ٹھنڈے پانی سے نہانے سے انسانی صحت کیسے بہتر ہوتی ہے؟
درجہ حرارت میں اضافے کے باوجود بہت سے لوگ ابھی بھی نیم گرم پانی سے نہانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ گرم پانی پٹھوں کے تناؤ کو کم کرتا ہے، خون کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے اور ایک پرسکون تجربہ دیتا ہے۔
تاہم این ڈی ٹی وی کے مطابق ٹھنڈے پانی سے نہانے کے زیادہ فوائد ہیں۔ موسم گرما میں ٹھنڈے پانی سے نہانے سے جہاں گرمی سے چھٹکارا ملتا ہے وہیں صحت کے حوالے سے مختلف فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ٹھنڈے پانی سے نہانے کو ٹھنڈے پانی کی تھراپی بھی کہا جاتا ہے۔ ذیل میں ٹھنڈے پانی سے نہانے کے فوائد بتائے گئے ہیں۔
1: خون کے بہاؤ میں بہتری
ٹھنڈا پانی آپ کی شریانوں کو سکڑنے میں مدد دیتا ہے جس سے خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے۔ جب بعد میں آپ کا جسم گرم ہوتا ہے، تو خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں، جو بہتر خون کے بہاؤ کو فروغ دیتی ہیں اور آپ کے پورے جسم کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے۔
2: قوت مدافعت میں اضافہ
باقاعدگی سے ٹھنڈے پانی سے نہانا وائٹ بلڈ سیلز کی پیداوار کو بڑھاتا ہے، جو آپ کے مدافعتی نظام کو انفیکشن اور بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں آپ کے جسم کا قدرتی دفاعی نظام مضبوط ہوتا ہے اور آپ کو بیماریوں سے بچاتا ہے۔
3: توانائی کی سطح میں بہتری
ٹھنڈے پانی سے نہانا ٹھنڈے جسم اور دماغ کو متحرک کرتا ہے جس سے توانائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے موڈ بھی خوشگوار رہتا ہے۔4: جلد اور بالوں کی صحت میں بہتری
گرم پانی جلد کے قدرتی تیل کو ختم کر دیتا ہے، جو ممکنہ طور پر خشکی اور سوزش کا باعث بنتا ہے۔ دوسری طرف ٹھنڈا پانی آپ کی جلد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جلد کو ٹائٹ بناتا ہے اور مہاسوں کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
ٹھنڈے پانی سے نہانے سے بال بھی چمکدار اور صحت مند رہتے ہیں۔
5: سوزش کو کم کرتا ہے
دائمی سوزش نقصان دہ ہوسکتی ہے اور آپ کو دائمی بیماری کے خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ٹھنڈا پانی سوزش کو دور کرنے والا اثر رکھتا ہے جو درد کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے اور ورزش کے بعد ہونے والے درد کو بھی دور کرتا ہے۔
تجارتی جنگ: کیا صدر ٹرمپ کے ٹیرف منصوبے کا واحد مقصد چین کو نشانہ بنانا تھا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹیرف منصوبے کی ابتدا کرتے ہوئے ابتدائی طور پر متعدد ایسے ممالک سے امریکہ آنے والی اشیا پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جو کچھ عرصہ پہلے تک امریکہ کے قریبی تجارتی اتحادی تھے۔
ٹرمپ کے اِس ٹیرف منصوبے کی ابتدا یعنی ٹیکس کے نفاذ کا آغاز نو اپریل سے ہونا تھا۔ اور اِس کے نفاذ کے چند ہی گھنٹے بعد ٹرمپ کی جانب سے یہ چونکا دینے والا اعلان کیا گیا کہ اس منصوبے کو 90 روز کے لیے یعنی عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
اور اس کے بعد صدر ٹرمپ نے اس تجارتی جنگ میں اپنی توجہ صرف ایک ملک پر مرکوز کر لی اور یہ ملک تھا چین۔
ٹرمپ کے اس اقدام نے کچھ تجزیہ کاروں کو یہ سوال پوچھنے پر مجبور کیا کہ کیا امریکہ کے نئے ٹیرف منصوبے کا واحد نشانہ چین ہی تھا؟
