ریاض میں نیویارک سٹائل کے ڈیلی سینڈوچ : ذائقے اور معیار کا امتزاج
ریاض میں اگر آپ نیو یارک سٹائل کے ڈیلی سینڈوچز کھانے کا شوق رکھتے ہیں تو ’نوہو ڈیلی‘ آپ کے لیے بہترین فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ہے،جہاں تازہ گوشت کے سلائس سے تیار مینو میں ذائقہ اور معیار کا بہترین امتزاج ملتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق نوہو ڈیلی میں مختلف قسم کے سینڈوچز دستیاب ہیں اور ان میں ہر ایک کا ذائقہ شاندار ہے اور اسی وجہ سے یہ جگہ پسندیدہ مقامات میں ہے۔روبین پاسٹرمی سینڈوچ44 ریال میں دستیاب ہے جو سموکی گوشت اور کھٹی مایونیز کی بہترین مطابقت تھی۔
گرل چکن پیسٹو 36 ریال میں دستیاب ہے جو تازہ اور خوشبودار مصالحہ جات سے بھرپور ہے جبکہ نوہو روسٹ بیف 38 ریال میں مسٹرڈ روسٹ بیف خستہ بریڈ کے ساتھ دل پسند ذائقہ دیتا ہے۔
اگر آپ کچھ ہلکا پھلکا کھانا چاہتے ہیں تو موزریلا سینڈوچ 34 ریال، کریمی اور متوازن ذائقے کے ساتھ بہترین انتخاب ہے جبکہ 35 ریال میں اوکرا کیل سلاد میں ہلکا پھلکا تازگی بخش ذائقہ موجود ہے۔
یہاں کی لازمی آزمانے والی ایک اور چیز گرم پنیر سے لبریز بیفی چیز فرائز29ریال میں دستیاب ہیں یہ اپنے نام کی طرح انتہائی لذیذ ڈش ہے۔خوشگوار ماحول اور عمدہ معیار کے ساتھ یہاں کی قیمتیں مناسب ہیں اور مقدار بھی تسلی بخش ہوتی ہے نہ بہت زیادہ نہ بہت کم، برانڈنگ سٹائل اور ڈائن ان ماحول خوبصورت اور آرام دہ ہے۔
نوہو کے خوبصورت ماحول میں دیر تک بیٹھنے کے حوالے سے جگہ کچھ تنگ سی محسوس ہوتی ہے خاص طور پر گروپس یا طویل بیٹھک کے لیے۔
یہ جگہ زیادہ تر ’جلدی کھاؤ اور آگے بڑھو‘ یا ہلکے پھلکے کھانے کی طرز کی ہے۔اگر آپ ریاض میں ہوں اور بہترین ڈیلی سٹائل سینڈوچز کے خواہاں ہوں تو نوہو ضرور آزمائیں، یہاں کے ذائقے کا معیار خود بولتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے نوہو کا انسٹاگرام پیج دیکھیں @nohodeli
اسلام آباد کی ژالہ باری: ٹوٹی سولر پلیٹس شہریوں کے جان و مال کے لیے کتنی نقصان دہ
بدھ کی سہ پہر اسلام آباد میں اچانک اور شدید ژالہ باری ہوئی، جس میں تیز ہواؤں اور گولف بال کے سائز کے اولوں نے چھتوں، درختوں، گاڑیوں اور دیگر انفراسٹرکچر پر تقریباً آدھے گھنٹے تک تباہ کن وار کیے۔
ٹوٹی ہوئی گاڑیوں، سولر پلیٹس، کھڑکیوں اور برف سے ڈھکی سڑکوں کی تصاویر جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو شہریوں کو اس قدرتی آفت کے ظاہری نقصانات کا کچھ اندازہ ہوا۔ لیکن ایک ایسا خطرہ جو نہ صرف نظر نہیں آتا بلکہ زیادہ خاموش، مسلسل اور مہلک ہو سکتا ہے، وہ عوام کی نظروں سے اوجھل رہا۔
