Monday, 11 August 2025

🔴*سیف نیوز بلاگر*


۔


آرہا ہے 15. اگست یوم آزادی 

کیا آزادی ہمیں ہلڑبازی ، شور شرابہ، دھینگا مستی، ناچ گانہ، اور موٹر سائیکل کے پھٹے بانس جیسے ہارن اور سائلینسر کی آواز سے ملی تھی؟ 


ارے آج کی نسل ذرا تاریخ کا مطالعہ کرو کہ ہمارے وطن ہندوستان کو انگریزوں سے چھٹکارا کیسے ملا تھا ۔ ہمارے علماء اکابرین اور مجاہدین آزادی نے ہندوستان کی جنگ آزادی میں کیسے کیسے رہنمایہ کردار ادا کرتے ہوئے اور انگریزوں سے لڑتے ہوئے اس ملک کو آزاد کروایا ۔ اور انگریزوں کو ہمارا ملک ہندوستان چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ ہمارے اکابرین علمائے کرام اور مجاہدین نے کیسی کیسی مصیبتیں اور اذیتیں جھیلی۔ وطن ہندوستان کی آزادی کیلئے بے شمار اکابرعلماء کرام اور مجاہدین نے اپنی جانوں کو نچھاور کردیا۔ اور ایسی بے شمار مثالیں تاریخ کے اوراق میں درج ہیں۔ لہذا آج کے ہلڑ باز نوجوانوں ذرا تاریخ کا مطالعہ کرو تو معلومات میں اضافہ بھی ہوگا۔ اور غیر مناسب حرکتوں سے محفوظ بھی رہوگے۔ 


ہمارے شہر میں گذشتہ کئی مہینوں سے نشہ مکت، اور خود کشی و دیگر جرائم کے خلاف ایک مہم مالیگاوءں سدھار کمیٹی کے زیر اہتمام چل رہی ہے۔ الحمد اللہ مالیگاوءں سدھار کمیٹی کے تمام ہی ذمے داران مسلسل اس تحریک کو مشعل راہ بنارہے ہیں۔ اور شہر کیسے نشے سےپاک ہو۔ خود کشی و دیگر جرائم کا مستقل روک تھام ہو اسکے لئے سدھار کمیٹی اعلی پولس آفیسران اور ملکی اور ریاستی سطح پر حکام بالا تک اپنی اس تحریک کے مقصد کو لیکر تحریری نقاط پر باتیں پہچارہے ہیں۔ اور آج نہیں تو کل آنے والے دنوں میں اس تحریک کا اثر انشا اللہ صد فی صد مثبت بظاہر ہوگا۔ 

بحرحال مالیگاوءں سدھار کمیٹی سے میری دردمندانہ اپیل و گذارش ہیکہ 3 دنوں بعد 15. اگست بروز جمعہ کو یوم آزادی کا جشن آرہا ہے۔ مگر کئی سالوں سے ایک فتنہ عام ہورہا ہے ۔ وہ یہ کہ شہر کے کئی علاقوں سے ہلڑ باز نوجوان ، گروپ کی شکل میں صبح صبح جھنڈے لیکر اور موٹر سائیکل کے پھٹے بانس جیسے ہارن بنواکر ، پٹاخے نما سائلینسر بنواکر، شور شرابہ ، دھینگا مستی کرتے ہوئے گلی محلے اور روڈ پر خطرناک اسپیڈ سے موٹر سائیکل پر گھوم گھوم کر ماحول خراب کرتے ہیں ۔ انہیں یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ گلی محلوں میں کوئی نماز فجر کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کررہا ہو،کوئی ذکر ازکار کررہا ہو، کوئی عمر دراز ان ہلڑ بازوں کے شور شرابے سے خوف زدہ ہوکر اٹھ جارہا ہو، کوئی عمر رسیدہ بستر مرگ پر پڑا ہو، کیا ان ہلڑ بازوں کا ضمیر اس دن مر جاتا ہے ؟ اور تو اور روڈ پر اسکول کالجوں اور اب مدارس میں بھی جھنڈے کی سلامی ہونے لگی ہے ۔ تو اسکول کالج اور مدارس کے بچے ، بچیاں جو ان ہلڑ بازوں سے ڈرے سہمے ہوئے روڈ کراس کرتے ہیں ۔ جب بھی انکو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ اسکول کالجوں کی بچیاں روڈ سے گذرتی ہے تو یہی ہلڑ بازوں کا گروپ سیٹیاں بجاتا ہوا۔ شور شرابے کرتا ہوا آزادی کا جشن مناتا ہے۔ 


کیا آزادی ہمیں ایسے ملی تھی؟ یا ہمارے اکابرین و مجاہدین نے ایسا کردار ادا کیا تھا؟ 

مجھے امید ہیکہ مالیگاوءں سدھار کمیٹی ہی اس 15۔ اگست سے پہلے غور فکر و توجہ دیتے ہوئے حکام بالا تک یہ باتیں پہچائے گی۔ اور مالیگاوءں سدھار میں یہ بھی ایک اہم رول ہوگا 

