے بعد ختم ہو جاتا ہے جس کے لیے لازمی نہیں کہ اینٹی بائیوٹک استعمال کی جائیں۔ 
2 ۔ مصنوعی آنسو 
عام طور پر آنکھوں کی سرخی خشکی کی وجہ سے بھی ہوتی ہے جس کے لیے ’مصنوعی آنسو‘ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا مقصد آنکھوں کو مرطوب کرنا یعنی خشکی کو دور کرنا اور مطلوبہ مقدار میں آکسیجن کی فراہمی ہے۔ 
3۔ اینٹی ہسٹامائنز ( الرجی کی دوائی) 
الرجی کی وجہ سے سرخ ہونے والی آنکھ کے علاج کے لیے اینٹی ہسٹامائنز جو کہ الرجی کے لیے دی جاتی ہے مفید ہوتی ہے۔ اس صورت میں آنکھوں میں سرخی کے ساتھ خارش بھی ہوتی ہے۔بہتر ہی نہیں بلکہ لازمی ہے کہ آنکھوں کے لیے کوئی بھی دوائی از خود استعمال نہ کی جائے بلکہ معالج کے مشورے سے اسے استعمال کی جائے۔ 
آنکھوں کی سرخی میں احتیاطی تدابیر
آنکھوں کی سرخی سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا چاہیے۔
۔ ہاتھوں کو صاف پانی اورصابن سے دھوتے رہیں۔
۔ آنکھوں کو رگڑا نہ جائے خاص کر جب آنکھوں میں سرخی ہو۔
۔ آنکھ کے ڈراپس یا مرہم استعمال کرنے کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح دھویا جائے تاکہ ساتھی متاثر نہ ہوں۔
۔ زیادہ دیر تک کانٹیکٹ لینس استعمال نہ کیے جائیں۔
۔ کانٹیکٹ لینس کومخصوص دوائی سے دھوئیں۔ 














*مسجد و مدرسہ ام المومنین حضرت سودہ کا افتتاح انشاءاللہ عنقریب*
 اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے آپکے اہل خانہ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین
   مسجد و مدرسہ ام المومنین حضرت سودہ گلشن مجید سروے نمبر 2/ 104 پلاٹ نمبر 43 جس کا تعمیری کام الحمداللہ تیزی سے جاری ہے
 اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور آپ حضرات کے مسلسل تعاون سے مسجد کا تعمیر تقریباً 95٪ فیصد مکمل ہو چکی ہے مگر ابھی بھی کچھ اہم کام باقی ہیں 
جبکہ تعمیرات میں لگنے والےبلڈنگ مٹریل کے *علاوہ مزدوری کی نقد رقم کی اشد ضرورت ہے* فی الحال ساڑھے چار لاکھ روپے بطور قرض کچھ افراد سے لیا گیا ہے کیونکہ وقت کم ھونے کی وجہ اور رمضان المبارک سے پہلے پہلے مسجد کا افتتاح کرنا نہایت ضروری ہے وجہ صاف ہیکہ سروے نمبر 104 میں آبادی تو بہت بڑی ہو گئی ہے اور بستی دن بہ دن بڑھتی ہی جارہی ہے مگر *گلشن مجید میں یہ پہلی مسجد ہو گی انشاءاللہ*
 ان حالات کے پیش نظر شہر عزیز و اہلیان محلہ سے ایک مرتبہ پھر سے دردمندانہ اپیل ہے کہ اس کار خیر میں حصہ لے کر اجر عظیم کے مستحق بنے اللہ تعالیٰ تمام معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین 

==============
 رابطہ کیلئے 
👇👇👇
==============
  *محمد یعقوب انصاری 9270304700*
__________
 *محمد معروف محمد صدیق*
*8605811808*
---------------
 *مراد کرانہ والے 7385157467*










ممبئی یونیورسٹی نے اردو لائبریری مالیگاؤں کی 124 سالہ خدمات کا اعتراف کیا  
"اردو اور مالیگاؤں "پر کامیاب مذاکرہ 
ممبئی، 1 فروری 2026: ممبئی یونیورسٹی، اردو چینل اور روٹس آف کائنڈنس کے اشتراک سے فیروز شاہ مہتہ آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں اردو لائبریری مالیگاؤں (ناسک) کی 124 سالہ علمی و ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے "انوار اردو" ایوارڈ بشکل ٹرافی پیش کیا گیا۔ اس موقع پر اردو لائبریری کے تمام ٹرسٹیان کو اعزاز سے نوازا گیا۔  

تقریب میں معزز مہمانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جن میں 
ڈاکٹر قاسم امام 
ڈاکٹر قمر صدیقی  
،ایڈوکیٹ نند کشور بھتڑا  
ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر  
ودیگر ممتاز شخصیات بھی شریک رہیں

اس سے قبل "مالیگاؤں اور اردو" کے عنوان سے ایک کامیاب مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں جاوید انصاری (آکاش وانی)، مظہر معاذ شوقی، ڈاکٹر احتشام دانش، نہال احمد عبداللہ اور عبید الرحمٰن حکیم نے شرکت فرمائی۔ مذاکرہ میں مالیگاؤں کی شعری و ادبی روایت، دینی درسگاہوں،ادبی انجمنوں، میوزک کلب، ڈرامہ گروپ، خطاطی اور ادبِ اطفال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔  

جاوید انصاری نے شہر کی ادبی و ثقافتی تاریخ پر تحقیقی مضمون پیش کیا، مظہر معاذ شوقی نے عوامی کتب خانوں بالخصوص اردو لائبریری کا تعارف کرایا، جبکہ رمضان مکی نے عصری درسگاہوں کے اعداد و شمار اور معیار تعلیم پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر احتشام دانش نے رسمِ شکریہ ادا کیا۔  

اسی تقریب میں جاوید انصاری کی طویل نشریاتی خدمات کا بھی اعتراف کیا گیا اور انہیں ممبئی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی جانب سے"خادم اردو" ایوارڈ سے نوازا گیا۔  

 اردو لائبریری ٹرسٹ کے چیئرمین الحاج خالد عمر صدیقی نے تمام شرکا اور ٹرسٹیان کو مبارکباد دی اور ممبئی یونیورسٹی، اردو چینل اور روٹس آف کائنڈنس کے ذمہ داروں کا شکریہ ادا کیا۔  

یہ تقریب اردو زبان و ادب کے فروغ اور مالیگاؤں کی علمی شناخت کے لیے سنگِ میل ثابت ہوئی۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*



لاکھ ٹکے کا سوال ! کیا اب غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی بازار میں کریں گے واپسی؟
نئی دہلی۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طویل انتظار کے تجارتی معاہدے کے بعد ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں نئی ​​توانائی دیکھی گئی ہے۔ سرمایہ کار اس معاہدے کو نہ صرف تجارتی معاہدے کے طور پر دیکھ رہے ہیں بلکہ ایکویٹی مارکیٹ اور برآمدات سے متعلقہ شعبوں کے لیے ایک اہم مثبت علامت ہے۔ اس معاہدے سے مارکیٹ میں ریلیف آیا ہے، خاص طور پر غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (FIIs) کی مسلسل فروخت کے بعد۔ معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی بازار مضبوطی سے کھلے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد واپس لوٹتا دکھائی دیا۔