یہ خطرہ چھتوں پر نصب سولر پینل سسٹمز کو ژالہ باری سے پہنچنے والا وہ نقصان ہے جسے زیادہ تر افراد محض مالی خسارہ سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں، لیکن سولر انرجی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ نقصان کسی وقت بھی شہریوں کے جان و مال کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز بشمول ای الیون، ایف الیون، جی الیون، آئی ٹین، بحریہ ٹاؤن، جی سکس اور دیگر نواحی علاقوں سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ چھتوں پر نصب سینکڑوں سولر پینلز یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا ان کی شیشے کی تہہ پر دراڑیں پڑ چکی ہیں۔
یہ صورتحال خاص طور پر اس وقت زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے جب یہ پینلز باوجود نقصان کے، بجلی کی ترسیل جاری رکھتے ہیں۔ ایسے نظام نہ صرف الیکٹریکل شارٹ سرکٹ بلکہ کرنٹ لگنے، حتیٰ کہ چھتوں پر آتشزدگی جیسی حادثات کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
انجینیئر فراز خالد نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’سولر پینلز کو عمومی موسمی حالات جیسے دھوپ، بارش اور دھند برداشت کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے، لیکن بدھ کی ژالہ باری کی شدت اور اولوں کا سائز معمول سے کہیں زیادہ تھا جس کے باعث متعدد پینلز کی شیشے کی سطح ٹوٹ چکی ہے، آٓندھی سے فریم مڑ چکے ہیں اور اندرونی سرکٹس متاثر ہوئے ہیں۔ یہ ظاہری نقصان ایک خاموش خطرے کی علامت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ بجلی پیدا ہونا بند ہو جائے گی بلکہ اصل تشویش یہ ہے کہ اگر پینلز ٹوٹنے کے باوجود بجلی پیدا کر رہے ہیں تو اس سے نہ صرف ڈی سی وولٹیج کا لیکیج ہو سکتا ہے بلکہ اندر پانی یا نمی داخل ہونے کی صورت میں کسی بھی وقت شارٹ سرکٹ ہو سکتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مکین لاعلمی میں خود صفائی یا معائنہ کرنے لگیں تو یہ کام جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
سولر نیون انجینیئرنگ، جو کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں درجنوں رہائشی اور تجارتی سولر پراجیکٹس چلا رہی ہے نے ایک ہنگامی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ایڈوائزری میں شہریوں کو فوری طور پر اپنے سولر سسٹمز بند کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ژالہ باری نے ہمارے متعدد صارفین کے سولر سسٹمز کو بری طرح متاثر کیا ہے، خاص طور پر ڈی سی سائڈ پر، جو کہ سب سے زیادہ حساس اور خطرناک پہلو ہوتا ہے۔ اگر صارفین فوری احتیاط نہ برتیں گے تو یہ آگ یا جان لیوا حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔‘
کمپنی نے صارفین کو ڈی سی اور اے سی بریکرز کے علاوہ انورٹر کو مکمل طور پر بند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ’اگر ہائبرڈ سسٹم ہے تو اسے فوری طور پر واپڈا موڈ پر منتقل کریں۔ بیٹری بیک اپ کو بھی الگ کر دیا جائے۔ اگر انورٹر پر کوئی سگنل یا روشنی باقی ہو تو یہ مکمل بند نہیں ہوا۔ اس کے بعد پینلز کا بیرونی جائزہ لیں، اور اگر شیشہ ٹوٹا ہوا ہو یا دراڑیں ہوں تو سسٹم کو فوری معائنہ کے لیے پیش کریں۔‘
