وزیر داخلہ امت شاہ نے سابق وزیر داخلہ چدمبرم پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کو کلین چٹ دے دی ۔ وہ دہشت گردوں کے پاکستانی ہونے پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔ وہ پاکستان کو بچانے کی سازش کر رہے ہیں ۔ ملک کے عوام یہ سب دیکھ رہے ہیں۔
امت شاہ نے مزیدکہا کہ پہلگام حملے کے فوراً بعد 22 مئی کو آپریشن مہادیو شروع ہوگیا تھا۔ 23 اپریل کو ہونے والے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کو کسی قیمت پر ملک سے باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔ انٹیلی جنس افسران ان دہشت گردوں کو تلاش کرنے کے لیے پہاڑیوں میں گھومتے رہے۔ پھر سینسر کے ذریعے ان کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں اور انہیں 28 جولائی کو ختم کر دیا گیا۔
وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ این آئی اے پہلے ہی ان لوگوں کو حراست میں لے چکی ہے جنھوں نےدہشت گردوں کو پناہ دی ۔ انہوں نے ان دہشت گردوں کی نشاندہی کی۔ اس کے باوجود ہم نے بہت سی تکنیکی مدد لی اور ان دہشت گردوں کی نشاندہی کی۔
اپنے خطاب کے دوران ،پورے معاملے پر تفصیل سے بتاتے ہوئے وزیرداخلہ امت شاہ نے
کہا کہ پہلگام حملے کی ذمہ داری لشکر اور ٹی آر ایف نے لی تھی، پھر ہم نے اس حملے کی تحقیقات این آئی اے کو سونپ دی۔ این آئی اے نے 1055 افراد سے تین ہزار گھنٹے سے زیادہ پوچھ تاچھ کی۔ امت شاہ نے آپریشن سندور کے بارے میں بتایا کہ ہماری فوج نے ان دہشت گردوں کو بھی مارگرایا جو کانگریس کے دور میں فرار ہوگئے تھے۔ فوج نے ایسے 100 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے
غزہ کے بحران پرمودی حکومت بنی خاموش تماشائی ،وزیراعظم کو اٹھانی ہوگی بھارت کی آواز۔ سونیا گاندھی
اکتوبر 2023 کو اسرائیل میں بے گناہ مردوں، خواتین اور بچوں پر حماس کے وحشیانہ حملوں یا اس کے بعد اسرائیلی عوام کو مسلسل یرغمال بنانے کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کر سکتا۔ اس کی بار بار اور بلاشرط مذمت کی جانی چاہیے، لیکن عالمی برادری کے رکن اور اس سے بڑھ کرانسان ہونے کے ناطے یہ تسلیم کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ غزہ کے لوگوں کے خلاف اسرائیلی حکومت کا ردعمل اور انتقامی کارروائیاں نہ صرف قابل مذمت بلکہ صریح مجرمانہ ہیں۔
گزشتہ تقریباً دو برسوں میں 55ہزار سے زیادہ فلسطینی شہری مارے جا چکے ہیں جن میں 17ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ میں زیادہ تر رہائشی عمارتوں کو مسلسل فضائی بمباری کے ذریعے جان بوجھ کر زمین بوس کر دیا گیا ہے، جن میں اسپتال بھی شامل ہیں۔ وہاں کا سماجی تانہ بانہ مکمل طور پرتباہ ہوگیا ہے۔ اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک کے واقعات پریشان کن ہیں ۔ حالیہ مہینوں میں صورتحال مزید نہ گفتہ بہ ہوگئی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک ظالمانہ حکمت عملی کے تحت انسانی امداد کو بھی ہتھیار بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ادویات، خوراک اور ایندھن کی سپلائی کو سختی سے روک دیا گیاہے۔ بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور عام شہریوں کا بے دریغ قتل عام ایک انسانی المیے کا باعث بنا ہے۔ ناکہ بندی نے اس صورتحال کومزید ابتر کردیا ہے۔ لوگوں کو بھوک سے مرنے پر مجبور کرنے کی حکمت عملی بلاشبہ انسانیت سوز اورمجرمانہ ہے۔
اس تباہی کے درمیان اسرائیل نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی انسانی امداد کو یا تو یکسر مسترد کر دیا ہے یا روک دیا ہے۔ انسانیت کے ہر تصور کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں نے ان لوگوں پر وحشیانہ فائرنگ کی ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے امدادکے منتظر تھے۔ خود اقوام متحدہ نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج کو بھی اس ہولناک حقیقت کو قبول کرنا پڑا ہے۔
غزہ پر اسرائیل کے فوجی قبضے کے تقریباً تمام ماہرین کے تجزیوں کے مطابق ،یہ یک ایسی مہم ہے جو نسل کشی کے مترادف ہے اور اس کا مقصد غزہ پٹی سے نسلی طور پر فلسطینیوں کا صفایا کرنا ہے۔ اس کے پیمانے اور نتائج 1948 کے سانحہ نقبہ کی یاد دلاتے ہیں، جس میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا تھا۔ یہ ظلم کچھ انتہائی مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کیا جا رہا ہے، جس میں نوآبادیاتی ذہنیت سے لے کر کچھ لالچی رئیل اسٹیٹ ٹائیکونز کے خود غرض مفادات شامل ہیں۔
بدقسمتی سے، غزہ کے بحران نے عالمی نظام میں سب سے زیادہ سنگین کمزوریوں میں سے ایک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ سلامتی کونسل عام شہریوں پر حملوں اور غزہ کے بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی کی وجہ سے اسرائیلی حکومت پر پابندیاں عائد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے 26 جنوری 2024 کو اسرائیل کو حکم دیا تھاکہ وہ نسل کشی کی کارروائیوں کو روکے اور شہریوں کو ضروری خدمات اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