مارکیٹ پر تجارتی معاہدے کا اثر
ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے کی خبروں پر اسٹاک مارکیٹ نے زوردار ریئکشن دیا ۔ نفٹی 50 گیپ ۔ اپ اوپننگ کے ساتھ تیزی دکھائی ، جبکہ سینسیکس میں بھی شروعاتی کاروبار میں بڑی اچھال دیکھی گئی ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ محصولات کی وضاحت برآمدات کو فروغ دے گی، مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فروغ دے گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو بہتر بنائے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ بھارت کی درمیانی مدت کی ترقی اور بیرونی اقتصادی استحکام کے لیے ساختی طور پر مثبت ہے۔ایف آئی آئی کی فروخت تشویش کا باعث ہے
پچھلے کچھ مہینوں سے، FII مسلسل ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ سے فنڈز نکال رہے ہیں۔ NSDL کے اعداد و شمار کے مطابق، FIIs نے اگست 2025 سے اب تک 1 لاکھ کروڑ سے زیادہ کی رقم نکال لی ہے۔ اس کی بڑی وجہ امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر عائد اضافی محصولات اور تجارتی معاہدے کے ارد گرد کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ تاہم، فروری کے اوائل سے FII کی فروخت کی رفتار سست پڑ گئی ہے، اور محدود خریداری بھی دیکھی گئی ہے، جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ رجحان بدل سکتا ہے۔

DIIs مارکیٹ کے لیے ایک مضبوط ڈھال
جہاں FII کی فروخت نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا، وہیں گھریلو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (DIIs) نے توازن برقرار رکھا۔ DII ایکویٹی سرمایہ کاری 2025 میں ریکارڈ سطح پر رہی۔ بروکریج رپورٹس کے مطابق، گھریلو سرمایہ کاروں نے مسلسل خریداری کے ساتھ مارکیٹ کو برقرار رکھا، جس سے بڑی کمی کو روکا گیا۔ DII سپورٹ کے بغیر، مارکیٹ کی کارکردگی کمزور ہو سکتی تھی۔

کیا ایف آئی آئیز واپس آئیں گے؟
مارکیٹ ماہرین کا خیال ہے کہ تجارتی معاہدے کے ارد گرد غیر یقینی صورتحال کم ہونے کے بعد FII کا اعتماد بتدریج واپس آ سکتا ہے۔ بہتر قدریں، مضبوط بنیادیں، اور پالیسی میں استحکام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے اور مضبوط اسٹاک سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔












بنگلہ دیش انتخابات 2026 : 127 ملین ووٹرز، 300 نشستیں اور 1971 کے بعد سب سے فیصلہ کن ووٹ
بنگلہ دیش میں ریفرینڈم اور عام انتخابات ایک ساتھ۔ساری دنیاکی ہے نظر
بنگلہ دیش چند ہی دنوں میں اپنی تاریخ کے سب سے اہم اور فیصلہ کن انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 12 فروری 2026 کو عوام ایک نئی پارلیمنٹ اور نئے وزیرِاعظم کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ یہ انتخاب محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے جمہوری مستقبل کے لیے ایک بڑا امتحان سمجھا جا رہا ہے۔یہ انتخابات اگست 2024 کی اس عوامی بغاوت کے پس منظر میں ہو رہے ہیں جس کی قیادت بڑی حد تک طلبہ نے کی تھی۔ اسی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی طویل عرصے سے قائم عوامی لیگ حکومت کا خاتمہ ہوا اور ملک میں ایک عبوری انتظامیہ قائم کی گئی۔

بنگلہ دیش میں اس تحریک کو اکثر ’’دوسری آزادی‘‘ کہا جا رہا ہے کیونکہ اس نے حکمرانی، احتساب اور جمہوری legitimacy (عوامی قبولیت) سے متعلق بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب آنے والا الیکشن اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا یہ سیاسی منتقلی ملک میں استحکام اور عوامی اعتماد پیدا کر سکے گی یا نہیں۔

ووٹنگ کب اور کیسے ہوگی؟
بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ پولنگ کا دن 12 فروری 2026 ہوگا۔ انتخابی مہم کا آغاز 22 جنوری سے ہو چکا ہے اور یہ 10 فروری شام 4:30 بجے ختم ہوگی، جس کے بعد لازمی 48 گھنٹے کا ’’کولنگ آف پیریڈ‘‘ ہوگا۔

پولنگ کا وقت صبح 7:30 سے شام 4:30 تک ہوگا، جو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں ایک گھنٹہ زیادہ ہے۔ اس اضافی وقت کا مقصد ایک پیچیدہ انتخابی عمل کو بہتر طریقے سے سنبھالنا ہے کیونکہ اس بار ووٹرز کو ایک ہی دن میں دو بیلٹ ڈالنے ہوں گے۔

ایک ووٹ پارلیمنٹ کے امیدوار کے لیے اور دوسرا ایک قومی آئینی ریفرنڈم کے لیے ہوگا۔

ووٹوں کی گنتی اسی دن ہوگی جبکہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر ووٹنگ 13 فروری کو مکمل ہوگی۔

2026 کا انتخاب اتنا بڑا کیوں ہے؟
یہ انتخاب دنیا کے سب سے بڑے جمہوری عملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

کل رجسٹرڈ ووٹرز : 127,695,183

امیدواروں کی تعداد : 1,981

جنرل نشستیں : 300

خواتین کی مخصوص نشستیں : 50 (بعد میں پارٹی کارکردگی کے مطابق تقسیم)

ووٹنگ کے لیے :

42,761 پولنگ سینٹرز

تقریباً 245,000 پولنگ بوتھ

امن و امان کے لیے حکومت نے 92,500 فوجی اہلکار تعینات کرنے کی اجازت دی ہے، جو 1971 کے بعد سب سے بڑی فوجی تعیناتی ہے۔ فوج کو مجسٹریٹ اختیارات بھی دیے گئے ہیں اور وہ پولیس اور ریپڈ ایکشن بٹالین کے ساتھ کام کرے گی۔اس پورے عمل کی نگرانی چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر اے ایم ایم ناصرالدین کر رہے ہیں، جنہیں بنگلہ دیش کی تاریخ کے مشکل ترین عہدوں میں سے ایک پر فائز سمجھا جا رہا ہے۔

دو بیلٹ اور جولائی چارٹر ریفرنڈم
2026 کے انتخابات کو منفرد بنانے والی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پہلی بار دوہرا بیلٹ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔

پارلیمانی ووٹ کے ساتھ ساتھ عوام ایک آئینی اصلاحاتی پیکج پر بھی ووٹ دیں گے جسے ’’جولائی چارٹر‘‘ کہا جا رہا ہے۔

یہ چارٹر عبوری حکومت (محمد یونس کی قیادت میں) نے پیش کیا ہے جس میں بڑی آئینی تبدیلیاں شامل ہیں :

