Monday, 28 July 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


مالیگاؤں بھکو چوک بم دھماکہ مقدمہ، فیصلے کا انتظار

تاریخ بتاریخ تفصیل

انصاری احسان الرحیم

مالیگاؤں 2008/ بم دھماکہ مقدمہ کا فیصلہ اگلے چند ایام میں منظر عام پر آجائے گا، فیصلہ کس کے حق میں ہوگا یہ پتہ نہیں لیکن آج ہم شہید ہمنت کرکرے کی جرأت کو سلام کرتے ہیں جنہوں بے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہت، سمیر کلکرنی جیسے بھگوا دہشت گردوں کو پکڑا تھا۔ اس وقت کی کانگریس حکومت نے ملزمین کے خلاف مکوکا جیسے سخت قانون کا اطلاق کیا تھا لیکن پھر مرکز اور ریاست میں سرکار کی تبدیلی کے بعد سے ہی بھگوا ملزمین کو رعایتیں ملنا شرو ع ہوگئی، بھلا ہو مظلوموں کی مسیحا تنظیم ا س کے اکابرین بالخصوص مولاناسید ارشد مدنی اور مرحوم گلزار اعظمی کا جنہوں نے بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے لگاتار نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک مداخلت کی اور ان بھگوا ملزمین کو ٹرائل کا سامنا کرنے لیئے مجبور کیا ورنہ مقدمہ اے ٹی ایس اے این آئی اے کے پاس منتقل ہونے کے ملزمین مقدمہ سے ڈسچارج ہوجاتے۔جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے سینئر وکلاء بی اے دیسائی، نتیا راما کرشنن، گورو اگروال، امریندر شرن، عبدالواہاب خان، شریف شیخ اور معاون وکلاء ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ اعجاز شیخ و دیگر نے ہر موڑ پر بھگواملزمین کی مخالفت کی جس میں ضمانت عرضداشت، مقدمہ سے ڈسچارج کی عرضداشت یاپھر کوئی اور عرضداشت ہو۔اس مقدمہ میں بطور گواہ ڈاکٹر سعید فارنی، ڈاکٹر سعید فیضی، ڈاکٹر تیل راندھے اوردیگر ڈاکٹروں نے بھی گواہی دی ہے۔اس مقدمہ ایک جانب جہاں 40/ گواہ منحرف ہوئے وہیں مالیگاؤں سے تقریباً دیڑھ سو گواہان نے گواہی دی لیکن کوئی بھی اپنے بیان سے منحرف نہیں ہوا۔شہر مالیگاؤں کی دیگر ملی تنظیموں نے بھی اپنا احتجاج درج کرایا اور انصاف کے لیئے آواز اٹھائی۔حکومت کو، اے ٹی ایس چیف کو میمورنڈم دیا گیا۔
29/ ستمبر 2008کو (رمضان المبارک) عشاء کی نماز کے عین وقت پر بھکو چوک میں شکیل گڈس ٹرانسپورٹ کمپنی کے پاس موٹر سائیکل پر بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 6/ لوگ شہید اور 101/ زخمی ہوئے تھے۔ بم دھماکوں میں شہید ہونے والوں کے نام فرحین شگفتہ شیخ لیاقت، شیخ مشتاق شیخ یوسف، شیخ رفیق شیخ مصطفی، عرفان ضیاء اللہ خان، سید اظہر سید نثار اور ہارون شاہ محمد شاہ ہے۔30/ ستمبر 2008 کو رات 3/ بجے مقامی آزاد نگر پولس اسٹیشن نے ایف آئی آر داخل کی جس کر نمبر 130/2008ہے۔
21/اکتوبر2008کو مہاراشٹر اے ٹی ایس نے مقدمہ کی تفتیش اپنے ہاتھوں میں لیکر مقدمہ کو دوبارہ درج کیا جس کا نمبر 18/2008/ دیا گیا جس کے بعد کل 12/ ملزمین کی گرفتاری عمل میں آئی جن کے نام سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہت، میجر اپادھیائے، اجئے راہیکر، سمیر کلکرنی، سدھاکر دھر دویدی،سدھاکر اونکار چتروید، راکیش دھاؤڑے، جگدیش چنتامن مہاترے،شیونارائن گوپال سنگھ کلسانگرا،شیام شاہو اور پروین وینکٹیش ٹکلی ہیں۔
20/جنوری 2009کو اے ٹی ایس نے خصوصی مکوکا عدالت میں ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔
1/ مارچ 2011/ کو قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے اے ٹ ایس سے مقدمہ اپنے ہاتھ میں لیا اور مقدمہ دوبارہ رجسٹر ڈ کیا جس کا نمبر 5/2011/ دیا گیا۔
21/ مارچ2011/ کو اے ٹی ایس نے خصوصی این آئی اے عدالت میں ملزمین کے خلاف اضافی چارج شیٹ داخل کی۔
مئی2014/ میں مرکزی سرکار تبدیل ہونے کے بعد خصوصی وکیل استغاثہ روہنی سالیان نے استعفیٰ دیا جس کے بعد خصوصی سرکاری وکیل اویناس رسال نے چارج لیا۔