ادھر ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں کا کہنا ہے کہ ژالہ باری کے بعد بجلی سے متعلق شکایات اور چھتوں پر چنگاریاں اٹھنے جیسے واقعات کی کئی کالز موصول ہو چکی ہیں۔ اگرچہ تاحال کوئی جانی نقصان یا آگ رپورٹ نہیں ہوئی لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل خطرہ آنے والے دنوں میں سامنے آ سکتا ہے جب یہ ٹوٹے ہوئے سسٹمز اندر سے مزید خراب ہوں گے یا بارش کے باعث ان میں پانی داخل ہو جائے گا۔انجینیئر فراز خالد کہتے ہیں کہ ’ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں موسمیاتی شدت روز بروز بڑھ رہی ہے، اور شہریوں کو اب بجلی پیدا کرنے والے نظاموں کی تنصیب کے بعد ان کی حفاظت اور معائنے کی بھی باقاعدہ عادت ڈالنی ہو گی۔ صرف ایک چھوٹی سی دراڑ آنے والی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔‘
شاہ جہاں اور ممتاز محل کی محبت ایسی تھی کہ پتھروں کو ’زندہ کر دے‘
نوروز کا جشن تھا۔ نئے سال کی خوشی میں مینا بازار سجا تھا۔ محل کی خواتین دکانیں سجائے، زیور، مسالے اور دوسری اشیا فروخت کر رہی تھیں تاکہ حاصل ہونے والی آمدن سے غریبوں کی مدد کی جا سکے۔ چونکہ خواتین نقاب کے بغیر تھیں اس لیے صرف شہنشاہ جہانگیر یا شہزادے ہی وہاں آ سکتے تھے۔
شہزادے خرم کا بھی وہاں آنا ہوا۔ ایک دکان پر انھوں نے قیمتی پتھر اور ریشم فروخت کرتی ایک لڑکی کو دیکھا۔ نرم و نازک ہاتھوں سے وہ انتہائی عمدہ کپڑے کو تہہ لگا رہی تھیں۔ ایک لمحے کو دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں۔ خرم کا دل تیزی سے دھڑکا۔ آواز سننے کی غرض سے پوچھا، یہ پتھر کیسے ہے؟
پتھر اٹھاتے ہوئے لڑکی نے تنک کر کہا کہ ’جناب یہ قیمتی ہیرا ہے۔ کیا آپ کو اس کی چمک سے اندازہ نہیں ہوا۔ اس کی قیمت دس ہزار روپے ہے۔‘
لڑکی کو تب حیرت ہوئی جب خرم اس قیمت کو ادا کرنے پر راضی ہو گئے۔ ’اب جبکہ اس پر آپ کا ہاتھ لگا ہے تو یہ قیمت کچھ بھی نہیں۔‘
لڑکی نے شرما کر نظریں جھکا لیں۔ خرم نے کہا کہ ’اگلی ملاقات تک میں اسے دل کے پاس رکھوں گا۔‘
لڑکی نے جانا کہ اب یہ کھیل نہیں رہا۔ کانپتی آواز میں پوچھا ’اور یہ (ملاقات) کب ہو گی؟‘
’جس روز ہمارے دل ملیں گے‘، خرم نے سرگوشی کے اندازمیں کہا، ’اور تب تاروں سے چمکدار اصلی ہیرے آپ پر نچھاور کروں گا۔‘
کیرولین آرنلڈ اور میڈیلین کومورا نے اپنی کتاب ’تاج محل‘ میں یہ واقعہ لکھتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ لڑکی ارجمند بانو تھیں۔اُن کے دادا مرزا غیاث بیگ (جنھیں اعتماد الدولہ یعنی ’ریاست کا ستون‘ بھی کہا جاتا ہے) مغل شہنشاہ اکبر کے دور حکومت میں شاہی دربار میں داخل ہوئے اور بعد میں وزیر (اعظم ) مقرر ہوئے۔ اُن کی پھوپھی مہر النسا نے سنہ 1611 میں شہنشاہ جہانگیر سے شادی کی اور نور جہاں کے نام سے مشہور ہوئیں۔
نور جہاں کے بھائی اور ارجمند کے والد ابوالحسن آصف خان نے بھی دربار میں اعلیٰ عہدہ حاصل کیا۔
