Saturday, 3 January 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*





امریکی افواج نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر حملے کے بعد صدر مادورو کو گرفتار کر لیا: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے وینزویلا میں ’بڑے پیمانے پر حملہ‘ کر کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے لیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سنیچر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر کارروائی کامیابی سے انجام دی ہے، جس کے نتیجے میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق اس کارروائی کے بعد صدر مادورو کو وینزویلا سے باہر منتقل کیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اس معاملے پر تفصیلات فراہم کرنے کے لیے سنیچر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے ( جی ایم ٹی وقت 1600) فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ مار-اے-لاگو میں پریس کانفرنس کریں گے۔
تاحال وینزویلا کی حکومت یا دیگر سرکاری ذرائع کی جانب سے امریکی صدر کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کو ایک مختصر ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’انتہائی شاندار‘ قرار دیا۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’اس میں بھرپور منصوبہ بندی شامل تھی اور اس میں بہترین، نہایت بہترین فوجی اور قابل لوگ شریک تھے۔‘
صدر ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بائیں بازو کے رہنما نکولس مادورو اور وینزویلا کی تیل پر انحصار کرنے والی معیشت پر امریکہ کا فوجی اور معاشی دباؤ کئی ماہ سے بتدریج بڑھتا چلا آ رہا تھا۔
امریکی صدر نے دسمبر میں کہا تھا کہ صدر مادورو کے لیے اقتدار چھوڑ دینا ’دانشمندی‘ ہو گی، جبکہ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وینزویلا کے صدر کے ’دن گنے جا چکے ہیں۔‘
امریکہ صدر نکولس مادورو کی ’زندگی کا ثبوت‘ فراہم کرے
وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سنیچر کے روز امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر نکولس مادورو کی ’زندگی کا ثبوت‘ فراہم کرے، جن کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں امریکی افواج نے گرفتار کر لیا ہے۔
 نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے ایک ٹیلی فونک گفتگو میں وینزویلا کے سرکاری ٹیلی وژن کو بتایا کہ امریکی حملوں کے بعد وہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کے ٹھکانے سے لاعلم ہیں۔
دوسری جانب وینزویلا کے وزیر دفاع ولادی میر پیدرینو لوپیز نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’دراندازی کرنے والی‘ امریکی افواج نے وینزویلا کی سرزمین کی بے حرمتی کی ہے اور یہاں تک کہ اپنے جنگی ہیلی کاپٹروں سے داغے گئے میزائلوں اور راکٹوں کے ذریعے شہری آبادی والے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک اپنی ’ہمہ گیر دفاعی حکمتِ عملی‘ کے تحت بری، فضائی، بحری، دریائی اور میزائل صلاحیتوں پر مشتمل ایک بڑے پیمانے پر تعیناتی کرے گا۔
کاراکس میں دھماکے
وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں سنیچر کی صبح تقریباً دو بجے (صبح چھ بجے مطابق جی ایم ٹی ٹائم) زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں، جن کے ساتھ طیاروں کی پرواز جیسی آوازیں بھی شامل تھیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی نے اس کی تصدیق کی ہے۔
یہ دھماکے ایسے وقت میں سنے گئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف زمینی حملوں کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ خیال رہے کہ امریکہ نے بحیرہ کیریبین میں بحری ٹاسک فورس تعینات کر رکھی ہے۔ 
رات تقریباً دو بج کر 15 منٹ تک بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، تاہم ان کا درست مقام واضح نہیں ہو سکا۔وینزویلا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان
اس واقعے کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے ملک میں ہنگامی حالت (سٹیٹ آف ایمرجنسی) نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ان کی حکومت نے اسے دارالحکومت کاراکاس پر امریکہ کی جانب سے کی جانے والی ’انتہائی سنگین فوجی جارحیت‘ قرار دیا ہے۔
نکولس مادورو حکومت کا کہنا تھا کہ ’وینزویلا بین الاقوامی برادری کے سامنے امریکہ کی موجودہ حکومت کی جانب سے وینزویلا کی سرزمین اور عوام کے خلاف کی جانے والی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو مسترد کرتا ہے، اس کی مذمت کرتا ہے اور اسے بے نقاب کرتا ہے۔‘
صدر نکولس مادورو نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ امریکہ کی جانب سے کئی ہفتوں کے فوجی دباؤ کے بعد واشنگٹن کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے صدر مادورو پر منشیات کے ایک کارٹیل کی قیادت کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ منشیات کی سمگلنگ کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ تاہم بائیں بازو کے رہنما نکولس مادورو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن انہیں اقتدار سے ہٹانا چاہتا ہے کیونکہ وینزویلا کے پاس دنیا میں تیل کے سب سے بڑے معلوم ذخائر موجود ہیں۔











سعودی عرب کی یمن میں مذاکرات کی اپیل، UAE نے یمن سے اپنی افواج کا مکمل انخلا کرلیا
متحدہ عرب امارات۔ سعودی عرب کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش:
سعودی عرب نے یمن کے جنوبی دھڑوں سے ریاض میں مذاکرات میں شرکت کی اپیل کی ہے تاکہ موجودہ بحران کا منصفانہ حل تلاش کیا جا سکے۔ یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کی حمایت یافتہ افواج اور متحدہ عرب امارات کی پشت پناہی رکھنے والے علیحدگی پسند گروہوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس نے یمن سے اپنی تمام مسلح افواج کا مکمل انخلا کر لیا ہے۔ یہ بیان امارات نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری کیا گیا۔ وزارتِ دفاع کے مطابق یہ فیصلہ حالیہ جھڑپوں کے بعد کیا گیا۔

