سپریم کورٹ کا امید پورٹل پر وقف جائیدادوں کے آن لائن رجسٹریشن کی آخری تاریخ بڑھانے سے انکار
نئی دہلی : سپریم کورٹ نے پیر کو اُمید (UMEED) پورٹل پر وقف جائیدادوں کے آن لائن رجسٹریشن کی آخری تاریخ بڑھانے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جن فریقوں کو اس عمل پر کوئی اعتراض یا شکایت ہے، وہ متعلقہ وقف ٹریبیونل کے سامنے اپنا مؤقف پیش کر سکتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ قانون کے تحت اس کے لیے مناسب فورم پہلے سے موجود ہے، اس لیے تاریخ بڑھانے کی ضرورت نہیں۔
جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی بینچ نے کہا کہ عدالت وقف قانون کو دوبارہ نہیں لکھ سکتی کیونکہ وقف ایکٹ میں پہلے ہی حل موجود ہیں۔ بینچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی دلیل کا بھی حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ “ہر متولی ٹریبیونل میں جا کر اپنے معاملے کی بنیاد پر ریلیف لے سکتا ہے۔”
سپریم کورٹ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB)، اے آئی ایم آئی ایم لیڈر اسدالدین اویسی اور دیگر کئی فریقوں کی درخواستوں پر یہ فیصلہ سنایا۔ ان درخواستوں میں امید پورٹل پر رجسٹریشن کی چھ ماہ کی مہلت بڑھانے کی مانگ کی گئی تھی، لیکن عدالت نے صاف کہا کہ “وقت بڑھانے کا کوئی سوال نہیں، ضرورت ہو تو ٹریبیونل جائیں۔”
نئے وقف قانون پر عدالت نے کیا کہا تھا؟
اس سے پہلے 15 ستمبر کو عدالت نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 پر مکمل پابندی لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ البتہ کچھ دفعات پر روک لگائی گئی تھی، جیسے وقف بنانے کے لیے پانچ سال تک اسلام کی پیروی کرنے کی شرط وغیرہ۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ ’وقف بائی یوزر‘ کے تصور کو ہٹانے میں کوئی ابتدائی تضاد نظر نہیں آتا اور سرکاری زمین پر قبضہ ہونے کا خدشہ “حقائق پر مبنی نہیں” ہے۔
امید پورٹل کیا ہے؟
مرکز نے 6 جون کو UMEED پورٹل لانچ کیا تھا۔ اس کا مقصد ملک بھر کی تمام وقف جائیدادوں کا قومی ڈیجیٹل، جیو ٹیگڈ ریکارڈ تیار کرنا ہے۔ پورٹل پر تمام رجسٹرڈ وقف جائیدادوں کا ڈیٹا چھ ماہ میں اپ لوڈ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ملک بھر کی ہزاروں جائیدادوں کا ریکارڈ اتنے کم وقت میں اپ لوڈ کرنا مشکل ہے، اس لیے مہلت بڑھائی جانی چاہئے۔ تاہم عدالت نے واضح کر دیا کہ مہلت بڑھانے کی ضرورت نہیں اور قانون میں دستیاب طریقۂ کار پر عمل کیا جانا چاہئے۔
مہاراشٹر میں مہایوتی میں دراڑ؟ بی ایم سی انتخابات سے قبل بی جے پی-شیو سینا میں تناؤ، ایکناتھ شندے کا سخت پیغام
مہاراشٹر میں بی ایم سی انتخابات جوں جوں قریب آرہے ہیں، ریاست کی حکمراں مہایوتی میں اختلافات کھل کر سامنے آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بی جے پی، ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا اور این سی پی (اجیت پوار) کے اتحاد کو بنے زیادہ وقت نہیں گزرا، لیکن سیاسی ماحول میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر شیو سینا لیڈر اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے تازہ بیان اور شیو سینا کے دفتر پر چھاپے کے بعد حالات مزید پیچیدہ ہوتے دکھ رہے ہیں۔
شندے کا سخت سیاسی پیغام