13/جون2016کو این آئی اے نے عدالت میں اضافی چارج شیٹ داخل کی اور سادھوی پرگیہ سنگھ کو کلین چٹ دیا۔این آئی اے کی اضافی تفتیش کی بنیاد پر بامبے ہائی کورٹ نے سب سے پہلے 25/ اپریل 2017/ کو سادھوی پرگیہ سنگھ کو ضمانت دی اس کے سپریم کور ٹ آف انڈیا نے کرنل پروہت کو 21/ اگست 2017کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو نظیر بنا کر خصوصی این آئی اے عدالت نے یکے بعد دیگرے تمام ملزمین کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔
27/ دسمبر 2017کو خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ایس ڈی ٹکالے نے تمام ملزمین کی مقدمہ سے ڈسچارج کی عرضداشت پر ایک ساتھ فیصلہ صادر کرتے ہوئے 7/ ملزمین سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہت، میجر اپادھیائے، اجئے راہیکر، سمیر کلکرنی، سدھاکر دھر دویدی اورسدھاکر اونکار چتروی کے خلاف چارج فریم کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیا دپر ملزمین شیو نارائن گوپال سنگھ کلسنگرا، شیام شاہو اور پروین ٹکلی کو مقدمہ سے ڈسچارج کیئے جانے کا حکم جاری کیا جبکہ ملزمین راکیش دھاؤڑے اور جگدیش چنتا من مہاترے کے مقدمات کو پونے اور تھانے عدالتوں میں بالترتیب بھیج دیا۔ ان دونوں ملزمین کے خلاف آرمس ایکٹ کی دفعات 3,5,25/ کے تحت مقدمہ چلانے کا حکم جاری کیا گیا۔
30/ اکتوبر 2018کو خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزمین کے خلاف آئی پی سی، یو اے پی اے اور ایکسپلوزیو سبسٹنس ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کا حکم جاری کیا۔
3/ دسمبر 2018کو خصوصی این آئی اے عدالت میں پہلے سرکاری گواہ کی گواہی عمل میں آئی جبکہ 4/ستمبر2023کو آخری سرکاری گواہ نمبر 323کی گواہی کا اختتام ہوا۔اس درمیان 40/ سرکاری گواہان اپنے بیانات سے منحرف ہوئے۔
19/ ستمبر 2023کوسی آر پی سی کی دفعہ 313/ کے تحت ملزمین کے بیانات کا اندراج شروع ہوا جس کا اختتام 12/ اگست 2024کو ہوا۔
26/جون 2024سے 20/جولائی2024/ کے درمیان عدالت نے 8/ دفاعی گواہان کے بیانات کا اندراج کیا۔
27/ ستمبر 2024کو وکیل استغاثہ کی حتمی بحث کا اختتام عمل میں آیا جبکہ 3/ مارچ2025کو ددفاعی وکلاء اور اپنا دفاع خود کرنے والے ملزم سمیر کلکرنی کی حتمی بحث کا اختتام عمل میں آیا۔
19/ مارچ2025کو خصوصی این آئی اے عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
دوران سماعت عدالت نے 10842/ دستاویزات کو اپنے ریکارڈ پر لیا جبکہ 405/ آرٹیکل بھی عدالتی کارروائی میں درج ہوئے۔ اس مقدمہ اے ٹی ایس اور این آئی اے نے کل 495/ سرکاری گواہان کو ملزمین کے خلاف گواہی دینے کے لیئے نامزد کیا تھا جس میں 323/ گواہان کو عدالت میں طلب کیا۔ دوران سماعت 25/ گواہان کی موت ہونے کی وجہ سے انہیں گواہی کے لیئے طلب نہیں کیا جاسکا جبکہ بقیہ گواہان کی گواہی کو استغاثہ نے اہمیت نا دیتے ہوئے انہیں عدالت میں طلب نہیں کیا۔
اس مقدمہ کی پانچ خصوصی ججوں نے سماعت کی جن کے نام وائی ڈی شندے، ایس ڈی ٹیکالے، ونود پڈالکر، پی آر سٹرے اور ای کے لاہوٹی ہیں۔
خصوصی این آئی اے عدالت میں این آئی اے کی جانب سے اضافی چارج شیٹ داخل کیئے جانے کے بعد سے بم دھماکہ متاثرین نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے مداخلت کرنا شروع کیا۔تمام ملزمین کی ضمانت عرضداشتوں اور مقدمہ سے ڈسچارج کی ٹرائل کورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک مخالفت کی۔ملزمین کی جانب سے یو اے پی اے قانون کے اطلاق کو چیلنج کرنے والی عرضداشت کی سپریم کور ٹ تک مخالفت کی۔سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے الیکشن لڑنے کے خلاف نچلی عدالت میں عرضداشت داخل کی گئی۔ عدالتی کارروائی بند کمرے میں کیئے جانے کی ملزمین کی عرضداشت کی مخالفت کی گئی۔بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے عدالت میں تحریری بحث داخل کرکے ملزمین کو سخت سے سخت سزا دیئے جانے کی عدالت سے گذارش کی گئی۔

