Friday, 5 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





امریکہ میں موت کا کھیل رچانے والا پاکستانی گرفتار، ایک غلطی سے پولیس نے پکڑا، 'شہید' بننے کی تیاری کر رہا تھا
امریکہ کے ڈیلاویئر سے دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ڈیلاویئر یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم کو مبینہ طور پر بھاری ہتھیاروں، گولہ بارود کے درجنوں راؤنڈز، باڈی آرمر اور ایک خطرناک منشور کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔ 25 سالہ لقمان خان کو 24 نومبر کی آدھی رات سے پہلے اس وقت گرفتار کیا گیا جب پولیس نے اسے اپنے کھڑے پک اپ ٹرک میں مشکوک حالات میں بیٹھے پایا۔ وہ پکڑا گیا، لیکن اس سے غلطی ہوئی۔ حکام کے مطابق اس کے رویے پر مشکوک ہونے کے بعد جب ٹرک کی تلاشی لی گئی تو اندر کا منظر چونکا دینے والا تھا۔

نیویارک پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پولیس کو ایک .357 Glock پستول، کئی لوڈ شدہ 27 راؤنڈ میگزین، اور باڈی آرمر پلیٹیں ملی ہیں۔ استغاثہ کے مطابق، پستول میں ایک کٹ لگائی گئی تھی جو نیم خودکار رائفل کے طور پر کام کر سکتی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہتھیاروں کا یہ ذخیرہ عام استعمال کے لیے نہیں تھا۔ پاکستانی شخص کو وائٹ ہاؤس کے قریب ایک افغان شہری کے دو نیشنل گارڈز پر حملہ کرنے کے چند روز بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے پاس سے خطرناک تحریروں پر مشتمل ایک نوٹ بک ملی۔نوٹ بک میں کیا ہے؟
سب سے زیادہ تشویش اس کے پاس سے برآمد ہونے والی نوٹ بک کی ہے۔ اس میں ہاتھ سے لکھے گئے نوٹ تھے جن میں مبینہ طور پر یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کیمپس پولیس ڈیپارٹمنٹ پر حملہ کرنے کے منصوبے کا خاکہ تھا۔ نوٹ بک میں ہیڈ کوارٹر کا نقشہ بھی تھا، جس میں داخلے اور خارجی راستوں کو نشان زد کیا گیا تھا۔ ان نوٹوں میں بار بار “سب کو مار ڈالو - شہادت” جیسے جملے شامل تھے۔ اے بی سی 6 کی رپورٹ کے مطابق، اس میں حملے کے بعد پولیس کی فرار کی حکمت عملی، استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں، اور جسے پولیس “پہلے سے طے شدہ حملے کا منصوبہ” اور “جنگی تکنیک” کہہ رہی ہے، کی تفصیلات شامل ہیں۔
گرفتاری کے بعد کیا کہا گیا؟
گرفتاری کے بعد لقمان نے مبینہ طور پر کہا کہ شہید ہونا سب سے بڑی چیزوں میں سے ایک ہے۔ پولیس کو یہ بیان، مبینہ سازش کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔ ان منصوبوں میں کیمپس پولیس افسر کا نام بھی شامل تھا، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کیوں نشانہ بنایا گیا۔

لقمان کون ہے؟
لقمان پاکستان میں پیدا ہوئے لیکن وہ بچپن سے ہی امریکہ میں مقیم ہیں اور امریکی شہری ہیں۔ اس کی گرفتاری کے بعد، ایف بی آئی نے ان کے ولیمنگٹن کے گھر پر چھاپہ مارا اور اضافی ہتھیار برآمد کر لیے۔ حکام کو ایک AR طرز کی رائفل ملی جس میں سرخ نقطے والی نظر تھی اور ایک غیر قانونی ڈیوائس سے لیس دوسرا Glock پستول ملا جو اسے مکمل طور پر خودکار مشین گن میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ ہتھیار 1200 راؤنڈ فی منٹ تک فائر کر سکتا ہے۔لقمان کے پڑوسیوں نے کیا کہا؟
ایف بی آئی کو 11 مزید توسیع شدہ میگزین، گولیاں اور ایک بلٹ پروف جیکٹ بھی ملی۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ٹرک سے ملنے والے ہتھیار صرف شروعات تھے۔ تحقیقات اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ لقمان اکیلے کام کر رہے تھے یا کوئی اور ملوث تھا۔ اس کے پاس سے برآمد ہونے والے ہتھیاروں میں سے کوئی بھی رجسٹرڈ نہیں تھا۔ پڑوسیوں کا کہنا تھا کہ خان پہلے ملنسار تھے لیکن حالیہ مہینوں میں وہ عجیب طور پر “الگ تھلگ” ہو گئے تھے۔









رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ: احمد فراز - Ahmad Faraz
حیدرآباد: احمد فراز کی پیدائش (پاکستان) کوہاٹ کے ایک معزز خاندان میں ہوئی۔ شاعری کا فن انہیں والد سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد سید محمد شاہ برق فارسی کے ممتاز شاعر تھے۔ احمد فراز نے اردو، فارسی اور انگریزی ادب میں ایم اے کیا لیکن ان کی مادری زبان پشتو تھی۔ باوجود اس کے انہوں نے چار زبانوں پر عبور حاصل کر اردو زبان میں شاعری کی سمت تلاش کی۔

ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ سائنس اور ریاضی میں تعلیم آگے جاری رکھیں لیکن فراز کا فطری میلان ادب و شاعری کی طرف تھا۔ فراز نے کبھی عشق، کبھی انقلاب کبھی دوستی تو کبھی ماضی کے حالات اپنی شاعری میں بیان کیے ہیں۔ فراز عام طور سے رومانوی شاعر کے طور پر عوام میں مقبول ہیں، ان کی مشہور زمانہ غزل 'رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ' عام و خاص کی زبان زد ہے۔ آئیے آج کے شعر و ادب میں ان کی اس غزل کو ملاحظہ فرمائیں...
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ

تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ

پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو

رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم

تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم

اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں

یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ












انڈگو کی 550 سے زائد پروازیں منسوخ ،ملک بھر کے ایئرپورٹس پر ہنگامہ، کریو کی کمی، نئے قواعد اور بدانتظامی سے بحران سنگین
ملک کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈگو شدید بدانتظامی کے بھنور میں پھنس گئی ہے۔ چار ،دن سے لگاتار فلائٹس کی تاخیر اور منسوخی نے ہزاروں مسافروں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ صرف جمعرات کو ہی 550 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوگئیں، جبکہ جمعہ کی صبح دہلی ایئرپورٹ سے 200 سے زائد انڈگو فلائٹس (135 ڈپارچر + 90 ارائیول) اچانک کینسل کر دی گئیں۔دہلی، حیدرآباد، ممبئی اور گوا جیسے بڑے ایئرپورٹس پر افراتفری کا عالم رہا۔ دہلی ایئرپورٹ پر ہزاروں بیگ بکھرے پڑے دیکھے گئے، متعدد مسافر زمین پر سوتے نظر آئے اور ہر طرف احتجاج، نعرے بازی اور غصے کا ماحول رہا۔۔

مسافروں کا غصہ: “12 گھنٹے ہوگئے، نہ پانی ملا، نہ کھانا!”

دہلی میں ایک مسافر نے کہا،ہم شادی میں جا رہے تھے، ہمارا سامان غائب ہے۔ 12 گھنٹے ہو گئے، انڈگو کوئی جواب نہیں دے رہی۔ یہ تو ذہنی اذیت ہے۔” ایک خاتون نے کہا:”14 گھنٹے انتظار کے بعد بھی نہ کھانا دیا گیا، نہ پانی۔ کسی اسٹاف نے ہماری بات سننے کی زحمت تک نہیں کی۔”

حیدرآباد اور گووا میں ہنگامہ

حیدرآباد ایئرپورٹ پر غصے سے بھرے مسافروں نے ایئر انڈیا کی ایک فلائٹ کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کیا تاکہ پرواز نہ جا سکے۔ ایک شخص نے بتایاکہ ہماری فلائٹ کل شام 7:30 کی تھی، اب 12 گھنٹے ہو گئے۔ انڈگو کہہ رہی ہے کہ تاخیر غیر معینہ مدت تک بڑھ سکتی ہے۔ یہ مذاق ہے۔گووا ایئرپورٹ پر بھی صورتحال خراب رہی، پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔

شہروں میں منسوخ پروازوں کی تعداد

ممبئی 118،بنگلورو 100،حیدرآباد 75،کولکاتا 35،چنئی؎ 26،گووا11،بھوپال: 5

انڈگو کی وضاحت: غلط اندازے، سردی اور اسٹاف کی کمی

ایئرلائن نے مانا کہ نئے قواعد کے بعد کریو کی ضرورت کا اندازہ غلط نکلا۔ سردی، ٹیکنیکل مسائل اور پائلٹس کی کمی نے ملکر حالات کو بگاڑ دیا۔ DGCA کو بھیجی رپورٹ میں انڈگو نے بتایا:پائلٹ ڈیوٹی کے نئے قواعد عارضی طور پر واپس لیے جا رہے ہیں۔رات میں دو لینڈنگ کی پابندی عارضی طور پر ہٹا دی گئی۔ڈیوٹی ٹائمنگ صبح 6 بجے تک بڑھانے کا فیصلہ بھی واپس لیا گیا۔
مزید 3 دن بحران برقرار رہے گا — انڈگو کی وارننگ

انڈگو نے کہا کہ شیڈول کو عام ہونے میں 2–3 دن لگیں گے۔8 دسمبر سے کمپنی نے پروازوں کی تعداد کم کر دی ہے تاکہ بدنظمی پر قابو پایا جا سکے۔ سی ای او پیٹر ایلبرز نے کہا:”وقت پر آپریشن معمول پر لانا آسان نہیں ہوگا، مگر ہم پوری کوشش کر رہے ہیں۔”

حکومت کی سخت ناراضگی

صورتحال بگڑنے پر انڈگو کے اعلیٰ حکام نے سول ایوی ایشن منسٹر رام موہن نائیڈو اور DGCA چیف فیض قدوائی سے ملاقات کی۔ایئرلائن نے اعتراف کیا کہ پائلٹ ڈیوٹی–ریسٹ رولز نافذ کرنے میں “پلاننگ گیپ” رہا، خاص طور پر رات کی فلائٹس پر پابندی نے عملے کی ضرورت بڑھا دی۔ ایوی ایشن منسٹر نے کہا کہ انڈگو کو نئے قواعد نافذ کرنے کیلئے کافی وقت دیا گیا تھا اور ہدایت دی کہ ایئرپورٹس پر اضافی اسٹاف تعینات کیا جائے تاکہ مسافروں کو مدد مل سکے۔ایئرلائن نے DGCA سے 10 فروری تک نائٹ فلائٹ رولز میں چھوٹ مانگی ہے، جس پر جلد فیصلہ ہوگا۔بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اگلے کچھ دنوں تک مسافروں کو مزید مشکلات کا سامنا رہ سکتا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

جموں  کشمیراسمبلی کابجٹ اجلاس:دوسرے مرحلے کی کارروائی کے پہلے دن این سی اور بی جے پی ارکان اسمبلی نے کیاہنگامہ جموں ...