رمضان کا پہلا روزہ ، عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد افطاری کے لئے پھل و دیگر چیزیں خریدنے کے لئے ہم بھیڑ کو چیرتے، اپنے لئے راستہ بناتے، دھکا کھاتے اور کھلاتے چوک سے آگے بڑھے جا رہے تھے۔ “ پچاس کے تین ، بیس کا ایک ۔” ایک تربوز والے کی آواز نے ہمارا دھیان اپنی جانب کھینچ لیا۔ “چالیس کے تین دے دو۔” ہم نےایک تربوز اپنے ہاتھوں میں لے کر الٹ پلٹ کر کے دیکھتے ہوئے کہا۔ “ارے بھیا اتنے کی تو خریدی بھی نہیں ہے۔ رمضان کا مہینہ ہے جھوٹ نہیں بولونگا۔”
پھل پھروش نے “رمضان کا مہینہ” پر زور دیتے ہوئے کہا ۔ اور ہم نے اس کی بات پر یقین بھی کرلیا۔ تھوڑا آگے بڑھے تو بھیڑ کے درمیان ایک ادھیڑ عمر کے سائیکل سوارمحترم ایک نوجوان پر ناشائستہ الفاظ کے تیر چلا رہے تھے۔ نوجوان بھی اپنا کردار بخوبی نبھا رہا تھا۔” او چچا چلو آگے بڑھو ۔ عمر کا لہاج کر را تو جیادہ مت بولو۔” معاملہ یہ تھا کہ نوجوان کی موٹر سائیکل نے پیچھے سے چاچا کی سائیکل کو ہلکی سی ٹکر مار دی تھی۔ ایک شخص نے چاچا کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کے سمجھاتے ہوئے کہا۔” ارے چاچا رمضان مہینہ ہے تھوڑا سمجھ لو۔” اور چاچا نے سمجھ بھی لیا ۔ وہ آگے بڑھ گئے۔ رمضان اپنے ساتھ اللہ کی بیش بہا رحمتیں ساتھ لاتا ہے۔ بازاروں کے علاوہ راستوں ، چوک چوراہوں پر دن اور رات کے مخصوص اوقات میں بھیڑ بھاڑ ہو جانا معمول کی بات ہے۔ ماحول پر نور اور پر رونق ہو جاتا ہے۔ اور پھر ہمارے شہر کی تو بات ہی منفرد ہے۔ شہر عزیز پر رمضان اور عید پر سیکڑوں صفحات پر مشتمل تصنیف وجود میں لائی جا سکتی ہے۔ رمضان میں رحمتوں کا نزول اور اس کی اپنی عظمتیں ہیں ۔ ہر اہل ایمان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس مبارک مہینے میں لٹائے جا رہے نیکی کے خزانے سے اپنے لئے زیادہ سے زیادہ نیکیاں اکٹھا کرلیں تاکہ دنیا و آخرت دونوں ہی سنور جائے۔ ایک کے بدلے ستر کا وعدہ ہے۔ شہر میں سفرا ء کی تعداد قابل ذکر ، قابل فخر اور بعض اوقات قابل فکر بھی ہو جاتی ہے۔ بیرون شہر سے ضرورت مند افراد زکوٰۃ و فطرہ کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ زکوٰۃ ضرورت مندوں تک پہنچے اس کا بھی خیال رکھا جانا ضروری ہے۔ لیکن کیا ضرورتیں وقت دیکھ کر آتی ہیں ۔ ماہ رمضان کے علاوہ بھی ضرورت مند افراد کو مالی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ رمضان کے مہینے کا انتظار نہ کرتے ہوئے بوقت ضرورت ہم ضرورت مندوں کے کام آجائیں تو؟ وہ ہمارے دلوں کے حال جاننے والا ہے۔ ہمارے گمان سے زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ ہم جس شہر میں رہائش اختیار رکھتے ہمارے مکان کے آگے والی گلی میں نئی مسجد تعمیر ہوئی ہے۔ الحمد اللہ پہلے رمضان سے نماز و تراویح کا آغاز ہو چکا ہے۔ مسجد کے سامنے راستہ زیادہ کشادہ نہیں ہے۔ سامنے ایک ہم وطن کا مکان ہے۔ نمازیوں کی گاڑیاں پارک ہونے سے مکان والوں کو ہو رہی پریشانی کی شکایت کی گئی۔ ایک بزرگ نے انہیں سمجھایا کہ “رمضان کا مہینہ ہے تب تک تمھیں تکلیف ہے۔ عید بعد مسجد میں اتنی بھیڑ نہیں رہتی۔”
