شادی اور کھانے کی یہ بربادی
تکلف برطرف : سعید حمید
شادی کا بھی سیزن ہوا کرتا ہے ،
یوں ، جیسے بہار اور برسات کا موسم ہوا کرتا ہے ۔
شادی کا موسم آتا ہے ، تو بہت سے لوگوں اور ان کے
اہل ِخانہ ( جن کی ایک طویل فہرست بن جاتی ہے )
کیلئے بھی گویا بہار کا موسم آجاتا ہے ۔دعوتوں کی برسات ہوتی رہتی ہے ۔
آج ادھر ، کل اُدھر۔۔۔پرسوں کدھر ؟
کافی ویرائٹی مل جاتی ہے دعوتوں کی ، شادی کے سیزن میں۔
اسلئے ، بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں ،
جو شادیوں کے سیزن میں ڈھابے کا منہ تک نہیں دیکھتے ہیں ۔
ڈھابے والے بیچارے شادیوں کے سیزن میں مکھی ہی نہیں مچھر بھی مارتے نظر آتے ہونگے کیونکہ اس سیزن میں
انہیں سر کھجانے کی بھی کافی سے زیادہ فرصت مل جاتی ہوگی ۔
خیر ، ہم ان احباب کا ذکر کر رہے ہیں ،جو شادیوں کے موسم میں بڑے سرگرم ہو جاتے ہیں ۔
ٓان کیلئے شادی کا کھانا بہت اہم ہوا کرتا ہے ،
اس لئے منتظر رہتے ہیں کہ کس شادی کی دعوت میں معہ اہل خانہ جانا چاہئے ؟اور کس دعوت میں
اہل خانہ کا ٹائم ویسٹ ( اور مزہ کرکرا ) نہیں کرنا چاہئے ۔
آج کل رومن اردو کا زمانہ ہے ،
اسلئے ایسے لوگ اہل خانہ اور اہل کھانا میں فرق محسوس نہیں کرتے ۔
جہاں کہیں شادی کا کھانا ہو ؟ ان کے اہل خانہ مجسم اہل کھانا بن جاتے ہیں ۔
جہاں کوئی اہم اور بڑی شادی ہو ؟
تو آپ ان لوگوں کو دیکھ لیجیے ، جو معہ اہل خانہ ، شادی کا کھانا کھانے چلے آتے ہیں ۔
ویسے تو بڑی شادیوں میں میزبان کو فرصت ہی کہاں
کہ وہ بیچارہ اسٹیج سے ہٹے اور اس طرف
جائے جہاں بوفے سسٹم کی وجہ سے کئی اقسام کے
کھانوں کی بارات نکلی ہے ،
اور ان پر چھاپہ ماری جاری ہوا کرتی ہے ،
وہ بھی معہ اہل خانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعوت اہل خانہ کی دی گئی ہو ، تو اہل خانہ کا مطلب کیا ؟
کسی کسی خاندان کے پچیس تیس اہل خانہ ، کسی کے چالیس
اہل خانہ ؟ کسی بیچارے نے انکساری سے کام لیا ،
تو پندرہ بیس اہل خانہ تو کم ازکم چلے ہی آتے ہیں ؟
جناب ، جب ہزار دو ہزار یا اس سے زیادہ کا مجمع ہوگا
یہ گنتی کرے گا ؟
پرانے دولت مند کے گھر کی شادی ہو ، تو بیچارہ اللہ کی برکت اللہ کی برکت کہتے ہوئے سب کچھ برداشت کر لیتا ہے ۔
لیکن ، نیا نیا دولت مند ؟ اور زبردست شادی ؟
کیٹررس اس بیچارہ کو بار بار صدمہ دیتے ہیں ۔ صاحب ، پلیٹیں ختم ہو گئیں ۔
ارے ؟ اتنے ہزار تو رکھی تھیں ؟ اچھا پانچ سو بڑھا دو ۔
پھر وقفہ وقفہ سے اضافہ جاری رہتا ہے ۔
کیونکہ انہوں نے تو اندازہ وہ نہیں لگایا تھا ، جو اکثر بڑی، وی آئی پی اور بھیڑ بھاڑ والی دعوتوں میں ہوا کرتا ہے ؟
اہل خانہ کے نام سے سارے خاندان، یہاں تک کہ دور دور کے خاندان اور ملنے جلنے والوں
کی بھیڑ چلی آتی ہے ، بوفے سے ہاتھا پائی ، زور آزمائی اور شکم آزمائی کرنے کیلئے ۔
اب شادی ہی ایسی کی ہے ، تو پھر رونا کس بات کا ؟
شادی کی دھوم دھام میں تھوڑا بہت تو چلتا رہتا ہے ۔
لیکن ، کیا یہ تھوڑا بہت ہے ؟
دیکھو ، ان اہل خانہ کو !!!
