سیلم پور میں 17 سالہ لڑکے کا قتل کر دیا گیا، خوف سے ہندوؤں نے لگا دی ہجرت کے پوسٹر، اس واقعے میں لیڈی ڈان ذکرا کا نام سامنے آرہا ہے
اس وقت مشرقی دہلی کا سیلم پور علاقہ خبروں میں ہے۔ 17 سالہ نوجوان کنال کے قتل کے بعد یہاں کے ہندوؤں میں خوف کا ماحول ہے۔ اپنے گھروں سے نکلنے کے بعد لوگ علاقے سے نقل مکانی سے متعلق پوسٹر لگا رہے ہیں۔ علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اس قتل کیس میں علاقے کی ‘لیڈی ڈان’ ذکرا کا نام سامنے آرہا ہے۔ اہل خانہ نے ذکرا پر قتل میں ہاتھ ہونے کا الزام بھی لگایا ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ذکرا کے کردار کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ ذکرا پر نہ صرف کنال کے قتل کا الزام ہے بلکہ علاقے کے لوگ اس کے خوف سے بھاگنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ یہ ذکرا کون ہے؟ آئیے آپ کو اس کے بارے میں بتاتے ہیں۔
ذکرا کون ہے؟ذکرا سیلم پور علاقہ کی رہنے والی ہے۔ اسے چند روز قبل آرمز ایکٹ کے تحت جیل بھیجا گیا تھا۔ اسے علاقے میں لیڈی ڈان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ الزام ہے کہ اس کا اپنا گینگ ہے جس میں 10 سے 12 لڑکے شامل ہیں۔ الزام ہے کہ ذکرا ہمیشہ اپنے پاس ہتھیار رکھتی ہے۔ اس کے نام سے علاقے میں دہشت پھیل گئی ہے۔ ذکرا کے خلاف پہلے بھی کئی مقدمات درج ہیں۔ ذکرا سوشل میڈیا پر کافی ایکٹو رہتی ہیں۔ وہ ہتھیاروں اور اپنے غنڈوں سے ریل بناتی ہے اور انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کرتی ہے تاکہ علاقے میں خوف و ہراس برقرار رہے۔
ذکرہ کا ہاشم بابا گینگ سے تعلق؟
لیڈی ڈان ذکرا کا گینگسٹر ہاشم بابا کے گروپ سے تعلق حالیہ کنال قتل کیس کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ذکرہ کا تعلق ہاشم بابا گینگ سے بتایا جاتا ہے۔ ہاشم بابا دہلی کا بدنام زمانہ گینگسٹر ہے اور اس وقت منڈولی جیل میں بند ہے۔ اس کا گروہ قتل، بھتہ خوری اور منشیات کی سمگلنگ جیسے منظم جرائم میں ملوث رہا ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے ذکرا اور ہاشم بابا کے درمیان قطعی تعلق کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ پولیس اس معاملے میں ذکرا کی تلاش کر رہی ہے اور ہاشم بابا گینگ سے اس کے روابط کی گہرائی سے تفتیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
’1971 سے پہلے کے پرانے تعلقات کی طرف واپسی‘: کیا بنگلہ دیش کے ساتھ بگڑتے روابط انڈیا کے لیے نیا درد سر ہیں؟
شیخ حسینہ واجد کو گذشتہ برس اگست میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد بنگلہ دیش کی وزارت عظمی اور ملک چھوڑنا پڑا تھا۔
شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکمرانی کے خاتمے کے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں نوبل امن انعام یافتہ ماہر معیشت ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم ہوئی۔
بنگلہ دیش چھوڑنے کے بعد شیخ حسینہ نے انڈیا میں پناہ لی اور وہ تب سے ادھر ہی مقیم ہیں۔
انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات، جو شیخ حسینہ کے دور میں کافی مضبوط نظر آتے تھے، گذشتہ چند مہینوں میں مسلسل تناؤ کی طرف جاتے دکھائی دیے۔
حالیہ فیصلوں سے تلخی میں اضافہ ہوا
حال ہی میں بنگلہ دیش نے بندرگاہوں کے ذریعے انڈیا سے اون کی درآمد کو معطل کیا ہے۔
بنگلہ دیش کے نیشنل بورڈ آف ریونیو کا یہ فیصلہ بنگلہ دیش کی بیناپول، بھومارا، سونامسجد، بنگلہ بندھا اور بوریماری بندرگاہوں پر نافذ کیا گیا ہے۔ یہ وہ بندرگاہیں ہیں جن کے ذریعے سوت یا اُون انڈیا سے بنگلہ دیش درآمد کیا جاتا تھا۔
