Wednesday, 7 January 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*





وینزویلا، امریکہ کو 30 سے 50 ملین بیرل تیل فراہم کرے گا، ٹرمپ کے پلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی
وینزویلا کا تیل، امریکی منصوبہ اور عالمی منڈی میں ہلچل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل سے متعلق ایک غیر معمولی اور متنازع منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت وینزویلا، امریکہ کو 30 سے 50 ملین بیرل ذخیرہ شدہ تیل فراہم کرے گا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تیل عالمی منڈی میں فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی امریکہ اور وینزویلا کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ پر وینزویلا کے منتخب صدر نکولس مادورو کے اغوا کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، اور اس اقدام کی عالمی سطح پر شدید مذمت ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کے قریبی اتحادیوں سمیت متعدد ممالک نے واشنگٹن کے رویے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کو ہدایت دی ہے کہ اس منصوبے پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ تیل خصوصی ٹینکر جہازوں کے ذریعے امریکہ منتقل کیا جائے گا اور براہِ راست امریکی بندرگاہوں پر اتارا جائے گا، جہاں سے اسے مختلف امریکی ریفائنریز کو فروخت کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ وہ تیل ہے جو امریکی پابندیوں کے باعث وینزویلا ذخیرہ کرنے پر مجبور تھا، اور اب اسے ’’واپس لے کر‘‘ عالمی منڈی میں شامل کیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت امریکہ کا وینزویلا کے تیل پر کوئی ملکیتی حق نہیں بنتا، جس کے باعث ٹرمپ کے دعوؤں پر قانونی سوالات اٹھ رہے ہیں۔عالمی منڈی پر اثرات : تیل کی قیمتوں میں کمی
اس اعلان کے فوراً بعد عالمی توانائی منڈی میں منفی ردعمل دیکھنے میں آیا۔ امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت 1.66 فیصد کمی کے بعد 56.18 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ برینٹ کروڈ 1.25 فیصد گر کر 59.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کار وینزویلا کی سیاسی صورتحال اور اس کے تیل کے ذخائر کے مستقبل پر غیر یقینی کا شکار ہیں۔

سرمایہ کاری پلیٹ فارم Moomoo Australia & New Zealand کے سی ای او مائیکل میکارتھی کا کہنا ہے :

’’اگر یہ تیل عالمی سپلائی میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ عالمی معیشت کے لیے وقتی فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن تیل کی قیمتوں کے لیے یہ واضح طور پر منفی خبر ہے۔ البتہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اس ممکنہ فائدے کو بھی ختم کر سکتی ہے۔‘‘

کتنی اہم ہے 50 ملین بیرل کی مقدار؟
توانائی کے ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر یومیہ تیل کی کھپت 100 ملین بیرل سے زائد ہے، جبکہ امریکہ اکیلا ہی تقریباً 14 ملین بیرل یومیہ پیدا کرتا ہے۔ اس تناظر میں 30 سے 50 ملین بیرل کی اضافی سپلائی مجموعی عالمی منڈی کے لیے محدود اثر رکھتی ہے۔

توانائی تجزیہ کار مارک فنلے کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ یہ تیل کتنے عرصے میں مارکیٹ میں لایا جائے گا۔

اگر یہ مقدار ایک ماہ میں فراہم کی جائے تو یہ وینزویلا کی تقریباً مکمل ماہانہ پیداوار کے برابر ہو گی

لیکن اگر ایک سال میں تقسیم ہو تو اس کا اثر خاصا کم ہو جائے گا

وینزویلا کی تباہ حال تیل صنعت
ایک وقت میں دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل وینزویلا آج امریکی پابندیوں، طویل المدتی کم سرمایہ کاری، بدانتظامی اور کرپشن کے باعث شدید زوال کا شکار ہے۔ اگرچہ ملک کے پاس دنیا کے سب سے بڑے معلوم تیل ذخائر موجود ہیں، مگر اس کی موجودہ پیداوار عالمی سپلائی کے ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔

ناروے کی توانائی کنسلٹنسی Rystad Energy کے مطابق وینزویلا کو اپنی تیل پیداوار دو ملین بیرل یومیہ تک پہنچانے کے لیے کم از کم 110 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی، جبکہ نوے کی دہائی کی سطح (تقریباً 3 ملین بیرل یومیہ) تک پہنچنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

فی الوقت شیورون واحد بڑی امریکی کمپنی ہے جو وینزویلا میں سرگرم ہے، اور اس کی پیداوار تقریباً 150 ہزار بیرل یومیہ ہے۔

سیاسی ردعمل اور عبوری حکومت کا مؤقف
وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے صدر ٹرمپ کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ

’’وینزویلا کوئی بیرونی ایجنٹ نہیں چلا رہا، اور نہ ہی کوئی غیر ملکی طاقت ہمارے وسائل پر قابض ہو سکتی ہے۔‘‘
ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی آئل ریفائنریز کے سربراہان جلد وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے، جہاں وینزویلا میں ممکنہ سرمایہ کاری اور تیل کی خرید و فروخت پر بات چیت متوقع ہے۔

وینزویلا اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ ایک دہائی سے کشیدہ ہیں، خاص طور پر اس وقت جب سابق صدر ہیوگو شاویز نے نیشنلائزیشن پالیسی کے تحت امریکی کمپنیوں کے اثاثے ضبط کیے۔ انہی اقدامات کے اثرات آج بھی سرمایہ کاری اور اعتماد کے بحران کی صورت میں موجود ہیں۔















مہاراشٹر:اکوٹ میں بی جے پی اور ایم آئی ایم ساتھ ساتھ ، نئے اتحاد سے سیاسی گلیارے میں ہلچل
مہاراشٹر کی سیاست میں بی جے پی کی اتحاد کی حکمت عملی نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ تھانے کی انبرناتھ میونسپل کونسل میں،کانگریس سے ہاتھ ملانے کی خبر کے بعداب یہ بات سامنے آئی ہے کہ بی جے پی نے اکولہ ضلع کی اکوٹ میونسپل کونسل میں اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ شیوسینا یو بی ٹی کے سینئر لیڈر سنجے راوت نے بی جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس اور اے آئی ایم آئی ایم پر حملہ کیا ہے۔

دراصل اکوٹ کا حالیہ واقع میونسپل کونسل کے انتخابات اکوٹ میں، بی جے پی کی مایا دھولے نے میئر کا عہدہ توجیت لیا لیکن پارٹی 35 رکنی میونسپل کونسل میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اکوٹ میں 35 میں سے 33 سیٹوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا، جس میں بی جے پی کو صرف 11 سیٹیں حاصل ہوئیں۔ اکثریت سے دور، بی جے پی نے اپنی قیادت میں ایک نیا اتحاد بنایا، ۔اس اتحاد کو اس نے ’اکوٹ وکاس منچ‘ کا نام دیا۔ایم آئی ایم کو اکوٹ میں ملی کتنی سیٹوں پرکامیابی؟
ایم آئی ایم اور بی جے پی کا ساتھ آنااکوٹ میں سب سے حیران کن پیش رفت رہی ۔ اے آئی ایم آئی ایم، پانچ سیٹیں جیت کر دوسری سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری اور اس وہ بی جے پی کی حلیف بن گئی۔ مزید، اس فورم میں شندے دھڑے کی شیو سینا، اجیت پوار کی این سی پی، شرد پوار کی این سی پی، اور بچو کڈو کی پرہار جن شکتی پارٹی بھی شامل ہے۔ اس نئے اتحاد کو باضابطہ طور پر اکولا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس رجسٹر کیا گیا ہے۔

اکوٹ میونسپلٹی میں اس نئی صف بندی کے بعد، بی جے پی کے زیرقیادت اتحاد کو اب 25 اراکین کی حمایت حاصل ہے، جب کہ کانگریس کی چھ سیٹیں اور ونچیت بہوجن اگھاڑی کی دو سیٹیں اپوزیشن کے حصے میں آئی ہیں۔ اس طرح اقتدار کی کنجی بی جے پی کے پاس ہے۔