ارے ، شادی کا کھانا ہے تو ان کے تو سمدھیانے کے لوگ بھی چلے آئے ، انہیں دعوت کب دی ؟
سمدھی بھی ہیں ، سمدھن بھی ، ان کے سارے بال بچے بھی ۔
اہل خانہ۔۔۔ اہل خانہ مطلب ،
بھاری دعوت دینا ، اور پچھتانا ؟ کیوں بھائی ؟
اور اس ٹیبل پر دیکھ لو ، اہل خانہ میں کون کون شامل ہیں ؟
اچھا ؟ خالہ بھی ہیں ؟ ارے خالہ نہیں ، خالو بھی ہیں ۔
خالہ کی تین بیٹیاں ، تین داماد بھی ڈسکاؤنٹ آفر کی طرح فری
میں آگئے ۔ لفافہ تو اتنا ہی ملے گا ،
کچھ ایکسٹرا تھوڑے ہی ملے گا ؟
کسی کسی دعوت میں تو اہل خانہ کے نام سے کئی ایک پڑوسی
یا کوئی دو چار محلے والے
بھی چلے آتے ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے ،
ارے یہ ہمارے پڑوسی یا محلہ والے تھوڑے ہی ہیں ،
یہ تو ہمارے لئے اہل خانہ ہی ہیں۔
شادی کی زبردست دعوت ہے ،
چاروں طرف بھیڑ ہی بھیڑ ہے ،
تو پھر کوئی گنتی کیسے کرے ؟ کیا کرے ؟ کون اہل خانہ کے ساتھ
آیا ہے اور کون اہل خانہ کے نام پر بھاری بھیڑ لیکر آیا ہے ؟
اب جنہیں شادی کے موسم کا انتظار رہتا ہے ،ان کیلئے بڑی بھاری شادیوں کی دعوتیں پکنک ، یا سیر سپاٹے
کی تفریح گاہ بن جاتی ہے ۔
ایسا ڈیکوریشن ہو تا ہے کہ جگہ جگہ سیلفی لینے کا دل کرتا ہے ۔
اور کنواری لڑکیوں کے اماں ، ابا تو اپنی لڑکیوں کو منڈپ میںان اسپاٹس پر خاص طور پر لے جاتے ہیں،
جہاں سیلفی بہت اچھی بنے گی ۔یہ تصاویر کہیں رشتہ کیلئے بھیجنے میں کام آئے گی نا ؟
اس کیلئے بھاری بھرکم شادیوں کے ڈیکوریشن اور منڈپ سے اچھی لوکیشن کہاں ملے گی ؟
ان شادیوں اوربھاری بھرکم دعوتوں کا تجربہ رکھنے والے اکثر ایک قیمتی مشورہ دیتے ہیں ،
معہ اہل خانہ ان شادیوں میں آنا ، تو بڑی فرصت سے آنا ، جلدی بھلے آجانا ، لیکن جلدی جانے کی ضد نہیں کرنا ۔
کیوں ؟
اسلئے کہ ایسی شادیوں میں اکثر وی آئی پی ، یا وی وی آئی پی مہمان دیر سے آتے ہیں ۔
ان سے ملنے او ر سیلفی نکالنے کا بھی تو یہیں موقعہ ملتا ہے ؟
ایسی تقاریب کے بعد کیٹررس کیلئے ایک بڑا مسئلہ پیش آتا ہے ،
ویسٹ باسکٹ کے ڈھیر میں جس قدر کھانا ویسٹ کے طور پر پھینک دیا جاتا ہے ، اتنی دیر گئے رات میں اس کا کیا کریں ؟
بھوکے ، غریب اس وقت تک تو گہری نیند سو جاتے ہیں ۔
اسلئے ، دل مسوس کر بھی سارا ویسٹ کیا گیا کھانا ،جسے ویسٹ نہیں کہا جاسکتا ، لالچ میں پلیٹوں میں خوب بھر لیا جاتا ہے ۔
لیکن ، کھایا نہیں جاتا ہے ، تو ویسٹ باسکٹ میں بغیر کھائے پھینک دیا جاتا ہے ۔
اسے میونسپلٹی کے کوڑے دان میں ڈال دیا جاتا ہے ۔
اس قدر ویسٹ ؟ ارے ، یہ کھانا ، اگر بر وقت بھوکے غریبوں کو مل جاتا ، تو دعا اور اجر کا سبب بن جاتا ۔
کیوں برباد کر رہے ہو کھانا ؟ او ، اہل خانہ !!!