’معین الآثار‘ میں لکھا ہے کہ باپ دادا نے ارجمند کے حسن وجمال، فہم و فراست کا لحاظ کر کے اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی۔ ماں کی تربیت نے چار چاند لگائے۔ جب پڑھ لکھ کر فارغ ہوئیں تو ان کے حسن و جمال کا چرچا چہار عالم تھا اور علم و فضل کے گھر گھر چرچے تھے۔
رینوکا ناتھ اپنی کتاب ’16ویں اور 17ویں صدی عیسوی میں قابل ذکر مغل اور ہندو خواتین‘ میں لکھتی ہیں کہ ارجمند علمی میدان میں قابل ذکر تھیں اور ایک باصلاحیت اور تہذیب یافتہ خاتون تھیں۔ وہ عربی اور فارسی زبانوں پر عبور رکھتی تھیں اور نظمیں لکھ سکتی تھیں۔ والڈیمار ہینسن کے مطابق وہ شائستگی اور خوش اخلاقی کے لیے مشہور تھیں۔
شہنشاہ جہانگیر نے ان کے بارے میں ضرور سُنا ہو گا کیونکہ انھوں نے اپنے بیٹے شہاب الدین محمد خرم کی تجویز پر ان کے ساتھ منگنی کے لیے آسانی سے رضا مندی ظاہر کر دی تھی۔
’ماثرالامرا‘ کے مطابق جہانگیر نے نجابت و شرافت کا لحاظ کر کے ارجمند بانو بیگم سے خرم کی منگنی کی اور خود رسم کے موافق اپنے ہاتھ سے انگوٹھی پہنائی۔ محمد امین قزوینی نے ‘پادشاہ نامہ‘ میں لکھا ہے کہ جہانگیر کی چہیتی اہلیہ نور جہاں نے اپنی بھتیجی کے ساتھ شہزادہ خرم کی شادی طے کرنے میں خصوصی دلچسپی لی۔
درباری نجومیوں کی طرف سے شادی کے لیے منتخب ہونے والی مبارک تاریخ کے لیے منگنی کے بعد پانچ سال تک انتظار کرنا پڑا۔ انتہائی شان و شوکت کے ساتھ یہ شادی سنہ 1607 میں ہونے والی منگنی کے بعد سنہ 1612 میں ہوئی۔
معین الآثار میں لکھا ہے کہ ’شادی کی تقریب اعتماد الدولہ مرزا غیاث کے گھر منعقد ہوئی اور اس سے متعلق تمام رسوم وہیں ادا کی گئیں۔ جہانگیر نے خود نوشہ (دلھا) کے عمامہ (پگڑی) پر موتیوں کا ہار باندھا اور مہر پانچ لاکھ قرار پایا۔ خرم کی عمر بیس سال ایک ماہ آٹھ روز اور بیگم کی عمر انیس سال ایک روز تھی۔‘
چندر پنت کے مطابق شہزادہ خرم نے ’انھیں اس وقت کی تمام خواتین میں شکل و صورت اور کردار میں منتخب قرار دیتے ہوئے ممتاز محل کا خطاب دیا۔‘اُن کی منگنی اور شادی کے درمیانی برسوں کے دوران خرم نے سنہ 1610 میں اپنی پہلی بیوی، شہزادی قندھاری بیگم سے شادی کی اور ممتاز سے شادی کے بعد سنہ 1617 میں، تیسری بیوی، ایک مغل درباری کی بیٹی عزالنسا بیگم (اکبر آبادی محل) کو بنایا۔ درباری مؤرخین کے مطابق یہ دونوں شادیاں سیاسی اتحاد تھیں۔
ظفرنامہ شاہ جہاں کے مطابق ارجمند بانو بیگم نے اپنی ادب شناسی، مزاج دانی اور خدمت گزاری سے شہزادہ خرم کو موہ لیا اور زیادہ عزیز قرار پائیں۔
درباری تاریخ نگار معتمد خان کا ’اقبال نامہ جہانگیری‘ میں کہنا ہے کہ جو ’قربت، گہری محبت اور توجہ ممتاز محل کے لیے تھی، دوسری بیویوں کے لیے نہیں تھی۔‘
اسی طرح تاریخ نگار عنایت خان نے تبصرہ کیا کہ ’اُن کی ساری خوشی اس نامور خاتون (ممتازمحل) پر مرکوز تھی، اس حد تک کہ دوسری بیویوں کے لیے اس پیار کا ہزارواں حصہ بھی نہیں جو ان کے لیے تھا۔‘