اماراتی وزارتِ خارجہ نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ صرف فوجی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس میں ترقیاتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی تمام اقسام کی معاونت کی معطلی بھی شامل ہے۔ وزارت کے مطابق اس اقدام کا مقصد مزید کشیدگی کو روکنا اور 4 کروڑ 20 لاکھ آبادی والے ملک یمن میں استحکام کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے۔

ماضی میں سعودی عرب کی جانب سے یہ الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ ابو ظہبی، یمن کے جنوب میں سرگرم علیحدگی پسند گروہ کی پشت پناہی کر کے اپنے خلیجی پڑوسی کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم متحدہ عرب امارات نے گزشتہ ہفتے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) نے جمعے کے روز دو سالہ ’’عبوری دور‘‘ کا اعلان کیا ہے، جس کا حتمی مقصد جنوبی یمن کی آزادی کے لیے ریفرنڈم کرانا ہے۔ اسی دوران سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن کے سب سے بڑے صوبے حضرموت میں فضائی حملے کیے، جہاں وہ سرحدی علاقوں میں واقع فوجی اڈوں کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں تمام یمنی دھڑوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں تاکہ ’’منصفانہ حل کے لیے ایک جامع وژن‘‘ تیار کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ دسمبر میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے اچانک حملہ کر کے حضرموت اور ایک دوسرے صوبے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، جسے سعودی عرب اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے فوری طور پر مسترد کر دیا تھا۔

متحدہ عرب امارات نے یمنی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ دانشمندی، تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کریں اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مل کر کام کریں۔
یمن کئی برسوں سے خانہ جنگی، علاقائی مداخلت اور سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ابتدا میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک ہی اتحاد کا حصہ تھے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے مفادات میں واضح فرق سامنے آیا۔ UAE کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسند تحریک، یمن کی وحدت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جبکہ سعودی عرب ملک کی علاقائی سالمیت کے حق میں کھڑا ہے۔ حالیہ پیش رفت دونوں خلیجی اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی و تزویراتی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔











کون سی سادہ تراکیب پر عمل کر کے جلد کی حفاظت کی جا سکتی ہے؟
سکن کیئر یعنی جلد کی حفاظت کی دنیا میں بعض افراد کے لیے ریٹینول، اے ایچ اے (اے ایچ ایس) اور بی ایچ اے (بی ایچ اے) جیسے الفاظ خوف ناک لگ سکتے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق یوں تو درجنوں انفلوئنسرز کی طرف سے جلد کی حفاظت کی روٹین شیئر کی جاتی ہے لیکن ابتدائی طور اس عادت کو اپنانے والے نئے افراد کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ کہاں سے شروع کریں اور ان کی جلد کے لیے کیا موزوں ہے۔اس مشکل کو آسان بنانے کے لیے ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر گروین وڑائچ نے سادہ تراکیب شیئر کی ہیں جن پر عمل کر کے سکن کیئر کی شروعات کی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق تل آئل والی یا مہاسوں کی شکار جلد کے لیے سب سے پہلا اور محفوظ انتخاب سیلیسیلک ایسڈ ہے جو عام طور پر فیس واش کی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔  
نئے افراد کو چاہیے کہ اسے ہفتے میں دو سے تین مرتبہ صرف چند سیکنڈ کے لیے استعمال کریں مگر ریٹینول (وٹامن اے کے سیرم) کے ساتھ ایک ہی دن نہ لگائیں۔
اسی طرح ایزیلائیک ایسڈ ایک نہایت نرم جزو ہے جو 10 فیصد سے کم مقدار میں صبح یا رات کسی بھی وقت جلد پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور حساس، مہاسوں والی اور خراب رنگت والی جلد کے لیے فائدہ مند ہے۔
بڑھتی عمر کے آثار یا کھردری جلد کے لیے ریٹینول بہترین مانا جاتا ہے لیکن ابتدا میں 0.2 سے 0.5 فیصد والی کریم ہفتے میں صرف دو بار رات کو استعمال کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ موئسچرائزنگ اور روزانہ سن سکرین لگانا لازمی ہے۔گلیکولک ایسڈ بھی نئے افراد کے لیے پانچ سے آٹھ فیصد کی مقدار میں مناسب ہے جسے ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ رات کو استعمال کرنے کے بعد موائسچر لگانا ضروری ہے۔
نیا سینامائیڈ وہ عنصر ہے جو ہر جلد اور ہر نئے شخص کے لیے سب سے آسان اور محفوظ ہے اور دو سے پانچ فیصد تک روزانہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر کے مطابق اگر سکن کیئر آہستہ آہستہ اور سمجھ داری سے شروع کی جائے تو ابتدا میں بھی ریٹینول، اے ایچ اے ایس اور بی ایچ اے ایس جیسے اجزا سے بغیر کسی نقصان کے بہترین فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔





*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...