_________
"مالیگاؤں اور ترقی کے بیٖچ قیامت اُتنا فاصلہ کیوں؟"
از فرنود رومی، مالیگاؤں / ١٤ اکتوبر ، ٢٠٢٢
"سنا ہے، مالیگاؤں ترقی کرگیا ہے. اور اس خوشی میں شہر بھر میں جشن کا ماحول ہے."
بغل والی قبر کے کنکال نے، جو جیتے جی، میاں شریف ہُوا کرتا تھا، قبر میں داخل ہوکر اپنے اوپر مٹی اوڑھتے ہوئے کہا.شاید وہ چہل قدمی کر کے لوٹا تھا۔
مَنَّن میاں کے کنکال نے یہ سنتے ہی ایک بھرپور قہقہ لگایا۔ قبر میں لیٹے لیٹے کروٹ لی اور کچھ دیر سکوت فرماکر گویا ہوا.
کس معاملے میں ترقی......؟
الیکشن کے ایام میں لمبی لمبی ہانکنے میں؟
عوام کو الّو بنا کر اپنا الّو سیدھا کرنے میں؟
بڑے بڑے بینرز پر فضول خرچی کے معاملے میں؟
منشیات کی خرید و فروخت میں؟
غنڈہ گردی اور چوری چماری میں؟
سیاسی تخریب کاری کے معاملے میں؟
کیا ذات برادری کی سیاست بھی ختم ہوگئی؟
کیا آگرہ روڈ کے فلائی اوورکا کام مکمل ہوگیا؟
کیا انڈر گراؤنڈ گٹریں مکمل ہوگئیں؟
کیا سڑکوں سے دھول مٹی اب اسپیشل گاڑیاں اٹھاتی ہیں؟
کیا طلبہ بغیر کسی حادثے کے امام احمد رضا روڈ سے بہ آسانی اسکول آجارہے ہیں؟
کیا اب حاجی صاحب اور سیٹھ صاحب جیسے القابات کی بجائے ایماندار صاحب اور سچے صاحب جیسے خطابات سے صاحب اثر و رسوخ اور صاحب اقتدار شخصیات پکاری جانے لگی ہیں؟
کیا شہر میں مختلف قسم کی کمپنیاں آگئی ہے؟ اور روزگار کے خاطر خواہ ذرائع مہیا ہوچکے ہیں؟
کیا شہر میں اسکول اور کالجس کا جال بچھ چکا ہے؟ اور تعلیم کا معیار بڑھ گیا ہے؟
چھوڑو جی. مالیگاؤں کو ترقی سے کیا سروکار۔نیتا سارے "ھل من مزید" (بس آنے دو) میں لگے ہوئے ہیں. ان کو نہ اپنی قوم کی پڑی ہے اور نہ ہی مالیگاؤں کے مستقبل کی.
اور اس پر مستزاد یہ کہ
یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم؟
جو بھی نیا مردہ یہاں آتا ہے، اس سے جب بھی پوچھتا ہوں کہ گاؤں کے کیا حالات ہیں تو مایوسی ہی ہاتھ لگتی ہے.
ترقّی ورَقّی چھوڑو میا! تم اب قیامت کا انتظار کرو۔
میاں شریف کو منّن میاں کی یہ بات بڑی مناسب لگی.اس نے ایک گہری آہ بھری اور روزقیامت کے انتظار میں ایک لمبی نیند سو گیا.