ظفر نامہ شاہ جہاں میں لکھا ہے ’سنہ 1628 میں 36 برس کی عمر میں شہاب الدین محمد خرم شاہ جہاں کا لقب اختیار کرتے ہوئے تخت پر بیٹھے۔ آصف خان وزیر اعظم بنے۔ جشن منایا گیا۔ ایک کروڑ اسی لاکھ روپے نقد و جنس اور چار لاکھ بیگہ زمین اور ایک سو بیس موضع خیرات کیے اور انعام دیے۔‘
ایسی ہی محفل ممتاز محل نے آراستہ کی اور جواہر و طلا و نقرہ کے پھول شاہ جہاں کے سر پر سے نثار کیے۔بادشاہ نے دو لاکھ اشرفیاں اور چند لاکھ روپے ممتاز محل کو دیے اور دس لاکھ روپے سالانہ مقرر ہوا۔ اور (دوسری) بیگم صاحبہ کو ایک لاکھ اشرفی اور چار لاکھ روپے بخشش ہوئے اور چھ لاکھ روپے سالانہ قرار پایا۔ مہر شاہی ممتاز محل کو سپرد ہوئی۔ بہت زیادہ آمدنی والی زمینیں اور جائیدادیں دی گئیں۔
جسونت لال مہتا نے لکھا ہے کہ شاہ جہاں نے ممتاز کو ’پادشاہ بیگم‘ (خاتون شہنشاہ)، ‘ملکہ جہاں‘ (دنیا کی ملکہ) اور ’ملکہ الزمانی‘ (زمانے کی ملکہ) اور ’ملکہ ہند‘ (ہندوستان کی ملکہ) کے خطابات دیے۔ شاہ جہاں نے انھیں وہ آسائشیں عطا کیں جو ان سے پہلے کسی اور ملکہ کو نہیں دی گئیں۔
انھیں ‘حضرت‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا۔ کسی اور ملکہ کی رہائش گاہ خاص محل (آگرہ کے قلعے کا حصہ) کی طرح آراستہ نہیں تھی، جہاں ممتاز شاہ جہاں کے ساتھ رہتی تھیں۔ اسے خالص سونے اور قیمتی پتھروں سے سجایا گیا تھا اور اس کے اپنے ہی گلاب کے پانی کے چشمے تھے۔ وہ شاہ جہاں کی مستقل اور قابل اعتماد ساتھی، معتمد اور مشیر تھیں۔ پھر بھی انھوں نے اپنے لیے سیاسی اقتدار نہیں چاہا۔
ملکہ کے طور پر ممتاز محل کا دور، ان کی بے وقت موت کی وجہ سے، صرف تین سال تھا۔
ماثر الامرا کے مطابق ممتاز محل شاہ جہاں کی ملکی امور میں بھی مشیر تھیں مگر نور جہاں کی طرح نہ تھیں کہ بادشاہ کو اپنے طور طریقے سے معطل کر رکھا تھا۔ ممتاز محل نے اپنی پھوپھی کی بدولت بڑے بڑے مصائب اٹھائے مگر شاہ جہاں کو یہی مشورہ دیا کہ وہ اپنی سوتیلی ماں کی دلجوئی میں کمی نہ کریں۔
چنانچہ شاہ جہاں نے نور جہاں کی 38 لاکھ روپے سالانہ پنشن مقرر کر دی اور عزت و حرمت میں فرق نہ آنے دیا۔ ممتاز محل اپنے اخلاق میں خاص شہرت رکھتی تھیں۔ روزانہ سیکڑوں بیوائیں اور ہزاروں مساکین اُن سے فیض پاتے۔
شاہ جہاں نے اپنی زندگی کے آخری دن کسی سے ملے بغیر مسمن برج سے تاج محل کو دیکھتے ہوئے گزارے۔ انتقال ہوا تو ممتاز محل کے پاس دفن کیا گیا۔
برطانوی مصنف روڈیارڈ کپلنگ پہلی بار تاج محل دیکھنے کے بارے میں یوں بتاتے ہیں ‘تاج نے سو نئی شکلیں اختیار کیں۔ ہر ایک کامل اور ہر ایک وضاحت سے باہر۔ یہ آئیوری گیٹ تھا جس کے ذریعے تمام اچھے خواب آتے ہیں۔‘
بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور بھی اسی طرح مسحور ہوئے تھے ’صرف اس ایک آنسو کے قطرے کو، اس تاج محل کو، وقت کے گال پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چمکنے دو۔ یہ شاہ جہاں کا اپنی محبوب ممتاز محل کے غم میں بہایا جانے والا آنسو ہے۔