وزیرِاعظم کے لیے دو مدتوں کی حد

مستقل عدالتی تقرری کمیشن

متناسب نمائندگی کے لیے ایوانِ بالا

محتسب (Ombudsman) کے آئینی عہدے کی بحالی

الیکشن حکام کے مطابق ریفرنڈم اور عام انتخابات ایک ساتھ کرانا انتظامی طور پر مشکل ضرور ہے لیکن یہ اصلاحات 2024 کی تحریک کے بعد جمہوری منتقلی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

سیاسی میدان میں کون کون ہے؟
اس بار سیاسی منظرنامہ ماضی کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے کیونکہ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کوانتخابی عمل سے باہرکردیاگیا ہے، جس نے مقابلے کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP)
بی این پی اس وقت سب سے مضبوط اور منظم جماعت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان دسمبر 2025 میں 18 سالہ جلاوطنی کے بعد واپس آئے۔

بی این پی کی مہم “Bangladesh First” کے نعرے کے تحت چل رہی ہے اور اس کے اہم وعدے ہیں :

معاشی بحالی

کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ’’فیملی کارڈ پروگرام‘‘

فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ نظام کا تسلسل

11 جماعتی اتحاد (NCP + Jamaat)
بی این پی کو سب سے بڑا چیلنج ایک 11 جماعتی اتحاد سے ہے جس میں شامل ہیں :

نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP)

بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی

این سی پی 2024 کی طلبہ تحریک سے ابھری ہے اور نوجوان قیادت پر مشتمل ہے :

ناہید اسلام

سرجیس عالم

حسنت عبداللہیہ اتحاد متناسب نمائندگی کے حق میں ہے اور بی این پی و عوامی لیگ کی ’’طاقت کی گردش‘‘ توڑنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

دیگر امیدوار

دیگر سیاسی قوتوں میں شامل ہیں :
جاتیہ پارٹی کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ

بائیں بازو کا ڈیموکریٹک یونائیٹڈ فرنٹ

اسلامی اندولن بنگلہ دیش

گونو اودھیکار پریشد

2026 انتخابات کی نئی خصوصیات

یہ الیکشن کئی نئے تجربات کے ساتھ ہو رہا ہے :
پہلی بار بیرونِ ملک بنگلہ دیشیوں کے لیے پوسٹل ووٹنگ

تقریباً 300,000 افراد رجسٹرڈ

“No Vote” آپشن کی واپسی

اگر واحد امیدوار کے مقابلے میں No Vote جیت جائے تو دوبارہ الیکشن ہوگا

پلاسٹک پوسٹرز پر پابندی

یورپی یونین کا 150 رکنی مبصر مشن

کارٹر سینٹر کی تکنیکی معاونت

بھارت کو بھی بطور مبصر دعوت دی گئی

خواتین کی نمائندگی محدود
اگرچہ اس بار 78 خواتین امیدوار میدان میں ہیں (جو ایک ریکارڈ ہے) لیکن یہ مجموعی امیدواروں کا صرف 4 فیصد سے کم ہیں۔

زیادہ تر خواتین امیدواروں کے سیاسی خاندانوں سے تعلقات ہیں۔ بی این پی نے 10 خواتین کو ٹکٹ دیے ہیں اور وہ سب پارٹی قیادت سے جڑی ہوئی ہیں۔

قانون کے مطابق پارٹی کمیٹیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد کوٹہ مقرر ہے مگر عملدرآمد کمزور ہے اور اس کی ڈیڈ لائن 2030 تک بڑھا دی گئی ہے۔

ووٹرز کے لیے اہم مسائل

عوام کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ معاشی دباؤ ہے :
مہنگائی بلند سطح پر

تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری

کرپشن ایک بڑا مسئلہ

بنگلہ دیش 2024 میں کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 151ویں نمبر پر تھا۔

بھارت کے ساتھ تعلقات بھی انتخابی بحث کا حصہ ہیں۔ بی این پی حقیقت پسندانہ پالیسی کی بات کرتی ہے جبکہ 11 جماعتی اتحاد سخت ’’اینٹی ہیجیمونک‘‘ موقف رکھتا ہے۔

یہ کشیدگی دسمبر میں اس وقت نمایاں ہوئی جب وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر ڈھاکہ گئے اور سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کی۔

تین ممکنہ نتائج

تجزیہ کار تین بڑے امکانات بیان کرتے ہیں :
بی این پی کی واضح اکثریت اور واحد جماعتی حکومت

معلق پارلیمنٹ اور مخلوط حکومت

نوجوانوں کی mobilization سے NCP-Jamaat اتحاد کی غیر متوقع کامیابی

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کون جیتے گا بلکہ یہ ہے کہ نتیجہ عوامی طور پر قابلِ قبول ہوگا یا نہیں۔شیخ حسینہ، جو نئی دہلی میں خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں، نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ای میل میں کہا :

’’ایک ایسی حکومت جو اخراج پر قائم ہو، تقسیم شدہ قوم کو متحد نہیں کر سکتی۔‘‘

 12 فروری صرف انتخاب نہیں، مستقبل کا امتحان ہے
بنگلہ دیش کے لیے 12 فروری کا دن محض حکومت منتخب کرنے کا موقع نہیں بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا 2024 کی سڑکوں پر پیدا ہونے والی تبدیلی کی امید ایک قابلِ اعتماد جمہوری مستقبل میں بدل سکے گی یا نہیں۔

یہ الیکشن ملک کے استحکام، اداروں کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔











پاکستان: 48 گھنٹوں میں 177 بلوچ عسکریت پسند ہلاک
کوئٹہ، پاکستان: افغانستان کی سرحد سے ملحقہ جنوب مغربی علاقے میں شورش زدہ علاقوں میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے راتوں رات تقریباً دو درجن عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ ان ہلاکتوں سے گزشتہ 48 گھنٹوں میں عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کی تعداد 177 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے پیر کو جانکاری دی کہ سیکیورٹی فورسز کی یہ کارروائی باغیوں کے مربوط حملوں کی ایک لہر کے بعد کی جا رہی ہے جس میں کم از کم 33 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

فوج کی حمایت سے پولیس ہفتے کے اوائل سے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے ارکان کے خلاف کئی علاقوں میں یہ چھاپے مار رہی ہے، جب کہ چھوٹے گروپوں میں تقریباً 200 عسکریت پسندوں کی جانب سے صوبے بھر میں پولیس اسٹیشنوں، شہریوں کے گھروں اور سیکیورٹی تنصیبات پر بیک وقت خودکش بم حملے اور فائرنگ کی گئی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کا پیمانہ گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔

ہفتے کے آخر میں بی ایل اے کی طرف سے کیے گئے حملوں میں کم از کم 18 عام شہری اور سیکیورٹی فورسز کے 15 ارکان ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں کی پاکستان بھر کے سیاسی رہنماؤں کی طرف سے بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی، جن میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی زیرقیادت پارٹی کے اراکین بھی شامل ہیں۔