___________
*خُدا اور مذہب*
شگفتہ سبحانی
گڑھ کی دیوی کے دیوانے
جھوم جھوم کر عقیدت میں پیدل چلے جارہے تھے
میں نے چلچلاتی دھوپ میں درخت کا سایہ دیکھ کر بائیک روک دی
آگے ٹریفک زبردست جام تھا، میں سواریوں کے گزرنے کے انتظار میں تھی، مجھے راستہ نہیں مل رہا تھا
دیوی کے بھکت، بڑی ہی عقیدت سے
تپتی دھوپ میں ایک کے پیچھے ایک گاتے بجاتے چلے جارہے تھے
میں نے سن گلاسسز آنکھوں سے نکالے، پرس سے پرفیوم والا ٹشو نکال کر ماتھے پر آیا پسینہ سلیقے پونچھا اور کلائی پر نظر ڈالی
دوپہر کے دیڑھ بج رہے تھے
ظہر کا وقت تھا، مجھے آفس پہنچنے میں کم سے کم پچاس منٹ کا سفر طے کرنا تھا اور رش کی وجہ سے مجھے دقت آرہی تھی چاروں سمت سے بھیڑ امڈی چلی آرہی تھی.
میں نے دلچسپی سے ان عورتوں کو دیکھا جو نومولود بچوں کو تپتی دھوپ میں کاندھے پر لئے ننگے پیر چلی جارہی تھی
*شردھّا* کے بارے میں سنتی آئی ہوں
پڑھا بھی ہے کہ سامنے بھلے ہی سمندر ہو لیکن خدا پر یقین ایسا ہونا چاہیے کہ میرا رب ضرور راستہ نکال دے گا،
اور ایک ہم بےزار خواتین ہیں ذرا سی دھوپ میں نکل جائیں تو چہرے پر دانے نکل آتے ہیں اسکن پہ ٹیننگ آجاتی ہے سخت بیمار پڑ جاتی ہیں، آفس میں، گھر میں ہمیں اے سی چاہئے، پینے کا پانی کولڈ اور ڈبل فلٹرہونا چاہئے، یہ بھی چاہئے وہ بھی چاہئے اففف خدا..
ہمارا کیا بنے گا پتہ نہیں...
میں نے آس پاس نظر دوڑائی...
مجھے اچانک ایک جھٹکا لگا،
جب دیکھا کہ ہمارے مسلم بھائی یاتریوں کو پانی پلانے میں پیش پیش ہیں
عجیب سی سرشاری محسوس ہوئی، بہت خوشی ہوئی
بہت سارے غیرت مند دینی بھائی مسلم لباس میں بہت سلیقے سے بڑھ چڑھ کر دھوپ میں چلنے والوں کو پانی پلا رہے تھے
یار، میڈیا یہ مناظر کیوں نہیں دکھاتے؟؟
پریس والوں کو چاہئے کہ ایسی نیوز ہائی لائٹ ہونی چاہئے، بات تو سچ ہے کہ نیکی چھپ کر کی جاتی ہے لیکن، ان چار سینگوں والوں کو، عقل سے پیدلوں کو یہ دکھایا جاۓ گا تب بھی وہ آنکھیں بند کر لیتے ہیں، اب رنگوں کا دور ہے
اب تو پورا دیش ہی رنگوں میں بٹ گیا ہے پہلے فرقے تھے اب رنگ ہیں کہیں نیلا، کہیں بھگوا، کہیں سبز اور اب تو ایک نیا سرخ رنگ بھی کثرت سے نظر آرہا ہے..
ہم لیڈروں کو ہر بار تو لپیٹ نہیں سکتے، انہیں کچھ کہہ کے بھی کوئی مطلب نہیں، ایکدوسرے کی باتیں سن سن کر جنتا کے کان پک جاتے ہیں، ہمارے سینے درد سے پھٹنے لگتے ہیں ان کے غبن سن سن کے،، مہنگائی دیکھو، کوئی بولنے والا نہیں..
مجھے ان بھائیوں پہ بہت فخر محسوس ہوا کہ ہمارے بھائی جب نیک کام کرتے ہیں تب ہماری قوم کا سر اونچا ہوجاتا ہے.. گَرو Feel ہوتا ہے اپنے بھائیوں اور بچوں پہ..