*مالیگاؤں سدھار کمیٹی اور جمعیت علماء کے زیر اہتمام نشہ مخالف پروگرام سے اہلیان شھر کو اہم پیغام*

*نشہ خودکشی قتل وغارت گری سے سماج ومعاشرہ تباہ وبرباد ہوجاتا ہے* 
*مولانا جمال ناصر ایوبی*


*مالیگاؤں سدھار کمیٹی اور جمعیت علماء سلیمانی چوک کے اشتراک سے ایک اہم نشہ مخالف اصلاحی جلسہ مورخہ 27 جولائی 2025 ء بروز اتوار بعدِ نمازِ عشاء فوراً سلیمانی مسجد میں منعقد ہوا جس میں مذکورہ عنوان کی مناسبت سے حضرت مولانا جمال ناصر ایوبی صاحب نے خطاب فرمایا ہے اپنی گفتگو میں انھوں نے کہا کہ زندگی بہت بڑی نعمت ہےایسی نعمت جس کا بدل نہیں، جو جانے کے بعد واپس نہیں آتی دنیا کی زندگی اللہ پاک کی چاہت اور مشیت سے ملی ہے انسان اپنی زندگی اور جان کا مالک نہیں بلکہ محافظ وامین ہے ایک مسلمان کا خود کشی کرنا قابل افسوس ہے خود کشی کرنا اسلام میں حرام ہے ایسا کرنے والا دونوں جہان میں ناکام ہوتا ہے نوجوانوں کو اس انتہائی قدم اٹھانے سے ہرممکن بچنا چاہیے اور جو بھی حالات ہوں وہ اپنے سے بڑوں کو بتاکر معاملہ حل کرلینا چاہیے اسی طرح کسی بھی قسم کا نشہ نہیں کرنا اس سے عقل ودماغ ماؤف ہوجاتا ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے بندہ اللہ کی نافرمانی پر اتر آتا ہے اس لیے شراب افیون ایم ڈی سُلیسن اور دیگر نشہ کی چیزوں سے دور رہ کر ایک اچھی زندگی گذارنا چاہیے ہمارے سماج اور معاشرہ میں سودی کاروبار بھی بہت پھیلتا جارہا ہے جس پر روک لگانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے سود کو اللہ نے حرام کیا ہے سود کی رقم لینا اور دینا دونوں ہی حرام ہے اور اللہ کی لعنت کا سبب ہے اسی طرح کسی مسلمان کا قتل کرنا ناحق اس کو تکلیف پہنچانا ماں باپ کی نافرمانی کرنا پڑوسیوں کو تکلیف دینا یہ سب اسلام میں منع ہے اس سے ہر حال میں ہم کواحتیاط کرنا چاہیے اور سماج میں پنپ رہی برائیوں کو دیکھ کر اسے روکنے ٹوکنے اور بند کرنے کی کوشش ہونا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کی زندگی جان مال ایمان اور عقیدہ محفوظ رہ سکے ان تمام برائیوں پر مولانا جمال ناصر ایوبی صاحب نے روشنی ڈالی اور والدین کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی واقعات کے ذریعے دنیا کی بے ثباتی کو بھی واضح کیا اس طرح کے اور بھی پروگرام منعقد کرنے کا عندیہ بھی ظاہر کیا یہ اصلاحی جلسہ عام مولانا آصف شعبان صدر جمعیت علماء سلیمانی چوک کی صدارت میں ہوا*