پیر کو وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں مزید 22 باغیوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی ستائش کی۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کو ’’ہندوستانی حمایت یافتہ دہشت گرد‘‘ قرار دیا۔ تاہم، انھوں نے اس الزام سے متعلق کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، اور نئی دہلی کی طرف سے کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، بلوچستان ملک کا سب سے کم آبادی والا صوبہ ہے۔ اس کا زیادہ جو زیادہ تر حصہ بلند پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ یہ ملک کی نسلی بلوچ اقلیت کا بھی ایک مرکز ہے۔ بلوچ اراکین کا الزام ہے کہ انہیں مرکزی حکومت کی جانب سے امتیازی سلوک اور استحصال کا سامنا ہے۔ اس نے آزادی کا مطالبہ کرنے والی علیحدگی پسند شورش کو ہوا دی ہے۔ صوبے میں اسلامی عسکریت پسند بھی سرگرم ہیں۔

اگرچہ حکام نے کہا کہ پیر کو صوبے میں معمول کی صورتحال بڑی حد تک واپس آگئی ہے، تاہم بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان ٹرین سروس مسلسل تیسرے دن بھی معطل رہی۔ صوبائی حکام نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے حملوں کے بعد ٹرین سروس معطل کر دی تھی اور یہ معطلی بدستور برقرار ہے۔

مارچ میں، کم از کم 31 افراد اس وقت مارے گئے جب بی ایل اے کے عسکریت پسندوں نے بلوچستان میں سیکڑوں افراد کو لے جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملہ کر دیا تھا۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے امدادی کارروائی شروع کرنے سے قبل مسافروں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اس میں تمام 33 حملہ آور مارے گئے، اور مسافروں کو رہا کر دیا گیا۔

بی ایل اے پر پاکستان میں پابندی عائد ہے۔ اس نے حالیہ برسوں میں متعدد حملے کیے ہیں، جن میں اکثر سیکیورٹی فورسز، چینی مفادات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروپ پاکستانی طالبان کی حمایت سے کام کر رہا ہے، جسے تحریک طالبان پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے، جو افغانستان کے طالبان حکمرانوں کے ساتھ منسلک ہے۔

Monday, 2 February 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*






نروانے کی کتاب پر لوک سبھا میں ہنگامہ، راہل گاندھی نے پوچھا، کتاب میں ایسا کیا ہے جو مجھے بولنے نہیں دیا جا رہا
نئی دہلی: صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم تبادلہ ہوا۔ بی جے پی ایم پی تیجسوی سوریا کا ایک بیان اس حد تک بڑھ گیا کہ اسپیکر کو لوک سبھا کی کارروائی ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ تیجسوی نے یو پی اے حکومت کے بارے میں کچھ تبصرے کیے، اور راہل گاندھی اس کا جواب دینا چاہتے تھے۔ تاہم، اسپیکر نے انہیں اس کتاب کا حوالہ دینے کی اجازت نہیں دی جسے وہ استعمال کرنا چاہتے تھے۔ یہ سارا تنازع اس بات سے ہی جڑا ہے۔

اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے (ریٹائرڈ) کی کتاب پر تبصرہ کرنا چاہتے تھے، اس بات پر ہنگامہ ہو گیا۔ حکمران جماعت کے ارکان نے راہل گاندھی کے اس کوشش پر اعتراض کیا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سوال کیا کہ کیا راہل گاندھی جس کتاب کا حوالہ دے رہے ہیں وہ شائع بھی نہیں ہوئی ہے۔ راہل گاندھی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے خود نروانے کی کتاب کو شائع کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ حکمراں جماعت نے یہ کہہ کر جواب دیا کہ اگر حکومت نے اجازت نہیں دی تھی تو اس کا مطلب ہے کہ اس میں موجود حقائق ریکارڈ پر نہیں ہیں۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اگر راہل گاندھی کسی میگزین کا حوالہ دینا چاہتے ہیں تو وہ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ اسپیکر نے اجازت نہیں دی۔ درحقیقت راہل گاندھی کاروان میگزین میں نروانے کی کتاب کے حوالے سے شائع ایک مضمون کا حوالہ دینا چاہتے تھے جس میں ڈوکلام پر تبصرہ کیا گیا تھا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ وہ چین کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں، بلکہ وہ کچھ باتیں سامنے لانا چاہتے ہیں جو وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بارے میں کہی گئی ہیں۔ انھوں نے اس کی اجازت مانگی۔

راہل گاندھی نے کہا، "اس میں ایسی کیا چیز ہے جو انہیں اتنا خوفزدہ کر رہی ہے؟ اگر وہ خوفزدہ نہیں ہیں تو مجھے پڑھنے کی اجازت دی جائے،"پارلیمنٹ کے احاطہ میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے انھیں روکے جانے پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ کانگریس ایم پی راہل گاندھی نے کہا کہ، "یہ میں نہیں کہتا، یہ آرمی چیف (ریٹائرڈ) نے کتاب میں لکھا ہے۔ کتاب کو شائع نہیں ہونے دیا جا رہا ہے، یہ تذبذب کا شکار ہے، اور یہ آرمی چیف کا نقطہ نظر ہے۔ وہ آرمی چیف کے نقطہ نظر سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ وہ اس سے کیوں خوفزدہ ہیں کہ آرمی چیف کیا کہنا چاہتے ہیں؟ ہمیں وزیر اعظم کے بارے میں کچھ پتا چلے گا، راجناتھ سنگھ جی کے بارے میں کچھ پتا چلے گا۔۔ لیکن ہمیں فوج کے بارے میں بھی کچھ پتا چلے گا اور اسے ملک کی سیاسی قیادت نے کس طرح نیچا دکھایا ہے۔ میں کہہ رہا ہوں کہ نروانے جی نے اپنی کتاب میں وزیر اعظم اور راجناتھ سنگھ جی کے بارے میں صاف لکھا ہے۔ یہ ایک مضمون میں شائع ہوا ہے۔ میں مضمون کا حوالہ دے رہا ہوں۔

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ، وہ مجھے بولنے نہیں دے رہے، وہ ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ اگر یہ سامنے آیا تو نریندر مودی اور راج ناتھ سنگھ کی حقیقت عوام کے سامنے آ جائے گی اور 56 انچ کے سینے کا کیا ہوا جب چین ہمارے خلاف کھڑا تھا، آگے بڑھ رہا تھا۔

پارلیمنٹ میں اس معاملے پر ہنگامہ آرائی کے بعد اسپیکر نے واضح طور پر کہا کہ وہ کسی بھی حال میں اس معاملے کو اٹھانے نہیں دیں گے اور اگر راہل گاندھی بولنا نہیں چاہتے ہیں تو وہ اگلے اسپیکر کا نام دیں گے۔ اسپیکر نے اگلے اسپیکر کے طور پر اکھلیش یادو کا نام بھی لیا۔اس دوران اکھلیش یادو نے اسپیکر سے اپیل کی کہ اگر راہل گاندھی چین کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں اور یہ قومی مفاد میں ہے تو انہیں اس کی اجازت دی جائے۔ تاہم اسپیکر نے اجازت دینے سے انکار کر دیا اور ایوان کی کارروائی ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

