بشکریہ شامنامہ ۔ ۱ جون ۲۰۲۵ ء
اب کیا لکھیں ؟ اور کتنا لکھیں ؟
ایک قلمکار کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ حالات حاضرہ پر اپنی مشاہداتی نظریں مرکوز رکھے۔ بعض اوقات اپنے اطراف رونما ہونے والے واقعات حساس طبیعت پر گہرا اثر مرتب کرتے ہیں اور پھر فکر ، تذبذب اور بے چین طبیعت قلم کی سیاہی میں محلول ہو کر الفاظ کی شکل لینے لگتی ہے۔ اکثر قارئین مختلف موضوعات پر توجہ مرکوز کراتے ہیں ۔ درخواست کی جاتی ہے کہ فلاں موضوع زیر قلم لائیں۔ اور بطور قلمکار ہم تجویز کردہ موضوع پر غور و خوص اور مختلف ذرائع سے تحقیقات کے بعد مضمون لکھنے کی سعی کرتے ہیں ۔ کچھ ایسے معاملات متواتر پیش آتے ہیں جو ایک صحت مند معاشرے کو کھوکھلا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ان پر قابو پانےکی کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوتی ہیں ۔
کہتے ہیں “انسان ایک سماجی جانور ہے۔”
انسان اور حیوانات کے تقابلی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان بہت ساری مماثلت پائی جاتی ہیں تو کچھ معاملات میں تضاد۔ خوبیوں ، طاقت اور قابلیت کے مد نظر کہیں انسان حیوان سے مات کھاتا نظر آتا ہے تو کسی معاملے میں انسان کی برتری ثابت ہوتی ہے۔ لیکن جب انسان کو “اشرف المخلوقات “ کا درجہ دے دیا گیا تو اس بحث کا ایک حتمی نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان حیوان سے برتر ہے۔ لیکن غور فرمائیں انسان ہر دور میں مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا رہا ہے۔ ہر نئی بیماری کا علاج دریافت ہونے اور اس پر قابو پانے کے بعد کسی نئی بیماری کا وجود میں آجانا انسانی تاریخ کا ایک باب رہا ہے۔ ہونے والی جنگیں ، قحط ، خشک سالی، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا اور ان سے نکل آنا انسان کے لئے مشکل اور جدوجہد بھرا عمل رہا ہے لیکن ناممکن نہیں ۔ان مجموعی پریشان کن اور چیلینجنگ حالات کے علاوہ ہر انسان کا انفرادی طور پر پریشان کن حالات سے دوچار ہونا فطری ہے۔ قرض کا بوجھ، بے روزگاری ، رشتوں کی کڑواہٹ ، کوششوں میں ناکامی ، لمبی نا قابل تشخیص بیماری ، بے عزتی اور شرمندگی و ہزیمت کا احساس ایسی وجوہات ہیں جو کسی بھی انسان کو ڈپریشن کا شکار بنا دیتی ہے ۔ مگر کیا اس طرح کے حالات کا شکار صرف انسان ہی ہوتا ہے؟
غور فرمائیں حیوانات کی زندگیاں بھی پر خطر اور پریشانیوں سے بھری ہوتی ہیں۔ زندہ رہنے کے لئے جدوجہد ، کھانے کی تلاش میں سرگرداں رہنا، قدرتی آفات کا شکار ہونا ، شکار کو ہر لمحہ شکاری مخلوق کا خوف اور دیگر بہت سارے چیلینجیز ۔ انسانوں کی طرح حیوانات بھی حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں ۔اپنے بچوں کی پرورش، انہیں غذا کی فراہمی ، شکاریوں سے بچوں کی حفاظت ، ساتھی کی موت پر رنجیدہ ہونا، بچوں کی موت پر ماں کا غمزدہ رد عمل ، اپنے مالکان سے وفاداری ان خوبیوں سے ثابت ہوتا ہے کے حیوانات بھی حد درجہ حساسیت کا مادہ رکھتے ہیں ۔لیکن کسی بھی طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لئے یہ ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔اپنی استطاعت اور قابلیت کو بروئے کار لاتے ہوئے حیوانات آخری حد تک آنے والی پریشانیوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ کبھی اس میں کامیابی ملتی ہے تو کبھی موت و زندگی کی کشمکش میں زندگی کو شکست بھی ہوتی ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ “فلاں جانور نے ناگفتہ حالات سے تنگ آ کر از خود اپنی زندگی تمام کرلی۔”
