درست غذا کا انتخاب آپ کو موٹاپے سے کیسے بچا سکتا ہے؟
موٹاپا ایک ایسی بیماری ہے جو کھانے پینے کی بے احتیاطی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ایک مرتبہ کوئی اس کا شکار ہو جائے اور وہ اس پر قابو پانے کے لیے کوئی حکمت عملی نہ اپنائے تو یہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو نقصان پہنچاتی رہتی ہے۔
موٹاپے کی وجہ سے انسان کو کئی ایک دوسری بیماریاں بھی لاحق ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین نے کچھ ایسے ٹوٹکے بتائے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر باآسانی اس بیماری پر کنٹرول پایا جا سکتا ہے۔
درست خوراک کا انتخاب
ماہرین کے مطابق آپ کو اپنی خوراک کے بارے میں شعور ہونا چاہیے، یعنی آپ کو علم ہونا چاہیے کہ آپ کی صحت کے لیے کون سی خوراک اچھی ہے اور کون سی نہیں۔
کھانے میں ہمیشہ ایسی غذائیں منتخب کریں جو قدرتی اجزا پر مشتمل ہوں اور کم سے کم پروسیس شدہ ہوں کیونکہ زیادہ تر پروسیس شدہ کھانوں میں غذائیت کم اور کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں۔
آپ کو ایک متوازن اور صحت مند غذا کا انتخاب کرنا چاہیے۔یہ نہ کہ صرف موٹاپے سے بچاؤ میں مدد فراہم کرے گی بلکہ مجموعی طور پر صحت کے لیے فائدہ مند ہو گی۔
روزانہ باقاعدگی سے ورزش
روزانہ ورزش کرنا نہ صرف کیلوریز جلانے میں مدد فراہم کرتا ہے بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔
ماہرین عام طور پر روزانہ کم از کم 30 منٹ کی ورزش تجویز کرتے ہیں تاکہ صحت مند طرزِ زندگی برقرار رکھا جا سکے۔جب آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں تو اس سے آپ کو جسمانی طور پر متحرک رہنے میں مدد ملتی ہے۔
اس عادت سے آپ کو وزن کنٹرول کرنے، دل کی صحت بہتر بنانے، ذہنی سکون حاصل کرنے اور دیگر کئی شاندار طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
سکون والی نیند سوئیں
نیند کو موٹاپے کے خطرے کے طور پر اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے تاہم تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ گذشتہ برسوں میں نیند کے مجموعی دورانیے میں نمایاں کمی آئی ہے۔ناکافی نیند نہ صرف وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے بلکہ دیگر کئی صحت کے مسائل کے خطرے کو بھی بڑھا دیتی ہے۔
موٹاپا کئی سنگین طبی مسائل کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔یہ نہ کہ صرف موٹاپے سے بچاؤ میں مدد فراہم کرے گی بلکہ مجموعی طور پر صحت کے لیے فائدہ مند ہو گی۔
روزانہ باقاعدگی سے ورزش
روزانہ ورزش کرنا نہ صرف کیلوریز جلانے میں مدد فراہم کرتا ہے بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔
ماہرین عام طور پر روزانہ کم از کم 30 منٹ کی ورزش تجویز کرتے ہیں تاکہ صحت مند طرزِ زندگی برقرار رکھا جا سکے۔
یوکرین جنگ: ’تین دن کی عارضی جنگ بندی‘ سے پوتن کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
جنگ بندی کب امن قائم کرنے کی سنجیدہ کوشش ہوتی ہے؟ اور کب صرف تشہیر حاصل کرنے کی کوشش؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو حالیہ دنوں میں متعدد بار اٹھایا گیا۔ اکثر اس سوال کا تعلق روسی صدر ولادیمیر پوتن سے تھا کیوں کہ مختصر جنگ بندی ایک روسی رواج بنتا جا رہا ہے۔
پہلے پوتن نے ایسٹر کے موقع پر 30 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا اور اسے انسانی ہمدردی کے طور پر پیش کیا۔ اب پوتن نے یکطرفہ طور پر مئی کے اوائل میں تین دن کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے جو آٹھ مئی سے دس مئی تک جاری رہے گی۔ ان دنوں میں دوسری عالمی جنگ کے اختتام کو 80 سال ہو جائیں گے۔
ایک بیان میں کریملن کی جانب سے کہا گیا کہ 72 گھنٹوں کے لیے تمام عسکری کارروائیاں رک جائیں گی۔ اس بیان میں بھی انسانی ہمدردی کا ذکر کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ روس کو توقع ہے کہ یوکرین بھی اس کی پاسداری کرے گا۔
اس تجویز کے جواب میں یوکرین نے سوال اٹھایا ہے کہ روس فوری طور پر جنگ بندی کیوں نہیں کر سکتا اور ساتھ ہی ساتھ جنگ بندی کی مدت کم از کم 30 دن کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
یوکرین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’اگر روس واقعی امن چاہتا ہے تو اسے فوری جنگ بندی کرنی چاہیے، آٹھ مئی تک کا انتظار کیوں؟‘ایسے میں یہ سوال موجود ہے کہ تین سال قبل یوکرین پر حملہ کرنے والے روسی صدر کی جانب سے کیا یہ لڑائی روکنے کی ایک سنجیدہ اور مخلص کوشش ہے؟ یا پھر وہ صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دکھانے کے لیے ایک مشق کر رہے ہیں؟
