فاسٹ فوڈ اور زیادہ سکرین ٹائم، بچوں میں بڑھتے موٹاپے پر قابو کیسے پائیں؟
دنیا بھر میں بچوں میں موٹاپا بڑھ رہا ہے اور یہ والدین، سکولوں اور ماہرین صحت کے لیے ایک اہم تشویش بن گیا ہے۔ یہ اضافہ کئی عوامل سے ہوتا ہے جن میں کھانے کی ناقص عادات، جسمانی سرگرمی میں کمی، زیادہ سکرین ٹائم اور غیر صحت بخش پروسیسرڈ فوڈز کی دستیابی میں اضافہ شامل ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق اچھی خبر یہ ہے کہ طرز زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں کے ذریعے بچپن کے موٹاپے پر قابو پایا جا سکتا ہے، اور درج ذیل اقدامات کر کے اس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
1. گھر میں صحت مند کھانے کی عادات کو فروغ دیںوالدین کو کافی مقدار میں پھل، سبزیاں، خالص اناج، پروٹین اور صحت مند چکنائی کے ساتھ متوازن کھانا فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ چینی والے مشروبات اور پراسیسڈ سنیکس کو کم کرنا ضروری ہے۔ گھر پر کھانا پکانا اور گروسری کی خریداری یا کھانے کی تیاری میں بچوں کو شامل کرنا صحت مند کھانے کو مزید پرلطف اور دلکش بنا سکتا ہے۔
2. جسمانی سرگرمی کی حوصلہ افزائی کریں
بچوں کو دن میں کم از کم 60 منٹ متحرک رہنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ اس میں پیدل چلنا، سائیکل چلانا، باہر کھیلنا، ناچنا یا کھیلوں میں حصہ لینا شامل ہو سکتا ہے۔ زیادہ جسمانی سرگرمی کو فروغ دینے کے لیے سکرین کے ٹائم کو دن میں دو گھنٹے سے کم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔. سکول اور کمیونٹی کی حمایت
صحت مند عادات گھر سے شروع ہوتی ہیں، لیکن سکولوں اور کمیونٹیز کو بھی ان تبدیلیوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ سکول غذائیت سے بھرپور کھانا پیش کر سکتے ہیں، باقاعدہ جسمانی تعلیم شامل کر سکتے ہیں اور بچوں کو تندرستی اور متوازن کھانے کی اہمیت کے بارے میں سکھا سکتے ہیں۔ کمیونٹیز کو محفوظ پارکس، پیدل چلنے کے راستے اور کھیلوں کی سہولیات کو یقینی بنانا چاہیے۔4. ایک رول ماڈل بنیں
بچے اکثر بڑوں کی نقل کرتے ہیں، اس لیے والدین کے لیے مثال بن کر رہنمائی کرنا ضروری ہے۔ جب بچے اپنے والدین کو صحت مند کھانا کھاتے، ورزش کرتے اور متوازن زندگی گزارتے دیکھتے ہیں تو وہ خود بھی اسی طرح کے طرز عمل کو اپنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔
لائف سٹائل کی وجہ سے بچپن میں موٹاپا بڑھ رہا ہے جس شروع میں ہی اقدامات کر کے قابو پایا جا سکتا ہے۔ فیملی، سکول اور کمیونٹی کی اجتماعی کوششوں سے ہم صحت مند مستقبل کی طرف بچوں کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔
غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے قطر سرگرم، ثالثوں سے مذاکرات جاری، ڈاکٹر ماجد الانصاری نے دی جانکاری
دوحہ: قطر نے غزہ پٹی میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اور وزیرِاعظم کے مشیر ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری نے واضح کیا ہے کہ قطر ثالث ممالک کے ساتھ مل کر مسلسل بات چیت کر رہا ہے تاکہ معاہدے کا اگلا مرحلہ جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔
دوحہ میں 6 جنوری کو منعقدہ وزارتِ خارجہ کی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ڈاکٹر انصاری نے بتایا کہ اس عمل میں قطر کے ساتھ مصر، ترکی اور امریکہ جیسے اہم ثالث ممالک شامل ہیں۔ ان ممالک کے تعاون سے غزہ میں جنگ بندی کو آگے بڑھانے، رفح سرحدی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے اور وہاں پھنسے لوگوں تک انسانی امداد پہنچانے پر کام ہو رہا ہے۔
معاہدے کے دوسرے مرحلے کیلے قطر متحرک
ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات ابھی جاری ہیں۔ کچھ نکات پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، لیکن اب بھی چند اہم رکاوٹیں موجود ہیں جن پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل کوششوں کے ذریعے ان مشکلات کو دور کیا جا سکے گا۔
غزہ کے عوام تک امداد پہنچانا انسانی ذمہ داری
انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ قطر ابتدا ہی سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ کسی بھی تنازع میں انسانی امداد کو سیاسی دباؤ یا بلیک میلنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام تک امداد پہنچانا ایک انسانی ذمہ داری ہے اور اسے کسی بھی شرط سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔
وینزویلا میں حالیہ پیش رفت پر پیش کی ضاحت
اس کے علاوہ ڈاکٹر انصاری نے وینزویلا میں حالیہ پیش رفت پر بھی قطر کے مؤقف کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ قطر وہاں ضبط و تحمل اختیار کرنے، کشیدگی کم کرنے اور مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل کے حق میں ہے۔ قطر ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو وینزویلا کے بحران کا پُرامن حل نکالنے کی سمت میں کی جائے۔
امن اور انسانی امداد کے لیے قطر کا کام جاری
قطر ایک بار پھر خود کو ایک فعال ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو نہ صرف غزہ میں امن اور انسانی امداد کے لیے کام کر رہا ہے بلکہ عالمی بحرانوں میں بھی مکالمے اور سفارت کاری کے راستے کو آگے بڑھا رہا ہے۔
مہاراشٹر کانگریس کے نائب صدر ہدایت اللہ پٹیل پر نماز کے بعد چاقو سے حملہ، علاج کے دوران ہوئی موت، ملزم گرفتار
مہاراشٹر کے ضلع اکولا میں منگل کے روز ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں موہالا گاؤں کی جامع مسجد میں مہاراشٹر کانگریس کے نائب صدر ہدایت اللہ پٹیل پر نماز کے بعد چاقو سے جان لیوا حملہ کیا گیا۔ شدید زخمی حالت میں انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم علاج کے دوران بدھ کی صبح ان کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعے نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔
پولیس کے مطابق 66 سالہ ہدایت اللہ پٹیل ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد پہنچے تھے۔ نماز مکمل کرنے کے بعد جیسے ہی وہ مسجد سے باہر نکلے، پہلے سے گھات لگائے بیٹھے ایک نوجوان نے تیز دھار ہتھیار سے ان پر حملہ کردیا۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ پٹیل کی گردن اور سینے پر گہرے زخم آئے اور وہ موقع پر ہی لہولہان ہو گئے۔
واقعے کے فوراً بعد مقامی لوگوں نے انہیں اکوٹ کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں ہدایت اللہ پٹیل خون میں لت پت حالت میں نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ دیکھا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق ڈاکٹروں نے پوری کوشش کی، مگر بدھ کی صبح پٹیل کی حالت مزید بگڑ گئی اور وہ بچ نہ سکے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فارنسک ٹیم موقع پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کیے گئے۔ علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بی چندرکانت ریڈی نے بتایا کہ اس معاملے میں ملزم کی گرفتاری کے لیے چھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ مرکزی ملزم عبید خان کالو خان عرف رازق خان پٹیل (عمر 22 سال) کو منگل کی رات تقریباً آٹھ بجے اکوٹ تعلقہ کے پناج گاؤں سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ حملے کے پیچھے ذاتی دشمنی تھی یا کوئی اور وجہ تھی۔ ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ ارچت چنڈک خود حالات کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ اکوٹ دیہی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش جاری ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