زندگی میں آنے والی پریشانیوں اور مصیبتوں سے لڑنے کی بجائے اپنی جان لے لینے کا عمل صرف انسانوں میں پایا جاتا ہے۔ حیوانات میں اس بزدلانہ عمل کی روایت نہیں پائی جاتی ۔آنے والی مصیبتوں اور پریشانیوں پر قابو پانے اور ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں کامیابی ملے یا ناکامی ہاتھ لگے اہم یہ نہیں۔ اگر ہم واقعی اشر ف المخلوقات کہلانے کا دعویٰ پیش کرتے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ پورے اعتماد اور قوت کے ساتھ آنے والے دشوار حالات کے سامنے ڈٹے رہیں ۔ بالکل اسی طرح جس طرح دوسرے درجے کی مخلوق حیوانات ، جانور و چرند پرند کسی بھی طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لئے اپنی بساط بھر کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ کیڑے مکوڑوں کو بھی اپنی جان عزیز ہوتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کے معنی سے آگاہ ہوتے ہیں ۔ ماحولیات ، سماج ، پریوار اور خود کے حقوق و و ذمہ داریوں کا احساس ان کے وجود کو قوت عطا کرتا ہے۔ شہد کی مکھیوں سے لے کر چیونٹیاں اور خطرناک جنگلی جانور بھی اپنی روز مرہ کے اعمال میں ایک خاندان اور سماج کے تئیں اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری ، تندہی اور جدوجہد کے ساتھ نبھاتے ہیں ۔ ہم انسان ہی ہیں جو ذمہ داریوں سے بری الزماں ہو کر حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے اپنی زندگی کی ڈور اپنے ہی ہاتھوں کانٹ لینے کا بزدلانہ قدم اٹھانے کا فعل انجام دیتے ہیں ۔ کیا ہم خود کو اشرف المخلوقات کے زمرے میں رکھنے کا حق رکھتے ہیں؟
تحریر:عامری عظمت اقبال 9970666785
_____________
ٹوبہ ٹیک سنگھ
سعادت حسن منٹو
بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہئے یعنی جو مسلمان پاگل ، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں ہندوستان کے حوالے کر دیا جائے _
معلوم نہیں یہ بات معقول تھی یا غیر معقول ، بہر حال دانش مندوں کے فیصلے کے مطابق ادھر ادھر اونچی سطح کی کانفرنسیں ہوئیں ، اور بالاخر ایک دن پاگلوں کے تبادلے کے لئے مقرّر ہو گیا _ اچّھی طرح چھان بین کی گئی _ وہ مسلمان پاگل جن کے لواحقین ہندوستان ہی میں تھے _ وہیں رہنے دئے گئے تھے _ جو باقی تھے ان کو سرحد پر روانہ کر دیا گیا _ یہاں پاکستان میں چونکہ قریب قریب تمام ہندو سکھ جا چکے تھے _ اس لئے کسی کو رکھنے رکھانے کا سوال ہی نہ پیدا ہوا _ جتنے ہندو سکھ پاگل تھے _ سب کے سب پولیس کی حفاظت میں بارڈر پر پہنچا دئے گئی_
ادھر کا معلوم نہیں _ لیکن ادھر لاہور کے پاگل خانے میں جب اس تبادلے کی خبر پہنچی تو بڑی دلچسپ چہ مگوئیاں ہونے لگیں _ ایک مسلمان پاگل جو بارہ برس سے ہر روز با قائدگی کے ساتھ " زمیندار " پڑھتا تھا اس سے جب اس کے ایک دوست نے پوچھا _ " مولبی ساب ، یہ پاکستان کیا ہوتا ہے " _ تو اس نے بڑے غور و فکر کے بعد جواب دیا _" ہندوستان میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں استرے بنتے ہیں " _
یہ جواب سن کر اس کا دوست مطمئن ہو گیا _
اسی طرح ایک سکھ پاگل نے ایک دوسرے سکھ پاگل سے پوچھا _" سردار جی ہمیں ہندوستان کیوں بھیجا جا رہا ہے ہمیں تو وہاں کی بولی نہیں آتی " _
دوسرا مسکرایا _ " مجھے تو ہندوستوڑوں کی بولی آتی ہے ہندوستانی بڑے شیطانی آکڑ آکڑ پھرتے ہیں "
ایک دن نہاتے نہاتے ایک مسلمان پاگل نے " پاکستان زندہ باد " کا نعرہ اس زور سے بلند کیا کہ فرش پر پھسل کر گرا اور بیہوش ہو گیا _
بعض پاگل ایسے بھی تھے جو پاگل نہیں تھے _ ان میں اکثریت ایسے قاتلوں کی تھی جن کے رشتہ داروں نے افسروں کو دے دلا کر پاگل خانے بھجوا دیا تھا کہ پھانسی کے پھندے سے بچ جائیں _ یہ کچھ کچھ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کیوں تقسیم ہوا ہے اور یہ پاکستان کیا ہے _ لیکن صحیح واقعات سے یہ بھی بے خبر تھے _ اخباروں سے کچھ پتا نہیں چلتا تھا اور پہرہ دار سپاہی انپڑھ اور جاہل تھے _ ان کی گفتگو سے بھی وہ کوئی نتیجہ برآمد نہیں کر سکتے تھے _ ان کو صرف اتنا معلوم تھا کہ ایک آدمی محمّد علی جناح ہے جس کو قائدِ اعظم کہتے ہیں _ اس نے مسلمانوں کے لئے ایک علیٰحدہ ملک بنایا ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ یہ کہاں ہے ، اس کا محلِّ وقوع کیا ہے _ اس کے متعلّق وہ کچھ نہیں جانتے تھے _ یہی وجہ ہے کہ پاگل خانے میں وہ سب پاگل جن کا دماغ پوری طرح ماؤف نہیں ہوا تھا اس مخمصے میں گرفتار تھے کہ وہ پاکستان میں ہیں یا ہندوستان میں _ اگر ہندوستان میں ہیں تو پاکستان کہاں ہے _ اگر وہ پاکستان میں ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ عرصہ پہلے یہیں رہتے ہوئے بھی ہندوستان میں تھے _
ایک پاگل تو پاکستان اور ہندوستان ، اور ہندوستان اور پاکستان کے چکّر میں کچھ ایسا گرفتار ہوا کہ اور زیادہ پاگل ہو گیا _ جھاڑو دیتے دیتے ایک دن درخت پر چڑھ گیا اور ٹہنے پر بیٹھ کر دو گھنٹے مسلسل تقریر کرتا رہا جو پاکستان اور ہندوستان کے نازک مسئلے پر تھی _ سپاہیوں نے اسے نیچے اترنے کو کہا تو وہ اور اوپر چڑھ گیا _ ڈرایا دھمکایا گیا تو اس نے کہا " میں ہندوستان میں رہنا چاہتا ہوں نہ پاکستان میں۔ میں اس درخت ہی پر رہونگا " _
بڑی مشکلوں کے بعد جب اس کا دورہ سرد پڑا تو وہ نیچے اترا اور اپنے ہندو سکھ دوستوں سے گلے مل مل کر رونے لگا _ اس خیال سے اس کا دل بھر آیا تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر ہندوستان چلے جائینگے _
ایک ایم ایس سی پاس ریڈیو انجینئر جو مسلمان تھا اور دوسرے پاگلوں سے بالکل الگ تھلگ باغ کی ایک خاص روش پر سارا دن خاموش ٹہلتا رہتا تھا یہ تبدیلی نمودار ہوئی کہ اس نے تمام کپڑے اتار کر دفعدار کے حوالے کر دئے اور ننگ دھڑنگ سارے باغ میں چلنا پھرنا شروع کر دی _
چنیوٹ کے ایک موٹے مسلمان پاگل نے جو مسلم لیگ کا سر گرم کارکن رہ چکا تھا اور دن میں پندرہ سولہ مرتبہ نہایا کرتا تھا یک لخت یہ عادت ترک کر دی _ اس کا نام محمّد علی تھا _ چنانچہ اس نے ایک دن اپنے جنگلے میں اعلان کر دیا کہ وہ قائدِ اعظم محمّد علی جنّاح ہے _ اس کی دیکھا دیکھی ایک سکھ پاگل ماسٹر تارا سنگھ بن گیا _ قریب تھا کہ اس جنگلے میں خون خرابہ ہو جائے مگر دونوں کو خطرناک پاگل قرار دے کر علیحدہ علیحدہ بند کر دیا گیا _
لاہور کا ایک نوجوان ہندو وکیل تھا جو محبّت میں نا کام ہو کر پاگل ہو گیا تھا _ جب اس نے سنا کہ امرتسر ہندوستان میں چلا گیا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا _ اسی شہر کی ایک ہندو لڑکی سے اسے محبّت ہو گئی تھی _ گو اس نے اس وکیل کو ٹھکرا دیا تھا مگر دیوانگی کی حالت میں بھی وہ اس کو نہیں بھولا تھا _ چنانچہ ان تمام ہندو اور مسلم لیڈروں کو گالیاں دیتا تھا جنہوں نے مل ملا کر ہندوستان کے دو ٹکڑے کر دئےاس کی محبوبہ ہندوستانی بن گئی اور وہ پاکستانی _
جب تبادلے کی بات شروع ہوئی تو وکیل کو کئی پاگلوں نے سمجھایا کہ وہ دل برا نہ کرے _ اس کو ہندوستان بھیج دیا جائیگا _ اس ہندوستان میں جہاں اس کی محبوبہ رہتی ہے _ مگر وہ لاہور چھوڑنا نہیں چاہتا تھا _ اس لئے کہ اس کا خیال تھا کہ امرتسر میں اس کی پریکٹس نہیں چلیگی _
یوروپین وارڈ میں دو اینگلو انڈین پاگل تھے _ ان کو جب معلوم ہوا کہ ہندوستان کو آزاد کر کے انگریز چلے گئے ہیں تو ان کو بہت صدمہ ہوا _ وہ چھپ چھپ کر گھنٹوں آپس میں اس اہم مسئلے پر گفتگو کرتے رہتے کہ پاگل خانے میں ان کی حیثیت کس قسم کی ہوگی _ یوروپین وارڈ رہیگا یا اڑا دیا جائیگا _ بریک فاسٹ ملا کریگا یا نہیں _ کیا انہیں ڈبل روٹی کے بجائے بلڈی انڈین چپاٹی تو زہر مار نہیں کرنا پڑیگی _
ایک سکھ تھا جس کو پاگل خانے میں داخل ہوئے پندرہ برس ہو چکے تھے _ ہر وقت اس کی زبان سے یہ عجیب و غریب الفاظ سننے میں آتے تھے _ " اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین" _ دن کو سوتا تھا نہ رات کو _ پہرہ داروں کا یہ کہنا تھا کہ پندرہ برس کے طویل عرصے میں وہ ایک لحظے کے لئے بھی نہیں سویا _ لیٹتا بھی نہیں تھا _ البتّہ کبھی کبھی کسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیتا تھا _
ہر وقت کھڑے رہنے سے اس کے پاؤں سوج گئے تھے _ پنڈلیاں بھی پھول گئی تھیں _ مگر اس جسمانی تکلیف کے با وجود لیٹ کر آرام نہیں کرتا تھا _ ہندوستان ، پاکستان اور پاگلوں کے تبادلے کے متعلّق جب کبھی پاگل خانے میں گفتگو ہوتی تھی تو وہ غور سے سنتا تھا _ کوئی اس سے پوچھتا کہ اس کا کیا خیال ہے تو وہ بڑی سنجیدگی سے جواب دیتا _" اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی مونگ دی دال آف دی پاکستان گورنمنٹ " _
لیکن بعد میں " آف دی پاکستان گورنمنٹ " کی جگہ " آف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ گورنمنٹ " نے لے لی اور اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے جہاں کا وہ رہنے والا ہے _ لیکن کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں _ جو بتانے کی کوشش کرتے تھے وہ خود اس الجھاؤ میں گرفتار ہو جاتے تھے کہ سیالکوٹ پہلے ہندوستان میں ہوتا تھا پر اب سنا ہے کہ پاکستان میں ہے _ کیا پتا ہے کہ لاہور جو اب پاکستان میں ہے کل ہندوستان میں چلا جائے _ یا سارا ہندوستان ہی پاکستان بن جائے _ اور یہ بھی کون سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کسی دن سرے سے غیب ہی ہو جائیں _
اس سکھ پاگل کے کیس چھدرے ہو کے بہت مختصر رہ گئے تھے _ چونکہ بہت کم نہاتا تھا اس لئے ڈاڑھی اور سر کے بال آپس میں جم گئے تھے _ جن کے باعث اس کی شکل بڑی بھیانک ہو گئی تھی _ مگر آدمی بے ضرر تھا _ پندرہ برسوں میں اس نے کبھی کسی سے جھگڑا فساد نہیں کیا تھا _ پاگل خانے کے جو پرانے ملازم تھے وہ اس کے متعلّق اتنا جانتے تھے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس کی کئی زمینیں تھیں _ اچّھا کھاتا پیتا زمین دار تھا کہ اچانک دماغ الٹ گیا _ اس کے رشتہ دار لوہے کی موٹی موٹی زنجیروں میں اسے باندھ کر لائے اور پاگل خانے میں داخل کرا گئے _
مہینے میں ایک بار ملاقات کے لئے یہ لوگ آتے تھے اور اس کی خیر خیریت دریافت کر کے چلے جاتے تھے _ ایک مدّت تک یہ سلسلہ جاری رہا _ پر جب پاکستان ، ہندستان کی گڑبڑ شروع ہوئی تو ان کا آنا بند ہو گیا _
اس کا نام بشن سنگھ تھا مگر سب اسے ٹوبہ ٹیک سنگھ کہتے تھے _ اس کو قطعاً معلوم نہیں تھا کہ دن کون سا ہے ، مہینہ کون سا ہے ، یا کتنے سال بیت چکے ہیں _ لیکن ہر مہینے جب اس کے عزیز و اقارب اس سے ملنے کے لئے آتے تھے تو اسے اپنے آپ پتا چل جاتا تھا _ چنانچہ وہ دفعدار سے کہتا کہ اس کی ملاقات آ رہی ہے _ اس دن وہ اچّھی طرح نہاتا ، بدن پر خوب صابن گھستا اور سر میں تیل لگا کر کنگھا کرتا ، اپنے کپڑے جو وہ کبھی استعمال نہیں کرتا تھا نکلوا کے پہنتا اور یوں سج بن کر ملنے والوں کے پاس جاتا _ وہ اس سے کچھ پوچھتے تو وہ خاموش رہتا یا کبھی کبھار " اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی مونگ دی دال آف دی لالٹین " کہ دیتا _
اس کی ایک لڑکی تھی جو ہر مہینے ایک انگلی بڑھتی بڑھتی پندرہ برسوں میں جوان ہو گئی تھی _ بشن سنگھ اس کو پہچانتا ہی نہیں تھا _ وہ بچّی تھی جب بھی اپنے باپ کو دیکھ کر روتی تھی ، جوان ہوئی تب بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے _
پاکستان اور ہندوستان کا قصّہ شروع ہوا تو اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے _ جب اطمینان بخش جواب نہ ملا تو اس کی کرید دن بدن بڑھتی گئی _ اب ملاقات بھی نہیں آتی تھی _ پہلے تو اسے اپنے آپ پتہ چل جاتا تھا کہ ملنے والے آ رہے ہیں ، پر اب جیسے اس کے دل کی آواز بھی بند ہو گئی تھی جو اسے ان کی آمد کی خبر دے دیا کرتی تھی _
اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ لوگ آئیں جو اس سے ہم دردی کا اظہار کرتے تھے اور اس کے لئے پھل ، مٹھائیاں اور کپڑے لاتے تھے _ وہ اگر ان سے پوچھتا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے تو وہ یقیناً اسے بتا دیتے کہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں _ کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی سے آتے ہیں جہاں اس کی زمینیں ہیں _
پاگل خانے میں ایک پاگل ایسا بھی تھا جو خود کو خدا کہتا تھا _ اس سے جب ایک روز بشن سنگھ نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں ، تو اس نے حسبِ عادت قہقہہ لگایا اور کہا _" وہ پاکستان میں ہے نہ ہندوستان میں _ اس لئے کہ ہم نے ابھی تک حکم نہیں دیا " _