 *اس موقع پر قاری اخلاق احمد جمالی شاکر شیخ سر مولانا صغیر احمد شمسی مولانا ابو زید حافظ عبدالعزیز رحمانی مولانا نیازملی مفتی محمد اسلم جامعی مفتی شعیب انوری مفتی عبداللہ ہلال حافظ محسن کریم محمدی حافظ رمضان اشاعتی عبدالودود سر صابر شیخ حاجی ادریس چکن خلیل احمد ایم ایم مدنی عارف بھائی کے علاوہ عوام الناس کثیر تعداد میں شریک تھے*
مولانا غلام وستانوی کی خدمات قوم و ملت کیلئے مشعل راہ ، مسلمان انکے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے


آصف شیخ کا جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا دورہ ،مولانا حذیفہ وستانوی سے ملاقات، موجودہ حالات پر تبادلہ خیال



ہم ہر حالات میں جامعہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، حکمت عملی اور اتحاد و اتفاق سے ملی مسائل حل کرنیکا عندیہ



مالیگاؤں : 27 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ)دین اسلام کی تعلیمات قوم و ملت تک پہنچانے والے خادم القرآن و المساجد حضرت مولانا غلام محمد وستانوی مرحوم کے تعمیر کردہ جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا میں آج مالیگاؤں شہر کے سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دورہ کیا ۔مولانا حذیفہ وستانوی سے ایک خصوصی وفد کی شکل آصف شیخ نے ملاقات کی ،اس موقع پر مولانا نے آصف شیخ کا والہانہ استقبال کیا ۔یہاں مولانا اور آصف شیخ کے درمیان موجودہ حالات پر تبادلہ خیال ہوا ۔اس موقع پر آصف شیخ نے کہا کہ مولانا غلام وستانوی کی خدمات قوم و ملت کیلئے مشعل راہ ہے ۔مسلمان انکے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا ۔مولانا کی دینی ملی خدمات پورے ملک کے مسلمانوں کیلئے باعث افتخار ہے ۔آصف شیخ نے ریاستی و ملکی حالات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر حالات میں جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔اس موقع پر خوشگوار ماحول میں تفصیلی بات چیت ملی مسائل پر دونوں کے درمیان ہوئی ۔یہاں مفتی عبد القیوم اشاعتی ، مفتی جعفر ملی ۔حافظ جمیل اشاعتی، حافظ عبد العظیم اشاعتی کی رہنمائی میں جامعہ کیمپس کے مختلف شعبہ جات کا آصف شیخ نے وفد کے ہمراہ دورہ کیا۔اس موقع پر آصف شیخ نے مولانا غلام وستانوی مرحوم کی قبر پر حاضری لگائی اور دعائے مغفرت بھی کی ۔خیال رہے کہ نندوربار میں مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کی وقف کانفرنس کے سلسلے میں آصف شیخ نندوربار پہنچے اس موقع پر انہوں نے جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کا بھی دورہ کیا ۔اس وفد میں آصف شیخ کے ساتھ نوید خطیب احمد ،عبد المطلب شیخ ،شفیق بھنیہ،حلیم صدیقی، ہارون عاشق علی، اخلاق شاہ ،رضوان میمن زاہد سر ،جنید عالم وغیرہ موجود تھے ۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...