کچھ چیزیں واضح ہونی چاہئے... وقف ایکٹ پر چیف جسٹس نے کہا، اب جسٹس گوائی کی بینچ کرے گی سماعت
Waqf Act SC Hearing Updates : وقف ترمیمی قانون سے متعلق کیس کی آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے لیے آئندہ ہفتے کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت عظمی اب اس کیس کی اگلے جمعرات یعنی 15 مئی کو سماعت کرے گی۔ تاہم موجودہ CJI جسٹس سنجیو کھنہ 13 مئی کو ریٹائر ہو رہے ہیں، ایسے میں اب نئے CJI یعنی جسٹس بی آر گوائی کی بنچ وقف ترمیمی قانون سے متعلق کیس کی سماعت کرے گی۔
سپریم کورٹ کی تین ججوں کی بنچ نے آج اس معاملے پر پانچ درخواستوں اور اس نئے قانون سے متعلق دائر نئی درخواستوں پر سماعت کی۔ سی جے آئی سنجیو کھنہ نے کہا کہ ہم نے اس پر اعتراضات اور جوابات پڑھے ہیں۔ ہاں، رجسٹریشن اور کچھ ڈیٹا پر کچھ سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن پر درخواست گزاروں نے اعتراض کیا ہے۔ اس پر غور کیا جانا چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ دو چیزیں ہیں جن کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے… میں آخری مرحلے پر بھی کوئی فیصلہ یا حکم محفوظ نہیں رکھنا چاہتا۔ اس کیس کی مناسب دن پر سماعت کی جانی چاہئے۔ یہ میرے سامنے نہیں ہو گا۔ ہم اسے بدھ یا جمعرات کو جسٹس گوائی کی بنچ کے سامنے عبوری اور حتمی دونوں احکامات کے لئے رکھیں گے۔بتادیں کہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید اور اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے وقف (ترمیمی) ایکٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ یہ قانون ‘غیر آئینی’ ہے اور آئین کی مختلف دفعات کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
پہلی جنگ تو ہار گیا پاکستان، UNSC سے روس تک ہر جگہ کھا رہا مات، پھر بھی نہیں آرہا باز
پاکستان ہر قدم پر ہارتا جا رہا ہے۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد سے ہی اس کی حالت خراب ہوگئی ہے، کیونکہ ہندوستان نے ہر طرف سے اس پر اپنی گرفت مضبوط کرنی شروع کردی ہے۔ پاکستان کے رہنما حمایت حاصل کرنے کے لیے خلیجی ممالک کے دورے کر رہے ہیں، اقوام متحدہ میں التجا کر رہے ہیں، ہندوستان کے دوستوں سے اپیلیں کر رہے ہیں، لیکن کچھ نہیں ہو پا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب جیسے ممالک نے پاکستان پر ایک لفظ بھی نہیں کہا تو وہیں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ دہشت گردی پر ہندوستان کے ساتھ ہیں۔ یہی نہیں، انہوں نے کہا کہ پہلگام کے گنہگاروں کو نتائج بھگتنے ہوں گے۔
پاکستان نے سب سے پہلے کوشش کی کہ مسلم ممالک اس کے ساتھ آجائیں اور ہندوستان پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ حملہ کرنے کا ارادہ ترک کر دے۔ شہباز شریف نے خود کئی رہنماؤں سے بات کی۔ ان کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ پچھلے 8 دنوں سے چکر لگا رہے ہیں۔ لیکن ہندوستان کے خلاف جانے کیلئے کوئی تیار نہیں۔ پاکستانی سفارت کاروں نے یوروپی ممالک سے مدد مانگی لیکن وہاں سے بھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ امریکہ سے بھی مدد کی اپیل کی لیکن وہاں سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔یو این ایس سی میں ناکامی؟
مایوس ہو کر شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) سے اپیل کی۔ چین کی مدد سے ہندوستان کو مات دینے کی کوشش کی۔ لیکن جے شنکر کے اقدام سے وہ وہاں بھی ہار گیا۔ پاکستان چاہتا تھا کہ ہندوستان کے جارحانہ اقدامات اور اشتعال انگیز بیانات پر کھلی میٹنگ میں بات کی جائے لیکن 15 میں سے 13 ممالک نے ہندوستان کی حمایت کی جس کی وجہ سے پاکستان کا یہ اقدام ناکام ہو گیا۔ سلامتی کونسل نے کھلی میٹنگ کا مطالبہ مسترد کر دیا، یہ پاکستان کے لیے بڑا سفارتی دھچکا ہے۔ اب یہ ملاقات بند کمرے میں ہو رہی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نہیں چاہتا تھا کہ اس میں سرحد پار دہشت گردی پر بات ہو لیکن ہندوستان کی حمایت کرنے والے ان 13 ممالک نے واضح کیا کہ وہ سرحد پار دہشت گردی پر بھی بات کریں گے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی سانسیں رکی ہوئی ہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس سرحد پار دہشت گردی کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔
قومی سلامتی کے سابق نائب مشیر ڈاکٹر اروند گپتا نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک پاکستان کو اہمیت نہیں دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کھلا اجلاس نہ کرنے کا فیصلہ واضح پیغام ہے کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کی پاکستان کی کوششوں کو پذیرائی نہیں مل رہی ہے۔ یہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی طاقت اور دہشت گردی کے خلاف عالمی اتفاق رائے کی عکاسی کرتا ہے۔روس کی حمایت کیوں خاص؟
وہیں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے وزیراعظم مودی کو فون کرکے یکجہتی کا اظہار کیا۔ پوتن نے پہلگام حملے کی شدید مذمت کی اور زور دیا کہ اس وحشیانے حملے کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی لڑائی میں روس کے مکمل تعاون کا وعدہ کیا۔ روس کی حمایت اس لیے بھی خاص ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں ماسکو تک اپنی سفارتی رسائی بڑھانے کی کوشش کی تھی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے فون پر بات کی ، لیکن روس کی جانب سے حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس سے پاکستان کی سفارتی تنہائی مزید اجاگر ہوتی ہے۔
پہلگام کے دہشت گردوں کو حملہ میں کس نے کی مدد؟ این آئی اے کی جانچ میں آیا نیا نام، قندھار ہائی جیک سے جڑا لنک
Who helped Pahalgam Terrorist: پہلگام دہشت گردانہ حملے کی جانچ نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ اب تک سب کے ذہنوں میں ایک ہی سوال اٹھ رہا تھا کہ دہشت گرد وہاں کیسے پہنچے؟ کس طرح اتنی آسانی سے سیاحوں کا قتل کرکے نکل گئے اور کسی کی گرفت میں نہیں آئے ۔ ان کو آسمان انہیں کھا گیا یا زمین نگل گئی۔ لیکن اس حملے کی جانچ کرنے والی این آئی اے ٹیم نے اہم انکشافات کئے ہیں۔ ٹیم نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم العمر مجاہدین کے سربراہ مشتاق احمد زرگر کا اس میں کردار ہے۔
این آئی اے ٹیم نے کہا کہ اس واقعہ میں العمر مجاہدین کا اہم رول ہوسکتا ہے۔ بتادیں کہ ان کے حامیوں نے پہلگام حملے میں اوور گراؤنڈ کارکنوں کی مدد کی تھی۔ خیال ہرے کہ اس کا سرغنہ مشتاق احمد زرگر قندھار ہائی جیک کے دوران مسعود اظہر کے ساتھ ہندوستانی حکومت کی جانب سے رہا کیا گیا تھا ۔ اس وقت وہ پاکستان میں مقیم ہے۔ اس بات کا انکشاف سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں گرفتار اوور گراؤنڈ کارکنوں سے پوچھ گچھ کے دوران ہوا ہے۔زرگر کی دہشت گرد تنظیم پر ہندوستانی حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے۔ 2023 میں اس کے گھر کو قومی تفتیشی ایجنسی نے ضبط کر لیا تھا۔ این آئی اے ذرائع کے مطابق زرگر فی الحال پاکستان میں ہے، لیکن سری نگر سے ہونے کی وجہ سے اوور گراؤنڈ ورکرز کے حامیوں میں اس کی مضبوط گرفت ہے۔ اسی لیے پہلگام دہشت گردانہ حملے میں اس شخص کے کردار کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد کشمیر کی کئی کالعدم تنظیمیں تحقیقاتی ایجنسی کے ریڈار پر ہیں۔ کئی مجرم/دہشت گرد اس وقت این آئی اے کی حراست میں ہیں۔ 100 سے زائد اوور گراؤنڈ ورکرز (OGWs) کے ٹھکانوں پر سرچ آپریشنز کیے گئے ہیں۔ 90 سے زائد اوور گراؤنڈ ورکرز کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ این آئی اے مقامی انٹیلی جنس کی مدد سے پہلگام کے آس پاس کے کچھ مشکوک مقامات سے معلومات حاصل کر رہی ہے۔