Monday, 28 April 2025

*🔴سیف نیوز اردو*






دھماکہ سے دہلا ایران، شہید رجائی بندرگاہ پر بڑا حادثہ، 516 افراد زخمی، کنٹینروں میں لگی بھیانک آگ
Iran Massive Explosion: ایران کے بندر عباس میں ہفتے کے روز ایک زبردست دھماکے کے بعد بھیانک آگ لگنے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ ایران کے جنوبی بندرگاہی شہر رجائی پورٹ پر پیش آیا۔ یہ ایک اہم کاروباری مرکز ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اہلکار مہرداد حسن زادہ نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ دھماکے میں کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ وہیں ارنا خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی ایمرجنسی آرگنائزیشن کے ترجمان نے بتایا کہ بندر عباس میں ایک خوفناک دھماکے کے بعد ہنگامی فورسز کو فوری طور پر ہائی الرٹ اور 516 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب تک 10 ایمبولینسیں اور ایک ایمبولینس بس جائے حادثہ کے لیے روانہ کردی گئی ہیں۔ واقعے کی سنگینی سے نمٹنے کے لیے شیراز کا ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ مکمل الرٹ پر ہے اور زخمیوں کی فوری طبی امداد کے لیے ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔اہلکار وں کے مطابق دھماکہ رجائی پورٹ کے کنٹینر ایریا میں ہوا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں بندرگاہ سے کالے دھوئیں کا ایک بڑا بادل اٹھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس سے واقعہ کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ رجائی بندرگاہ ایران کی مصروف ترین بندرگاہوں میں سے ایک ہے جو بنیادی طور پر کنٹینرز کی آمدورفت کو سنبھالتی ہے۔

اس بندرگاہ پر تیل کے ٹینک اور دیگر پیٹرو کیمیکل ذخیرہ کرنے کی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ اس سے دھماکے کی نوعیت اور ممکنہ نقصان کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ فی الحال دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے اور حکام جانچ میں مصروف ہیں۔بتا دیں کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے، جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی پہلے ہی بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے اس دھماکے کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا بازار بھی گرم ہو گیا ہے۔











بچوں کا حد سے زیادہ سکرین ٹائم ان کی ذہنی صحت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
آج کے دور میں بچوں کا حد سے زیادہ سکرین ٹائم ایک تشویشناک مسئلہ بن گیا ہے۔ سکرینز ہماری زندگیوں کا ایک اہم حصہ بن گئی ہیں۔ لیکن پہلے ہمیں سمجھنا ہو گا کہ سکرین ٹائم کا مطلب کیا ہے؟
این ڈی ٹی وی کے مطابق سکرین ٹائم وہ کُل وقت ہے جو روزانہ سکرین دیکھنے میں صرف ہوتا ہے جیسے کہ موبائل فون، ٹی وی، کمپیوٹر، ٹیبلیٹ، یا ہاتھ سے پکڑے ہوا کوئی بصری آلہ۔
جس طرح ہم متوازن غذا کھاتے ہیں، اسی طرح سکرینوں کو بھی صحیح طریقے سے منتخب کرنے اور صحیح مقدار اور صحیح وقت پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔سکرین کا وقت ہمارے استعمال کے طریقے کی بنیاد پر صحت مند یا غیرصحت بخش ہو سکتا ہے۔ تعلیمی، سماجی سرگرمیوں جیسے سکول کا کام، دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ بات چیت کے لیے سکرین پر وقت گزارنا صحت مند طریقہ ہے، جبکہ نامناسب ٹی وی شو دیکھنا، غیرمحفوظ ویب سائٹس پر جانا، نامناسب پُرتشدد ویڈیو گیمز کھیلنا غیرصحت مند سکرین ٹائم کی کچھ مثالیں ہیں۔
انڈین اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کی سکرین ٹائم گائیڈلائنز کے مطابق دو برس سے کم عمر کے بچوں کو کسی بھی قسم کی سکرین کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ دو سے پانچ برس کی عمر کے بچوں کے لیے یہ دورانیہ ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
بڑے بچوں اور نوعمروں کے لیے ضروری ہے کہ سکرین کے وقت کو دیگر سرگرمیوں جیسے جسمانی سرگرمی، مناسب نیند، سکول کے کام کے لیے وقت، کھانے، مشاغل، اور خاندانی وقت کے ساتھ متوازن رکھیں۔سکرین کے زیادہ استعمال کے مضر اثرات
سکرین کا زیادہ استعمال چھوٹے بچوں سے لے کر نوعمروں تک تمام عمر کے بچوں کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ بچوں میں تاخیر سے بولنے، جارحیت، تشدد، فوری تسکین کی خواہش، نظرانداز ہونے کا خوف، چھوڑے جانے کا خوف، منشیات کے استعمال، خود کو نقصان پہنچانے، اضطراب اور ڈپریشن کا باعث بن سکتا ہے۔
سکرین کا حد سے زیادہ استعمال نہ صرف ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ بالواسطہ طور پر جسمانی صحت کو بھی متاثر کرتا ہے۔