ابھی کچھ دن پہلے انڈیا نے بنگلہ دیش کے لیے اپنی ’ٹرانس شپمنٹ‘ کی سہولت واپس لے لی تھی، جس کے تحت بنگلہ دیشی برآمدات کو انڈین سامان کے علاوہ اپنے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں سے انڈین برآمدات کے ذریعے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان نے گذشتہ ہفتے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کو بذریعہ انڈیا ٹرانس شپمنٹ کی سہولت دینے کے باعث ملک (انڈیا) کی کئی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر ٹرکوں اور کنٹینروں وغیرہ کی بھیڑ کافی زیادہ بڑھ چکی تھی، جس کے سبب یہ فیصلہ لینا پڑا ہے۔
تاہم دونوں ممالک کی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کا موقف ہے انڈیا نے یہ تجارتی سہولت دراصل بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسرمحمد یونس کے اُس بیان کے بعد ختم کی ہے جس میں انھوں نے انڈیا کے شمال مشرقی خطے کو ’خشکی سے محصور خطہ‘ قرار دیا تھا اور چین سے کہا تھا کہ وہ اس خطے میں بنگلہ دیش کے توسط سے اپنی معیشت کو توسیع دے۔انڈیا کا ٹرانس شپمنٹ کی سہولت واپس لینے کا فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کے درمیان بنکاک میں ہونے والی ملاقات کے چند دن بعد آیا۔
17 اپریل کو جب انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’انڈیا بنگلہ دیش کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات استوار کرنے کی امید رکھتا ہے۔ ہم ایک جمہوری، جامع اور خوشحال بنگلہ دیش کے حق میں ہیں۔ جہاں تک تجارتی مسائل کا تعلق ہے تو گذشتہ ہفتے ہم نے نقل و حمل کی سہولت کے بارے میں اعلان کیا تھا کیونکہ ہم نے نقل و حمل کی سہولت کا یہ سب سے بڑا قدم اٹھایا تھا۔ لیکن میں آپ کو یہ بھی یاد دلانا چاہوں گا کہ ان اقدامات کا اعلان کرنے سے پہلے بنگلہ دیش کی طرف سے پیش رفت پر ایک نظر ڈالیں۔‘
واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد کو انڈیا میں سیاسی پناہ ملنے اور بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو نشانہ بنانے جیسے معاملات بھی دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو بڑھاتے نظر آتے ہیں۔
بنکاک میں بی آئی ایم ایس ٹی ای سی (بائیمسٹک) کانفرنس کے دوران وزیر اعظم مودی اور محمد یونس کے درمیان تقریباً 40 منٹ تک گفتگو ہوئی۔
اس گفتگو میں جہاں مودی نے ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کے تحفظ کا مسئلہ اٹھایا جنھیں بنگلہ دیش میں نشانہ بنایا جا رہا ہے تو وہیں ڈاکٹر یونس نے ان سے شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے ڈھاکہ کی درخواست کے بارے میں پوچھا۔چین اور پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ
حال ہی میں محمد یونس چین گئے اور وہاں ایک ایسا بیان دیا جس سے ایک نئے تنازعے نے جنم لیا ہے۔
محمد یونس نے انڈیا کے شمال مشرق کی سات ریاستوں کو ’لینڈ لاکڈ‘ ایریا قرار دیا اور بنگلہ دیش کو اس خطے میں سمندر کا واحد محافظ قرار دیا اور چین سے وہاں اقتصادی سرگرمیاں بڑھانے کی اپیل کی۔
بنکاک میں وزیر اعظم مودی اور محمد یونس کے درمیان بات چیت کے بعد انڈین حکومت نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے محمد یونس سے کہا کہ ’ایسے بیانات دینے سے گریز کریں جس سے ماحول خراب ہو۔‘
