Tuesday, 25 March 2025

*🔴سیف نیوز اردو*




ناگپور تشدد میں فہیم خان پر ایکشن، جانئے کس کا تھا وہ گھر، جس پر چلا بلڈوزر
میونسپل کارپوریشن نے 21 مارچ کو نوٹس جاری کیا تھا۔ کہا گیا کہ 86.48 مربع میٹر میں بنایا گیا یہ گھر غیر قانونی ہے، اس کا نقشہ منظور نہیں کرایا گیا ہے۔ میونسپل حکام نے 20 مارچ کو گھر کا معائنہ کیا اور پایا کہ یہ تعمیر مہاراشٹر ریجنل اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایکٹ 1966 کی خلاف ورزی ہے۔اس کے بعد 21 مارچ کو فہیم خان کو نوٹس جاری کیا گیا اور انہیں اپنے طور پر ڈھانچے کو ہٹانے کا حکم دیا تھا ۔ تاہم انہوں نے ایسا نہیں کیا جس کی وجہ سے اب انتظامیہ کو خود ہی ایکشن لینا پڑا۔ کارپوریشن کی بلڈوزر کارروائی ناگپور کی سنجے باغ کالونی میں واقع فہیم خان کے دو منزلہ مکان پر ہوئی جو ان کی اہلیہ ظاہر النساء کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔

اس سے پہلے 17 مارچ کو فسادات کے بعد ناگپور شہر میں کرفیو لگا دیا گیا تھا۔ تشدد اس وقت شروع ہوا جب افواہیں پھیل گئیں کہ اورنگ زیب کے مقبرے کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر مقدس کتاب کی آیات پر مشتمل ایک چادر کو جلا دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں پتھراؤ اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے جس کے بعد انتظامیہ نے کرفیو نافذ کر دیا۔وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے اتوار کو کہا تھا کہ ناگپور میں حالات اب مکمل طور پر پرامن ہیں، اور کرفیو ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر قانون اجازت دیتا ہے تو انتظامیہ بلڈوزر استعمال کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے یہ بیان اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے بلڈوزر ماڈل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دیا۔ فڑنویس کا یہ بیان ایسے وقت آیا جب سپریم کورٹ نے ملک بھر میں بلڈوزر سے غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کی کارروائی پر پابندی لگا دی ہے۔








جانوروں سے ’بات چیت‘، سائنسدان کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں؟
کسی طوطے کے منہ سے نکلنے والا کوئی جملہ ہو، بلی کی میاؤں میاؤں یا کتے کی واؤ واؤ، مالک کے ذہن میں اس خیال کہ اس نے کیا کہا ہے، سے اگلا خیال یہ آتا ہے کہ کاش وہ بھی ڈاکٹر ڈولیٹل ہوتا یا ہوتی۔
وہ اس لیے کہ یہ افسانوی کردار جس پر ہالی وڈ میں فلم بھی بن چکی ہے، جانوروں کے ساتھ بات چیت کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
سائنسدان بھی ایسی ’صلاحیت‘ حاصل کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں اور اب تو اس کے لیے اے آئی کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ اس لیے ایسے سوالات کہ جانوروں کے ساتھ گپ شپ کا کوئی امکان ہے اور وہ کوششیں کس حد تک کامیاب رہیں؟ کا جواب ذیلی سطور میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔
مشہور انگریزی ویب سائٹ لسٹورس نے کئی دہائیوں تک ہونے والی ایسی کاوشوں پر رپورٹ شائع کی ہے۔الیکس دی پیرٹ کا کمال
ڈاکٹر ارینے پیپربرگ نے 30 سال تک افریقہ کے ایک سرمئی طوطے کو بولنا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنا سکھایا، جس سے سائنسدانوں کا یہ پرانا خیال غلط ثابت ہو گیا کہ جانور اور پرندے اپنی بات سمجھانے میں بہت سست ہوتے ہیں۔
اس طوطے نے سو سے زیادہ الفاظ سیکھے، وہ چیزوں کو پہچانتا تھا اور نام بھی جانتا تھا جبکہ گنتی بھی گن سکتا تھا۔
 پیپر برگ نے الیکس کو ماڈل، ریول ٹیکنیک کے ذریعے تربیت دی۔ جس کے بعد طوطا نہ صرف الفاظ کی نقل کر کے بول پاتا تھا بلکہ اس کے معنی بھی سمجھتا تھا۔ وہ ملتی جلتی اشیا کے درمیان فرق بھی بتا سکتا تھا، جیسا کہ لوہے اور پلاسٹ کی چابی، اور وہ یہ بھی جانتا تھا وہ مختلف مواد سے بنی ہیں اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ڈاکٹر پیپربرگ کا کہنا ہے کہ ‘جب الیکس مشق کے دوران بور ہو جاتا تو وہ جان بوجھ کر سوالوں کے غلط جواب دینا شروع کر دیتا۔‘
الیکس دنیا کی ریکارڈڈ تاریخ میں اس وقت پہلا پرندہ بن گیا جس نے آئینے میں خود کو دیکھنے کے بعد پوچھا ’یہ کونسا رنگ ہے۔‘
الیکس 2007 میں 31 سال کی عمر میں اچانک مر گیا جو کہ افریقی طوطے کی عمر کے لحاظ سے جوانی کا دور تھا۔
ڈاکٹر ارینے پیپربرگ کا کہنا ہے کہ آخری وقت میں اس نے تین جملے بولے، ’آپ اچھے رہیں، کل ملتے ہیں، آئی لو یو۔‘
بلی جانے آنکھوں کی زبان
 انگلینڈ کے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اگر کوئی بلیوں کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہے تو اس میں سب سے بڑا کردار پلکیں جھپکانے اور آنکھیں مٹکانے کا ہے۔یونیورسٹی آف سسیکس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بلی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے تمام جانور آنکھوں کے اشارے کا گرمجوشی سے جواب دیتے ہیں۔
 اگر بلی آنکھوں کے اشارے کے جواب میں یا پھر اس کے بغیر بی آنکھوں کو بڑا اور چھوٹا کر کے پلکیں جھپکاتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ آپ کو دوست سمجھ رہی ہے، تاہم اس کے انداز میں اگر گھورنا شامل ہو تو اس کا مطلب ناگواری ہو سکتا ہے۔
آنکھیں چندھیا کر بلی کو دیکھنے کے حوالے سے ہونے والی تحقیق میں سامنے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب ایک میٹر کی دوری سے مالکان نے بلی کو دیکھ کر آںکھیں جھپکائیں تو اس کا ردعمل ایک سا ہی تھا تاہم جب ان ساننسدانوں جو ان بلیوں سے کبھی نہیں ملے تھے، نے یہی عمل دُہرایا ہے کہ تو ان کا ردعمل مختلف تھا۔
اسی طرح وہ اس اجنبی کے پاس بھی آ جاتی ہیں جو ان کی طرف دیکھ کر آہستہ سے آنکھیں جھپکتا ہے۔
اس تحقیق کے نگران پروفیسر کیرن میک کامب اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں ’یہ بلیوں کے ساتھ وابستگی کو بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ بلی کو دیکھتے ہوئے آںکھوں کو دو سیکنڈ کے لیے ہلکا سا بند کریں۔ اس کے جواب میں بلی بھی ایسا ہی کرے گی اس کے بعد آپ ایک قسم کی بات چیت شروع کر سکتے ہیں۔‘
گھوڑوں کی زبان
2016 میں ناروے کے سائنسدانوں نے گھوڑوں کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک طریقہ کار ڈھونڈا اور وہ مختلف چیزوں کی مدد سے انسانوں کو اپنا پیغام دیتے ہیں۔وہاں 23 گھوڑوں کو دو ہفتے تک 10 سے 15 منٹ تک تربیت دی گئی، جن میں مختلف نسلیں شامل تھیں اور ان کو ایک تختے کے سامنے جس پر ’آئی‘ لکھا تھا، کھانا دیا جاتا تھا، جبکہ گرمی کے وقت اصطبل پر ترپال ڈالتے وقت ایک اور تختے کے قریب لے جایا جاتا جس پر کوئی اور حرف لکھا ہوتا، اسی طرح ان کی توجہ ایک اور تختے کی طرف اس وقت دلائی جاتی جب ترپال کو اتارا جاتا۔
اس مشق کے کچھ روز بعد جب گھروں کو بھوک لگتی تو وہ ’آئی‘ والے تختے کے پاس جاتے اور جب گرمی لگتی تو ترپال ہٹانے کے لیے اسی تختے سے دھیرے دھیرے سر ٹکراتے جو ان کو ترپال اتارتے وقت دکھایا جاتا تھا جبکہ سردی لگنے پر اس تختے کے پاس جمع ہوتے جو ترپال ڈالتے وقت دکھایا جاتا تھا۔
کتوں سے انٹرایکشن کرانے والا سمارٹ پٹہ
ویسے تو ایک پرانی کہاوت کا مفہوم ہے کہ آُپ پرانے کتوں کو کوئی نئی چیز نہیں سکھا سکتے تاہم نارتھ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے سائنسدان اس سے اتفاق نہیں کرتے۔
2015 میں انہوں نے ایک تجربہ کیا جو شہ سرخیوں میں بھی آیا اور ایک سمارٹ پٹہ بنایا جس کی بدولت کتے اپنے مالکان کے ساتھ ایک قسم کی بات چیت کر سکتے ہیں۔
یہ پٹہ شعبہ ٹیک اور کینائن لورز کے مشترکہ پراجیکٹ میں بنایا گیا۔خصوصی طرز کا یہ پٹہ صرف گلے تک محدود نہیں تھا بلکہ کتے کے کندھوں اور کمر کا احاطہ بھی کرتا تھا۔ اس میں ویب کیمرے اور سینسرز استعمال کیے گئے۔ ان کے مالکان اپنے موبائل یا ٹٰیبلٹ سے ان کو کمانڈ دے سکتے ہیں اور اس پر جانوروں کے ردعمل کو نوٹ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ان کے دل کی دھڑکن اور نبض تک کو محسوس کر رہا ہوتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ کسی مشکل میں پھنس جانے والے کتے یا اس کے مالک کو بچانے میں بھی یہ آلہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر الپر بوزکرٹ کا کہنا ہے کہ ’ہماری خواہش ہے کہ لوگ اپنے جانوروں کو اس طرح سے پالیں کہ ان سے کام لیا جا سکے۔‘
چڑیوں کا ’قدرتی تعاون‘
موزمبیق کے دیہاتی علاقوں میں رہنے والے لوگ جن کو یاؤ کہا جاتا ہے، جنگلی پرندوں کے ساتھ ایک متاثرکن رشتہ رکھتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ آپس میں بات چیت کر رہے ہیں۔ ان پرندوں کو شہد تلاش کرنے اور نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
