Thursday, 9 October 2025
مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی گولڈن جوبلی جشن کے نام پر اردو کی لاش پر رقصاں و بہاراں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!اردو ادب کی تقریب میں فیشن شو جیسی لغو اور بے مقصد پروگرام کی گھس پیٹھ چہ معنی دارد ۔۔۔۔۔۔!!!!تحریر: حبیبہ اکرام (ممبئی) مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی، جو کبھی اردو زبان و ادب کے فروغ کی ایک باوقار علامت سمجھی جاتی تھی، آج خود اردو دشمنی کی علامت بن چکی ہے۔ یہ وہی ادارہ ہے جس کے ذمے اردو کے تحفظ، ترویج، اشاعت اور نوجوان نسل میں لسانی و تہذیبی شعور بیدار کرنے کی ذمہ داری تھی۔ لیکن آج یہی اکیڈمی اپنی پچاسویں سالگرہ کے نام پر اردو کی لاش پر رقصاں ہے۔ ١٠ کروڑ روپے کے خطیر بجٹ سے منعقد ہونے والا یہ نام نہاد "گولڈن جوبلی جشن" دراصل اردو کے وقار پر ایک گہرا طنز ہے۔ ١٠ کروڑ روپے! سوچنے کی بات ہے کہ ایک ایسی زبان جس کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کے لیے وسائل نہیں، جس کے طلبہ کو کتابیں مہیا نہیں، جس کے ادبی ادارے بجٹ کی کمی کے باعث بند پڑے ہیں، وہاں اردو اکیڈمی جشن منانے کے نام پر دس کروڑ روپے پانی کی طرح بہا دے۔ یہ رقم اگر اردو کی تعلیم، کتابوں کی اشاعت یا اساتذہ کی تربیت پر خرچ کی جاتی تو شاید زبان کے حق میں ایک مثبت کام ہوتا، مگر افسوس کہ یہاں مقصد خدمت نہیں، نمائش اور کمیشن خوری ہے۔سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ اس گولڈن جوبلی جشن کا دعوت نامہ اردو میں نہیں بلکہ ہندی میں شائع کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کسی انتظامی غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اردو کی بے توقیری ہے۔ ایک ایسی زبان جس کے فروغ کے لیے ادارہ قائم کیا گیا، اسی کی اپنی سرپرست اکیڈمی اس کی جگہ دوسری زبان استعمال کرے — یہ اردو دشمنی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ اردو دان طبقے کے منہ پر ایک تمانچہ ہے۔ اکیڈمی کے اربابِ اختیار کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ یہ حرکت اردو کے وقار اور اس کے چاہنے والوں کی غیرت کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔مزید المیہ یہ ہے کہ اس جشن کے پروگراموں میں فیشن شو جیسی لغو اور بے مقصد سرگرمی شامل کی گئی ہے۔ اردو اکیڈمی کی ذمہ داری فیشن کے ریمپ سجانا نہیں بلکہ علم و ادب کے چراغ روشن کرنا تھی۔ جس ادارے سے غالب، جوش، فراق، مجروح اور پروین شاکر جیسے شعرا کی قدردانی کی امید تھی، وہی ادارہ اب ریمپ واک کے لیے اسٹیج مہیا کر رہا ہے۔ یہ اردو کے خمیر میں شامل تہذیب، شرم و حیا، اور اخلاقی وقار کی توہین ہے۔ اردو زبان اپنی نزاکت، اپنی معنویت، اپنے ادب اور اپنے اخلاقی حسن کے لیے پہچانی جاتی ہے، نہ کہ رنگ برنگے کپڑوں، میک اپ اور تالیوں کے شور کے لیے۔اسی کے ساتھ، اس جشن کے مشاعرے بھی اپنی گراوٹ کی نئی مثال قائم کر رہے ہیں۔ فہرست دیکھ کر لگتا ہے کہ اکیڈمی نے معیار نہیں بلکہ سفارشی فہرستیں منتخب کی ہیں۔ ادب کی خدمت کرنے والے درجنوں معتبر شعرا و قلمکاروں کو نظر انداز کر کے ایسے افراد کو موقع دیا جا رہا ہے جن کا اردو سے رشتہ صرف اتنا ہے کہ وہ کسی کے منظورِ نظر ہیں۔ مشاعرہ اردو کی روح ہے، مگر اکیڈمی نے اس روح کو محض دکھاوے اور چاپلوسی کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اردو کی تاریخ میں شاید پہلی بار کوئی سرکاری ادارہ اپنے جشن کو اس قدر ادبی بے حسی کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اردو اکیڈمی کے اربابِ بست و کشاد کو آخر اردو دشمنی کی اس روش پر چلنے کی جرات کس نے دی؟ جواب سادہ ہے: خاموش معاشرہ۔ اردو کے چاہنے والے، ادبی تنظیمیں، شاعروں کی انجمنیں، ادبی صحافی — سب خاموش ہیں۔ ممبئی کے چند بہادر صحافیوں کے سوا کسی نے زبان کھولنے کی زحمت نہیں کی۔ یہ خاموشی خوف کی بھی ہو سکتی ہے، مفاد پرستی کی بھی۔ مگر جو بھی ہو، یہ اردو کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ کیونکہ جب زبان کے محافظ ہی بے حِس ہو جائیں، تو دشمن کو وار کرنے میں کیا دقت؟ اردو اکیڈمی کا قیام اردو کے فروغ کے لیے عمل میں آیا تھا، مگر اب یہی ادارہ سرکاری گرانٹ کو ذاتی دولت میں بدلنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ پچاس سالہ جشن کا اصل مقصد اگر اکیڈمی کی خدمات کا جائزہ اور اردو کی ترقی کے نئے راستے تلاش کرنا ہوتا تو عوام اسے سراہتے۔ مگر یہاں تو جشن کی آڑ میں بدعنوانی، عیاشی، سفارشی کلچر اور لسانی استحصال کی بو آ رہی ہے۔ اکیڈمی کی اعلیٰ انتظامیہ سے لے کر پروگرام کمیٹی تک، سب نے اردو کے نام پر اپنی جیبیں بھری ہیں۔ حکومتِ مہاراشٹر کے محکمۂ اقلیتی امور کو اس معاملے پر فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ عوام کا پیسہ اگر زبان کی خدمت کے بجائے فضول نمائشوں پر لٹایا جا رہا ہے تو یہ سیدھی سیدھی بدعنوانی ہے۔ اکیڈمی کو چاہیے کہ وہ اپنے اس جشن کی مکمل آڈٹ رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے — کہاں سے فنڈ آیا، کہاں خرچ ہوا، کس نے منظوری دی، اور کس بنیاد پر اتنی خطیر رقم فیشن شو اور بے مقصد مشاعروں پر ضائع کی گئی۔ اگر اکیڈمی کے پاس جواب نہیں، تو اسے فوراً تحلیل کر کے نئی شفاف کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔اردو زبان ایک تہذیب ہے، ایک ورثہ ہے، ایک تمدن ہے۔ یہ زبان کسی فیشن شو کی مہمان نہیں، بلکہ علم، تحقیق اور شعور کی زبان ہے۔ اردو اکیڈمی کے اس جشن نے ثابت کر دیا کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے بعض لوگ اردو کے نام پر صرف نمائش، مراعات اور کمیشن کے عادی ہیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ اردو کی بقا عوام کی محبت سے ہے، اکیڈمی کی عیاشیوں سے نہیں۔آج اردو کے سچے چاہنے والوں، صحافیوں، اساتذہ، شعرا اور طلبہ کو یہ سوال بلند کرنا ہوگا کہ یہ اردو کی خدمت ہے یا اردو کی شہادت؟ اگر ہم نے اب بھی زبان کے حق میں آواز نہ اٹھائی تو کل یہی ادارے اردو کے مزار پر تعریفی تختیاں لگا کر اپنی کامیابی کے جشن منائیں گے۔ اردو کی روح زخمی ہے، اور اس کے قاتل وہی ہیں جو اس کے نام پر جشن منا رہے ہیں۔وقت آگیا ہے کہ اردو کے عاشق بیدار ہوں، سوال کریں، اور ان نام نہاد خادموں سے زبان کے وقار کا حساب لیں۔ یہ اکیڈمی اگر واقعی اردو کی خادمہ ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی بے راہ روی پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے، ورنہ تاریخ لکھے گی کہ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی نے اپنی گولڈن جوبلی پر اردو کی روح کا سوگ منایا تھا_______:________عالمی افسانہ میلہ 2018افسانہ 148"درندہ"افسانہ نگار۔۔ عبدالرحمن اخترمالیگاؤں مہاراشٹر انڈیا٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭سورج اپنی دن بھر کی تھکی ماندی کرنوں کو سمیٹ کر غروب ہو رہا تھا.پرندے اپنے آشیانوں کو لوٹ رہے تھے. نیلے آسمان پر شام کا سرمئی رنگ پھیلتا جا رہا تھا.گھروں میں موجود برقی قمقمے روشن ہونے لگے تھے. مگر رام داس کا مکان ویران پڑا تھا.رام داس... عجیب آدمی تھا، سماج کا ستایا ہوا آدمی، اس کے چڑچڑے پن کی وجہ سے اس کے پڑوسی اس سے کٹے کٹے سے رہتے تھے اور اس کی کند ذہنی نے تو اسے کہیں کا نہ رکھا تھا.اسے کوئی اپنے یہاں کام پر نہیں رکھتا تھا اور یہی اسباب تھے کہ اس کی بیوی اکثر اس سے لڑا کرتی تھی، اسی حجت بک بک سے زندگی کی گاڑی چلتی رہی. جوں توں کچھ سال گزر گئے مگر آخر کار اسکی بیوی روز روز کی تک تک سے تنگ آکر اپنے اوپر کروسین ڈال کر خود خوشی کرلی تھی تب تو تقریباً تمام لوگوں نے ہی اس کا بائیکاٹ کردیا تھا. صرف ایک ڈیسوزا ہی تھا جو اس سے کبھی کبھی بات چیت کر لیا کرتا تھا.ڈیسوزا، رام داس کا پڑوسی ایک ہنس مکھ ملنسار شخصیت کا مالک تھا.اس شام رام داس اپنے دروازے سے دایاں کاندھا لگائے آنکھوں میں وحشت لئے کھڑا ہوا ڈیسوزا کے گھر کی طرف ٹک ٹکی باندھے دیکھ رہا تھا. اس کے ڈاڑھی کے بال بڑھے ہوئے تھے لباس بے ترتیب گرد آلود اور سَر کے بال بکھرے ہوئے تھے.ڈیسوزا کے گھر کے لان میں اس کا پیارا کتّا ٹامی ایک بڑی سی گیند سے کھیل رہا تھا اور ڈیسوزا اسے بڑے انہماک سے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا. اچانک ہی رام داس نےاپنے دروازے پر کھڑے کھڑے ٹامی کو آواز دی.”کم ہیئر.....ہے ..... ٹامی.... کم ہیئر.“اسکی آواز سن کر ڈیسوزا نے کھڑکی سے باہر دیکھا کہ ٹامی گیند کو چھوڑ کر رام داس کی طرف جا رہا ہے. اسے اس وقت بڑی حیرت ہو رہی تھی وہ سوچ رہا تھا.؛ رام داس تو ٹامی سے بہت نفرت کرتا ہے تو پھر اس نے ٹامی کو کیوں بلایا.؟ رامداس کی اس حرکت سے ڈیسوزا کو ایک ماہ قبل کا واقعہ یاد آگیا.وہ شام کا خوشگوار ماحول تھا. فرحت بخش ہَوائیں چل رہی تھیں. ڈیسوزا اپنے گھر کے صحن میں بیٹھا ہوا اخبار پڑھ رہا تھا پاس ہی رام داس کی تین سالہ بیٹی شالنی اور ٹامی کھیل رہے تھے. ٹامی شالنی کے فراک کو منہ میں دابے اسے کھینچ رہا تھا اور شالنی کھلکھلا کر ہنس رہی تھی تب اچانک ہی رام داس چیختا ہوا آیا اور پاس پڑی ہوئی لکڑی اٹھا کر ٹامی کے پیٹ میں زور سے مار دی ٹامی دبی دبی سی آواز میں کیاؤں کیاؤں چیختا ہوا ایک طرف بھاگ گیا. رام داس نے اپنی بیٹی کو گود میں اٹھایا اور ڈیسوزا کے پاس پہنچ کر غرّاتے ہوئے بولا.”ڈیسوزا تم اپنے وحشی جانور کو باندھ رکھا کرو.ورنہ کسی دن میں سے گولی مار دونگا.“ڈیسوزا اس کی طرف حیرت سے دیکھتا رہا پھر اس کے خاموش ہوتے ہی نرمی سے کہا.”سنو رام داس....! شالنی میری بیٹی کی طرح ہے........ وہ دن بھر اکیلے ہی رہتی ہے. ٹامی کے ساتھ تھوڑا وقت رہ کر اس کا دل بہل جاتا ہے. اور تم تو جانتے ہی ہو کہ تمہارے مزاج کی وجہ سے کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں کھیلتا.“اسکی بات سنتے ہی رام داس نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا.”تمہیں میری ذات پر حملہ کرنے کا کوئی حق نہیں.... تم پڑوسی ہو پڑوسی کی طرح رہو. میں جیسا بھی ہوں ٹھیک ہوں. بہر حال تم اپنے ٹامی کو قابو میں رکھو اس سے میری شالنی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہئے ورنہ... میں بےقابو ہو جاؤنگا سمجھے.......؟“اس واقعہ کے بعد شالنی ایکبار بھی ٹامی کے ساتھ کھیلنے کے لیئے نہیں آئی تھی. جسکی وجہ سے ڈیسوزا اکثر سوچا کرتا تھا‘ شالنی بن ماں کی بچی ہے پتہ نہیں کس حال میں ہو کہیں رام داس نے اس پر ظلم نہ کیا ہو.... یا ہوسکتا ہے..... وہ بیمار پڑگئی ہو.....،کتے کے بھونکنے پر اسکے خیالات بکھر گئے اور وہ چونک کر رام داس کے گھر کی طرف دیکھنے لگا.وہاں پر ٹامی منہ اٹھائے گھر میں دیکھ رہا تھا‘ شاید وہ شالنی کو دیکھ رہا ہے.' اچانک وہ پھر بھونکنے لگا رام داس کی آنکھیں چمک اٹھیں اور وہ بڑے پیار سے ٹامی کی گردن کو سہلاتا ہوا اندر لے کر چلا گیا.ڈیسوزا مسکرا کر انہیں دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا. ”آخر کار ٹامی کے تئیں رام داس کا دل نرم ہوہی گیا اسی لیئے تو وہ اسے اندر لے کر گیا ہے تاکہ وہ شالنی کے ساتھ کھیل سکے.“ ڈیسوزا کا دل بھی شالنی کو دیکھنے کے لیئے مچل اُٹھا اور وہ اپنے گھر سے نکل کر رام داس کے دروازہ پر پہنچ گیا.پائیری پر قدم رکھتے ہی اسکے نتھنوں سے ناگوار بُو ٹکرائی وہ تھوڑا سا ہچکچایا پھر ناک پر ہاتھ رکھتے ہوئے آگے بڑھ گیا.ڈرائنگ روم کا تمام سامان بکھرا ہوا ہے. فرش بھی گرد آلود ہے جا بجا مکڑی کے جالے لگے ہوئے ہیں.”بیوی کے گزرنے کے بعد تو رام داس اور بھی لاپرواہ ہو گیا ہے. پتہ نہیں شالنی کا مستقبل سنوار پائے گا یا نہیں...؟“ڈیسوزا رامداس کو کوستا ہوا بیڈروم کی طرف بڑھ گیا. بیڈروم میں قدم رکھتے ہی اس کا پورا وجود لرز گیا. اس نے دیکھا روم میں ملگجا اجالا پھیلا ہوا ہے پورے کمرے میں ابتری پھیلی ہوئی ہے بدبو کے بھپکے سے دم گھٹتا ہوامحسوس ہو رہا ہے مگر....!! رام داس کمرے کے وسط میں بیٹھا ہوا ہے اور ٹامی کی ایک ٹانگ کو اپنے تیز دانتوں سے نوچ رہا ہے ٹامی پاس ہی پڑا ہوا ہے اسکا سر پھٹا ہے اور منہ کپڑے سے بندھا ہوا ہے. رامداس کے چہرے پر درندگی چھائی ہوئی ہے.اس کے دانت خون آلود ہیں اور ہونٹ کے کناروں سے تازہ تازہ خون بہہ رہا ہے.اس کے عقب میں ایک چھوٹاانسانی پِنجر پڑا ہوا ہے.یہ سارے مناظر دیکھ کر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا اسے پورا کمرہ اپنے گرد گھومتا محسوس ہوا. وہ اپنے سر کو دونوں ہاتوں سے پکڑ کر تھوڑی دیر ڈگمگایا اور پھر زمین پر آرہا...... ڈیسوزا کو فرش پر بےسدھ پڑا ہوا دیکھ کر رام داس نے درندگی سے بھرپور قہقہ لگایا اور ٹامی کی ٹانگ کو چھوڑ کر دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھنے لگاـ____________🔴🔴مشہورِ زمانہ قوالی (تم اک گورکھ دھندہ ہو) جس کو استاد نصرت فتح علی خان کی آواز نے امر کر دیا لیکن اس کے شاعر کو بہت کم لوگ جانتے ہوں گے ۔