ایسی یہ اطلاعات تھیں کہ بنگلہ دیش چین اور پاکستان کی مدد سے لالمونیرہاٹ ایئربیس کو دوبارہ شروع کرنے کی منصوبے پر غور کر رہا ہے، جو انڈین سرحد کے بہت قریب ہے اور انڈیا کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ محمد یونس نے اپنے دورہ چین کے دوران اس ایئربیس کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ اس منصوبے میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کی بھی اطلاعات تھیں۔
پاکستان کی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ 16 اپریل کو ڈھاکہ پہنچیں۔ پندرہ سال بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان خارجہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات 17 اپریل کو شروع ہوئے، جس میں تجارتی تعلقات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چند روز بعد پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ڈھاکہ کے دورے پر جا رہے ہیں۔ سنہ 2012 کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا جب کوئی پاکستانی وزیر خارجہ بنگلہ دیش کا دورہ کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ بنگلہ دیش کی جانب سے تیستا پراجیکٹ میں چین کی شرکت کا خیرمقدم کرنے کو بھی انڈیا میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ کیا انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
چند ہفتے قبل بی بی سی بنگلہ سے بات کرتے ہوئے محمد یونس نے انڈیا کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات پر بات کی۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمارے تعلقات میں کوئی خرابی نہیں آئی، ہمارے تعلقات اچھے ہیں اور مستقبل میں بھی اچھے رہیں گے۔ ہمارے بہت قریبی تعلقات ہیں، ایک دوسرے پر بہت زیادہ انحصار ہے، تاریخی، سیاسی اور معاشی طور پر ہمارے تعلقات اتنے قریبی ہیں کہ ہم ان سے انحراف نہیں کر سکتے۔‘
لیکن ساتھ ہی محمد یونس نے بھی تناؤ کے امکان کو تسلیم کیا۔
انھوں نے اس انٹرویو میں کہا تھا کہ بنگلہ دیش اور انڈیا میں جھوٹے پروپیگنڈے کی وجہ سے کچھ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔ ہم اس غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘’بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کا کوئی جواز نہیں‘
وینا سیکری بنگلہ دیش میں انڈیا کی سفارتکار رہ چکی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کے خلاف احتجاج حکومت کی تبدیلی کی مہم تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ بنگلہ دیش میں موجودہ حکومت کا کوئی آئینی جواز نہیں ہے۔ اقتدار کی اس تبدیلی کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت میں محمد یونس کی قیادت والی حکومت کا انداز یقینی طور پر مختلف ہے۔ وہ 1971 سے پہلے کے پرانے تعلقات کی طرف لوٹ رہے ہیں، چاہے وہ پاکستان کے ساتھ ہوں یا کسی اور ملک کے ساتھ ہوں۔‘
چین کے ساتھ بنگلہ دیش کی بڑھتی ہوئی قربت پر وینا سیکری کہتی ہیں، ’جہاں تک چین کے ساتھ تعلقات کا تعلق ہے، بنگلہ دیش اور چین کے درمیان ماضی میں بھی تعلقات رہے ہیں، جہاں بنگلہ دیش چین سے اپنا تمام فوجی سازوسامان حاصل کرتا رہا ہے اور اقتصادی رابطہ بھی ہوا ہے، اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کے لیے اہم بات یہ ہے کہ انڈیا کی حفاظتی حدود کی پاسداری کی جائے۔‘آج بنگلہ دیش میں پاکستان کی اہمیت زیادہ ہے