ہمارے روز مرہ کے اعمال، دوسروں کے ساتھ ہمارا برتاؤ ، لین دین اور عبادات کے لئے کیا وقت متعین ہے؟ اس وقت کے علاوہ ہم اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں۔ کیا ایک مہینے کے ساتھ بقیہ گیارہ مہینے بھی اسلامی تعلیمات پر عمل ، اللہ کے حکم کی تعمیل اور نبی پاکﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اللہ کے نیک بندے اور ایک مثالی مسلمان نہیں بن سکتے ؟
تحریر : عظمت اقبال 9970666785
_____________
عرق النساء کی وجوہات اور علاج
عرق النساء کو عام الفاظ میں لنگڑی کا درد بھی کہا جاتا ہے عام طور پر عورتیں اس مسئلے کاشکار ہوتیں تو اس لیے اس کا نام بھی عرق النساء پڑھ گیا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے بلکہ مرد و خواتین دونوں اس کا شکار ہوکر رہ گئے۔
میڈیکل کی اصطلاح میں اسے شیاٹیکا(Sciatica) کہا جاتا ہے جو کہ اس کے عصب (Nerve) کے نام سے منسوب ہے یعنی یہ (Sciatic nerve) ہی ہوتا ہے جو کہ کمر یا ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں دب جاتا ہے یعنی کہ کمر یا ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور اس کی اطراف میں اعصابی نظام موجود ہوتا ہے جب ان مہروں کے اندر بگاڑ پیدا ہوجائے مطلب جو مہرے ہیں (Disks) جب یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے، باہر نکل آئے یا پھر یہ مہرے کمزور ہوکر پتلے ہوجائے (Stenosis) تو ان مسائل کی وجہ سے یہاں موجود اعصاب دب جاتے ہیں یعنی کہ یہاں موجود (Sciatic nerve)جو کہ ٹانگ تک جاتا ہے اس کے دبنے سے عرق النساء کا مرض پیدا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے پوری ٹانگ میں درد پھیل جاتا ہے۔
عرق النساء کی علامات کافی شدت سے پیدا ہوتی ہیں یعنی درد کمر سے شروع ہوکرکولہے سے ہوتے ہوئے پوری ٹانگ میں پھیل جاتا ہے۔
درد کی شدت اس قدر ہوتی ہے کہ مریض نہ بیٹھ سکتا ہے نہ چل سکتا ہے بلکہ مسلسل اذیت کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا درد عموماً ایک ٹانگ میں ہوتا ہے لیکن بعض اوقات دونوں میں بھی ہوسکتا ہے اس کے ساتھ بے چینی، ٹانگ کی کمزوری، سن ہوجانا یا بھاری پن پیدا ہونا یعنی متاثرہ ٹانگ مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے۔
اس کی وجوہات میں عام طور پرکسی جگہ سے گرجانا، ٹکر لگ جانا، زیادہ بیٹھنے کی وجہ سے مہروں کی خرابی، موٹاپہ یا شدید قبض کی وجہ سے مہروں پر دباؤ، عورتوں میں بچہ جننے کے بعد مہروں کا ڈھیلا پن یا دیگر مسائل جن کی وجہ سے مہروں کے درمیان کا وقفہ ختم ہوجائے، اپنی جگہ سے ہل جانا یا پھر مہروں کی خرابی (Degeneration) وغیرہ پیدا ہوجائے۔ جس کی وجہ سے (Sciatic nerve)ان مہروں کے درمیان عصب دب جاتا ہے یا پھنس جاتا ہے اور اس طرح سے پوری ٹانگ میں درد پھیل جاتا ہے کیونکہ یہ عصب ٹانگ تک پھیلا ہوا ہوتا ہے جو کہ جسم میں سب سے بڑا عصب مانا جاتا ہے۔
عرق النساء کی تشخیص عام طور پر طبعی معائنے کے دوران ہی علامات کی مدد سے ممکن ہے بعض اوقات جب مہروں میں بگاڑ زیادہ ہو تو تب ایکسرے، سی۔ ٹی۔ سکین۔، ایم۔ آر۔ آئی۔ وغیرہ کا سہارہ لیا جاتا ہے۔