آیئے ان کے بارے میں جانتے ہیں ۔پیدائش :ان کا اصل نام محمد صدیق اور تخلص ناز تھا۔ ناز خیالوی"جھوک خیالی" نامی ایک گاؤں394 گ ب میں 1947ء میں پیدا ہوئے اور اسی نسبت سے انھیں خیالوی کہا جاتا ہے۔ جھوک خیالی گاؤں ضلع فیصل آباد، صوبہ پنجاب، پاکستان میں تاندلیانوالہ کے نزدیک اور لاہور سے 174 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہےشاگردی :وہ ایک ممتاز اردو شاعر احسان دانش کے ایک شاگرد تھے۔نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہوجانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہوکبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنیکبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہوزندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نےوہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہوخواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئیطور ہی ، بن کے تجلی سے جلا دیتے ہونار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیلخود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہوچاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاںنور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہوبیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میںآخر کار شہ مصر بنا دیتے ہوجذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئیبیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہوخود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پرخود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہواپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہےاپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہوکوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیریتم اسے جھنگ کے بیلے میں اڑا دیتے ہوجستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئیاس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہوجوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگےتم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہوسوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لےاس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہوخود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوبایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہوناز خیالوی___________🔴ورن آنند لدھیانہ 🎬 غزل چاند ستارے پھول پرندے شام سویرا ایک طرف ساری دنیا اس کا چربہ اس کا چہرا ایک طرف وہ لڑ کر بھی سو جائے تو اس کا ماتھا چوموں میں اس سے محبت ایک طرف ہے اس سے جھگڑا ایک طرف جس شے پر وہ انگلی رکھ دے اس کو وہ دلوانی ہے اس کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابہ ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے اس کا کہنا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواؤ لیکن اس کے ہاتھوں سے چارہ سازی ایک طرف ہے اس کا چھونا ایک طرف اس نے ساری دنیا مانگی میں نے اس کو مانگا ہے اس کے سپنے ایک طرف ہیں میرا سپنا ایک طرف
*🛑سیف نیوز اُردو*
محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل