Monday, 18 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

گابا چائے کیا ہے اور اس کے استعمال کے کیا فوائد ہیں؟
حالیہ دنوں میں ایک خاص قسم کی چائے گابا چائے عالمی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ذہنی سکون، بہتر نیند اور حتیٰ کہ ہینگ اوور کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔
گابا چائے کو استعمال کرنے کے اثرات اور فوائد جاننے سے قبل جان لیتے ہیں کہ آخر یہ ہے کیا؟
این ڈی ٹی وی کے مطابق گابا چائے دراصل چائے کی ایک خاص قسم ہے، جو عام طور پر لونگ، گرین یا بلیک ٹی سے تیار کی جاتی ہے۔اس میں گاما امینو بیوٹیرک ایسڈ (گابا) شامل کیا جاتا ہے، جو دماغ میں پایا جانے والا ایک قدرتی نیوروٹرانسمیٹر ہے اور اعصابی نظام کو پرسکون رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
گابا دماغی سرگرمی کو سست کرتا ہے، جس سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، بے چینی میں کمی آتی ہے اور نیند بہتر ہوتی ہے۔
یہ کیسے تیار کی جاتی ہے؟
اس چائے کی تیاری کا طریقہ عام چائے سے مختلف ہوتا ہے۔
اسے این ایروبک فرمنٹیشن کے عمل سے گزارا جاتا ہے، جہاں آکسیجن کے بغیر نائٹروجن ماحول میں چائے کے پتوں میں موجود گلوٹامک ایسڈ کو گابا میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ پہلی بار سنہ1984 میں جاپان میں متعارف کروایا گیا تھا۔
گابا چائے بننے کے لیے اس میں کم از کم 150 ملی گرام گابا فی 100 گرام ہونا ضروری ہے، جبکہ عام چائے میں یہ مقدار صرف پانچ سے 10 ملی گرام ہوتی ہے۔
یہ مقبول کیوں ہو رہی ہے؟
اس چائے کی مقبولیت کی بڑی وجہ اس کے ممکنہ طبی فوائد ہیں، جن میں ذہنی دباؤ اور بے چینی میں کمی، بہتر نیند، بلڈ پریشر میں کمی، موڈ میں بہتری اور ہینگ اوور کے اثرات میں کمی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق گابا چائے اعصابی نظام کو پرسکون کر کے اور نیند کو بہتر بنا کر ہینگ اوور کی شدت کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم یہ کوئی مکمل علاج نہیں بلکہ ایک ہلکی معاون چیز ہے۔
سائنس کیا کہتی ہے؟
چند تحقیقات میں اس کے استعمال کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ سنہ 2019 کی ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ گابا والی اولونگ چائے پینے سے طلبہ میں فوری ذہنی دباؤ کم ہوا اور دل کی دھڑکن کے نظام میں بہتری آئی۔ایک اور تحقیق میں 28 دن تک گابا چائے استعمال کرنے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دماغی سکون سے متعلق سرگرمی میں اضافہ دیکھا گیا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی مزید بڑی اور طویل المدتی تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ ان فوائد کی مکمل تصدیق کی جا سکے۔
گابا چائے کی اقسام
گابا چائے کی مختلف اقسام بھی موجود ہیں، جن میں تائیوان کی گابا اولونگ چائے سب سے زیادہ مشہور سمجھی جاتی ہے، جبکہ جاپانی گابارون گرین ٹی کی ایک خاص قسم ہے۔
اس کے علاوہ گابا بلیک ٹی بھی دستیاب ہے جو نسبتاً کم عام ہے مگر اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے پسند کی جاتی ہے۔
کیا یہ محفوظ ہے؟
عام مقدار میں گابا چائے کا استعمال زیادہ تر افراد کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ البتہ بعض افراد میں ہلکی غنودگی، بلڈ پریشر میں کمی یا معدے کی ہلکی تکلیف ہو سکتی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ چائے بلڈ پریشر یا اعصابی امراض کی ادویات کے ساتھ ردعمل دے سکتی ہے، اس لیے ایسے افراد احتیاط کریں۔







احتجاج کررہے گرام پردھانوں کے درمیان پہنچے نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک، مطالبات پرغور کرنے کا دیا بھروسہ، مٹھائی بھی کھلائی
پیر(18 مئی) کے روزاترپردیش کے نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک لکھنؤکے حضرت گنج میں گاندھی پرتیما استھل پراحتجاج کررہے سینکڑوں گاؤں کے سربراہوں کے درمیان اچانک پہنچے۔ نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک کا ایک منفرد اوردل کوچھولینے والا ویڈیوسامنے آیا ہے۔ انہوں نے گاؤں کے سربراہان کی خیریت دریافت کی، ذاتی طورپرانہیں پانی اورلڈوپیش کئے۔ اطلاعات کے مطابق، نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک وہاں سے گزررہے تھے، جب جی پی اوکے قریب دھرنے پر بیٹھے گرام پردھانوں کی بھیڑنظرآئی۔ فوراً گاڑی روک کر وہ وہاں اترے اور جہاں گرام پردھان دھرنا دے رہے تھے۔ وہاں پہنچ گئے۔

احتجاج کررہے گرام پردھانوں کو لڈو کھلایا

گرمی سے بے حال گرام پردھانوں کو دیکھ کربرجیش پاٹھک نے فوراً لڈو اورمٹھائی کے ڈبے اورپانی منگوایا، پھراپنے ہاتھوں سے ایک ایک کرکے گرام پردھانوں کو لڈوکھلایا۔ انہوں نے گرام پردھانوں کے د رمیان مٹھائی تقسیم کی اور پانی پلایا۔ اس دوران نائب وزیراعلیٰ نے گرام پردھانوں سے کہا کہ گرمی بہت ہے، پانی پیتے رہئے، صحت کا خیال رکھئے۔ انہوں نے ان کے مطالبات کو اعلیٰ قیادت (اعلیٰ کمان) تک پہنچانے کا بھروسہ بھی دیا۔نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک نے ایکس پرلکھا کہ آج لکھنومیں اپنی منزل کے لئے روانہ ہوتے ہوئے، میں نے حضرت گنج میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے جدوجہد کرنے والے اکھل بھارتیہ گرام پردھان سنگٹھن کے محنتی عہدیداروں اورکارکنوں کے ساتھ ایک خوشگوارملاقات اوربات چیت کی اوران کا مطالبہ نامہ حاصل کیا۔ انہوں نے لکھا کہ اکھل بھارتیہ گرام پردھان سنگٹھن کے قومی صدررام سیوک سنگھ اور ریاستی صدرگیانیندرسنگھ نے واقف کرایا کہ سنگٹھن پنچایت الیکشن سے کرائے جانے اورگرام پنچایتوں میں ایڈمنسٹریٹرکی تقرری کی جئے جانے کے معاملے سے متعلق احتجاج ہے۔ آرگنائزیشن کوبھروسہ دلایا گیا ہے کہ ان کے اس مطالبات کا مثبت حل نکالا جائے گا۔ گرام پردھان ہمارے ملک کی پنچایتی راج نظام کے مضبوط ستون ہیں۔ حکومت ہرقدم پران کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکرکھڑی ہے۔

جانئے کیا ہے گرام پردھانوں کا مطالبہ؟

گرام پردھانوں کی موجودہ مدت رواں ماہ ختم ہورہی ہے۔ حکومت کی جانب سے ایڈمنسٹریٹرکی تقرری کی باتیں سامنے آرہی ہیں اوراس کے خلاف اترپردیش کے مختلف اضلاع سے سینکڑوں گاؤں کے گرام پردھان احتجاج کرنے کے لئے لکھنؤ پہنچ گئے ہیں۔ وہ اپنی مدت میں توسیع کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سبھی گرام پردھان اپنی مدت کاربڑھانے کے مطالبہ پرقائم ہیں اورمختلف اضلاع کے سینکڑوں گاؤں کے سربراہ جی پی اوپارک میں گاندھی مجسمہ کے نیچے دھرنا اورمظاہرہ کررہے تھے۔ وہ ایڈمنسٹریٹرکی تقرری کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ اس دوران نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک نے ان سے ملاقات کی اوراحتجاج کرنے والے گرام پردھانوں کے سربراہان کویقین دہانی کرائی۔