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایکناتھ شندے نے کہا کہ ”ہماری پوزیشن بالکل واضح ہے۔ ہم اتحاد کے اصولوں کا مکمل طور پر احترام کرتے ہیں اور ہمارے اتحادیوں کو بھی اس کا پابند ہونا چاہئے۔ یہ اتحاد نہ آج بنا ہے اور نہ کل، بلکہ بالاصاحب ٹھاکرے، اٹل بہاری واجپئی اور لال کرشن اڈوانی کی نظریات اور وراثت پر قائم ہوا ہے“۔ مزید زور دیتے ہوئے شندے نے کہا کہ ”یہ اتحاد اقتدار یا عہدوں کے لیے نہیں بنا۔ یہ مشترکہ نظریے اور اصولوں کی بنیاد پر قائم ہے“۔ سیاسی حلقوں میں ان کے اس بیان کو بی جے پی کے لیے براہ راست پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بی ایم سی انتخابات کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔
شیو سینا دفتر پر چھاپہ
چند روز قبل انتخابی مہم تیز ہوتے ہی ماحول مزید کشیدہ ہوگیا، جب الیکشن کمیشن اور مقامی کرائم برانچ نے شیو سینا کے سابق ایم ایل اے شاہ جی باپو پاٹل کے دفتر پر اچانک چھاپہ مارا۔ یہ کارروائی پاٹل کی انتخابی ریلی کے فوراً بعد کی گئی، جبکہ پولیس کی ٹیم دفتر میں ویڈیو ریکارڈنگ کرتے ہوئے داخل ہوئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ پاٹل نے سانگولا الیکشن میں براہ راست بی جے پی کو چیلنج دیا ہے، جس کے بعد حالات گرم ہو گئے ہیں۔
لیڈران کے درمیان فاصلہ بڑھا؟
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں جماعتیں کھلے عام ایک دوسرے پر حملہ نہیں کر رہیں، لیکن دونوں جانب سے دیے جانے والے بیانات سیاسی کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یکم دسمبر کو یہ خبر بھی سامنے آئی کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے چھترپتی سنبھاجی نگر کے ایک ہی ہوٹل میں موجود تھے، مگر دونوں کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔
ماہرین کی رائے
سیاسی ماہرین کے مطابق تازہ حالات مہایوتی کی یکجہتی پر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ بی ایم سی انتخابات نہ صرف ممبئی کی سیاست بلکہ مہاراشٹر کی مجموعی طاقت کا مرکز سمجھے جاتے ہیں، اور یہاں کی شکست یا جیت مستقبل کی سیاست طے کر سکتی ہے۔ اگر کشیدگی یونہی بڑھتی رہی، تو یہ اتحاد بی ایم سی الیکشن سے قبل ہی کمزور پڑ سکتا ہے اور فائدہ براہ راست اپوزیشن کو مل سکتا ہے۔
کیا لداخ کے پانچ ہزار بروکپا خالص آریائی ہیں؟
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں لداخ کے دور دراز علاقے میں آباد تقریبا پانچ ہزار بروکپا خود کو دنیا کے آخری بچے ہوئے 'خالص آریائی' کہتے ہیں۔
کیا یہ لوگ واقعی اسی نسل سے آتے ہیں جسے نازی جرمنی والے 'ماسٹر ریس' یا برتر نسل کہتے تھے۔ یا پھر یہ دعوے محض اساطیر کا حصہ ہیں جسے قائم رکھنا ان لوگوں کے لیے سود مند ہے۔
ہمارے زمانے کے سب سے معروف میدان جنگ کرگل کو دیکھنے کا اشتیاق کشمیر کے پرپیچ سفر کو بوجھل نہیں ہونے دیتا۔لیہ سے شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہی ذہن میں پہلا خیال کرگل کا آتا ہے لیکن بی بی سی کی ٹیم اس سفر پر کسی دوسرے مقصد کے لیے نکلی تھی۔
لیہ سے بٹالک کا تقریبا چار گھنٹوں کا راستہ کسی وسیع عمدہ شاہراہ سے کم نہیں۔ اس کے بعد سڑک تنگ ہوتی جاتی ہے اور دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چلنے لگتی ہے۔کچی پکی سڑکوں سے دو گھنٹے کے سفر کے بعد آپ گارکون گاؤں پہنچتے ہیں۔
گاؤں سے ذرا پہلے بیاما میں آپ کی توجہ ان گھروں کی جانب جاتی ہے جو سنہ 2015 میں آنے والے سیلاب میں ڈوب گئے تھے۔
چٹیل اور سنگلاخ پہاڑوں پر سرسبز زینے جیسے کھیت یہاں آباد لوگوں کی سخت کوشی کے گواہ ہیں لیکن اس جگہ کی سب سے بڑی خاصیت یہاں کے باشندے ہی ہیں۔
بروکپا مخصوص کیوں ہیں؟
گارکون کے بچے، بوڑھے اور نوجوان اب دور دراز کے شہروں سے آنے والوں کو دیکھ کر متحیر نہیں ہوتے۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ان شہریوں کو کون سی چیز یہاں کھینچ لائی ہے۔
