’روہنگیا ہوں یا بنگلہ دیشی، ووٹر کارڈ 24 پرگنہ ضلع سے ہی بنتا ہے‘، امت شاہ کا ممتا سرکار پر حملہ
نئی دہلی: ‘رائزنگ بھارت سمٹ 2025’ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال میں غیر قانونی دراندازی کو لے کر ممتا بنرجی حکومت پر جم کر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بنگال کے عوام اگلے انتخابات میں بی جے پی کو حکومت بنانے کا موقع دیتے ہیں تو دراندازی کا مسئلہ جڑ سے ختم کردیا جائے گا۔ امت شاہ نے کہا کہ سرحد پر باڑ لگانے کے باوجود تقریباً 250 کلومیٹر کا علاقہ ہے جہاں دریاؤں، نالوں اور جغرافیائی وجوہات کی وجہ سے باڑ لگانا ممکن نہیں ہے۔ ساتھ ہی 400 کلومیٹر کا علاقہ ہے جہاں بنگال حکومت ہمیں زمین نہیں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ درانداز بنگلہ دیش سے آ کر براہ راست 24 پرگنہ ضلع میں آباد ہو رہے ہیں اور انہیں وہاں ووٹر کارڈ بھی مل رہا ہے ۔ میں ممتا دیدی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ انہیں ووٹر کارڈ کون دلوا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ دراندازوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر دیکھتا ہے۔امت شاہ نے بدھ کو کہا کہ پورا ملک جانتا ہے کہ سرحد پر باڑ لگانے کے بعد بھی تقریباً 250 کلومیٹر سرحد ایسی ہے جہاں باڑ نہیں لگائی جا سکتی۔ کیونکہ یہاں دریا، نالے اور مشکل جغرافیائی حالات ہیں جس کی وجہ سے باڑ لگانا ممکن نہیں۔ 400 کلومیٹر کی سرحد ہے جہاں بنگال حکومت ہمیں باڑ لگانے کے لیے زمین نہیں دے رہی۔ دوسری بات، خواہ وہ روہنگیا ہوں یا بنگلہ دیشی… ان کا ووٹر کارڈ کہاں بن رہا ہے؟ یہ تمام ووٹر کارڈ بنگال کے 24 پرگنہ ضلع سے ہی بنتا ہے۔امت شاہ نے مزید کہا کہ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں نریندر مودی کی حکومت ہے، ہم کسی کو ہندوستان کی ایک انچ زمین پر آنکھ نہیں ڈالنے دیں گے، انٹری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
پاکستان کو امریکہ نے برا پھنسایا، ٹیرف کے نام پر کررہا ’بلیک میل‘، مانگنے لگا یہ اہم خزانہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیرف کے ذریعے دنیا کے ممالک کو زیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بہت سے ممالک نے آہستہ آہستہ ٹرمپ کو سننا شروع کر دیا ہے۔ اب امریکہ نے ٹیرف دباؤ ڈال کر پاکستان کو بھی پھنسانا شروع کر دیا ہے۔ امریکہ اب پاکستان کا خزانہ چاہتا ہے۔ وہی خزانہ جو ابھی تک ٹرمپ یوکرین سے مطالبہ کر رہے تھے۔ اس خزانے کا نام Rare Earth Minerals ہے، یعنی زمین پر پائی جانے والی نایاب معدنیات۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیرف، تجارتی تعلقات، امیگریشن اور معدنیات پر تعاون کے امکان پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ممالک کی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے الگ الگ بیانات جاری کیے ہیں۔
دونوں کے درمیان یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس بات چیت سے پاکستان کو راحت ملے گی یا اس کے مسائل میں اضافہ ہوگا؟ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ امریکہ تمام درآمدات پر 10 فیصد بیس لائن ٹیرف اور درجنوں ممالک پر زیادہ شرحیں لگائے گا۔ ٹرمپ نے ان ممالک کو بھی نشانہ بنایا جو روایتی طور پر اس کے اتحادی رہے ہیں۔ ان فیصلوں نے عالمی تجارت کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف بھی اسی کا ایک حصہ ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق 2024 میں امریکہ پاکستان تجارتی خسارہ 3 بلین ڈالر تھا جو 2023 کے مقابلے میں 5.2 فیصد زیادہ ہے۔امریکہ چاہتا ہے معدنیات