ہندوستان مرسڈیز، پاکستان کھٹارا ٹرک... عاصم منیر تو اپنے ہی ملک کا اڑانے لگے مذاق

پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے درمیان اپنے ملک کی شیخی بگھارنے کیلئے امریکہ گئے۔ تاہم اس دوران انہوں نےآپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایسی بات کہہ دی جس سے سوشل میڈیا پر ان کا اور پاکستان کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ دراصل، ہندوستان اور پاکستان کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے عاصم منیر نے کہا کہ ‘ہندوستان کسی ہائی وے پر دوڑتی چمچاتی مرسڈیز کی طرح ہے اور ہم بجری سے بھرے کھٹارا ٹرک ہیں۔ اگر یہ ٹرک کسی کار سے ٹکرا جائے تو نقصان کس کا ہوگا؟’

عاصم منیر کا یہ ’خود کی زبان سے خود کی فضحیت‘ والا موازنہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔ لوگوں نے لکھنا شروع کر دیا کہ پاکستان کا ڈمپ ٹرک مرسڈیز تک پہنچنے سے پہلے ہی ٹوٹ جائے گا یا الٹ جائے گا۔

عاصم منیر نے تقریر میں کئی دہائیوں سے پاکستان کی بگڑتی ہوئی معاشی حالت کے باوجود مستقبل کو روشن بتایا۔ فلوریڈا میں پاکستانیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ، سعودی عرب، یو اے ای اور چین کے ساتھ تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں اور 64 فیصد نوجوان آبادی ملک کی طاقت ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے پاس تیل اور معدنیات کی بہت بڑی دولت ہے جو ملک کو معاشی دلدل سے نکالے گی، وہی خواب جو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 50 سال پہلے دکھایا تھا۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جس نے کئی دہائیوں سے فوجی اخراجات ادھار لیے ہیں، اس کے پاس تجارت کی صورت میں دنیا کو پیش کرنے کے لیے بہت کم ہے۔ امریکہ کے ساتھ اس کی دوطرفہ تجارت محض 10 بلین ڈالر ہے جبکہ ہندوستان کی امریکہ کے ساتھ تجارت تقریباً 135 بلین ڈالر ہے۔

منیر نے اپنی تقریر میں سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے ایک بیان کو بھی اپنایا اور کہا کہ امریکہ میں آباد ہونا ‘برین ڈرین’ نہیں بلکہ برین گین ہے۔ جب منیر پاکستانیوں کو یہ جھوٹے خواب دکھا رہے تھے، پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامی ہوٹل کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔


پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر نے مذہبی مثال دے کر مکیش امبانی کو دی دھمکی، جانئے کیا کہا؟

پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایک بار پھر ہندوستان کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دے کر تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے منیر نے ہندوستان کے مشہور صنعت کار مکیش امبانی کو مذہبی لہجے میں دھمکی دی ہے۔


پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ‘ایک ٹویٹ کروایا تھا، جس میں سورہ فیل اور مکیش امبانی کی تصویر تھی، تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان اگلی بار کیا کرے گا۔’ عاصم منیر نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ ‘ہم ہندوستان کے مشرق سے شروعات کریں گے، جہاں ان کے سب سے قیمتی وسائل ہیں اور پھر مغرب کی طرف بڑھیں گے

سورہ فیل کیا ہے’

فیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہاتھی کے ہیں۔ سورہ فیل قرآن کی ایک سورہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح اللہ عز وجل نے دشمن کے ہاتھیوں پر پرندوں کے ذریعہ پتھروں کی بارش کروا کر انہیں نیست و نابود کر دیا۔ بتادیں کہ عاصم منیر پہلے بھی ہندوستان کے خلاف جذبات بھڑکانے کے لیے اسی طرح کے مذہبی نعرے لگاتے رہے ہیں۔


علاوہ ازیں عاصم منیر نے ایٹمی ہتھیاروں کی گیدڑ بھبھکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہندوستان نے دریائے سندھ پر ڈیم بنایا تو اسے میزائلوں سے تباہ کر دیا جائے گا۔ منیر نے کہا کہ ‘ہم ہندوستان کے ڈیم بنانے کا انتظار کریں گے اور پھر ہم اسے 10 میزائلوں سے تباہ کر دیں گے۔ دریائے سندھ ہندوستانی کی خاندانی جائیداد نہیں ہے اور ہمارے پاس میزائلوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔’

وہیں ہندوستان حکومت نے منیر کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ‘جوہری ہتھیاروں سے لیس غیر ذمہ دار ملک’ کی ذہنیت قرار دیا ہے۔ حکومتی ذرائع نے منیر کے بیان کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ پاکستان میں جوہری ہتھیاروں کے نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ہاتھوں میں جانے کا حقیقی خطرہ ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بیان پاکستان میں جمہوریت کی عدم موجودگی کی ایک مثال ہے، جہاں اقتدار دراصل فوج کے ہاتھ میں ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا ہم مشین بن چکے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم ابتدا ایک کہانی سے کرتے ہیں، وہ بھی فلمی کہانی۔ اس میں اگرچہ وہ نکتہ مو...