یہ تنازع بی جے پی لیڈر تیجسوی سوریا کے ایک بیان سے شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 10 سالہ یو پی اے حکومت کے دوران صدر جمہوریہ کے خطاب میں کبھی بھی ملک کی ثقافت کو مضبوط کرنے، ثقافتی ترقی حاصل کرنے یا نوجوانوں کی ذہنیت کو تبدیل کرنے پر بات نہیں کی گئی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ چونکہ کانگریس کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے، اس لیے وہ نروانے کی کتاب کا حوالہ دینا چاہتے ہیں، جس میں انہوں نے کاروان میگزین میں شائع ہونے والی وزیر اعظم اور راج ناتھ سنگھ کے بارے میں تنقیدی تبصرے کیے ہیں۔











سابقہ میئر وارڈ نمبر 20 موجودہ وارڈ نمبر 16 کے مسائل کو لیکر مجلس اتحاد المسلمین کے سابق ترجمان و ذمہ داران کے ساتھ اہلیان وارڈ کا کمشنر آفس پر ہنگامہ۔ 
اکرم صدیقی کا انوکھا احتجاج 
کمشنر آفس پر گٹر کے کیچڑ سے بھری بالٹی لیکر پہنچے۔

شہری سینیٹری انسپکٹر اقبال جان محمد پر گٹر کا کیچڑ مارنے کی کوشش۔
02/02/2026 بروز پیر 
آج بروز پیر 2 فروری موجودہ وارڈ نمبر 16 سابقہ میئر وارڈ کے مسائل کو لیکر افتخار دادا کی سرپرستی اکرم صدیقی کی قیادت میں خواتین و مرد حضرات کا ایک وفد جن میں قابل ذکر غیاث الدین قاضی ، سلیمان خالو ، عبدالطیف شیخ ، شیخ سلمان ، شیخ اظہر ودیگر کارپوریشن کمشنر آفس پہنچے۔
وفد کی جانب سے متعدد مطالبات رکھے گئے جن میں سر فہرست 1️⃣سروے نمبر 197/5 بی ماسٹر نگر میں آمین منڈپ والی گلی اکرم صدیقی کے مکان سے اخلاق مقادم کے گھر تک روڈ تعمیر کرنے 2️⃣اور مدنی نگر پاور ہاؤس سے جمہور نالے تک مین گٹر تعمیر کرنے کا مطالبہ وفد نے کیا۔
3️⃣اسی طرح مدنی نگر ، جمہور نگر ، ماسٹر نگر ، رحمت آباد ، داتار نگر و دیگر علاقوں میں روزآنہ کی بنیاد پر صاف صفائی جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ اور سپروائزر مقادم اور تمام صفائی کرمچاریوں کی حاضری کو صد فیصد یقینی بنایا جائے4️⃣ اور وارڈ نمبر 16 میں کتنے صفائی کرمچاری اور سینٹری ورکرز سپروائزر ہے اور کتنی جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ ہوتا ہے کتنی گھنٹہ گاڑی کچرا اٹھانے کیلئے لگائی گئی ہے اس کی مکمل تفصیل مانگی گئی ہے اور جتنے بھی مقادم سپر وائزر ہے انکے رابطے نمبر جو 24 گھنٹے چالوں رہتے ہو وہ عوامی رابطے کیلئے عام کئے جائے اور 5️⃣اسی طرح مدنی نگر پاور ہاؤس سے جمہور نالے تک کا 60 فٹی روڈ اور گٹر 2012 سے آج تک کتنی مرتبہ تعمیر ہوا اور کتنا فنڈ لگا اس کی مکمل تفصیل فوراً طلب کی گئی ہے۔
یاد رہے مدنی نگر پاور ہاؤس سے جمہور نالے تک مین گٹر نا ہونے کی وجہ سے شمالی علاقوں محوی نگر ، نعمانی نگر ، رونق آباد ، ثناء اللہ نگر ، سلامت آباد ، رحمت آباد ، مدنی نگر ، جمہور نگر ، ماسٹر نگر کی گندی نالیوں کا پانی پاور ہاؤس سے جمہور نالے والا شیو روڈ پر سال کے بارہ ماہ ہر دو دن بعد جمع ہو جاتا ہے جس سے وارڈ کے ساکنان بزرگ خواتین و حضرات طلبہ مسجد کے مصلیان حتی کہ مسجد امام اعظم ابو حنیفہ بھی اس گندے پانی سے متاثر ہوتی ہیں گندگی کے ذریعے پھیلنے والی ڈینگو ملیریا ڈفتھیریا ٹائیفائڈ روبیلا خسرہ کھجلی داد کھاج جیسی بیماریوں سے یہ علاقہ مسلسل بوجھتا رہتا ہے اور یہ سلسلہ ایک دہائی سے جاری ہے اس کی سب سے بڑی وجہ بغیر منصوبہ بندی کے ناقص و بے ترتیب چھوٹی چھوٹی گٹروں کی تعمیر اور کچروں کا انبار ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ اس علاقے سے 3 ٹرم کا میئر رہا ہے مطلب یہ ساڑھے سات سال میئر وارڈ رہا ہے انجمن ترقی فلاح و بہبود مالیگاؤں کے روح رواں اکرم صدیقی ان مسائل کے حل کیلئے گزشتہ دیڑھ سالوں سے محکمہ جاتی سطح پر لگے ہوئے تھے لیکن کرپٹ آفیسران کے جھوٹے وعدوں اور ٹال مٹول کی وجہ سے اتنا لمبا عرصہ بیت گیا ابھی حال میں جاری انڈر گراؤنڈ گٹر کی کھدائی سے بچی کھچی ناقص گٹر بھی خراب ہوگئی جس کی وجہ سے کئی دنوں سے عثمان میڈیکل کے آس پاس گٹروں کا بدبودار پانی گھروں میں گھس گیا اور راستے پر جمع رہنے لگا جس سے عوامی غصہ پھوٹ پڑا اور وفد کی شکل میں کمشنر آفس پہنچا کمشنر سے ملاقات سے قبل شہری چیف سینیٹری انسپکٹر اقبال جان محمد سے صاف صفائی کے معاملے پر بحث کرتے ہوئے خواتین اور خود اکرم صدیقی نے گندے نالی کا بدبودار کیچڑ مارنے کی کوشش کی لیکن پولس عملہ موجود ہونے سے یہ حادثہ ممکن نا ہوسکا 
کمشنر کے تحریری تیقن پر وفد میں شامل افتخار دادا ، اکرم صدیقی نے یہ کہتے ہوئے تحریک کو ملتوی کیا کہ متعینہ مدت میں اگر مطالبات پورے نہیں ہوتے ہیں تو مدنی نگر 60 فٹی روڈ اور نیشنل ہائی وے نمبر 3 سوند گاؤں پھاٹہ جام کرکے تحریک چلائی جائے گی۔