بشن سنگھ نے اس خدا سے کئی مرتبہ بڑی منّت سماجت سے کہا کہ وہ حکم دے دے تاکہ جھنجھٹ ختم ہو مگر وہ بہت مصروف تھا اسلئے کہ اسے اور بے شمار حکم دینے تھے _ ایک دن تنگ آ کر وہ اس پر برس پڑا _ " اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف واہے گورو جی دا خالصہ اینڈ واہے گورو جی کی فتح جو بولے سو نہال ، ست سری اکال " _
اس کا شاید یہ مطلب تھا کہ تم مسلمانوں کے خدا ہو سکھوں کے خدا ہوتے تو ضرور میری سنتے _
تبادلے سے کچھ دن پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ایک مسلمان جو اس کا دوست تھا ملاقات کے لئے آیا _ پہلے وہ کبھی نہیں آیا تھا _ جب بشن سنگھ نے اسے دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا اور واپس جانے لگا _ مگر سپاہیوں نے اسے روکا _ " یہ تم سے ملنے آیا ہے تمہارا دوست فضل دین ہے " _
بشن سنگھ نے فضل دین کو ایک نظر دیکھا اور کچھ بڑبڑانے لگا _ فضل دین نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا _ " میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ملوں لیکن فرصت ہی نہ ملی تمہارے سب آدمی خیریت سے ہندوستان چلے گئے تھے مجھ سے جتنی مدد ہو سکی ، میں نے کی _ تمہاری بیٹی روپ کور . . . . "
وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا _ بشن سنگھ کچھ یاد کرنے لگا _" بیٹی روپ کور " _
فضل دین نے رک رک کر کہا _ " ہاں . . . . وہ . . . . وہ بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔۔۔ان کے ساتھ ہی چلی گئی تھی " _
بشن سنگھ خاموش رہا _ فضل دین نے کہنا شروع کیا _ " انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہاری خیر خیریت پوچھتا رہوں۔ اب میں نے سنا ہے کہ تم ہندوستان جا رہے ہو۔ بھائی بلبیسر سنگھ اور بھائی ودھاوا سنگھ سے میرا سلام کہنا-اور بہن امرت کور سے بھی . . . . بھائی بلبیسر سے کہنا _ فضل دین راضی خوشی ہے۔ وہ بھوری بھینسیں جو وہ چھوڑ گئے تھے _ ان میں سے ایک نے کٹّا دیا ہے ۔ دوسری کے کٹّی ہوئی تھی پر وہ چھہ دن کی ہو کے مر گئی . . . . اور . . . . میری لائق جو خدمت ہو ، کہنا ، میں ہر وقت تیار ہوں . . . . اور یہ تمہارے لئے تھوڑے سے مرونڈے لایا ہوں " _
بشن سنگھ نے مرونڈوں کی پوٹلی لے کر پاس کھڑے سپاہی کے حوالے کر دی اور فضل دین سے پوچھا _ "ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ " _
فضل دین نے قدرے حیرت سے کہا _ " کہاں ہے؟ وہیں ہے جہاں تھا " _
بشن سنگھ نے پھر پوچھا _ " پاکستان میں یا ہندوستان میں ؟ "
" ہندوستان میں نہیں نہیں پاکستان میں " _ فضل دین بوکھلا سا گیا _
بشن سنگھ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا _ " اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی دور فٹے منہ ! ،،
تبادلے کے تییاریاں مکمّل ہو چکی تھیں _ ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آنے والے پاگلوں کی فہرستیں پہنچ گئی تھیں اور تبادلے کا دن بھی مقرّر ہو چکا تھا _
سخت سردیاں تھیں جب لاہور کے پاگل خانے سے ہندو سکھ پاگلوں سے بھری ہوئی لاریاں پولیس کے محافظ دستے کے ساتھ روانہ ہوئیں _ متعلّقہ افسر بھی ہمراہ تھے _ واہگہ کے بورڈر پر طرفین کے سپرنٹندنٹ ایک دوسرے سے ملے اور ابتدائی کاروائی ختم ہونے کے بعد تبادلہ شروع ہو گیا جو رات بھر جاری رہا _