دو قسم کے ننھی چڑیاں اپنی مخصوص آواز نکال کر اور چہچہا کر باقاعدہ مقامی لوگوں کو جواب دیتی ہیں۔
یہ مقامی لوگوں کو ان مقامات تک لے جانے میں رہنمائی کرتی ہیں جہاں شہد کے چھتے لگے ہوں کیونکہ اکثر درختوں میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔اس کے بعد لوگ دھونی دے کر اور دوسرے طریقوں سے شہد نکالتے ہیں جبکہ اس دوران ان ننھی چڑیوں کی بھی میٹھے سے تواضع کی جاتی ہے۔
قدیم دور سے چلا آنے والا یہ سلسلہ 2016 میں سامنے آیا اور اس پر تحقیق کی گئی، تاہم محققین اس امر پر حیران ہیں کہ جب ان پرندوں کو باقاعدہ طور پر تربیت نہیں دی گئی تو پھر کیسے وہ یہ کام اتنے اچھے طریقے سے انجام دیتے ہیں اور انہوں نے اسکو ایک ’قدرتی تعاون‘ قرار دیا ہے۔
کینگروز کا انداز
سڈنی اور لندن کی ٹیمز نے دوران تحقیق اس بات کا اندازہ لگایا کہ کینگروز کسی مشکل میں پڑنے پر انسان کی طرف دیکھ کر مدد مانگتے ہیں۔
2002 میں ہونے والی تحقیق میں شامل ماہرین نے ایک ٹیسٹ کے دوران مشاہدہ کہ جب کینگروز ایک بند باکس سے کھانے کا سامان نہ نکال پاتے تو وہ انسانوں کی طرف دیکھ کر مدد کے لیے اشارہ کرتے اور اس مقام کو سونکھ کر نشاندہی کرتے ہیں جس کو کھولنا مقصود ہوتا ہے۔کوکو، جو ایک سیلیبرٹی تھی
کوکو سان فرانسسکو میں پیدا ہونے والی ایک مادہ گوریلا کا نام ہے۔
اس کی متاثرکن مہارت کی وجہ سے لوگ اس کو بہت پسنر کرتے ہیں۔ وہ 1000 سے زائد الفاظ مہارت کے ساتھ استعمال کر سکتی تھی جبکہ انگریزی کے عام الفاظ پر بھی اس کی اچھی گرفت تھی۔
ڈاکٹر فرانسین پیٹرسن نے اس کی چند ہفتے تک تربیت کی تھی اور بہت جلد اس نے بنیادی باتیں سیکھ لی تھیں۔ کوکو نے انسانوں کو گوریلوں کے ان گہرے جذبات کے بارے میں بھی بتایا جن کو سالہاسال تک محسوس ہی نہیں کیا گیا تھا۔ اس نے دیکھ بھال کرنے والوں کے ساتھ اچھا تعلق بنایا اور ان کے ستھ بات چیت کی صلاحیت بھی پیدا کی۔
اس کی حس مزاح بھی کافی بلند تھی اور اشاروں میں کئی بار ایسی باتیں بتائیں جو عام طور پر انسان مزاح کے لیے استعمال کرتے ہیں۔کوکو 2018 میں اپنی 47ویں سالگرہ سے چند ہفتے قبل مر گئی۔ جس کے بعد انسانوں کی اس کوشش کو مزید تقویت ملی کہ جانوروں سے بات چیت کریں، ان کی بات کو سمجھیں اور سمجھائیں اور اس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
وہیل کے ساتھ 20 منٹ کی گفتگو
2024 میں وہیل مچھلی کے ایک پراجیکٹ پر کام کرنے والے محققین نے دنیا کو بتایا کہ انہوں نے وہیل کے ساتھ بیس منٹ تک بات کی ہے۔
ٹیم نے یہ تجربہ الاسکا کے ساحل کے قریب کیا۔تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر برینڈا میک کووین کا کہنا ہے کہ سپیکرز کی مدد سے پانی کے اندر ایک اور وہیل کی ریکارڈ کال چلائی گئی، جس کے جواب میں کوہان والی وہیل نے ردعمل دیا اور آوازیں نکالیں جس کو سمجھنے کے لیے اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذرائع کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ دو مچھلیوں کے درمیان پہلا ریکارڈڈ رابطہ ہے، جس کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ ایک روز ایسے پیغامات کا ترجمہ بھی کر لیا جائے گا۔