روسی ناقدین یقینا اسے تشہیر کی کوشش سمجھیں گے۔ ایسٹر پر جنگ بندی کے دوران یوکرین نے بارہا روسی فوجیوں پر اس کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
ماسکو نے جنگ میں 30 گھنٹے کے تعطل کے اعلان سے وائٹ ہاؤس کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اس جنگ میں روس امن پسند ہے جبکہ یوکرین جارح ہے۔ روس نے یوکرین پر الزام لگایا کہ اس نے امن کی پیشکش کو نظر انداز کرتے ہوئے جنگ کو طوالت دی۔
لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ ٹرتھ سوشل نامی پلیٹ فارم پر ٹرمپ نے لکھا کہ ’شہری علاقوں میں میزائل داغنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ وہ (پوتن) جنگ کو روکنا نہیں چاہتے اور اب کچھ مختلف کرنا ہو گا، بینکنگ یا پابندیوں کے ذریعے کیوں کہ بہت زیادہ لوگ مر رہے ہیں۔‘اور ایسے میں روس کی جانب سے ایک بار پھر جنگ بندی کا اعلان سامنے آ گیا جو اس بار گزشتہ جنگ بندی سے کچھ طویل ہے، یعنی تین دن۔ اور اس بار بھی انسانی ہمدردی کی بات کی گئی ہے۔
کیا یہ بھی امریکہ کو دکھانے کی کوشش ہے کہ روس کا ارادہ مثبت ہے؟ اور یہ کہ اس سب کے بیچ روس برا نہیں؟
اگر ایسا ہے تو یہ کوشش بھی شاید کامیاب نہیں ہوئی۔ وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے عارضی جنگ بندی کی پیشکش پر کہا کہ ’امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ وہ مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں تاکہ خونریزی ختم ہو اور وہ دونوں ممالک کے سربراہان سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔‘
یہ ایک عندیہ ہے کہ روس کی جانب امریکی صدر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے اگرچہ کہ حالیہ مہینوں میں ان کی تنقید کا نشانہ یوکرین کے صدر بنتے رہے ہیں۔گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے روس اور یوکرین پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ تیس دن کی جنگ بندی پر اتفاق کریں۔ یوکرین نے حامی بھر لی تھی لیکن روس نہیں مانا۔
تاہم اب سینئر روسی حکام پوتن کی جانب سے تین دن کی جنگ بندی کی پیشکش کے بعد یوکرین کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
روسی پارلیمان کے ایوان زیریں کے سپیکر نے روسی سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے یقین نہیں ہے کہ زیلینسکی ہمارے صدر کے فیصلے کی حمایت کریں گے اور جنگ بندی قبول کریں گے۔‘
یہ زیادہ حوصلہ افزا بات نہیں ہے اور وہ بھی جنگ بندی کے اعلان کے فوری بعد۔
ہاتھ ملانے پر خوبصورت شاعرانہ نوک جھونک، شعرا کے دلچسپ اختلاف رائے پر منتخب کلام سنیے -
اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا
بشیر بدر
دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ
دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیے
ندا فاضلی
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
بشیر بدر
دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو
کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے
ایمان قیصرانی
حال پوچھا نہ کرے ہاتھ ملایا نہ کرے
میں اسی دھوپ میں خوش ہوں کوئی سایہ نہ کرے
کاشف حسین غائر
ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے
وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے
گلزارتم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
احمد فراز
بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا
بشیر بدرکتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں
میں نے شاید دیر لگادی خود سے باہر آنے میں
عزم بہزاد
خوب رکھا ہے رفاقت کا بھرم اس نے وصی
کٹ چکے ہاتھ تو پھر ہاتھ ملانے آئے
وصی شاہ
دنیا تو ہم سے ہاتھ ملانے کو آئی تھی
ہم نے ہی اعتبار دوبارہ نہیں کیا
عنبرین حسیب عنبر
جان دے سکتا ہے کیا ساتھ نبھانے کے لیے
حوصلہ ہے تو بڑھا ہاتھ ملانے کے لیے
شکیل اعظمی
افسوس یہ وبا کے دنوں کی محبتیں
اک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے بھی گئے
سجاد بلوچ
اس اجنبی سے ہاتھ ملانے کے واسطے
محفل میں سب سے ہاتھ ملانا پڑا مجھے
حسن عباسیحیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو
کتنی دور سے آئی ہے یہ بارش ہاتھ ملانے کو
سعود عثمانی