سلطنت عثمانیہ کی تقسیم: فرانس اور برطانیہ نے سو سال قبل کیسے مشرق وسطیٰ کے خطے اور تیل کی بندربانٹ کی
یہ واقعہ اپریل سنہ 1920 کا ہے جب فرانس اور برطانیہ نے ایک صبح اٹلی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک کانفرنس کا آغاز کیا۔ کانفرنس کا ایجنڈا مشرق وسطی میں سلطنت عثمانیہ کی تقسیم کو حتمی شکل دینا تھا۔

ٹھیک 101 سال پہلے 19 سے 26 اپریل تک جاری رہنے والی اس سان ریمو کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ لبنان اور شام فرانس کے ماتحت ہوں گے اور عراق اور فلسطین پر برطانیہ کا تسلط ہوگا۔

دنیا کی دو بڑی نوآبادیاتی طاقتوں کے مابین اس تقسیم پر چار سال پہلے ہی ایک خفیہ میٹنگ میں اتفاق کیا گیا تھا اور روس نے بھی اس پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

سائکس- پکوٹ کے نام سے معروف اس معاہدے میں فرانس کی جانب سے فرانسوا جارجز پکوٹ اور برطانیہ کے سر مارک سائکس نے شرکت کی تھی۔

نہ صرف مشرق وسطی کے موجودہ نقشے بلکہ اس پیدا ہونے والے بہت سارے مسائل جو آج تک جاری ہیں ان کی بنیاد اسی موسم بہار میں رکھی گئی تھی۔

مشرق وسطی کے امور کے ماہر اور یونیورسٹی آف سرجی-پونٹوئز میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ژاں پال چینگنولاڈ کہتے ہیں: 'سان ریمو میں جو کچھ ہوا اس کے نتائج بہت ہی ڈرامائی تھے۔ سالوں تک فرانس اور برطانیہ فیصلے کرتے رہے، جس کے نتیجے میں ایسے ممالک وجود میں آئے جو خود کو ملک نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ وہ خودمختار نہیں تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جو مسئلہ آج ہم فلسطین، لبنان، عراق اور شام میں دیکھ رہے ہیں وہ سنہ 1920 کی دہائی اور بعد کے سالوں کے واقعات سے وابستہ ہیں۔'

سنہ 2016 میں جب سائکس-پیکوٹ معاہدے کا سو سال مکمل ہوا تو میڈیا میں اس کے تعلق سے کافی دلچسپی نظر آئی، لیکن سان ریمو کانفرنس کے سو سال یونہی گزر گئے، گویا کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا۔

شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ سائکس-پیکوٹ معاہدے کو راز رکھا گیا تھا اور جب اس کی معلومات عام کی گئیں تو اسے ایک تاریخی واقعہ کے طور پر دیکھا گیا۔ برطانیہ اور فرانس دونوں ممالک کے سفارت کاروں کا خیال تھا کہ یورپ کے نظام کے تحت مشرق وسطی بہتر رہے گا۔برطانیہ کے وعدے
عرب دنیا اس بات سے برسوں تک بے خبر رہی کہ برطانیہ اور فرانس کے مابین ہونے والے معاہدے میں ان وعدوں کو دفن کردیا گیا جو انگریزوں نے ان سے کیے تھے۔

برطانیہ نے عربوں کو یقین دلایا تھا کہ اگر وہ سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرتے ہیں تو اس سے ان کے تسلط کا خاتمہ ہوجائے گا اور وہ خود مختار ملک کا درجہ حاصل کرلیں گے۔

کہا جاتا ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران اتحادیوں کی فتح وہ اہم موڑ ہے جہاں سے سلطنت عثمانیہ کا زوال شروع ہوا تھا۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد کے منصوبے کے مطابق شام پر فرانس اور عراق اور فلسطین پر برطانیہ کا تسلط قائم ہوا۔

اور یہ سب کچھ لیگ آف نیشن (اقوام متحدہ سے پہلے ایک بین الاقوامی ادارہ) کی نگرانی میں ہوا۔
سٹین فورڈ یونیورسٹی میں برطانوی سلطنت کی ماہر تاریخ دان اور پروفیسر پریا سیتیا کا کہنا ہے کہ 'برطانیہ نے مشرق وسطی میں عثمانی حکمرانی کے خلاف عرب ممالک کی بغاوت میں مدد کی۔ لیکن جنگ کے دوران برطانیہ نے علیحدہ علیحدہ قوتوں سے بہت سارے وعدے کیے۔

'برطانیہ نے عربوں سے کہا کہ وہ فلسطین پر آزادانہ طور پر حکمرانی کرسکتے ہیں۔ انھوں نے فرانسیسیوں سے وعدہ کیا کہ وہ اپنے درمیان کچھ علاقوں کو تقسیم کرلیں گے۔ اور پھر بالفور کے اعلامیہ میں انھوں نے فلسطین میں یہودیوں کو ایک وطن فراہم کرنے کا وعدہ کر لیا۔'وہ آزادی کے لیے تیار نہیں'
لیکن سان ریمو کانفرنس میں اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ لایڈ جارج فرانسیسی حکومت کے سابق سربراہ الیگزینڈر ملرینڈ، اس وقت کے اطالوی وزیر اعظم فرانسسکو نِٹٹی اور جاپانی سفیر کشیرو ماتسوئی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشرق وسطی کا علاقہ مکمل آزادی کے حصول کے لیے تیار نہیں ہے۔

پروفیسر چینگنولاڈ کا کہنا ہے کہ 'فرانس اور برطانیہ نے پہلے ہی مشرق وسطی کی تقسیم کردی تھی۔ سان ریمو میں ہونے والی بات چیت ان علاقوں میں انتظامیہ کے حقوق کے فیصلے پر مرکوز تھی۔ فلسطین اور بالفور اعلامیہ کے بارے میں ایک طویل بحث ہوئی جو کئی گھنٹے جاری رہی۔'

بالفور اعلامیہ پر دو نومبر سنہ 1917 کو پہلی عالمی جنگ کے دوران ہی دستخط کر دیے گئے تھے۔ اس میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کو گھر دینے کا وعدہ کیا تھا۔

برطانیہ اور فرانس نے لیوانٹ کے علاقے کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ لیوانٹ کا علاقہ شام، اردن، اسرائیل، لبنان، فلسطین اور ترکی کے بیشتر حصوں پر مشتمل ہے۔