شب قدر میں پڑھنے کے لیے 10 بہترین نعتیں اور نظمیں
سب سے افضل مگر لیلۃ القدر ہے

ماہ رمضان کی ہر شب مبارک سہی

سب سے افضل مگر لیلۃ القدر ہے

آج خالق ہے بندوں سے نزدیک تر

کس قدر باثمر لیلۃ القدر ہے

ہے ہزاروں مہینوں سے بہتر یہ شب

اس کی برکت سے تسکین پاتے ہیں سب

بھیجتا ہے زمین پر فرشتوں کو رب

رشک شام و سحر لیلۃ القدر ہے

جس میں تحفہ ملا ہم کو قرآن کا

نسخہ کیمیا علم و عرفان کا

راز ہے جس میں معراج انسان کا

کس قدر معتبر لیلۃ القدر ہے

ہے یہ رب کی عنایت میرے دوستو

کر لو تم بھی عبادت میرے دوستو

پُرسعادت سلامت میرے دوستو

تابہ وقت سحر لیلۃ القدر ہے

نیکیوں کے لیے اب کمر باندھ لو

دل تلاوت سے صفدر منور کرو

رحمتوں کے سبھی پھول اور پھل چنو

مغفرت کا شجر لیلۃ القدر ہے

نامعلومآقا مجھ کو مدینہ دکھا دیجیے

کب کہا لعل و گہر دلا دیجیے

آقا مجھ کو مدینہ دکھا دیجیے

میں بھی آنکھوں سے دیکھوں گی گنبد ہرا

میری آنکھوں کو مولا شفا دیجیے

اچھا لگتا ہے مجھ کو یہ کہنا بہت

گر گیا ہوں میں، آقا اٹھا لیجیے

آپ سے نہ کہوں تو میں کس سے کہوں

میری قسمت سے سختی مٹا دیجیے

بابو فرازحالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے

حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے

کیوں کسی کے در پہ جائیں آپ کے ہوتے ہوئے

میں غلام مصطفی ہوں یہ مری پہچان ہے

غم مجھے کیوں کر ستائیں آپ کے ہوتے ہوئے

شانِ محبوبی دکھائی جائے گی محشر کے دن

کون دیکھے گا خطائیں آپ کے ہوتے ہوئے

زلفِ محبوب خدا لہرائے گی محشر کے دن

خوب یہ کس کی گھٹائیں آپ کے ہوتے ہوئے

میں یہ کیسے مان جاؤں شام کے بازار میں

چھین لے کوئی ردائیں آپ کے ہوتے ہوئے
اپنا جینا اپنا مرنا اب اسی چوکھٹ پہ ہے

ہم کہاں سرکار جائیں آپ کے ہوتے ہوئے

کہہ رہا ہے آپ کا رب "اَنتَ فِیھِم" آپ سے

میں انہیں دوں کیوں سزائیں آپ کے ہوتے ہوئے

یہ تو ہو سکتا نہیں ہے یہ بات ممکن ہی نہیں

میرے گھر میں غم آ جائیں آپ کے ہوتے ہوئے

کون ہے الطاف اپنا حال دل کس سے کہیں

زخم دل کس کو دکھائیں آپ کے ہوتے ہوئے

الطاف کاظمیچھوڑ فکر دنیا کی چل مدینے چلتے ہیں

چھوڑ فکر دنیا کی چل مدینے چلتے ہیں

مصطفیٰ غلاموں کی قسمتیں بدلتے ہیں

رحمتوں کی چادر کے سر پہ سائے چلتے ہیں

مصطفیٰ کے دیوانے گھر سے جب نکلتے ہیں

صرف ساری دنیا میں وہ ہے کوچہ احمد

جس جگہ جہ ہم سب کھوٹے سکے چلتے ہیں

نقش کر لے سینے پر نام سرور دین کا

یہ وہ نام جس سے سب عذاب ٹلتے ہیں

زکر شاہ بطحا کو اب درد اب بنا لیجئے

یہ وہ زکر ہےجس سے غم خوشی میں ڈھلتے ہیں

اس کو کیا ضرورت ہے عطر مشک و عنبر کی

خاک جو مدینے کی اپنے تن پہ ملتے ہیں

سچ ہے غیر کا احسان ہم کبھی نہیں لیتے

اے علیم آقا کے ہم ٹکڑوں پہ پلتے ہیں

نامعلوممیری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں

میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں میرے آقا کا روضہ مدینے میں ہے

میں مدینے کی جانب نہ کیسے کھنچوں میرا دین اور دنیا مدینے میں ہے

عرشِ اعظم سے جس کی بڑی شان ہے روضہ ِمصطفٰی جس کی پہچان ہے

جس کا ہم پلاّ کوئی محلہ نہیں، ایک ایسا محلہ مدینے میں ہے

پھر مجھے موت کا کوئی خطرہ نہ ہو موت کیا زندگی کی بھی پروا نہ ہو

کاش سرکار اک بار مجھ سے کہیں، اب تیرا مرنا جینا مدینے میں ہے

سرور ِ دو جہاں سے دعا ہے مری، ہاں بد وچشم تر التجا ہے میری
ان کی فہرست میں میرا بھی نام ہو ، جن کا روز آنا جانا مدینے میں ہے