نیٹ پیپر لیک معاملے میں 10ویں گرفتاری، سی بی آئی نے کوچنگ مالک پروفیسر شیوراج پولیس کو گرفتار کیا
سی بی آئی نے نیٹ-یوجی 2026 پیپرلیک معاملے میں بڑی کارروائی کی ہے۔ تفتیشی ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے مالک کوگرفتارکرلیا ہے۔ سی بی آئی نے اہم ملزم پروفیسرشیوراج موٹیگونکرکوگرفتارکرلیا ہے۔ وہ لاتورمیں آرسی سی کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے مالک ہیں۔ وہ اس انسٹی ٹیوٹ کوچلاتا ہے، جو طلباء کونیٹ-یوجی امتحان کے لیے تیارکرتا ہے۔ اس کی 9 شاخیں ہیں، جن میں سب سے بڑا برانچ لاتورمیں ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ وہ این ٹی اے سے وابستہ کیمسٹری کے لیکچررپی وی کے قریبی ہیں۔ ان کے انسٹی ٹیوٹ اوررہائش گاہ کی تلاشی کے دوران کیمسٹری کا سوال نامہ کا پرچہ برآمد ہوا۔ اس میں 3 مئی کو ہونے والے نیٹ امتحان میں پوچھے گئے سوالات سے ملتے جلتے سوالات تھے۔ اس معاملے میں اب تک 10 لوگوں کوگرفتارکیا جا چکا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سی بی آئی نے پانچ مختلف مقامات پرتلاشی مہم چلائی۔ کئی قابل اعتراض دستاویز، لیپ ٹاپ اورموبائل فون ضبط کئے۔ ضبط کی گئی چیزوں کی زبردست جانچ جاری ہے۔

12 مئی کو سی بی آئی نے درج کیا تھا معاملہ

محکمہ اعلیٰ تعلیم، وزارت تعلیم، حکومت ہند نے نیٹ-یوجی 2026 کے امتحان کے مبینہ پیپرلیک ہونے کے بارے میں ایک تحریری شکایت درج کرائی ہے۔ اس شکایت کی بنیاد پرسی بی آئی نے 12.05.2026 کو مقدمہ درج کیا۔ مقدمہ درج ہونے کے فوری بعد ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ ملک بھرمیں مختلف مقامات پرسرچ آپریشن کئے گئے جس کے نتیجے میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کرپوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

اب تک 10 افراد کو کیا جاچکا ہے گرفتار

اس معاملے میں دہلی، جے پور، گروگرام، ناسک، پونے، لاتوراوراہلیہ نگرسے 10 ملزمین کوگرفتارکیا گیا ہے۔ 9 ملزمان کوپہلے عدالت میں پیش کیا گیا تھا اورپولیس کی تحویل میں لیا گیا تھا۔ ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ دسویں ملزم کوعدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ خصوصی ٹیموں کی طرف سے تحقیقات جاری ہیں اوراب تک، امتحان سے قبل لیک ہونے والے کیمسٹری اور بائیلوجی کے سوالیہ پرچوں کے اصل ماخذ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ان بچولیوں کو بھی گرفتارکرلیا گیا ہے، جوان طلبا کوجمع کرنے میں شامل تھے، جنہوں نے نیٹ یوجی-2026 امتحان میں آنے والے سوالوں کوخصوصی کوچنگ کلاسیز میں پڑھانے اوران پربات چیت کرنے کے لئے لاکھوں روپئے کی ادائیگی کی تھی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

گابا چائے کیا ہے اور اس کے استعمال کے کیا فوائد ہیں؟ حالیہ دنوں میں ایک خاص قسم کی چائے گابا چائے عالمی سطح پر تیزی ...