Saturday, 3 January 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*






پاکستان سے ایس جے شنکر کے نام بھیجا گیا خط ، بلوچ لیڈر میر یار نے کہا، " پاکستان کو اکھاڑ پھینکنے کا وقت آگیا ہے "
مظلوم پاکستانی بلوچ رہنما میر یار بلوچ نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو ایک طویل خط بھیجا ہے۔ یہ خط پاکستان کے بزدلانہ اقدامات کو بے نقاب کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح چین کے ساتھ مل کر بھارت کے خلاف خفیہ سازش رچی جا رہی ہے۔ اس خط میں بلوچ رہنما نے کھل کر بھارت کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کو اکھاڑ پھینکنے کی مانگ کی ہے۔ خط میں پی ایم مودی کا نام لیا گیا ہے اور مدد کی اپیل کی گئی ہے۔ آگے جانئے ، اس خط میں پاکستان اور چین کے بارے میں کیا ۔ کیا لکھا ہے۔

پاک ۔چین ملی بھگت کا انکشاف
یکم جنوری 2026 کو میر یار بلوچ نے سوشل میڈیا پر وزیر خارجہ جے شنکر کے نام ایک خط شیئر کیا۔ اس خط میں میر یار بلوچ نے بلوچ تنظیم جمہوریہ بلوچستان کی جانب سے بھارت کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان اور چین، چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے ذریعے بھارت کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ یہ بلوچ اور بھارت دونوں کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں چینی فوجی دستے براہ راست بلوچستان میں تعینات ہو سکتے ہیں۔پی ایم مودی کی ستائش
خط میں پی ایم مودی کا ذکر کرتے ہوئے ہندوستانی حکومت کی حالیہ سیکورٹی پالیسیوں بالخصوص آپریشن سندور کی تعریف کی گئی ہے۔ بلوچ رہنما نے اپریل 2025 میں پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے جواب میں ہندوستان کی فوجی کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن قدم قرار دیا ۔

لیا ہنگلاج ماتا شکتی پیٹھ کا نام
سیاسی اور سیکورٹی کے مسائل کے علاوہ میر یار بلوچ نے ہندوستان اور بلوچستان کے درمیان گہرے تاریخی اور ثقافتی رشتوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہنگول نیشنل پارک میں واقع شکتی پیٹھ ہنگلاج ماتا مندر کو دونوں خطوں کے درمیان مشترکہ روحانی ورثے کی علامت قرار دیا۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ قدیم تعلقات موجودہ دوطرفہ تعاون کے لیے ایک مضبوط اخلاقی اور ثقافتی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
خط میں بلوچ رہنما نے پاکستانی حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے خطے میں جبری گمشدگیوں اور وسائل کا استحصال سمیت انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
ابھی تک اس خط پر ہندوستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔














ہماچل پردیش : دھرم شالہ کے کالج میں ریگنگ اور جنسی ہراسانی نے طالبہ کی جان لے لی،پروفیسر اور تین طالبات کے خلاف مقدمہ درج
تعلیم کے مندر میں شرمناک واقعہ، خاطیوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ضروری:
ہماچل پردیش کے ضلع دھرم شالہ میں واقع ایک کالج کے پروفیسر اور تین طالبات کے خلاف 19 سالہ طالبہ کے ساتھ ریگنگ، جسمانی تشدد اور جنسی ہراسانی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر طالبہ کی موت واقع ہو گئی۔پولیس کے مطابق، تین طالبات اور ایک کالج پروفیسر کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی دفعات 75، 115(2)، اور 3(5) کے علاوہ ہماچل پردیش تعلیمی ادارہ جات (ریگنگ کی ممانعت) ایکٹ 2009 کی دفعہ 3 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

یہ واقعہ ستمبر 2025 میں پیش آیا، تاہم متاثرہ طالبہ کے اہلِ خانہ نے دسمبر 2025 میں پولیس سے رجوع کیا۔

طالبہ کے والد کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، تین طالبات نے ان کی بیٹی کو جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا، اسے دھمکایا اور خوفزدہ کیا، جبکہ کالج کے پروفیسر نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ فحش اور غیر اخلاقی حرکات کیں۔

والد کا کہنا ہے کہ مسلسل ہراسانی، تشدد اور ذہنی دباؤ کے باعث ان کی بیٹی شدید خوف اور ذہنی اضطراب کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں اس کی صحت تیزی سے بگڑتی چلی گئی۔
طالبہ کو پہلے ہماچل پردیش کے مختلف اسپتالوں میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا، تاہم حالت مزید خراب ہونے پر اسے لدھیانہ کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ 26 دسمبر 2025 کو دورانِ علاج دم توڑ گئی۔