*ش ن الف* 
*انجمن ترقی فلاح و بہبود مالیگاؤں* 
*مجلس اتحاد المسلمین شہر مالیگاؤں*
*قائد و سالار میڈیا سیل مالیگاؤں*















بد نگاہی کے جسم پر اثرات: ایک خاموش مگر تباہ کن گناہ
از: آصف جلیل احمد۔ چونابھٹّی 9225747141
بدنگاہی بظاہر ایک معمولی سا عمل محسوس ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ انسان کے باطن پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کرتا ہے۔ نگاہ محض آنکھ کا فعل نہیں بلکہ دل، دماغ اور احساسات کا دروازہ ہے۔ جہاں نگاہ ٹھہرتی ہے، وہیں خیال جنم لیتا ہے، اور خیال آہستہ آہستہ عادت اور پھر کردار میں ڈھل جاتا ہے۔ اسی لیے یہ کہنا کہ “صرف دیکھا ہی تو ہے” خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ ہم روزمرہ زندگی میں اس حقیقت کا تجربہ کرتے ہیں کہ مختلف مناظر ہمیں مختلف کیفیتوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ سرسبز و شاداب مناظر دل کو خوشی اور طمانیت دیتے ہیں، زخمی یا خونی مناظر دیکھ کر دل گھبرا جاتا ہے اور اچانک کسی خطرناک جانور کو دیکھ لینے سے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ اگر صرف دیکھنے سے دل اور جسم کی یہ کیفیات پیدا ہو سکتی ہیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ نگاہ کا اثر محض وقتی یا سطحی نہیں بلکہ گہرا اور دیرپا ہوتا ہے۔ شہوت کی نیت سے ڈالی گئی نظر انسان کو اندرونی کشمکش میں مبتلا کر دیتی ہے۔ دل میں بے سکونی پیدا ہوتی ہے، خیالات بکھر جاتے ہیں اور انسان ایک انجانی اضطرابی کیفیت میں جکڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نگاہوں کی حفاظت نہ کرنے والا شخص بظاہر نارمل دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے بے چین، تھکا ہوا اور منتشر ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہی بے چینی مایوسی، ذہنی دباؤ اور احساسِ جرم میں بدل جاتی ہے۔
اسلام نے انسانی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے برائی کے انجام سے پہلے اس کے اسباب کو روکا ہے۔ قرآنِ کریم میں مومن مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس ترتیب میں بڑی حکمت ہے، کیونکہ جب تک نظر محفوظ نہیں ہوتی، سوچ بھی محفوظ نہیں رہتی۔ “آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے” اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ گناہ صرف عملی سطح پر نہیں بلکہ نظر اور خیال کی سطح پر بھی جنم لیتا ہے۔ اچانک نظر پڑ جانا ایک فطری امر ہو سکتا ہے، مگر فوراً نظر ہٹا لینا ایمان اور تقویٰ کی علامت ہے۔ اس کے برعکس بار بار یا لذت لے کر دیکھنا وہ عمل ہے جو دل و دماغ کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو گناہ سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں وقتی جھٹکا ضرور لگتا ہے، مگر یہی جھٹکا ان کے لیے نجات کا سبب بن جاتا ہے، جبکہ مسلسل بدنگاہی انسان کو ذہنی اور قلبی بے سکونی کے ایسے دائرے میں داخل کر دیتی ہے جہاں سکون نایاب ہو جاتا ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں موبائل فون، انٹرنیٹ، فلمیں، ڈرامے اور سوشل میڈیا نے بدنگاہی کو ایک معمول بنا دیا ہے۔ بہت سے نوجوان پوری پوری رات اسکرین پر آنکھیں جمائے رکھتے ہیں اور اسے گناہ تو درکنار، غلطی بھی نہیں سمجھتے۔ اس کے نتیجے میں ذہنی تھکن، اعصابی کمزوری اور جذباتی بے اعتدالی عام ہوتی جا رہی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ خاموشی سے ہو رہا ہے اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ فتنہ آہستہ آہستہ ہمارے گھروں اور نسلوں کو کس طرف لے جا رہا ہے۔
بدنگاہی سے بچنے کا اصل حل وقتی تدبیروں یا ظاہری نعروں میں نہیں بلکہ دل میں اللہ تعالیٰ کے خوف کو زندہ رکھنے میں ہے۔ یہ احساس کہ "اللہ مجھے دیکھ رہا ہے" انسان کو تنہائی میں بھی گناہ سے روکتا ہے تقوے کا اصل مفہوم بھی یہی ہے کہ تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا خوف۔ شریعت کا نکاح پر زور دینا بھی اسی حکمت کا حصہ ہے تاکہ فطری جذبات کو جائز راستہ ملے اور انسان فتنوں سے محفوظ رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکرین کے بے جا استعمال پر قابو پانا اور اپنی نگاہوں کو شعوری طور پر قابو میں رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بدنگاہی کوئی معمولی لغزش نہیں بلکہ ایسا گناہ ہے جو دل کی پاکیزگی کو متاثر کرتا اور روح کے سکون کو چھین لیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محض دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنا محاسبہ کریں اور یہ دیکھیں کہ کہیں ہم خود بھی کسی درجے میں اس بیماری کا شکار تو نہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی نگاہوں کی حفاظت نہ کی تو کل ہماری فکری، اخلاقی اور خاندانی زندگی اس کی قیمت چکانے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نگاہوں کی حفاظت، دل کی پاکیزگی اور سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔













یورپی یونین کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے فیصلے پر ایران کا سخت رد عمل
تہران: یوروپی یونین کی جانب سے سپاہِ پاسداران انقلاب (Revolutionary Guard) کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے فیصلے پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ میں تعینات یوروپی یونین کے تمام سفیروں کو طلب کر لیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ سفیروں کو طلب کرنے کا یہ عمل گزشتہ روز شروع ہوا اور آج بھی جاری رہا۔ ایرانی حکام کے مطابق یوروپی یونین کے اس فیصلے کو بین الاقوامی قوانین، سفارتی آداب اور ریاستی خودمختاری کے خلاف کھلا اقدام قرار دیا گیا ہے، جس پر تہران نے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کا مؤقف

ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یوروپی یونین کا یہ فیصلہ سیاسی بنیادوں پر مبنی اور اشتعال انگیز ہے، جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور اس کی داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی سرکاری اور آئینی فورس ہے اور اسے دہشت گرد قرار دینا ناقابل قبول ہے۔ بقائی کے مطابق سفیروں کو طلب کر کے ایران نے یورپی یونین کے سامنے اپنا شدید احتجاج اور تحفظات باضابطہ طور پر درج کرائے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے۔

یورپی یونین کے فیصلے کا پس منظر

یوروپی یونین نے ایران میں گزشتہ ماہ ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران تشدد آمیز کریک ڈاؤن میں انقلابی گارڈ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے اسے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یورپی یونین کے مطابق ان مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک اور دسیوں ہزار کو حراست میں لیا گیا، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ یوروپی یونین کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور شہری آزادیوں کی پامالی کے پیش نظر یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا تھا۔

ایرانی پارلیمنٹ کا سخت اعلان

ادھر ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ نے ایک نہایت سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اب یوروپی یونین کی تمام افواج کو دہشت گرد گروہ تصور کرے گا۔ انہوں نے اس موقف کی بنیاد 2019 میں منظور کیے گئے ایک ایرانی قانون کو قرار دیا، جس کے تحت اگر کوئی ریاست یا ادارہ ایرانی افواج کو دہشت گرد قرار دیتا ہے تو ایران بھی اس کے فوجی اداروں کو دہشت گرد سمجھنے کا حق رکھتا ہے۔ پارلیمنٹ اسپیکر کے اس اعلان کو یوروپی یونین کے فیصلے کے جواب میں جوابی سفارتی اور سیاسی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

ایران-یورپی یونین تعلقات میں نئی کشیدگی

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سپاہِ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینا اور اس کے جواب میں ایران کا یہ سخت مؤقف ایران اور یوروپی یونین کے تعلقات میں ایک نئے بحران کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں جوہری معاہدے (JCPOA)، انسانی حقوق، علاقائی سیاست اور یوکرین جنگ کے تناظر میں ایران پر روس کی مبینہ حمایت جیسے مسائل پر دونوں فریقوں کے درمیان پہلے ہی اختلافات موجود ہیں۔ اب اس تازہ فیصلے نے سفارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

علاقائی اور عالمی اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع کے اثرات صرف ایران اور یوروپی یونین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی سلامتی، خلیجی خطے کی سیاست اور عالمی سفارتی توازن پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سپاہ پاسداران انقلاب ایران کی علاقائی حکمت عملی، دفاعی پالیسی اور اتحادی گروہوں کی پشت پناہی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے میں اسے دہشت گرد قرار دینے سے خطے میں سیاسی و عسکری کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

آگے کا منظرنامہ

فی الحال دونوں جانب سے بیانات کی سختی ظاہر کرتی ہے کہ فوری طور پر کشیدگی میں کمی کے امکانات کم ہیں۔ تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پس پردہ رابطے اور مذاکرات کے ذریعے اس تنازع کو کسی حد تک سنبھالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ یورپی یونین کے فیصلے پر ایران کا سخت ردعمل اور تمام یوروپی سفیروں کو طلب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق ایک نئے سفارتی تصادم کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم اور حساس مسئلے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*





روزمرّہ کی 10 عادتیں جو آپ کی زندگی کو بدل سکتی ہیں
اگرچہ ہماری زندگی کے شب و روز میں وہ چھوٹی چھوٹی عادتیں جو انتہائی معمولی اور سادہ ہوتی ہیں تاہم ان کے اثرات ہماری صحت اور شخصیت پر انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔ 
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ روز مرہ کی عادتیں ڈرامائی طور پر ہماری صحت، تندرستی اور پیداواری صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
اس حوالے سے ’نیو ٹرینڈ یو‘ ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپوٹ میں ان عادتوں کو بیان کیا گیا ہے جن سے مستفید ہونے کے لیے مستقل مزاجی سے عمل کرنا ہوگا۔یاد رکھیں کہ تبدیلی کے اثرات راتوں رات رونما نہیں ہوتے بلکہ عادات کو مستقل طور پر اپنانے اور ان پر یکسوئی سے عمل پیرا ہونے پر ہی بہتر نتائج کا حصول ممکن ہوتا ہے۔
دن کی پیشگی منصوبہ بندی 
اگلے دن کی پیشگی منصوبہ بندی کے متعدد فوائد ہوتے ہیں۔ اگر آنے والے دن کی پیشگی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اہداف متعین کر لیتے ہیں تو اس سے نہ صرف بہتر طور پر کام کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں بلکہ ذہنی پریشانی کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ 
پیشگی منصوبہ بندی کرتے وقت آنے والے دن میں جو کام کرنے ہیں ان کا تعین کر لیں اور کس وقت کونسا کام کرنا ہے ان کی فہرست بنا لیں۔  
صبح جلدی جاگنا 
صبح سویرے بیدار ہونے کی عادت کے بے شمار فوائد ہیں۔ جلدی جاگنے سے دن بھر کے کام مکمل کرنے کے لیے کافی زیادہ وقت مل جاتا ہے جبکہ آپ جسمانی اور ذہنی طور پر بھی تر و تازہ ہوتے ہیں۔  
جلد بیداری کی صورت میں حاصل ہونے والی جسمانی توانائی اور تازگی سے آپ کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ مقررہ کام کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔ صبح جلدی اٹھنے کے لیے لازمی ہے کہ رات کو مناسب وقت پر سو جائیں تاکہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو اور جلد بیدار ہو سکیں۔ اس کے برعکس رات گئے تک جاگنے سے صبح جلدی اٹھنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ 
جسمانی ورزش 
روزانہ معمول کے مطابق صبح کی واک کرنا یا دوپہرکو یوگا کی مشق کرنا یا پھر رات کو سونے سے قبل مخصوص ورزش کرنے سے نہ صرف اچھی نیند آئے گی بلکہ جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ 
زندگی کو بہتر بنانے کی ترجیحات 
بھرپورطریقے سے زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ روزمرہ کے امور میں اپنی ترجیحات متعین کر لیں یعنی جو چیز اہم ہے اس پر پوری طرح سے توجہ دیں۔ 
اپنی روزمرہ کی زندگی کو زیادہ پُراطمینان بنانے کے لیے اہداف کے مطابق طے کردہ ترجیحات پر عمل کریں تاکہ مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔ 
منظم زندگی گزاریں 
منظم زندگی گزارنے سے ذہن کافی حد تک الجھنوں اور پریشان کن خیالات سے خالی رہتا ہے۔ زندگی میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنے سے تناؤ کم ہوتا ہے اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے منصوبہ بندی ضروری ہے چاہے وہ دفتری امور یا سماجی سرگرمیوں کی ہی کیوں نہ ہو۔
توجہ مرکوز کرنا 
کسی بھی کام کو بہتر طور پر کرنے اور بہترین نتائج کے حصول کے لیے لازمی ہے کہ بھرپور انداز میں توجہ مرکوز کی جائے۔ 
خلفشار سے بچتے ہوئے یکسوئی سے کام پر توجہ دینے کے لیے ذہن کو چوکنا اور ترو تازہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کچھ دیر کا وقفہ لیا جائے تاکہ فریش دماغ کے ساتھ یکسوئی سے کام مکمل ہو سکے۔فہرست بنائیں
روز مرہ کے امور کو بروقت انجام دینے کے لیے بہتر ہے کہ ترجیحی بنیاد پر کاموں کی فہرست مرتب کر لی جائے جس میں کام کا دورانیہ اور وقت کا بھی تعین کیا ہو تاکہ مقررہ وقت میں اپنا ہدف مکمل کر سکیں۔ تحریری فہرست مرتب کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ بھول جانے کا اندیشہ نہیں رہے گا۔ 
شکر و رضامندی 
شکرگزاری کا عمل ہمیشہ انسان کی مثبت انرجی میں اضافے کا باعث ہوتا ہے جس کے بہتر اثرات نہ صرف جسم اور دماغ پر مرتب ہوتے ہیں بلکہ اس سے کام کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔
شکر گزاری کے احساس اور عمل کو اپنی روز مرہ زندگی کا لازمی جز بنائیں جس کے بعد آپ اپنے اندر پیدا ہونے والی خوشگوار تبدیلی کو خود ہی محسوس کریں گے۔ 
پانی پینا 
روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا صحت مندانہ زندگی کے لیے بے حد اہم ہے۔ پانی پینے کے بے شمار فوائد ہیں جس سے انسان کا نظام انہضام بہتر ہوتا ہے جبکہ جِلد کی تازگی بھی برقرار رہتی ہے۔ 
صبح سویرے اٹھتے ہی ناشتے سے پہلے پانی پینا چاہیے بلکہ نیم گرم پانی جسم کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ گھر یا دفتر میں اپنی میز پر بھی پانی کا جگ رکھ سکتے ہیں تاکہ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینے کی عادت بن جائے۔ اس کے بعد جسمانی تبدیلی آپ کوخود ہی محسوس ہوگی۔ 
خوش مزاجی  
نرم گفتاری اورخوش مزاجی ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف انسان کی شخصیت کو نکھارتا ہے بلکہ دوسرے بھی خوش مزاج افراد کی قدر و عزت کرتے ہیں۔ 
گھر، دفتر یا کام کی جگہ پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہتر رویہ رکھیں اور ان کے کام کو سراہیں، ضرورت پڑنے پر مدد کریں اور ہر شخص سے مسکرا کر لیں۔