جب نظر سوئے طیبہ روانہ ہوئی ساتھ دل بھی گیا ساتھ جاں بھی گئی

میں منیر اب رہوں گا یہاں کس لئے ، میرا سارا اثاثہ مدینے میں ہے

منیر قصوریکھجوروں کے چھپر کے حجرے کا باسی

کھجوروں کے چھپر کے حجرے کا باسی

چٹائی پہ راتیں بسر کر نے والا

وہ اک ر حمت دو جہاں اور پھر بھی

سدا نان جو پہ گزر کر نے والا

ذلالت زوہ نو حِ انساں کے ﻏم میں

مصلے کو اشکوں سے تر کرنے والا

ﺧـدا کے گناہگار بندوں کی ﺧـاطر

دُعائوں میں رو رو سحر کرنے والا

مواﺧـات کی بزم آراستہ ھے

وہ دیکھو مہاجر وہ انصار دیکھو

ھر اک نے ھر اک چیز تقسیم کردی

محبت وہ دیکھو' وہ ایثار دیکھو

رہا کارزار حنین واحد میںکھڑا استقامت کی دیوار بن کر

پڑا حق پہ جب بھی کھٹن وقت کوئی

وہ نکلاعساکر کا سالار بن کر

زمانے کی محفل کو جس نے سنوارا

ﺍﺳﮯ حق نے محبوب کہہ کرپکارا

کروڑوں سلام ﺍس مقدس نبی پر

تھا ٹوٹے دلوں کا مہرباں سہارا

احسن عزیز

نبی کا لب پر جو ذکر ہے بے مثال آیا کمال آیا

نبی کا لب پر جو ذکر ہے بے مثال آیا کمال آیا

جو ہجرِ طیبہ میں یاد بن کر خیال آیا کمال آیا

تیری دعاوٴں ہی کی بدولت عذابِ رب سے بچے ہوئے ہیں

جو حق میں اُمّت کے تیرے لب پر سوال آیا کمال آیا

غرور حوروں کا توڑ ڈالا لگا کے ماتھے پہ تِل خدا نے

جو کالے رنگ کا غلام تیرا بلال رضی اللہ عنہ آیا کمال آیا

نبی کی آمد سے نور پھیلا فضائے شب پر نکھار آیا

چمن میں کلیوں کے رُخ پہ حُسن وجمال آیا کمال آیا

عمرؓ کی جرات پہ جاوٴں قرباں کہ جس سے شیطان بھی ہے لرزاں

عمرؓ کے آنے سے کفر پر جو زوال آیا کمال آیا

نبی تو صائم سبھی ہیں اعلیٰ ہیں رتبے سب کے عظیم و بالا

مگر جو آخر میں آمنہؓ کا وہ لال آیا کمال آیا

ملک مبشر صائم علویمدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ

مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ

جبیں افسردہ افسردہ قدم لغزیدہ لغزیدہ

چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانب طیبہ

نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ

کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ

کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ

کہاں میں اور کہاں اس روضۂ اقدس کا نظارہ

نظر اس سمت اٹھتی ہے مگر دزدیدہ دزدیدہ

غلامان محمد دور سے پہچانے جاتے ہیں

دل گرویدہ گرویدہ سر شوریدہ شوریدہ

مدینے جا کے ہم سمجھے تقدس کس کو کہتے ہیں

ہوا پاکیزہ پاکیزہ فضا سنجیدہ سنجیدہ

بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے

مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ

وہی اقبالؔ جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر

فراق طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ

مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ

جبیں افسردہ افسردہ قدم لرزیدہ لرزیدہ

اقبال عظیممیں بندۂِ عاصی ہوں خطا کار ہوں مولا

لیکن تیری رحمت کا طلب گار ہوں مولا

وابسطہ ہے امید میری تیرے کرم سے

تیرا ہوں فقط تیرا پرستار ہوں مولا

اک تیرا اشارہ ہو اور آسان ہو منزل

اک لہرا ٹھے اور میں اُس پار ہوں مولا

جن سے میں گزر جاوں وہ در کھول دے مجھ میں

خود اپنے ہی رستے کی میں دیوار ہوں مولا

باہر کے اجالے مجھےکیا راہ سجھائیں

اندر کے اندھیروں میں گرفتار ہوں مولا

پھر تو میرے ایماں کو توانائی عطا کر

برسوں نہیں صدیوں سے بیمار ہوں مولا

نامعلومہزار ماہ سے بھی ہے یہ برتر

ہزار ماہ سے بھی ہے یہ برتر

شبِ قدر شبِ قدر

اتارا رب نے اسی میں قرآن

جو اس کو ضائع کرے ہے ناداں

بس اس کی دل سے کرو قدر

شب قدر شب قدر

یہ طاق راتوں کی روشنی ہے

یہ قلب مومن کی تازگی ہے

تو اس میں رب کو تلاش کر

شب قدر شب

مٹیں گے تیرے گناہ سارے

اگرچہ ان کے نہ ہوں کنارے

تو اس میں توبہ خدا سے کر

شب قدر شب قدر

جہاں اک بد نصیب ہے وہ

جو فضل رب کا نہ پا سکا ہو

یہ رب سے قربت اک ہے گہر

شب قدر شب قدر

ملائکہ سب اتر رہے ہیں

وہ رحمتیں ساتھ لا رہے ہیں

روح الامین بھی آئے اتر

شب قدر شب قدر

طلوع فجر تک یہ رہتی ہے

سلامتی ہی سلامتی ہے

خدا سے مانگو تم رات بھر

شب قدر شب قدر

مصطفیٰ کو نصیب کرنا

رات اس میں قیام کرنا

پائے گا وہ بھی عالی اجر

شب قدر شب قدر

نامعلوم

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...