صدر ٹرمپ نے جب سے امریکہ کی صدارت کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے ان کی توجہ کا بڑا محور و مرکز تجارت ہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کا مکین بننے کے فوراً بعد ہی سے انھوں نے کئی ممالک پر بڑے پیمانے پر تجارتی ٹیکس لگانے کی بات شروع کر دی تھی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک اُن کے ملک کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ ممالک اپنا سامان تجارت تو بڑی مقدار میں امریکہ کو فروخت کرتے ہیں مگر جب بات امریکی سامان کو خریدنے کی آتی ہے تو یہ دو قدم پیچھے ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق اس تمام تر صورتحال کا نقصان امریکہ کی مقامی صنعتوں کو پہنچ رہا ہے اور یہ صورتحال امریکہ میں بیروزگاری کو جنم دے رہی ہے۔دو اپریل کو ٹرمپ کی جانب سے اب تک کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ متنازع ٹیرف کے نفاذ کے اعلان نے دنیا بھر میں تجارتی جنگ کی سی صورتحال پیدا کر دی اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر کی بڑی سٹاک مارکیٹوں میں افراتفری اور ہنگامہ دیکھنے میں آیا اور عالمی معیشتوں کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔اس کے بعد ٹرمپ نے چین کے علاوہ تمام دیگر ممالک کو 90 دن کے لیے عارضی ریلیف دینے کا اعلان کیا اور ٹیرف کا نفاذ 90 روز کے لیے معطل کر دیا۔ اس اقدام کا جواز وائٹ ہاؤس انتظامیہ کی جانب سے یہ پیش کیا گیا کہ درحقیقت یہ ٹرمپ کے اُس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت پہلے ٹیرف عائد کیا جانا تھا اور اس کے بعد اسے عارضی طور پر معطل کر کے ہر ملک سے فرداً فرداً مذاکرات کرنے ہیں۔
لیکن دیگر ممالک کے برعکس چین کو یہ عارضی ریلیف نہیں دیا گیا، بلکہ ٹرمپ نے ٹیرف کی شرح کو بڑھا کر 145 فیصد تک کر دیا۔ اس کے بعد کچھ امریکی حکام نے کہا کہ اس کا اصل مقصد چین کو سزا دینا اور اسے مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کرنا ہے۔
تاہم ٹرمپ یہاں پر نہیں رُکے اور گذشتہ ہفتے کے اختتام پر یہ اعلان کیا گیا کہ چین سے امریکہ درآمد ہونے والی متعدد الیکٹرانک مصنوعات بشمول سمارٹ فونز، چپس اور کمپیوٹرز کو اس ٹیرف سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے صحافیوں کو بتایا: ’امریکہ کے تجارتی مسائل کی جڑ اصل میں چین ہے۔ درحقیقت چین پوری دنیا کے لیے ہی ایک مسئلہ ہے۔‘
تاہم، دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت یعنی چین کے ساتھ اس طرح کی رسہ کشی کرنے میں بہت سے خطرات بھی مضمر ہیں۔ کیونکہ کوئی وقت ضائع کیے بغیر چین نے اپنے خلاف ہونے والے ان اقدامات کا جواب امریکہ سے آنے والی اشیا پر 125 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر کے دیا۔تاہم ٹرمپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ اُن کے پیشرو براک اوباما کے دور اقتدار میں شروع کردہ پالیسی کو آگے بڑھانے جیسا نظر آتا ہے۔ براک اوباما کی اُس پالیسی کا مقصد چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور طاقت کو روکنے کی کوشش کرنا تھا اور اسی کے نتیجے میں امریکہ نے اپنی توجہ زیادہ سے زیادہ مشرقی ممالک کی طرف مبذول کر دی تھی۔
گذشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعات پر بات کرتے ہوئے مصنف اور سیاسی تجزیہ کار ٹم مارشل نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ ایک نیا دور ہے اور معیشت اس دور کا بنیادی ستون ہے۔ میرے خیال ہے کہ یہ سب چین کے بارے میں ہی ہے۔ برطانیہ اور یورپی ممالک کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ ٹیرف میں تبدیلیاں ہو جائیں گی اور توجہ صرف چین پر مرکوز ہو گی۔‘
