Wednesday, 27 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

مالیگاؤں کی اب تک کی سب سے بڑی نشہ مخالف ریلی سردار پرائمری اسکول کے اساتذہ و طلبہ نے تاریخ رقم کی

١٥ اگست٢٠٢٥ء بروز جمعہ جشن آزادی کی خوشیاں مناتے ہوئے سٹیزن کیمپس، سردار پرائمری اسکول کے طلباء و طالبات نے اپنے معلمین و ہیڈ مسٹریس محترمہ ایوبی پروین میڈم کی رہنمائ اور سٹیزن کیمپس کے عہدیداران کی سرپرستی میں مالیگاؤں کی اب تک کی سب سے بڑی "نشہ مخالف ریلی" کا کامیاب انعقاد کیا- ریلی  سٹیزن کیمپس کے وسیع وعریض گراؤنڈ سے شروع ہوئی اور اسلام نگر، خوشامد پورہ، منو مسجد، صراط چوک، چونا بھٹی، محبوب فوٹو اسٹیڈیو، واویکر گلی، بوہرہ جماعت خانہ، پانچ قندیل، شیواجی ٹاؤن ہال، ماتامٹھ مندر، اہلحدیث مسجد، غوث پاک، انگنو سیٹھ مسجد، ایوبی عالیشان، موتی پورہ، خیابان نشاط چوک، حسینیہ مسجد ۰(سیاہ مسجد)چندن پوری گیٹ، آزاد نگر پولیس اسٹیشن، ممتا ہاسپٹل، گائیڈ میڈیکل، کھڈا ، خانقہ اشرفیہ مسجد، امام احمد رضا چوک سے واپس سٹیزن کیمپس میں پہنچی-  ریلی میں  ڈرگ فری انڈیا، ڈرگ فری شہر، سب مل کر بولونشہ مکت شہر نشہ مکت بھارت، اسکے علاوہ، شہر کو سماجی برائیوں سے پاک کریں، خودکشی حرام ہے، نشہ حرام ہے، جوا، سٹہ، نشہ، شراب و سود حرام ہے،  سماجی برائیاں شہر پر بدنما داغ ہیں،  شہر کو سماجی برائیوں سے پاک کرو، تعلیم کو عام کرو، امت کی زبوں حالی کا تعلیم ہی واحد حل،  وغیرہ نعروں کی تختیوں کیساتھ طلبہ نے زور وشور سے نعرے بھی لگائے اور نشہ مخالف ریلی کو کامیابی سے ہمکنار کیا -
ش، ن ،الف سردار پرائمری اسکول، اسلام نگر، مالیگاؤں
*زندہ دلان مالیگاؤں کی "محفل طنزو مزاح" سلسلہ نمبر 13*

 *زنده دلان مالیگاؤں، کے زیراہتمام اسکس لائبریری اور مالیگاؤں آرئس اینڈ کلچرل ایسوی ایشن کے اشتراک سے بتاریخ 2 ستمبر 2025ء بروز منگل شب ٹھیک دس بج کر دس منٹ (10.10) پر "محفل طنز و مزاح سلسلہ نمبر 13" اسکس لائبریری ہال میں منعقد ہوگا- جسکی تفصیل ذیل کے مطابق ہے۔ قرآت، رضوان ربانی، صدارت، محترم خان انعام الرحمن سر (سابق پرنسپل) نظامت، رضوان ربانی، اسٹارٹر:- منصور اکبر (سیف نیوز)، تبرک: مرحوم سلطان سبحانی( تعارف و پیشکش:- طارق اسلم) ہرل گوئی:- سندر مالیگانؤی(تقی حیدر) مرحوم مالیگانوی (شکیل بھارتی) مضامین:- عارف حسین (منصورہ) نعیم سلیم(اے ٹی ٹی) صاحبان شکریہ:- ظہیر قدسی، پروگرام ہر حال میں وقت مقررہ پر شروع کر دیا جائے گا- منتظمین نے شرکت کی گزارش کی ہے۔*
ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرف نے بھارتی برآمدات کو شدید خطرے میں ڈال دیا
ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرف کا اطلاق : بھارت کی کن صنعتوں کو سب سے زیادہ نقصان؟ کون بچ نکلے گا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’ٹریڈ وار پالیسی‘‘ دنیا بھر کی معیشتوں کو جھٹکے دے رہی ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت امریکہ نے ان ممالک پر بھاری محصولات عائد کیے ہیں جو روس کے ساتھ قریبی تجارتی تعلقات رکھتے ہیں۔ چونکہ بھارت روسی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اس لیے واشنگٹن نے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد تک کا ٹیرف نافذ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب بھارت کی معیشت تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے اور اس کی برآمدات میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
بھارت کی برآمدات پر کتنا اثر؟

گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (GTRI) کے مطابق، بھارت کی امریکہ کو کی جانے والی کل برآمدات 86.5 بلین ڈالر میں سے تقریباً 60.2 بلین ڈالر کی برآمدات اب نئے 50 فیصد ٹیرف کے زمرے میں آ گئی ہیں۔ حکومت کا اندازہ اس سے کچھ کم یعنی 48.2 بلین ڈالر ہے۔