نرملا سیتا رمن نے راہل گاندھی پر سادھا نشانہ ، کہا ، بغیر سوچے ۔ سمجھے بولتے ہیں راہل گاندھی
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ نیٹ ورک 18 کے ایڈیٹر ان چیف راہل جوشی کے ساتھ ایکسکلیو سیو انٹرویو میں وزیر خزانہ نے راہل گاندھی کے ذریعہ بغیر سوچے ۔سمجھے دئے جانے والے بیانات پر شدید تنقید کی۔

بغیر سوچے ۔ سمجھے بولتے ہیں راہل گاندھی
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اکثر سوچے سمجھے بغیر بولتے ہیں اور اپنی بات کرنے کے لیے ٹھوس بنیادی اعداد و شمار کا سہارا نہیں لیتے ۔ انہوں نے راہل گاندھی کے پرانے ‘مردہ معیشت’ (dead economy) والے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جلد بازی میں دیا گیا بیان تھا ۔ جس نے ان کی اپنی ہی دلیل کو کمزور کردیا ۔ سیتا رمن نے مزید کہا کہ اس طرح کے تبصرے اکثر بغیر کسی بنیاد کے کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان زیادہ معتبر اور ڈیٹا پر مبنی(data-driven) اپوزیشن آواز کا حقدار ہے۔
سیتارامن نے کہا مردہ معیشت کو لے کر راہل گاندھی کا تبصرہ اپوزیشن لیڈر کی ان کی خود کی پوزیشن کو مجروح کرنے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک قابل اعتماد اپوزیشن کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کو ایک ایسی اپوزیشن کی ضرورت ہے جو قابل اعتماد ہو اور اپنے دلائل حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر رکھے ۔ یہ بے بنیاد تبصرے اپوزیشن کی سنجیدگی کو کم کرتے ہیں۔

راہل گاندھی کے عہدے کا احترام
سیتا رمن نے کہا کہ راہل گاندھی جس عہدے پر فائز ہیں وہ اس کا بے حد احترام کرتی ہیں، تاہم ان کی تنقید میں اکثر اعداد و شمار اور حقائق کی کمی ہوتی ہے۔ “وہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔ میں انہیں سنجیدگی سے لینا چاہتی ہوں، اور میں ان کے مشاہدات کو سنجیدگی سے لینا چاہتی ہوں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا چیزیں بہتر ہو سکتی ہیں۔ لیکن اکثر، مجھے لگتا ہے کہ وہ بے تکے بیانات دیتے رہتے ہیں،”

انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی پر تنقید کی جڑیں حقائق پر ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق، جمہوریت کے لیے قابل اعتماد اپوزیشن ضروری ہے، لیکن اسے “اچھے بنیادی اعداد و شمار” کی حمایت حاصل ہونی چاہیے تاکہ حکومت بامعنی جواب دے سکے۔










T20 ورلڈ کپ کھیلنے سری لنکا پہنچی پاکستان کی ٹیم ، ہندوستان کے علاوہ اپنے تمام میچز سری لنکا میں ہی کھیلے گا پاکستان
نئی دہلی۔ بھارت کے خلاف آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میچ کھیلنے سے انکار پر ہلچل مچانے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم سری لنکا پہنچ گئی ہے۔ ٹیم ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے تیار ہے۔ اتوار کو ٹیم نے ٹورنامنٹ میں بھارت کے خلاف انتہائی متوقع میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔ پاکستانی حکومت نے قومی کرکٹ ٹیم کو ورلڈ کپ کھیلنے کی اجازت تو دے دی لیکن بھارت کے خلاف میچ میں میدان میں نہ اترنے کی ہدایت کی۔
بائیکاٹ کا باضابطہ اعلان کرنے کے بعد پاکستانی ٹیم سری لنکا پہنچ گئی ہے۔ ٹیم اپنے تمام میچ وہاں کھیلے گی۔ یہ فیصلہ دسمبر 2024 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے درمیان باہمی معاہدے کے بعد کیا گیا تھا۔ پاکستانی کھلاڑیوں کے ایئرپورٹ سے نکلنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جن میں فخر زمان، شاہین آفریدی اور سلمان آغا سمیت کھلاڑی اپنا سامان اٹھائے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔پاکستان کے بائیکاٹ کے فیصلے کے باوجود بھارتی ٹیم شیڈول کے مطابق سری لنکا جائے گی۔ کپتان سوریہ کمار یادو ٹاس کے لیے میدان میں اتریں گے۔ اگر پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا ٹاس کے لیے نہیں آتے تو میچ ریفری بھارت کو واک اوور دے گا، بھارت کو دو پوائنٹس مل جائیں گے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے حکومت پاکستان کے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک سرکاری بیان میں، آئی سی سی نے پاکستان حکومت کے موقف کو تسلیم کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے باضابطہ رابطے کا انتظار کر رہا ہے۔ آئی سی سی نے کہا کہ عالمی ٹورنامنٹ میں منتخب میچوں میں شرکت کا خیال بین الاقوامی مقابلے کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

پاکستان اپنی ورلڈ کپ مہم کا آغاز 4 فروری کو کولمبو میں آئرلینڈ کے خلاف وارم اپ میچ سے کرے گا۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

آنکھوں میں اچانک سرخی آنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ آنکھوں کو انسان کی شخصیت کا ہی نہیں بلکہ جسم کا بھی آئینہ کہ...