چین بھی پیچھے ہٹنے کے تیار نہیںجب سے ٹرمپ دوسری بار وائٹ ہاؤس میں بطور صدر آئے ہیں تب سے چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ شدید ہوتی جا رہی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران اِن دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف ٹیرف اور جوابی ٹیرف عائد کرنے جیسے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں چین کی وزارت تجارت نے ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کو ’محض نمبر گیم‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات کی کوئی عملی اہمیت نہیں ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ اگر امریکہ چین سے برآمد ہونے والی اشیا پر ٹیرف لگاتا رہے گا تو چین اب اسے نظر انداز کر دے گا۔
بی بی سی کے چائنا ایڈیٹر سٹیفن میکڈونیل کا کہنا ہے کہ ’چینی رہنماؤں نے بارہا ٹرمپ انتظامیہ کو ’دھونس جمانے والا‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اُن (ٹرمپ) سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔‘
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ نِنگ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر چیئرمین ماؤ کی تصاویر پوسٹ کیں جس میں کوریائی جنگ کا ایک کلپ بھی شامل تھا۔
اس کلپ میں ماؤ امریکہ کو کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں: ’یہ جنگ چاہے کتنی ہی دیر تک چلے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘
انھوں نے اپنا بیان بھی پوسٹ کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’ہم چینی لوگ ہیں، ہم اشتعال انگیزی سے نہیں ڈرتے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘
امریکی دباؤ پر چینی ردعملچین سے امریکہ کو برآمد ہونے والی اشیا چین کی مجموعی جی ڈی پی کے لگ بھگ دو فیصد کے برابر ہیں۔
برطانیہ میں ’سٹی انڈیکس‘ سے منسلک سینیئر مارکیٹ تجزیہ کار فیونا کنکوٹا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چین امریکہ پر اپنی برآمدات کا انحصار کم کر رہا ہے۔ اب صرف 13 فیصد چینی برآمدات امریکہ جاتی ہیں۔ ٹرمپ کے پہلے دور میں یہ 26 فیصد تھیں۔‘
کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین نے پہلے ہی ٹرمپ کی جانب سے محصولات میں اضافے کا اندازہ لگا لیا تھا۔
معروف اخبار ’دی اکانومسٹ‘ کے ایڈیٹر ڈیوڈ رینی نے حال ہی میں چین میں حکام اور سکالرز سے ملاقات کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’چین اس کے لیے کافی عرصے سے تیاری کر رہا تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ چینیوں نے ’امریکی کارروائی سے بچنے کے لیے ایک مختصر مدت کی دفاعی حکمت عملی تیار کی ہے لیکن وہ اس کا مستقل حل تلاش کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنی معیشت کو برآمدات پر زیادہ انحصار کرنے سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
امریکہ کے ساتھ اس تجارتی جنگ کے درمیان چینی صدر شی جن پنگ بھی نئے تجارتی شراکت دار بنانے پر کام کر رہے ہیں۔
چین ٹرمپ کے محصولات سے متاثرہ ممالک سے بھی متحد ہونے کی اپیل کر رہا ہے۔
11 اپریل کو سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کے ساتھ ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور یورپی یونین کو امریکی محصولات کا ’مل کر جواب دینے کے لیے‘ سامنے آنا چاہیے۔
چینی صدر رواں ماہ اُن ممالک کا بھی دورہ کر رہے ہیں جو ٹرمپ کے محصولات سے بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں ویتنام، ملائیشیا اور کمبوڈیا جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔
چین کو کیا خطرہ ہے؟چین کے دوسرے ممالک سے رابطہ کرنے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ انھیں خود پر یقین دلانا چاہتا ہے اور ان کی سپورٹ حاصل کرنا چاہتا ہے۔
چین کی طرف سے امریکی مارکیٹ کے بجائے دوسری منڈیوں کی تلاش بھی بہت سے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
رینی نے کہا کہ اگر ایسے ممالک کے بازار چینی سامان سے بھر جاتے ہیں تو اس سے ان ممالک میں ملازمتوں اور مواقع کو نقصان پہنچے گا۔ اس سے چینی قیادت کے لیے ایک بار پھر سفارتی اور جغرافیائی سیاسی بحران پیدا ہو جائے گا۔
دوسرا مسئلہ مقامی مارکیٹ کا بھی ہو سکتا ہے۔ چین میں صارفین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگر امریکی مصنوعات مزید مہنگی ہوئیں تو وہ مقامی برانڈز کی طرف چلے جائیں گے۔
چین کی معیشت کی حالت ایسی ہے کہ مہنگائی مسلسل کم ہو رہی ہے۔
افراط زر کی پیمائش کرنے کا ایک طریقہ مصنوعات کی قیمت کا اشاریہ ہوتا ہے۔ اس کے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مارچ میں چین میں یہ مسلسل دوسری بار گِرا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین کی اپنی مصنوعات کا ملکی سطح پر بھی مانگ میں اضافہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
امریکی ماہر سیاسیات پروفیسر گراہم ایلیسن حال ہی میں چین سے واپس آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شی جن پنگ چین اور امریکہ کے درمیان اقتصادی جنگ کے خطرے سے آگاہ ہیں اور ’بُرے وقت‘ کے لیے تیار ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے جو شواہد دیکھے ہیں اُن سے کم از کم ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے تمام شعبوں میں تیاریاں کی ہیں۔‘
پہلگام حملہ: تین دہشت گردوں کے خاکے جاری، عوام سے سراغ دینے کی اپیل -
سرینگر: سیکورٹی ایجنسیز نے پہلگام حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کے خاکے (اسکیچ) جاری کیے ہیں۔ حملہ آوروں کی شناخت آصف فوجی، سلیمان شاہ اور ابو طلحہ کے طور پر ظاہر کی گئی ہے۔ سینیئر سیکورٹی افسران کے مطابق ان دہشت گردوں نے اے کے 47 رائفلز سے تقریباً 20 منٹ تک اندھا دھند گولیاں برسائیں، جس نے پہلگام کی پر امن چراگاہ - بائیسرن ویلی - کو لہو لہان کر دیا۔ اس حملے میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر سیاح جبکہ ایک مقامی شہری بھی شامل ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں شامل ایک سیکورٹی افسر نے بتایا: ’’(حملے کے فوری بعد) گھبراہٹ کا عالم تھا۔ فائرنگ تھم نہیں رہی تھی۔ لوگ چیخ رہے تھے، بھاگ رہے تھے، ہر طرف خون اور خوف تھا۔‘‘ حکام کا ماننا ہے کہ حملے میں تین سے چار شدت پسند شامل تھے، جن میں سے دو پاکستانی جبکہ باقی مقامی باشندے تھے۔ سبھی دہشت گردوں کا تعلق لشکر طیبہ نامی عسکریت پسند تنظیم اور اس کی ذیلی شاخ ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ (TRF) سے بتایا جا رہا ہے۔یہ حملہ پہلگام ٹاؤن سے تھوڑی بلندی پر واقع ایک سرسبز چراگاہ ’’بائیسرن‘‘ میں پیش آیا، جسے اکثر ’منی سوئٹزر لینڈ‘ کہا جاتا ہے۔ موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر سے سیاح یہاں کا رُخ کر رہے تھے، مگر اچانک یہ پُرامن علاقہ ایک قتل گاہ میں تبدیل ہو گیا۔حملہ کے بعد سیکورٹی چوکس کر دی گئی ہے اور حفاظتی ایجنسیز نے عوام سے حملہ آوروں کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات شیئر کرنے کی اپیل کی ہے، اور اسے حالیہ برسوں کا سب سے ہولناک دہشتگرد حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