نئی دہلی میں آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے پروفیسر ہرش وی پنت ’نیشنلسٹ پارٹی‘ کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ماضی میں بھی بنگلہ دیش میں ایسی حکومتیں تھیں جو انڈیا کے بارے میں زیادہ مثبت نہیں تھیں لیکن اس کے باوجود وہ انڈیا سے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے محتاط رہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کہنا بھی غلط ہے کہ شیخ حسینہ مکمل طور پر یکطرفہ حکمران تھیں۔ ان کے دور میں چین بنگلہ دیش کا سب سے بڑا دفاعی پارٹنر بن کر ابھرا۔ اس لیے وہ انڈیا اور چین کے درمیان توازن بھی برقرار رکھے ہوئے تھیں۔‘
ان کے مطابق ’کسی بھی دوطرفہ تعلقات کو دونوں طرف سے پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ لیکن ابھی ایسا لگتا ہے کہ محمد یونس انتظامیہ نے انڈیا کے ساتھ خاص طور پر حریفانہ رویہ اختیار کیا ہے۔‘
پروفیسر پنت کا کہنا ہے کہ اس وقت بنگلہ دیش کی انتظامیہ بہت سے لوگ چلا رہے ہیں جنھیں پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کی زیادہ فکر ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’چین کو چھوڑیے بلکہ آج بنگلہ دیش میں پاکستان کی زیادہ اہمیت ہے، جو کہ غیر معمولی ہے۔‘ ان کے مطابق محمد یونس نے انڈیا سے متعلق جس طرح کا بیان دیا ہے، وہ ہندوستان بنگلہ دیش تعلقات اور علاقائی صورتحال کے تئیں ایک طرح کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔‘انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بگاڑ؟
تو کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات خراب ہیں؟ پروفیسر ہرش پنت کی رائے یہی ہے۔ ان کے خیال میں دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’بنگلہ دیش کی نئی انتظامیہ نے جس طرح سے انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو سنبھالا ہے اس سے یقیناً تعلقات میں بہت زیادہ تناؤ آیا ہے اور بدقسمتی سے اس رویہ کو تبدیل کرنے کی کوئی خواہش نظر نہیں آتی۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم آنے والے وقت میں کوئی ڈرامائی تبدیلی دیکھیں گے۔‘
پروفیسر پنت کے مطابق چونکہ انڈیا کے شیخ حسینہ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے، اس لیے شیخ حسینہ کے جانے کے بعد تعلقات میں ایک نیا توازن آنا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’تعلقات مستحکم تھے اور شیخ حسینہ کے لیے انڈیا کی حمایت اس قدر مضبوط تھی کہ ان کی جگہ آنے والی کوئی دوسری انتظامیہ تعلقات میں ایک نیا توازن پیدا کر دیتی اور اس نئے توازن سے شاید انڈیا کے ساتھ تعلقات بدل جاتے۔ لیکن میرے خیال میں جو ہوا ہے وہ یہ ہے کہ محمد یونس انتظامیہ یقینی طور پر اس راستے پر چل رہی ہے جس کا انڈیا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کوئی عملی پہلو نہیں ہے۔‘
وینا سیکری بھی اس بات سے متّفق ہیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہو چکے ہیں۔
وینا کہتی ہیں کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ابھی اچھے تعلقات ہیں۔ یہ بنگلہ دیش کی حکومت نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس نے غیر آئینی اور بغیر کسی جواز کے اقتدار سنبھال رکھا ہے۔ یہ بات ہر وقت ذہن نشین رہنا ضروری ہے۔‘
ان کے مطابق انڈیا یقینی طور پر ضرورت کے مطابق حالات سے نمٹ رہا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ بینکاک میں پروفیسر محمد یونس کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں کے دوران، میں سمجھتی ہوں کہ سرحدوں کا واضح طور حدود کا تعین کیا گیا ہے۔
ہندوستان کی خارجہ سکریٹری نے گزشتہ سال دسمبر میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا۔ اگر ان حدود کا احترام نہیں کیا جا رہا ہے تو یہ الگ بات ہے۔ پھر انڈیا کو دیکھنا پڑے گا کہ اور کیا کرنا ہے۔‘یہ انڈیا کے لیے کتنی بڑی تشویش ہے؟
کیا بنگلہ دیش کے ساتھ بگڑتے تعلقات مستقبل میں انڈیا کے لیے نیا درد سر بنیں گے؟
پروفیسر پنت کہتے ہیں کہ ’جب آپ کے پاس کوئی ایسا پارٹنر ہے جسے آپ نے اتنے عرصے تک پالا ہے، تو یہ یقینی طور پر یہ انڈیا کے لیے ایک چیلنج ہے۔ شیخ حسینہ کے دور میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات بہت آگے بڑھ رہے تھے، چاہے وہ کنیکٹیویٹی، تجارت، سٹریٹجک تعلقات یا سرحدی مسائل ہوں، یہ تمام مسائل حل نہیں ہوئے ہوں گے، لیکن یہ سب ایک ایسی جگہ پر تھے جہاں یہ کوئی مسئلہ نہیں تھے مگر اب ہر کچھ منفیت کی نظر ہو رہا ہے۔‘
پروفیسر پنت کے مطابق موجودہ وقت بنگلہ دیش کے لیے بھی سازگار نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم آج کے بنگلہ دیش کو دیکھیں اور اس کا موازنہ چند ماہ پہلے کے بنگلہ دیش سے کریں جب شیخ حسینہ وزیر اعظم تھیں تو نظر آئے گا کہ شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش کو ایک خاص سیاسی اور معاشی استحکام دیا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’صرف چند مہینوں میں آپ بنگلہ دیش کی معیشت کو واپس تنزلی کی طرف جاتے دیکھ رہے ہیں اور ساتھ بنگلہ دیش کا سماجی اور سیاسی توازن بھی غیر مستحکم ہوا ہے۔‘
مرشدآباد تشدد: جمعہ کے مد نظر اضافی فورس تعینات، جعفر آباد میں نقل مکانی کرنے والے واپس لوٹ رہے، پولیس کا دعویٰ -
شمشیر گنج: وقف ترمیمی قانون کی مخالفت میں شروع ہوے مرشد آباد تشدد معاملے میں نو رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔ ایس آئی ٹی کے نمائندوں نے بدھ کی شام سے شمشیر گنج میں تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ جمعرات کو ایس آئی ٹی کے ایک وفد نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرہ اور عام لوگوں سے بات چیت کی۔
دریں اثناء جمعہ کے روز نماز جمعہ کے موقع پر حساس علاقوں میں پولیس کی اضافی نفری کو خصوصی احتیاط کے طور پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور عوامی نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ شمشیر گنج میں امن لوٹ رہا ہے۔ بدامنی کی آگ بجھ چکی ہے۔ بے گھر افراد نے اپنے خوف پر قابو پا کر گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔
جنگی پور پولیس کے ضلع سپرنٹنڈنٹ آنند موہن رائے نے کہا، تشدد کے سلسلے میں اب تک کل 60 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ کل 274 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بہت سی اشیاء ضبط کی گئی ہیں۔ تاہم، کوئی دھماکہ خیز اسلحہ ضبط نہیں کیا گیا ہے۔ ضلع سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ، اس واقعے کو کوئی سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مزید جانکاری دیتے ہوے کہا کہ، جمعہ کے لیے اضافی فورسز کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ شمشیر گنج میں انٹرنیٹ خدمات بدستور بند ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اس بارے میں کوئی صحیح معلومات نہیں دے سکے کہ انٹرنیٹ خدمات کب بحال کی جائیں گی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ تشدد سے تباہ شمشیر گنج آہستہ آہستہ معمول پر آ رہا ہے۔ علاقے میں ضلع اور ریاستی پولیس کے ساتھ بڑی تعداد میں مرکزی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ بدھ کو کاسمیٹکس کی دکان میں آگ لگنے کے علاوہ کوئی نئی کشیدگی پیدا نہیں ہوئی۔ تاہم پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ آگ لگنے کے پیچھے کوئی مجرمانہ ہاتھ نہیں تھا_