اگر یہ ٹیرف برقرار رہے تو ماہرین کے مطابق بھارت کی امریکہ کو برآمدات FY26 میں گھٹ کر 49.6 بلین ڈالر تک آ سکتی ہیں۔ یہ کمی پچھلے پانچ برس کی برآمداتی ترقی کو پلٹ سکتی ہے۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبے
 ٹیکسٹائل اور ملبوسات

امریکہ بھارت کا سب سے بڑا خریدار ہے: $10.8 بلین سالانہ برآمدات

اب ان پر 63.9 فیصد مؤثر ٹیرف لگ گیا ہے۔

تیرُوپور (Tamil Nadu) کی ٹیکسٹائل انڈسٹری سب سے زیادہ متاثر، جہاں 6 لاکھ سے زائد مزدور کام کرتے ہیں۔

 جواہرات اور زیورات

$9.94 بلین کی برآمدات امریکہ کو جاتی ہیں۔

52.1 فیصد ٹیرف کے باعث سورت (Gujarat) کی ڈائمنڈ پروسیسنگ انڈسٹری میں آرڈرز منسوخی اور ملازمتوں میں کمی شروع ہو گئی ہے۔

 جھینگا اور سی فوڈ

امریکہ بھارت کے جھینگے کا 50 فیصد خریدار ہے، مالیت $2.4 بلین۔

اب 60 فیصد ڈیوٹی لگنے سے بھارت مسابقت سے باہر جبکہ ایکوادور کے برآمد کنندگان فائدے میں ہیں۔

 قالین، فرنیچر اور ہوم ٹیکسٹائل

برآمدات $1.2 بلین، اب 52.9 فیصد ٹیرف کے نیچے۔

امریکی مہنگائی کے دباؤ نے مانگ پہلے ہی کم کر دی تھی۔

 چمڑا اور جوتے

پہلے سے مشکلات کا شکار یہ شعبہ اب مکمل 50 فیصد ٹیرف کے تحت۔
 آٹو پارٹس

برآمدات $6.6 بلین (FY24)۔

آدھی برآمدات (خاص کر کار پارٹس) پر 25 فیصد اور باقی پر مکمل 50 فیصد ڈیوٹی۔

گیئر باکس اور ٹرانسمیشن میں بھارت کا 40 فیصد شیئر خطرے میں ہے۔

 کیمیکلز اور آرگنیک مرکبات

$2.7 بلین برآمدات، جن میں 40 فیصد SMEs ہیں۔

اب ان پر 54 فیصد ٹیرف۔ جاپان اور جنوبی کوریا کو رعایتی شرح مل رہی ہے۔

 زرعی و غذائی مصنوعات

باسمتی چاول، چائے، مصالحہ جات وغیرہ $6 بلین کی برآمدات۔

سب پر مکمل 50 فیصد ڈیوٹی۔

پاکستان اور تھائی لینڈ کے حریف فائدے میں آ جائیں گے۔

کن شعبوں کو استثنیٰ حاصل ہے؟

 فارماسیوٹیکل

$10.52 بلین کی برآمدات محفوظ ہیں۔

البتہ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ مستقبل میں کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے کہ وہ مینوفیکچرنگ امریکہ منتقل کریں۔
الیکٹرانکس

آئی فونز اور کچھ الیکٹرانک ڈیوائسز مستثنیٰ۔

بھارت کی $14.64 بلین الیکٹرانکس برآمدات فی الحال محفوظ۔

 اسٹیل اور دھاتیں

محدود اثر کیونکہ امریکہ بھارت سے کم خریدتا ہے۔
 پیٹرولیم مصنوعات

$4.1 بلین کی برآمدات مستثنیٰ۔

کچھ دیگر اشیاء جیسے کتابیں، پلاسٹک، سرور ہارڈویئر بھی محفوظ۔

سب سے زیادہ خطرے میں MSMEs

بھارت کی ایم ایس ایم ایز (MSMEs) برآمدات کا 70 فیصد سنبھالتی ہیں۔ یہ کمپنیاں تنگ منافع پر چلتی ہیں اور زیادہ تر مخصوص صنعتوں میں مرتکز ہیں جیسے:

تیرُوپور (گارمنٹس)

سورت (ہیرا پروسیسنگ)

پانی پت (ہوم ٹیکسٹائل)

موربی (سیرامکس)

50 فیصد ٹیرف کے بعد ان کی عالمی مسابقت ختم ہو جائے گی۔ نتیجہ:

آرڈرز کی منسوخی

پیداوار میں کمی

بڑے پیمانے پر ملازمتوں کا خاتمہ

کیا بھارت کی معیشت سہہ پائے گی؟

برآمدات کا بھارت کے GDP میں حصہ صرف 20 فیصد ہے۔

گھریلو مانگ مضبوط ہے، اسی وجہ سے Fitch اور Morgan Stanley نے 6.5 فیصد GDP گروتھ کی پیش گوئی برقرار رکھی ہے۔

لیکن دیہی روزگار اور برآمداتی کلسٹرز کو شدید نقصان کا خطرہ ہے
آگے کا راستہ

برآمدی منڈیوں میں تنوع ۔۔ افریقہ، یورپ، ASEAN اور مشرق وسطیٰ پر توجہ۔

قواعد و ضوابط کو سہل بنانا ۔۔ SMEs کے لیے لاگت کم کرنے کی ضرورت۔

سیکٹرل سپورٹ ۔۔ سبسڈی، ایکسپورٹ انشورنس، اور رعایتی قرضہ جات۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...