پاگلوں کو لاریوں سے نکالنا اور دوسرے افسروں کے حوالے کرنا بڑا کٹھن کام تھا _ بعض تو باہر نکلتے ہی نہیں تھے _ جو نکلنے پر رضا مند ہوتے تھے _ ان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا _ کیونکہ ادھر ادھر بھاگ اٹھتے تھے ، جو ننگے تھے ان کو کپڑے پہنائے جاتے تو وہ پھاڑ کر اپنے تن سے جدا کر دیتے ۔کوئی گالیاں بک رہا ہے _ کوئی گا رہا ہے _ آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں _ رو رہے ہیں ، بلک رہے ہیں _ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ پاگل عورتوں کا شور و غوغا الگ تھا اور سردی اتنی کڑاکے کی تھی کہ دانت سے دانت بج رہے تھے _
پاگلوں کی اکثریت اس تبادلے کے حق میں نہیں تھی _ اسلئے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انہیں اپنی جگہ سے اکھاڑ کر کہاں پھینکا جا رہا ہے _ وہ چند جو کچھ سوچ سمجھ سکتے تھے " پاکستان زندہ باد " اور " پاکستان مردہ باد " کے نعرے لگا رہے تھے _ دو تین مرتبہ فساد ہوتے ہوتے بچا ، کیونکہ بعض مسلمانوں اور سکھوں کو یہ نعرے سن کر طیش آ گیا تھا _
جب بشن سنگھ کی باری آئی اور واہگہ کے اس پار متعلّقہ افسر اس کا نام رجسٹر میں درج کرنے لگا تو اس نے پوچھا _ " ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ پاکستان میں یا ہندوستان میں ؟ "
معتلّقہ افسر ہنسا _ " پاکستان میں " _
یہ سن کر بشن سنگھ اچھل کر ایک طرف ہٹا اور دوڑ کر اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا _ پاکستانی سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور دوسری طرف لے جانے لگے ، مگر اس نے چلنے سے انکار کر دیا _ "ٹوبہ ٹیک سنگھ یہاں ہے " اور زور زور سے چلّانے لگا _ " اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان " _
اسے بہت سمجھایا گیا کہ دیکھو اب ٹوبہ ٹیک سنگھ ہندوستان میں چلا گیا ہے۔اگر نہیں گیا تو اسے فوراً وہاں بھیج دیا جائیگا _ مگر وہ نہ مانا _ جب اس کو زبردستی دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی گئی تو وہ درمیان میں ایک جگہ اس انداز میں اپن سوجی ہوئی ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا جیسے اب اسے کوئی طاقت وہاں سے نہیں ہلا سکے گی _
آدمی چونکہ بے ضرر تھا اس لئے اس سے مزید زبردستی نہ کی گئی ، اس کو وہیں کھڑا رہنے دیا گیا اور تبادلے کا باقی کام ہوتا رہا _
سورج نکلنے سے پہلے ساکت و صامت بشن سنگھ کے حلق سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی۔ ادھر ادھر سے کئی افسر دوڑے آئے اور دیکھا کہ وہ آدمی جو پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہا ، اوندھے منہ لیٹا ہے _ ادھر خاردار تاروں کے پیچھے ہندوستان تھا ادھر ویسے ہی تاروں کے پیچھے پاکستان _ درمیان میں زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئ نام نہیں تھا _ ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑا تھا _
_______
رفیق سرور مالیگاؤں
غزل
صوفیوں کا لباس خاموشی
ہے دوانوں کو راس خاموشی
کتنے فتنوں کو قتل کرتی ہے
ایک گوہر شناس خاموشی