شمشیر گنج: وقف ترمیمی قانون کی مخالفت میں شروع ہوے مرشد آباد تشدد معاملے میں نو رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔ ایس آئی ٹی کے نمائندوں نے بدھ کی شام سے شمشیر گنج میں تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ جمعرات کو ایس آئی ٹی کے ایک وفد نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرہ اور عام لوگوں سے بات چیت کی۔
دریں اثناء جمعہ کے روز نماز جمعہ کے موقع پر حساس علاقوں میں پولیس کی اضافی نفری کو خصوصی احتیاط کے طور پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور عوامی نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ شمشیر گنج میں امن لوٹ رہا ہے۔ بدامنی کی آگ بجھ چکی ہے۔ بے گھر افراد نے اپنے خوف پر قابو پا کر گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔
جنگی پور پولیس کے ضلع سپرنٹنڈنٹ آنند موہن رائے نے کہا، تشدد کے سلسلے میں اب تک کل 60 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ کل 274 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بہت سی اشیاء ضبط کی گئی ہیں۔ تاہم، کوئی دھماکہ خیز اسلحہ ضبط نہیں کیا گیا ہے۔ ضلع سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ، اس واقعے کو کوئی سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مزید جانکاری دیتے ہوے کہا کہ، جمعہ کے لیے اضافی فورسز کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ شمشیر گنج میں انٹرنیٹ خدمات بدستور بند ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اس بارے میں کوئی صحیح معلومات نہیں دے سکے کہ انٹرنیٹ خدمات کب بحال کی جائیں گی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ تشدد سے تباہ شمشیر گنج آہستہ آہستہ معمول پر آ رہا ہے۔ علاقے میں ضلع اور ریاستی پولیس کے ساتھ بڑی تعداد میں مرکزی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ بدھ کو کاسمیٹکس کی دکان میں آگ لگنے کے علاوہ کوئی نئی کشیدگی پیدا نہیں ہوئی۔ تاہم پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ آگ لگنے کے پیچھے کوئی مجرمانہ ہاتھ نہیں تھا۔
جعفرآباد میں مرکزی فوج کا کیمپ کھول دیا گیا ہے۔ اسی گاؤں میں ایک باپ بیٹا پرتشدد حملے میں مارے گئے۔ خوف کے عالم میں جعفرآباد کے 80 فیصد لوگوں نے اپنا گھر بار چھوڑ کر مالدہ کے پناہ گزین کیمپوں یا جھارکھنڈ میں رشتہ داروں کے گھروں میں پناہ لی۔ ان میں سے 43 بدھ کی شام تک اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ پولیس انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ جمعرات تک گھروں کو لوٹنے والوں کی تعداد 80 ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق جمعرات کو زیادہ تر دکانیں کھلیں۔ سبزی منڈی بھی معمول پر آگئی۔ خوف و ہراس کے باوجود نئی بدامنی کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ایس آئی ٹی کے نمائندے بدھ کو شمشیر گنج میں داخل ہوئے۔ ایس آئی ٹی نے پولس کے ساتھ مل کر تحقیقات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ نو رکنی وفد متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہا ہے۔ مقامی پولیس نے انتظامیہ کے ساتھ دو میٹنگیں بھی کیں۔ شمشیر گنج بلاک میں ابھی تک انٹرنیٹ خدمات بحال نہیں ہوسکی ہیں۔ انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کا انحصار صورتحال پر ہے۔