Saturday, 6 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





وزن کم کرتے وقت کن تین باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
زیادہ تر لوگ جب اپنی فٹنس یا وزن کم کرنے کے سفر کی شروعات کرتے ہیں تو وہ فوری نتائج کے پیچھے بھاگتے ہیں; کریش ڈائٹس، تیز رفتار چیلنجز اور جلد از جلد ’دبلے‘ ہونے کی خواہش۔ مگر پائیدار بہتری نہ خود کو فاقوں پر رکھنے سے آتی ہے اور نہ ہی بے تحاشہ کیلوریز خرچ کرنے سے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق اصل تبدیلی آہستہ، مسلسل چربی کم کرنے اور مسلز بنانے سے آتی ہے، جو طویل عرصے تک وزن کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ قلیل مدتی ڈرامائی نتائج کے بجائے طاقت اور دیرپا عادات کو ترجیح دینا ہی جسم اور صحت میں حقیقی تبدیلی لاتا ہے۔سلو برن میتھڈ‘ کے بانی، کوآڈ فٹنس کے شریک بانی اور ہیڈ کوچ، اور کتاب ’سمپل، ناٹ ایزی‘ کے مصنف فٹنس ٹرینر راج گنپتھ نے وزن کم کرنے کے آغاز سے متعلق تین اہم مگر اکثر نظر انداز کیے جانے والے حقائق بیان کیے ہیں۔
ایک انسٹاگرام ویڈیو میں انہوں نے واضح کیا کہ کیوں آہستہ اور مسلسل پیش رفت تیز رفتار پروگراموں کے مقابلے میں بہتر ہے، اور کیوں مقصد صرف ’دبلے‘ ہونا نہیں بلکہ لین اور مضبوط بننا ہونا چاہیے۔
سست رفتاری سے وزن میں کمی زیادہ پائیدار
راج کے مطابق وزن میں کمی کبھی صرف چربی میں کمی نہیں ہوتی؛ اس میں مسلز کا کم ہونا بھی شامل ہوتا ہے، چاہے آپ کوئی بھی ڈائیٹ فالو کر رہے ہوں یا جتنی بھی ورزش کر رہے ہوں۔ البتہ جب وزن دوبارہ بڑھتا ہے تو کھوئے ہوئے مسلز واپس نہیں آتے، بلکہ ان کی جگہ چربی لے لیتی ہے۔زیادہ مسلز کا مطلب زیادہ چربی کا خاتمہ
زیادہ تر لوگ وزن کم کرنے کے لیے کارڈیو، کیلوریز جلانے اور کم کھانے پر توجہ دیتے ہیں، لیکن راج کے مطابق اصل ترجیح مسلز بنانا ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’جتنے زیادہ مسلز ہوں گے، اتنی ہی آپ کا میٹابولک ریٹ زیادہ ہو گا۔ اگر آپ وزن کو منظم رکھنا اور صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو جتنے زیادہ ہو سکے مسلز بنائیں۔‘
دبلے ہونے کے بجائے مضبوط بننے پر توجہ دیں
راج نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’دبلے ہونا تقریباً بے فائدہ ہے۔ اگر آپ زیادہ وزن کے حامل ہیں تو آپ کو لگتا ہے کہ دبلے ہونا ہی حل ہے۔ مگر دبلے کا مطلب کم توانائی، کمزور ہڈیاں، تھکاوٹ اور ڈھیلا جسم ہے۔‘انہوں نے واضح کیا کہ اصل ہدف لین اور مضبوط ہونا چاہیے۔ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ غیرضروری وزن، یعنی چربی کو زیادہ سے زیادہ کم کیا جائے، جبکہ ضروری مسلز، ہڈیاں، اور اعضا کو محفوظ رکھا جائے۔‘











فيض احمد فيض کی مشہور نظم: ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے 
حیدرآباد (نیوز ڈیسک): فیض احمد فیض اردو زبان و ادب میں جدید دور کے صف اول کے شاعر ہیں۔ غالب اور اقبال کے بعد انہیں اردو کا سب سے عظیم شاعر تصور کیا جاتا ہے۔ فیض احمد فیض کی ولادت تقسیم ہند سے قبل 13 فروری 1911ء کو سیالکوٹ میں ہوئی اور ان کا انتقال 73 سال کی عمر میں پاکستان کے لاہور میں ہوا۔ ان کا اصلی نام چوہدری فیض احمد تھا مگر جب شعر و ادب کی دنیا میں انہیں شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی تو انھوں نے اپنا نام 'فیض احمد فیض' لکھنا شروع کر دیا۔ فیض کو ترقی پسند تحریک کا انتہائی کامیاب شاعر سمجھا جاتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے ان کی مشہور نظم 'ہم دیکھیں گے':
ہم دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

جو لوح ازل میں لکھا ہے

جب ظلم و ستم کے کوہ گراں

روئی کی طرح اڑ جائیں گے

ہم محکوموں کے پاؤں تلے

جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی

اور اہل حکم کے سر اوپر

جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

جب ارض خدا کے کعبے سے

سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہل صفا مردود حرم

مسند پہ بٹھائے جائیں گے

سب تاج اچھالے جائیں گے

سب تخت گرائے جائیں گے

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی ہے حاضر بھی

جو منظر بھی ہے ناظر بھی

اٹھے گا انا الحق کا نعرہ

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

اور راج کرے گی خلق خدا

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

ہم دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے












آج بابری مسجد انہدام کی تینتیسویں برسی، یوپی کے ایودھیا، سنبھل، متھرا سمیت کئی اضلاع میں ہائی الرٹ
لکھنؤ، اترپردیش: اودھ کے حاکم میر باقی اصفہانی نے 1528ء میں بابری مسجد تعمیر کروائی تھی۔ یہ دور شہنشاہ بابر کا تھا۔ ہندو انتہا پسند تنظیموں نے بابری مسجد کو سب سے پہلے 27 مارچ 1932ء کو گئو کشی کے نام پر نشانہ بنایا تھا۔ پھر اس کے 60 سال بعد چھ دسمبر 1992 کو ہندو کارسیوکوں نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا۔ گزشتہ 33 سال سے ہر برس 6 دسمبر کو رام جنم بھومی کی حامی تنظیمیں 'شوریہ دیوس' اور مسلم تنظیمیں 'یوم سیاہ' کے طور پر مناتے آرہے ہیں۔ اسی سال بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر مکمل ہوئی اور پی ایم مودی نے اس کا افتتاح کیا۔ملزمین کو سی بی آئی عدالت نے بری کر دیا