چائے سگریٹ کا دھواں اور میں
فکرِ، فردا، قیاس، خاموشی
شور کرتا ہوا گِدھوں کا ہجوم
مفلسی بھوک پیاس خاموشی
میری غزلوں میں شور کرتی ہے
اک قیافہ شناس خاموشی
رنگ کیا کیا ہیں زندگانی کے
"درد،غم، رنج یاس خاموشی "
کاش کچھ دیر کو ٹھہر جاتی
بنتِ حواّ کے پاس خاموشی
لائیں گونگے کہاں سے اے سرور
ہے جو بہروں کے پاس خاموشی
__________
نظموں میں دفن عورتیں
شاعر کے پاس ہمیشہ ایک خالی صفحہ ہوتا ہے،
بلکل سفید
ہسپتال کے بستروں کی چادر جیسا
اور اُس پر لکھی گئی ہر عورت کو وہ بار بار مٹا سکتا ہے۔
وہ عورت کو نہیں چھوتا
بلکہ اس کی جلد کے نیچے بہتی ہوئی کہانی کو۔
شاعر کی چھوڑی ہوئی عورت مکمل لمس کو ترستی ہے
کیونکہ شاعر چُھوتا نہیں،
کاٹتا ہے
تم ساری عمر سوچتی ہو کہ
وہ ہتھیلیاں محبت میں تھرک رہی تھیں
نہیں،
وہ ہتھیلیاں تمہیں کھولنے آئی تھیں،،
عورت اُس کے لیے جسم نہیں، روایت ہے
شاعر چھو کر مادیت چھین لیتا ہے
وہ بالوں کو انگلیوں سے نہیں سمیٹتا،وہ اُن میں الجھے خواب نوچتا ہے
وہ تمہیں بانہوں میں نہیں لیتا
وہ تمہیں تولتا ہےتمہاری ریڑھ کی ہڈی سے خاموشی نکالنے کے لیے
وہ تمہیں ایسے دیکھتا ہے
جیسے ایک مجسمہ تراش
کسی ادھوری چٹان کو
جو عورتیں کم بولتی ہیں شاعر ان سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے
شاعر عورتوں کو دیویوں کی طرح چاہتا ہے
کیوں کے دیویوں کو اپنانا نہیں پڑتا
اور اتنی دیر تک چاہتا ہے جتنی دیر تک ایک اشلوک مکمل نہیں ہو جاتا
اگر کبھی کوئی شاعر تم سے محبت کا دعوی کرے
تو اپنے خوابوں کو چھپا لینا اپنی کوکھ میں
کیونکہ وہ خوابوں کو جوتیوں کی طرح دروازے پر اتار دیتا ہے
اور چلا جاتا ہے
نئی غزل، نئی عورت، نئے موسم کی تلاش میں۔
شاعر کے لفظوں کا زہر قلم کے نِب سے نہیں،کسی عورت کی نس سے ٹپکتا ہے۔
شاعر مکمل عورت سے خوف کھاتا ہے
وہ ٹوٹا ہوا چاہتا ہے —
بکھرا ہوا ، بےترتیب،
جیسے پرانی محبت کی کوئی گواہی۔
شاعر عورت کی ہنسی سے محبت نہیں کرتا بلکہ اس کی ہنسی میں چھپی ہوئی ہجرت سےُ
وہ اپنے قلم کے نیچے رکھی ہوئی عورت کو مکمل ہونے سے پہلے صفحہ پلٹ دیتا ہے
شاعر کو بدن نہیں بدن کی تھکن چاہیے —
وہ تمہیں چُھوتا ہے،
مگر صرف اتنا جتنا اُس کی نظم کو درکار ہو۔
شاعر کو تمہاری آنکھیں نہیں تمہارے آنسو چاہییں
تمہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ تم کب عورت سے اس کے گیت کا ایندھن بن گئی ہو
وہ تمہیں چومتا نہیں —بس تمہارے ہونٹوں کے کنارے گنتا ہے،
وہ پرانی محبت کی قبروں سے نئی نظمیں نکالتا ہے
تمہارا جسم،محض اُس کی نظم کا ابتدائیہ ہے۔
وہ تمہاری کمر کی لکیروں میں قافیے تولتا ہے
شاعر کی نظموں میں محبتیں دفن ہوتی ہیں
جیسے کسی مندر کی بنیاد میں
کنواری لڑکی کی قربانی۔
تم نظم میں دفن عورتیں ہو
نہ شاعر کی محبوبائیں،
نہ تاریخ کی دیویاں،
بس وہ خام مال
جس پر تخلیق کی عمارت کھڑی کی گئی۔
جسے لکھنے والے نے مار دیا
اور پڑھنے والے پوجتے رہے
وہ عورت کے خواب پبلشر کو بیچ دیتا ہے
شاعر جب کسی سے بدلا لینا کا سوچتا ہے تو اس کے ہر اوزار پر محبت کی مٹی لگی ہوتی ہے
مرتے وقت شاعر کے پاس ایک یاد ہوتی ہے
اپنی دفن کی ہوئی عورتوں کی یاد
جنھیں اس نے کبھی مکمل نہیں ہونے دیا
تہذیب حافی