متاثرہ خاندان نے پولیس کو بتایا کہ مقدمہ درج کرانے میں تاخیر کی وجہ طالبہ کی طویل اور نازک بیماری، اور اس کی موت کے بعد اہلِ خانہ پر پڑنے والا شدید صدمہ تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شکایت کا بغور جائزہ لینے اور ابتدائی تفتیش کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تحقیقات میں ریگنگ، جسمانی تشدد، دھمکیوں، جنسی بدسلوکی اور ان تمام عوامل کا جائزہ لیا جائے گا جن کی وجہ سے طالبہ کی صحت بگڑی اور بالآخر اس کی موت واقع ہوئی۔

دوسری جانب، سینئر بی جے پی لیڈر جے رام ٹھاکر نے اس واقعے کو ’’انتہائی شرمناک‘‘ قرار دیتے ہوئے پولیس کی مبینہ غفلت کے الزامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ متاثرہ طالبہ کو انصاف مل سکے۔

پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی مکمل تفتیش کی جائے گی اور جو بھی قصوروار پایا گیا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

تعلیمی اداروں میں ریگنگ ایک سنگین سماجی مسئلہ رہا ہے، جس کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں۔ اس کے باوجود بعض اوقات طاقت کے غلط استعمال، خاموشی، اور خوف کے باعث متاثرہ طلبہ و طالبات بروقت شکایت درج نہیں کرا پاتے۔ حالیہ برسوں میں کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں ریگنگ اور ذہنی دباؤ نے نوجوانوں کی جانیں لے لیں، جس پر عدالتی اور سیاسی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔














بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ نے کولکاتہ نائٹ رائیڈرز کو بنگلہ دیشی تیز گیندباز مستفیظ الرحمن کو ریلیز کرنے کی دی ہدایت
گوہاٹی (آسام): بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے کولکاتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کو آئی پی ایل 2026 کے لیے بنگلہ دیشی تیز گیندباز مستفیظ الرحمن کو اپنی ٹیم سے ریلیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بی سی سی آئی نے واضح کیا ہے کہ فرنچائز کو متبادل کھلاڑی شامل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

بی سی سی آئی کا موقف

بی سی سی آئی کے سکریٹری دیوجیت سائیکیا نے اے این آئی سے گفتگو میں کہا کہ حالیہ حالات اور مجموعی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’بی سی سی آئی نے کے کے آر کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اسکواڈ سے بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیظ الرحمن کو ریلیز کرے۔ اگر فرنچائز کسی متبادل کھلاڑی کی درخواست کرتی ہے تو بی سی سی آئی اس کی اجازت دے گا۔‘‘
بنگلہ دیشی کھلاڑی کی شمولیت پر تنازع

آئی پی ایل میں بنگلہ دیشی کھلاڑی کی شمولیت پر حالیہ دنوں میں سیاسی تنازع پیدا ہو گیا تھا، خاص طور پر بنگلہ دیش میں ہندو اقلیتوں کے خلاف مبینہ مظالم کے تناظر میں اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔

مستفیظ الرحمن کی شمولیت پرتنقید

مذہبی رہنما دیوکنندن ٹھاکر نے کے کے آر کے شریک مالک شاہ رخ خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے حالات میں بنگلہ دیشی کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنا قابل اعتراض ہے۔ آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے چیف امام عمر احمد الیاسی نے بھی شاہ رخ خان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف ہونے والے مبینہ مظالم کی مذمت کریں اور مستفیظ الرحمن کو کے کے آر اسکواڈ سے خارج کریں۔ شیوسینا کے رہنما سنجے نروپم نے شاہ رخ خان سے اپیل کی تھی کہ وہ بنگلہ دیشی کھلاڑی کو ٹیم سے ہٹا دیں تاکہ کسی بڑے تنازع سے بچا جا سکے اور قومی مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔ کانگریس لیڈر سپریا شرینیت نے اس معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل نیلامی کے پول میں شامل کرنے کی اجازت کس نے دی۔ انہوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب بی سی سی آئی اور آئی سی سی کو دینا چاہیے۔

متبادل کھلاڑی کی تلاش

بی سی سی آئی کی مداخلت کے بعد اب کولکاتہ نائٹ رائیڈرز کو مستفیظ الرحمن کے متبادل کے طور پر کسی مؤثر کھلاڑی کی تلاش کرنا ہوگی تاکہ آئی پی ایل 2026 کے لیے ٹیم کی تیاری متاثر نہ ہو۔ قابل ذکر ہے کہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے آئی پی ایل نیلامی میں مستفیظ الرحمن کو 9 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خریدا تھا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...