گاؤں کے کسی بھی شخص کے ساتھ پانچ منٹ کی گفتگو میں آپ از خود اس سوال کی جانب آ جاتے ہیں کہ آیا وہ خالص آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔انڈیا کے ایک شہر چندی گڑھ میں تعلیم حاصل کرنے والی سونم لھامو بتاتی ہیں کہ ان کے یہاں نسل در نسل خالص آریائی ہونے کی بات چلی آ رہی ہے۔
وہ کہتی ہیں: 'آپ نے پڑھا ہوگا کہ آرین دراز قد اور گورتے ہوتے تھے۔ آپ یہاں یہی بات دیکھ سکتے ہیں۔ ہم بھی ان کی طرح فطرت کی پوجا (عبادت) کرتے ہیں۔ ہم اپنی ثقافت کو ہی اپنے خالص آریائی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت مانتے ہیں۔'
ان کا کہنا ہے کہ بیاما، گارکون، دارچک، داہ اور ہانو گاؤں کے لوگوں کی شکلیں باقی لداخ کے منگول نین نقش سے بالکل مختلف ہیں۔
بروکپا کا نام انھیں لداخ کی باقی آبادیوں سے ہی ملا ہے۔ مقامی زبان میں اس کا مطلب 'خانہ بدوش' ہوتا ہے۔بودھ مذہب سے تعلق رکھنے کے باوجود بروکپا مختلف دیوی دیوتاؤں میں یقین رکھتے ہیں اور آگ جیسی قدرتی طاقتوں کو پوجتے ہیں۔ ان کے یہاں قربانی کی روایت ابھی تک زندہ ہے جبکہ نئی نسل میں اس کی مخالفت بھی نظر آتی ہے۔
آگ اور قدرت کی دوسری چیزوں کی پوجا اور قربانی کا ذکر ہندو مذہب کی کتابوں (ویدوں) میں بھی ملتا ہے۔تاہم بروکپا کی تہذیب میں بکریوں کو گائے سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ وقت کے ساتھ اب ان کے یہاں گائے بیل نظر آنے لگے ہیں لیکن ان کی پہلی پسند اب بھی بکری کا دودھ اور ان سے بنا گھی ہے۔
بہرحال، لداخ کے دوسرے باشندوں سے مختلف ہونا ہی ان کے خالص آرین ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتی۔
اسی قبیلے سے تعلق رکھنے والے سوانگ گیلسن کرگل کے کالج میں پڑھاتے ہیں۔ ان کی دلچسپی ان کی اپنی تاریخ کی تلاش میں ہے۔وہ کہتے ہیں: 'کئی مؤرخوں نے اس کی جانب اشارہ کیا ہے۔ مثلا جرمن تاریخ داں اے ایچ فرینکی نے اپنی کتاب 'دی ہسٹری آف ویسٹرن تبّتن' میں ہماری آبادی کو سٹاک کا نام دیا ہے۔'
حال ہی میں اپنی زبان کی لغت تیار کرنے والے گیلسن سنسکرت زبان کے ساتھ اپنی زبان کی مماثلت کا ذکر کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ لداخ میں رائج دوسری زبانوں کے برخلاف ان کی زبان میں سنسکرت کے کئی الفاظ موجود ہیں۔
مثال کے طور پر گھوڑے کے لیے 'اشو' اور سورج کے لیے 'سوریہ' وغیرہ ہیں۔ اس کے علاوہ ہندسے بھی ملتے ہیں۔
گیلسن نے بتایا کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ان کی نسل سکندر کے سپاہیوں سے آتی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں کیلاش کے لوگ، ہماچل میں ملانا نسل کے لوگ اور بڑا بھنگال کے علاقے میں بھی بعض قبیلے اسی قسم کا خالص آریائی نسل ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔بروکپا کے لوک گیتوں میں اس کا ذکر ملتا ہے کہ ان کے آباء ساتویں صدی عیسوی میں گلگت بلتستان سے آ کر بٹالک کے آس پاس اس علاقے میں آباد ہوئے تھے۔
ان کا سب سے بڑا تہوار بونوما اکتوبر میں دھان کی فصل کی کٹائی کے وقت منایا جاتا ہے۔
ہر بروکپا گاؤں اسے باری باری منعقد کرتا ہے۔ ایک سال پاکستان کے علاقے میں آباد ان کے ایک گاؤں گنوک کے لیے بھی مختص ہے۔
بہرحال یہ بتانا مشکل ہے کہ سرحد پار پاکستان کے اس گاؤں میں اس روایت کو اب بھی منایا جاتا ہے یا نہیں۔
آرینز کی تاریخ کیا ہے؟
آج کے ہندوستان میں یہ سوال سیاست سے ماورا نہیں لیکن یہ سچ ہے کہ آرین کے بارے میں کوئی ایک رائے نہیں ہے۔
بیسویں صدی کے دوران یہ خیال ظاہر کیا جاتا رہا کہ انڈو یورپی زبانیں بولنے والے یہ لوگ 2000 سے 1500 قبل مسیح کے دوران وسط ایشیائی ممالک سے ہندوستان آئے ہوں گے۔اختلاف رائے اس بات پر ہے کہ یہ لوگ حملہ آور تھے یا پھر خوراک حاصل کرنے کے بہتر مواقع کے لیے ادھر آ نکلے تھے۔ گذشتہ دو دہائیوں میں آریوں کے بارے میں اس خیال کی بھی ترویج ہوئی ہے کہ وہ بنیادی طور پر ہندوستانی باشندے تھے۔
برطانیہ کی ہرڈس فیلڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹن پی رچرڈز کی سربراہی میں 16 سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اس حقیقت کو جاننے کے لیے وسط ایشیا، یورپ اور جنوبی ایشیا کی آبادی کے کئی Y کروموزم کا مطالع کیا۔ خیال رہے کہ Y کروموزوم صرف والد سے بیٹے کو ملتا ہے۔
اس تحقیق کے مطابق، کانسی کے عہد (3000سے1200 قبل مسیح) میں نقل مکانی کرنے والوں میں مردوں کی اکثریت ہوتی تھی۔
گذشتہ سال مارچ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں لکھا ہے: 'ہماری تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین کی جین بہت حد تک مکمل طور پر دیسی ہیں اور 55 ہزار سال قبل یہاں آباد پہلے انسانوں سے بہت مماثلت رکھتی ہیں، لیکن مردوں کی جین مختلف ہیں اور ان کا تعلق جنوب مغربی ایشیا اور وسطی ایشیا سے ہے۔'
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نقل مکانی کا یہ سلسلہ ہزاروں سال پر محیط ہوگا۔
اگر آرین واقعی وسط ایشیا میں دریا اخضز (کیسپین سی) کے ارد گرد گھاس کے میدان والے علاقوں سے آئے تھے تو پھر ممکنہ طور پر ان کا راستہ گلگت بلتستان سے ہو کر گزرا ہوگا۔
گیلسن بھی بروکپا کے ڈی این اے کی جانچ کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس پر ابھی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ 'آرین کی تاریخی تصویر فاتح کی رہی ہے۔ اسی لیے آج کے بروکپا نوجوانوں میں اس کے متعلق جوش دیکھا جاتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ مزید تصدیق کی ضرورت ہے۔'حمل کے سیاحت کی کہانیاں
انٹرنیٹ کی آمد کے بعد بروکپا کی اس شناخت نے دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔ ان گاؤں میں 'خالص آرین تخم' کے لیے جرمن خواتین کی آمد کے قصے مشہور ہیں۔
سنہ 2007 میں فلم ساز سنجیو سوین کی دستاویزی فلم میں ایک جرمن خاتون کیمرے کے سامنے اس بات کو قبول کرتی ہے۔
زیادہ تر بروکپا اس کے متعلق بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
لیکن بٹالک میں ایک دکاندار نے نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ 'ایک جرمن خاتون نے کئی سال پہلے مجھے لیہ کے ہوٹلوں میں اپنے ساتھ رکھا۔ حاملہ ہونے کے بعد وہ جرمنی لوٹ گئی۔ چند سالوں کے بعد وہ اپنے بچے کے ساتھ ملنے بھی آئی تھی۔'
آج کے بروکپا کیا چاہتے ہیں؟
بروکپا کی موجودہ نسل میں تعلیم پر خصوصی زور ہے۔ لڑکیوں کو پڑھانے اور کریئر کے برابر مواقع ہیں لیکن ملازمتیں محدود ہیں۔
آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ خوبانی کی باغبانی ہے یا پھر فوج اور سرحدی سڑک کی تعمیر میں ملنے والی مزدوری ہے۔بجلی آج بھی صبح اور شام صرف ایک گھنٹے تک رہتی ہے۔ لیکن سیاحوں کی آمد سے ترقی کی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔
موبائل کی آمد کے ساتھ بروکپا نوجوانوں نے سرحد پار سوشل میڈیا کے ذریعہ گلگت کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
لھامو بتاتی ہیں 'وہاں کے لوگ بھی ہماری زبان میں بات کرتے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ وہ آرین ہیں۔'
گیلسن کا کہنا ہے کہ 'روزی روٹی کے ساتھ اپنی منفرد شناخت کو برقرار رکھنا بڑا چیلنج ہے۔'
21 ویں صدی کے ان 'خالص آرینوں کی جنگ ریاست کے لیے نہیں بلکہ روزگار کے لیے ہے لیکن اگر یہ شناخت کھو کر حاصل ہوتی ہے تو اس جنگ میں کامیابی ادھوری رہ جائے گی۔'