سنجے راوت کا حملہ
شیوسینا (ٹھاکرے دھڑے) کے لیڈر سنجے راوت نے بی جے پی کے اس اقدام پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی امبرناتھ میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کر رہی ہے اور اکوٹ میں اے آئی ایم آئی ایم کی حمایت کر رہی ہے۔ راوت نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ وہی بی جے پی ہے جو کانگریس سے پاک ہندوستان کی بات کرتی تھی، لیکن آج خود کانگریس اور اویسی کی پارٹی کے ساتھ اتحاد کر رہی ہے۔ انہوں نے اے آئی ایم آئی ایم اور بی جے پی کو ’دو منہ کا کینچوا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر بھر میں کہیں کھلی توکہیں درپردہ اتحاد کا کھیل چل رہا ہے۔سنجے راوت نے کانگریس پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا رویہ حیران کن ہے، اور عوام دیکھ رہی ہے۔ انبرناتھ اور اب اکوٹ میں ابھرنے والے اتحادوں نے واضح کر دیا ہے کہ اقتدار کے لیے نظریاتی مخالفت کو پس پشت ڈالا جار ہا ہےاور یہ مسئلہ آنے والے دنوں میں مہاراشٹر کی سیاست کومزید گرمانے والا ہے۔














دہلی:فیض الٰہی مسجد کے قریب تجاوزات کے خلاف انہدامی کارروائی، علاقے میں کشیدگی
پرانی دہلی کے ترکمان گیٹ علاقے میں واقع فیض الٰہی مسجد کے قریب تجاوزات کوبیتی شب ہٹایا گیا۔انہدامی کارروائی کے تحت تشخیصی مرکز ( Diagnostic Centre) اور شادی خانہ کو مہندم کردیا گیا۔اس دوران،علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔

مقامی باشندوں نے انہدامی کارروائی کی مخالفت کی۔ ایم سی ڈی اور پولیس کی ٹیم نے دہلی ہائی کورٹ حکم نامہ دکھاتے ہوئے مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن انھوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ ہجوم کو منتشر کرنے اورحالات کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔ایم سی ڈی اور پولیس کی ٹیم 30 بلڈوز کے ساتھ مبینہ غیرقانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کے لیے پہنچی تھی ۔’گڑبڑی پیدا کرنے کی کوشش‘
سینٹرل رینج کے جوائنٹ کمشنر آف پولیس مدھر ورما کا کہنا ہے کہ انہدامی کارروائی کی شرپسند عناصر نے پتھراؤ کرکے گڑبڑی پیدا کرنے کی کوشش ۔صورتحال کوجلد ہی کنٹرول میں کرلیا گیا۔

انہدامی کارروائی کے دوران جے ایل این مارگ، دہلی گیٹ، منٹو روڈ اور اجمیری گیٹ کے آس پاس ٹریفک پر اثر پڑا۔ٹریفک پولیس نے لوگوں کو متبادل راہ اختیار کرنے کو مشورہ دیا۔
ایم سی ڈی نے 22 دسمبر کو تشخیصی مرکز اورشادی خانے کی عمارت کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

علاقے میں کشیدگی،سخت سکیورٹی

ایم سی ڈی کی انہدامی کارروائی صبح6 بجے تک جاری رہی اس دوران سکیورٹی اہلکار بڑی تعداد میں علاقے میں تعینات رہے۔اس دوران ہوئے پتھراؤ کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں ۔ ڈی سی پی کا کہنا ہے کہ شرپسند عناصروں کی شناخت کرکے کارروائی کی جائے گی۔
معاملہ کیا ہے؟
تنازع مسجد سے متصل شادی خانہ اورتشخیصی مرکز کو لے کرتھا۔ اسے انتظامیہ نے غیرقانونی قراردیا ہے۔سروے کے بعد،شادی خانہ اور رشخیصی مرکز کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔تجاوزات ہٹانے کے حوالے سے جانکاری پہلے ہی دے دی گئی تھی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...