لبنان کو عیسائیوں اور ڈروز افراد کی پناہ گاہ کے طور پر دیکھا گیا۔ فلسطین کا انتخاب یہودی برادری کے لیے کیا گیا تھا۔ جبکہ لبنان اور شام سے متصل وادی بیکا کو شیعہ مسلمانوں کا علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ شام سنی مسلمانوں کےلیے مختص کیا گیا۔پنسل اور سکیل سے تیار نقشے
جب دنیا کے اس علاقے کے نقشے کو دیکھا جاتا ہے تو اس بات کی بہت حد تک تصدیق ہو جاتی ہے۔

بہت سارے ماہرین اس بات سے متفق ہیں کہ مشرق وسطی کے ممالک کی سرحدوں کو اس خطے کی معلومات کے بغیر پنسل اور سکیل کی مدد سے نقشے پر کھینچا گیا تھا۔

فرانس اور برطانیہ نے اس خطے میں آباد لوگوں کی نسل، برادری اور زبان کے اختلافات کو نظرانداز کردیا۔

سان ریمو کانفرنس میں کچھ چیزوں پر اختلافات تھے۔ فرانس اور برطانیہ کے مابین بہت سے معاملات پر مکمل اتفاق رائے نہیں تھا۔

پروفیسر ژاں پال چینگنولاڈ کا کہنا ہے کہ 'فرانس نے بالفور اعلامیہ کی حمایت کی تھی لیکن وہ فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق کی ضمانت دینا بھی چاہتے تھے۔ دونوں ممالک کے مابین اس معاملے پر سخت بحث ہوئی۔'

اس سے پہلے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ امریکیوں کے زیر قبضہ علاقے میں برطانوی مینڈیٹ نافذ ہوگا یا نہیں، لیکن مہینوں تک جاری رہنے والے سفارتی مذاکرات کے بعد برطانیہ فرانس کو اس علاقے کی تنظیم نو میں شامل کرنے پر راضی ہوگیا۔امریکہ کا کردار
کالج ڈے فرانس میں عرب دنیا کی معاصر تاریخ کے پروفیسر ہنری لارنس کا کہنا ہے کہ 'فرانس کو اپنے منصوبے میں شامل کرنے پر برطانیہ اس لیے راضی ہوگیا کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا کہ پورے مشرق وسطی کو کنٹرول کرنے کے لیے اس کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں۔'

امریکہ اس مذاکرات سے وارسا کے معاہدے کی سینیٹ سے منظوری کے بعد پیچھے ہٹ گیا۔ وارسا معاہدہ پہلی جنگ عظیم کے بعد ہوا تھا۔

سان ریمو کانفرنس میں آرمینیا اور کردوں کے لیے علیحدہ ریاست کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکہ نے آرمینیا کے لیے مینڈیٹ جاری کرنے سے انکار کردیا۔ کانفرنس میں سلطنت عثمانیہ کے کچھ علاقوں کی تقدیر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

چار ماہ بعد اگست سنہ 1920 میں سیوریس معاہدہ ہوا جس میں عثمانی حکمرانوں نے ہارے جانے والے علاقوں پر برطانیہ اور فرانس کے تسلط کو قبول کر لیا۔

یہیں سے سلطنت عثمانیہ کے زوال اور ترکی کے قیام کی بنیاد پڑی اور تین سال بعد ترکی معرض وجود میں آیا۔

سیوریس معاہدے کو باقاعدہ طور پر سان ریمو کانفرنس میں ہی عملی جامہ پہنایا گیا۔تقسیم کے تین اصول
ابتدا میں سائکس- پیکوٹ معاہدے کے تحت یہ منصوبہ بنایا گیا تھا کہ مشرق وسطی کو آزاد ممالک میں تقسیم کیا جائے گا اور عراق میں کنٹرول والے علاقوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔

لیکن سنہ 1919 کے آغاز کے ساتھ ہی یہ منصوبہ ترک کردیا گیا۔ جب یہ طے ہو گیا کہ صرف ایک کام کرنا باقی ہے اور وہ تھا ان کے زیر نگیں علاقوں کی حدود کا تعین۔