میں نے بیگ سے فروٹی نکالی، دو گھونٹ لئے گرمی سے بدمزہ ہوگئی تھی، میں نے منہ بنا کر یہاں وہاں ڈسٹ بن دیکھا، ڈسٹ بن مجھے پاس کے کمپلیکس میں نظر آیا،
ہم لوگ ہیلتھ(صحت) پہ کا م کرتے ہیں
سماج میں یہ میسج دیتے ہیں کہ کچرا کوڑے دان میں ہی ڈالئے اور صبح سویرے ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی گاڑیوں پہ موسیقی بجتی ہے،" *گاڑی والا آیا گھر سے کچرا نکال*...."
میں نے برقعہ سمیٹا ایک تو برقعے برقعے کم. اور عجوبے زیادہ ہوتے جارہے ہیں، جھبلے اور میسکیاں بھی اب شرمندہ ہیں مجھے لگتا ہے برقعے اور منڈپ میں تھوڑے دنوں میں کوئی فرق نہیں دکھے گا استغفراللہ.. ایسے لمبے لمبے برقعے اور فیشن... مائی گڈنیس..
میں نے پیدل چل کر کوڑے دان تک کا سفر طے کیا..
کوڑے دان میں فروٹی کا باکس پھینک کر ہاتھ میں سینی ٹائزر لگاتے ہوۓ مڑی تو میرے سامنے ایک 90/80 سال کی بڑھیا بیٹھی تھی اور انڈے کی ٹوکری لئے بیٹھی تھی، میں نے سرسری نظر ڈالی،
چھوٹے چھوٹے بڑے خراب سراب انڈے لئے وہ سب سے کہہ رہی تھی کہ "لے لو" مجھے بھی کہا، میں نے دھیان نہیں دیا آگے بڑھ گئی دو قدم اٹھاتے ہی اچانک لگا کہ وہ مجھے انڈے لینے نہیں بلکہ کچھ دینے کہہ رہی تھی میں نے سرعت سے مڑ کر دیکھا
اس کے ہاتھ میں ایک خراب سی مڑی تڑی پانی کی خالی بوتل تھی وہ کانپتے ہاتھوں سے خشک ہونٹوں پہ بار بار زبان پھیر رہی تھی، اسے سخت پیاس لگی تھی
وہ پاس بیٹھے ٹوپی والے ہمارے بھائیوں سے پانی مانگ رہی تھی لیکن بائیک پر موبائل کھیلتے ان نوجوانوں پہ جوں تک نہیں رینگی،
اکا دوکا سگریٹ پی کر آنے جانے والے یاتریوں کی ویڈیو بنانے میں مگن تھے،
دو چار تو ایسے بیٹھے تھے جیسے زندہ ہی نہ ہوں، وہ وہاں بیٹھے کیوں تھے مجھے وہی نہیں سمجھا بالکل دنیا و مافیا سے بے خبر سب کو گھورتے بیٹھے تھے
میں نے بڑھیا کو بہت غور کو دیکھا
80-90 سال کی عمر تھی
پورا جسم جھریوں سے بھرا تھا
کمر بالکل جھکی ہوئی، بالکل دھان پان سی، چل بھی نہیں پارہی تھی
ہانپ رہی تھی، سخت پیاس سے بے حال تھی
اس نے خالی بوتل میری طرف بڑھائی ،اس کی آنکھوں میں بہت آس تھی، مجھے معنوں بچھو نے ڈنک مارا ہو میں گہری نیند سے جاگی اور لپک کر اس کی خالی بوتل پکڑ لی اور تیزی سے کمپلیکس میں گھسی جہاں مجھے تین سے چار دوکانوں پہ پانی کے جار نظر آۓ، میں نے ایک سے کہا، بھائی پانی چاہئے اس نے سیدھا منع کیا کہا "نہیں ہے آگے دیکھ لو"
میں نے اس کے جار کو ہلایا اور پھر کہا بھائی اس میں تو پانی ہے
وہ بہت ناراض ہوگیا، سر پہ ٹوپی تھی کہا، بولا نا نہیں ہے چل بھاگ وہ سامنے بانٹ رہے پانی بھی کھانا بھی وہاں جا، میرے دھندے کا ٹیم ہے چِک چِک مت کر..
