سنبھل: اترپردیش کے سنبھل میں واقع شاہی جامع مسجد کی سروے رپورٹ آج عدالت میں پیش کردی گئی۔ کورٹ کمشنر نے اس سروے کی تقریباً 40-45 صفحات کی رپورٹ عدالت میں پیش کی ہے۔ 19 نومبر کو مقامی عدالت نے ہندو فریق کے دلائل پر غور کرنے کے بعد کورٹ کمشنر کو مسجد کا سروے کرنے کے لیے ایک حکم جاری کیا تھا۔
سنبھل میں 19 نومبر کو عدالت کے حکم پر سنبھل شہر کے کوٹ گڑوی علاقے میں مغل دور کی شاہی جامع مسجد کا سروے کئے جانے کے بعد سے سنبھل میں کشیدگی ہے۔ عدالت میں دائر درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جس جگہ مسجد بنائی گئی ہے، وہاں پہلے ہری ہر مندر تھا۔ بعد ازاں 24 نومبر کو مسجد کے دوسرے سروے کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا، جس میں افراد کی موت ہوگئی تھی اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔
پولیس نے گزشتہ منگل کو 24 نومبر کو جامع مسجد کے سروے کے دوران ہوئے تشدد کے سلسلے میں مزید سات افراد کو گرفتار کیا ۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) شریش چندرا نے اس کی تصدیق کردی ہے۔ ان کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں شعیب، شجاع الدین، راحت، محمد اعظم، اظہر الدین، جاوید اور مصطفی شامل ہیں۔
تشدد سے متعلق معاملات میں اب تک 47 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ واقعے میں مبینہ طور پر شامل دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ تشدد کے حوالے سے اب تک 11 مقدمات درج ہوئے ہیں۔