سان ریمو کانفرنس میں نوآبادیاتی قوتوں نے اس کے لیے تین رہنما اصولوں کو بنیاد بنایا۔ پہلے اصول کے تحت فلسطین کو بائبل سے منسلک کیا گیا۔

پروفیسر ہنری لارنس کا کہنا ہے کہ 'دوسرا اصول یہ اپنایا گیا کہ فرانس اپنے زیر اقتدار علاقوں میں یہودی آباد کاری نہیں چاہتا ہے۔ اسی وجہ سے لبنان اور شام کے درمیان ایک چھوٹا سا علاقہ گیلالی فرانسیسی زیر کنٹرول شام کی بجائے فلسطین میں قائم برطانوی راج میں شامل کیا گیا کیونکہ وہاں یہودی آبادیاں تھیں۔'

اور آخری یہ کہ برطانیہ چاہتا تھا کہ فلسطین اور عراق اس کے زیرنگیں رہیں۔

پروفیسر ہنری لارنس کا کہنا ہے کہ 'اگر ہم نقشے پر نظر ڈالیں تو عراق سے اردن تک کا علاقہ ایک راہداری کی طرح محسوس ہوتا ہے اور شام کی سرحد سعودی عرب کے ساتھ نہیں ملتی ہے۔'فرانس اور برطانیہ نے صرف نقشہ کھینچا
پروفیسر ہنری لارنس کا کہنا ہے کہ اگرچہ فرانس اور برطانیہ نے مشرق وسطی کا نقشہ کھینچا تھا لیکن زمین پر موجود بااثر افراد نے آہستہ آہستہ اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

وہ کہتے ہیں: 'یروشلم کے بااثر افراد نے فلسطین، بیروت کے سیاسی خاندانوں نے لبنان کو اپنے قبضہ میں لیا اور جن لوگوں کا دمشق اور بغداد میں اثر و رسوخ تھا انھوں نے شام اور عراق کی کمان سنبھالی۔'

تاہم ایسا ہونے میں کئی دہائیاں لگ گئیں۔

اس میں زیادہ وقت نہیں لگا جب مشرق وسطی کے ایک خطے سے دوسرے خطے میں جانے والے لوگوں کو غیر ملکی کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

پروفیسر ہنری لارنس کا کہنا ہے کہ 'سنہ 1930 کی دہائی تک عراق میں پیدا ہونے والا ایک شامی شخص غیر ملکی سمجھا جانے لگا۔ سنہ 1948 میں جب ایک فلسطینی مہاجر شام، لبنان یا اردن میں داخل ہوا تو اسے غیر ملکی کہا گیا۔ایک اور سان ریمو کانفرنس
اسی ہفتے سان ریمو میں ایک اور کانفرنس ہورہی تھی جس کے ایجنڈے میں مشرق وسطی میں تیل کے وسائل کی تقسیم تھی۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران ہی یہ واضح ہو گیا تھا کہ عظیم طاقتوں کے لیے توانائی کے اپنے وسائل رکھنا کتنا اہم ہے۔

ہنری لارنس نے اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ایک بار جب علاقوں پر کس کا تسلط ہوگا اس بات کا تعین ہو گیا اس کے بعد برطانیہ اور فرانس نے مشرق وسطی کے 'بلیک گولڈ' یعنی تیل کے لیے بات چیت کا آغاز کر دیا۔

اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ فرانس کو ترکی کی پٹرولیم کمپنی کا ایک چوتھائی حصہ ملے گا۔ بعد میں یہ کمپنی عراق پیٹرولیم کمپنی بن گئی۔

ہنری لارنس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 'بعد میں تکنیکی وجوہات کی بنا پر فرانس کا حصہ کم کر دیا گيا۔ لیکن تیل کی کان کنی اور شیئرنگ پر اس کے دوررس اثرات مرتب ہوئے۔'

*🛑سیف نیوز اُردو*

*ایندھن کی بچت بنی سیاسی سرکس* ✍️ *وسیم رضا خان*                             بھارتی سیاست میں اپیل اور عمل کے درمیان...