میں وہاں سے ہٹی دو شاپ چھوڑ کر گئی، میاں بھائی موبائل لے کر بیٹھے تھے جیسے ہی میں نے پانی مانگا، فورا موبائل کان سے لگا کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا
میں نے خشک ہونٹوں پہ زبان پھیری اس وقت میں ہیلتھ آفیسر نہیں تھی، اس وقت میں ایک observer تھی،بالکل عام بن کر
میں نے بہت منت سے کہا بھیا پانی چاہئے اس نے بالکل سرے سے سنا ہی نہیں،،
میں نے دوکان میں جھانکا
دو نوجوان گپے مارتے بیٹھے تھے
میں نے کہا بھیا پانی....
تو دوسرا لہک کے بولا، یہیں پی لے اور وہ روڈ کے پار پانی سامنے بٹ رہا وہاں سے باٹلی بھر لینا...یہاں سے مت بھرنا ہم لوگ کو تراس ہوگی
میں نے تیسری دکان میں کہا بھائی پانی...
وہ مسکرا کر بولا... لے لو آپا... نل تھوڑا زور سے بند کردینا ٹپکتا ہے...
میں نے پانی لیا..
اور پھر پلٹی.. میں بھری ہوئی بوتل لے کر تینوں دوکان کے سامنے سے گزری مجھے پورا یقین تھا وہ سب مجھے ہی دیکھ رہے تھے
میں نے سکون سے سیڑھیاں چڑھ کر وہ بوتل بڑھیا کو تھمائی، بڑھیا نے خوش ہوکر میرے سر پر ہاتھ رکھ دیا، لیکن آنسو چھپانے کیلئے مجھے فوراً گوگل پہننا پڑا، میں نے آئی کارڈ گلے میں ڈالا...
بوڑھی ماں...ماں تو کسی کی ہو ماں... تو ماں ہوتی ہے، کسی بھی دھرم کی ہو
میں نے باقاعدہ ہچکیاں لے کر رونا شروع کردیاتھا
▪️▪️▪️▪️▪️
8/4/2025
(مالیگاؤں)
___________
مثنوی، گیت، غزل، نظم، فســـــــانہ اترے
میرے کاغذ پہ جو اترے وہ اچھوتا اترے
دائرہ دائرہ وَســـــــواس میں دریا اترے
ریت دامن میں کبھی آب صحیفہ اترے
پہرے والوں کو ہے معلوٗم نہ پیاسوں کو خبر
خواہشِ آب کہ مجھ میں کوئی پیاســا اترے
ڈوبنے والے بہت دیکھنے والے بھی بہت
کس کنارے سـے یہ بپھرا ہوا دریا اترے
منتظر ہوٗں کہ مِری کشتی گُم گَشتہ پر
شـــــــــاخِ زیتون لیے کوئی پرندہ اترے
جس کی زلفوں سےٹپکتے ہوں گُہر پانی کے
پیاس کی آگــــــــــ بُجھانے وہ مسیحا اترے
چشمِ بے آب میں ٹھہرا ہُوا بادل ہوٗں مَیں
اشکـــــــــ بن جاؤں تو احسان ہَوا کا اترے
سلیمؔ شہزاد،
مالیگاؤں،ناشک،
مہاراشٹر ، انڈیا
_______________
*✯ غزل ✯*
ــــــــــــــــــــــــ
●مکمل نام: منصور اکبر
●پیدائش: 3/07/1975
●رہائش: ٢٥٥ / چونا بھٹّی ، مالیگاؤں
●پیشہ: صحافت و ٹرانسپورٹنگ
●پسندیدہ شاعر: جَون ایلیاء
ــــــــــــــــــــــــ
ریزہ ریزہ بہار بھی، مَیں بھی !
خواہشِ زلفِ یار بھی، مَیں بھی !
لمحہ لمحہ، صدی صدی جیسے
اُف! تِرا انتظار بھی، مَیں بھی !
قصرِ جاناں سے صبح لَوٹے ہیں
حضرتِ ذی وقار بھی، مَیں بھی !
کیا زمانے کو منہ دکھائیں گے
نغمۂ داغ دار بھی، مَیں بھی !
نیل کی وادیوں سے پھر اٹھّے
کوئی شعلہ شعار بھی، مَیں بھی !
تیری آمد کے منتظر سب ہیں
موسمِ خوشگوار بھی، مَیں بھی !
🍁 *منصـــــور اکبر* 🍁
*----------🔰انتخاب🔰----------*
█▓▒░ *تنـــــــــویـــــــر اشــــــــرف* ░▒▓█