ایلوپیتھک ادویات میں دردکش ادویات کے ساتھ ساتھ پٹھوں کو مقبوط بنانے کے لیے کیلشیم اور دیگر ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے ۔جن میں سوزشی ادویات(Anit inflammatory)، پٹھوں کو آرام دینے والی اودیات، ٹرائیکلک اینٹی ڈیپریسنٹس(Tricyclic antidepressants)وغیرہ جیسی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جب شدت زیادہ ہو تو کمر میں سٹیرائیڈ (Steroids)کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے اس کے علاوہ آج کل عام طور پر سرجری تجویز کی جاتی ہے لیکن ان مریضوں کو سرجری کے بعد مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی وجہ سے عام طور پر لوگ اس سے کتراتے ہیں۔اس کے علاوہ فیزیوتھراپی کا سہارہ لیا جاتا ہے جس میں مختلف قسم کی ورزشوں کے ذریعے مہروں کے بگاڑ کو درست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ یہ طریقہ کسی حد تک فائدہ مند ہے لیکن ہونا یہ چاہیے کہ جس وجہ سے مہروں کے اندر بگاڑ پیدا ہوا ہے اس وجہ کو دور کیا جائے۔
متبادل ادویات میں ہومیوپیتھک ادویات کا استعمال بھی کیا جاتا ہے جس میں مختلف ادویات کا حسب ضرورت استعمال کیا جاتا ہے یعنی کہ عرق النساء یا مہروں کی خرابی کی وجوہات کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جس میں عام طور پر جو ادویات استعمال کی جاتی ہیں وہ یہ ہیں Rhus tox, Colocynthis, Mag phos, Gnaphalium, Syphlinium, Amm mur, Bryonia, Ruta, Arnica, Belladonna وغیرہ، یعنی ایسی بے شمار ادویات موجود ہیں جو کہ مختلف وجوہات اور علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کی جاتی ہیں جس سے نہ صرف عرق النساء کو ٹھیک کیا جاتا ہے بلکہ مزید مہروں کی خرابی کو بھی روکا جاتا ہے۔
___________
بارش کے تھمنے تک
کوئی گرہ کھولیں
ہم تُم خاموش رہیں
صرف حرف بولیں
ایک فقرہ لکھ لیں
پانی پہ
دُکھ تب تک جھولی
میں سُو لیں
میرا دُکھ تمہاری پوری
کہانی سے بڑا ہے
تمہاری پوری کہانی
فقط یہ فقرہ کہ
فصلِ گُل میں بے خوشبو
کوئی مَر گیا ہے
میرا دُکھ یہ کہ تنہا ہی
کوئی بھیگتا ہوا
گھر گیا ہے !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارااحمد
_____________
••• بدن کی تنہائی •••
گیت جس نے بھی ایجاد کیا
وہ محبت کی ضرورت کو جانتا تھا
لمس جس نے بھی ایجاد کیا
وہ بدن کی تنہائی کو جانتا تھا
وہ ہونٹوں کی اداسی کو جانتا تھا
تعلق جس نے بھی ایجاد کیا
وہ اکیلے پن کی اذیت کو جانتا تھا
عشق جس نے بھی ایجاد کیا
وہ روح کی اکتاہٹ کو جانتا تھا
خواب جس نے بھی ایجاد کیا
وہ نیند کی کہانی کو جانتا تھا
آنسو جس نے بھی ایجاد کیا
وہ دکھ کی زبان کو جانتا تھا
یاد کو جس نے بھی ایجاد کیا
وہ وقت کے سفر کو جانتا تھا
نفرت کو جس نے بھی ایجاد کیا
وہ جذبوں کے قتل کو جانتا تھا
آواز کو جس نے بھی ایجاد کیا
وہ سماعتوں کے دکھ کو جانتا تھا
سفر جس نے بھی ایجاد کیا
وہ جدائی کی چاپ کو جانتا تھا
نغمہ جس نے بھی ایجاد کیا
وہ خدا کی مسکراہٹ کو جانتا تھا
جنگ کو جس نے بھی ایجاد کیا
وہ ظلم کی رسم کو جانتا تھا
خود کشی کو جس نے بھی ایجاد کیا
وہ زندگی کی خاموشی کو جانتا تھا۔
••• منیر احمد فردوس •••