سپریم کورٹ نے 9 نومبر 2019 کو ایودھیا میں 1949 میں مسجد میں مورتیاں رکھے جانے اور مسجد کے انہدام کو غیر قانونی فعل قرار دیا تھا۔ باوجود بابری مسجد کی شہادت میں ملوث بی جے پی کے رہنما اور ہندو کارسیوکوں کو سی بی آئی کی عدالت نے بری کردیا، اس معاملے میں ملزم ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ سمیت تمام 32 ملزمین کو عدالت نے یہ کہتے ہوئے بری کر دیا تھا کہ ان کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں۔

سپریم کورٹ نے تسلیم کیا مسجد کسی مندر کو منہدم کرکے نہیں بنائی گئی

اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو منہدم کر کے نہیں بنائی گئی۔ عدالت کے اس تبصرہ سے ایک ایسے جھوٹ کا پردہ فاش ہوگیا جس کو ہندو تنظیموں نے خوب پھیلایا، مسلمانوں کے بارے میں نفرت پیدا کی گئی اور فرقہ پرستوں کی ایک جارح اور شدت پسند فوج تیار کر دی گئی۔سپریم کورٹ نے اپنے حتمی فیصلے میں رام مندر کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی قیادت والی سات ججوں کی آئینی بینچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے متنازعہ اراضی کو ہندو فریق رام للا کے حوالے کرنے کا فیصلہ جب کہ مسلم فریق سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین مہیا کرانے کا حکومت کو حکم دیا۔

جسٹس سری کرشنا رپورٹ کیا کہتی ہے؟

واضح رہے کہ ممبئی فسادات کی تحقیقات کرنے والے بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس بی این سری کرشنا کمیشن نے بھی مسجد میں 1949 میں مورتیاں رکھنا اور 1992 میں مسجد کے انہدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی کی رتھ یاترا کو بھی مسجد کے انہدام کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ لیکن کمیشن کی سفارشات کے باوجود قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

موجودہ میں کئی مساجد پر ہندو تنظیموں کا دعویٰ

ایسا یقین دلایا گیا تھا کہ، بابری مسجد کے بعد ملک کی کسی دیگر مسلم عبادت گاہ پر دعویٰ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ پہلے ہی 1991 میں ایک فیصلہ دے چکی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ 1947 سے عبادت گاہوں کی مذہبی نوعیت کو برقرار رہنا چاہیے۔ لیکن بابری مسجد کے بعد بھی مسلم عبادت گاہوں، بزرگان دین کے مزاروں پر ہندو تنظیموں کے دعویٰ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس میں وارانسی کی گیان واپی مسجد، متھرا کی شاہی عیدگاہ، دھار کی کمال مولیٰ مسجد، سنبھل کی شاہی جامع مسجد، بدایوں کی تاریخی جامع مسجد، اجمیر کی مشہور خواجہ معین الدین حسن چشتی کی درگاہ اور دہلی کی تاریخی جامع مسجد شامل ہیں۔

یوپی کے کئی اضلاع میں ہائی الرٹ

بابری مسجد انہدام کی برسی کے سلسلے میں آج ضلع انتظامیہ نے سنبھل اور متھرا میں بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ شری کرشن جنم بھومی اور شاہی عیدگاہ مسجد کے ارد گرد ڈرون کیمروں سے نگرانی کی جا رہی ہے۔ مندر کے تمام دروازوں سے گزرنے والے ہر شخص کی جانچ کی جا رہی ہے۔ جمعرات کی شام دیر گئے، ضلعی انتظامیہ نے مندروں کے ارد گرد بنائے گئے ہوٹلوں، ڈھابوں اور دھرم شالوں کو بھی چیک کیا تھا۔
متھرا میں بھی بابری مسجد انہدام کی برسی کے حوالے سے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ شاہی عیدگاہ مسجد کے اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ بی ڈی ایس ٹیم اور ڈاگ اسکواڈ نے چیکنگ کی۔ دوسری جانب شاہی عیدگاہ مسجد کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی احتیاط برتی جارہی ہے۔ شری کرشنا جنم بھومی مندر کمپلیکس کے علاقے کو کئی زون اور کئی سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سادہ لباس میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ پولیس فورس کے ساتھ سی آئی ایس ایف جوان پی اے سی بھی تعینات ہے۔

سوشل میڈیا پر خصوصی نظر

ضلعی انتظامیہ سوشل میڈیا واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کی نگرانی کر رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے کچھ روز قبل سماج دشمن عناصر کے خلاف اپیل جاری کی تھی۔ کسی بھی قسم کی افواہ پھیلانے یا فرقہ وارانہ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔

صراحت: یہ مضمون اس سے قبل بھی 6 دسمبر 2024 کو شائع ہوچکا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

جموں  کشمیراسمبلی کابجٹ اجلاس:دوسرے مرحلے کی کارروائی کے پہلے دن این سی اور بی جے پی ارکان اسمبلی نے کیاہنگامہ جموں ...