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ روبیو اور ڈار نے پاکستان پر امریکی جوابی ٹیرف پر بات کی۔ دونوں نے منصفانہ اور متوازن تجارتی تعلقات کی طرف پیش رفت کے بارے میں بات کی۔ اس دوران امریکی وزیر خارجہ نے اہم معدنیات پر تعاون اور امریکی کمپنی کے لیے کاروباری مواقع بڑھانے کا امکان ظاہر کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ معدنیات کے حوالے سے دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعاون کرنا چاہتی ہے۔ مثال کے طور پر ٹرمپ روس یوکرین جنگ میں امریکی مدد کے بدلے یوکرین سے نایاب معدنیات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کانگو میں تنازع کے خاتمے کے لیے معدنیاتی شراکت داری پر بھی بات کی ہے۔چین کو ٹکر دینے کی تیاری؟
سوال یہ بھی ہے کہ کیا امریکہ معدنیات کے شعبے میں شراکت داری کرکے چین کا مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے؟ کیونکہ CPEC کے ذریعے چین نے پاکستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ اس کے علاوہ روبیو نے ڈار سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور غیر قانونی امیگریشن پر تعاون طلب کیا۔ حال ہی میں پاکستان نے بھی دہشت گردی کے خلاف امریکہ کے ساتھ تعاون کا اظہار کیا ہے۔ 2021 میں پاکستان نے کابل ایئرپورٹ بم دھماکے کے ذمہ دار محمد شریف اللہ کو امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔
ہم بھی ہندو لیکن... راہل گاندھی نے کیوں بتایا اپنا مذہب؟ ’کانگریس ہندو مخالف‘ کے بیانیہ کا جواب تو نہیں
: بی جے پی اکثر کانگریس کو ‘ہندو مخالف’ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ راہل گاندھی کے مذہب پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ لیکن اب راہل گاندھی نے خود اپنے مذہب کا انکشاف کیا ہے۔ بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ہم بھی اپنے آپ کو ہندو کہلاتے ہیں لیکن بی جے پی لیڈر جو کرتے ہیں وہ ہمارا مذہب نہیں ہے۔ ہمارا مذہب سب کو احترام دیتا ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی بار ہندو مذہب کے بارے میں بات کر چکے ہیں، جسے بی جے پی بڑا ایشو بناتی رہی ہے۔
کانگریس کے اے آئی سی سی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے وقف بل پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وقف بل پاس ہوا ، یہ مذہب کی آزادی پر حملہ ہے۔ یہ آئین پر حملہ ہے۔ وہ لوگ آرگنائزر میں کرسچن کی زمین کیلئے لکھتے ہیں، بعد میں سکھ کے لیے بھی آئیں گے۔ آپ ٹیکا رام جولی کو ہی دیکھئے، راجستھان میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں، مندر گئے، اسکے بعد بی جے پی نے لیڈروں نے مندر کو دھلوایا ، صاف کرویا، وہ اپنے آپ کو ہندو کہتے ہیں ۔ ایک دلت کو مندر جانے کا حق نہیں دیتے۔ جب جاتا ہے تو دھلوا دیا ، یہ ہمارا مذہب نہیں، ہم بھی اپنے آپ کو ہندو کہلاتے ہیں، مگر یہ ہمارا مذہب نہیں، ہمارے مذہب سب کو احترام دیتا ہے ۔بتادیں کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب راہل گاندھی نے اپنے مذہب کے بارے میں بات کی ہو۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران جب بی جے پی نے ان پر ہندو مخالف ہونے کا الزام لگایا تو کانگریس نے انہیں جینودھاری ہندو کے طور پر پیش کیا۔ اس دوران راہل گاندھی نے کئی مندروں کا دورہ کیا تھا۔ جب وہ گجرات کے سومناتھ مندر گئے تو ان کی مذہبی شناخت کے حوالے سے ایک بحث چھڑ گئی تھی۔
اس کے بعد 2021 میں ایک اور موقع آیا، جب جے پور میں ایک ریلی کے دوران راہل گاندھی نے کہا تھا کہ میں ہندو ہوں لیکن ہندوتوادی نہیں۔ انہوں نے دونوں میں فرق بھی بیان کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوازم سچائی اور عدم تشدد کا راستہ دکھاتا ہے، جب کہ ہندوتوا تشدد اور نفرت کو فروغ دیتا ہے۔ اس پر بھی بی جے پی نے ہنگامہ کھڑا کردیا تھا اور کہا تھا کہ راہل گاندھی ہندوتوا کو نفرتی بتا رہے ہیں۔