Wednesday, 13 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*اقتدار کا انتخابی موہ اور لڑکھڑاتی معیشت*
*تقریروں کے شور میں دبتا معاشی بحران*
✍️ *وسیم رضا خان* 
                            ⏺️⏺️⏺️ 
بھارت جیسی عظیم جمہوریت میں جب ملک کی قیادت مستقبل کا معاشی ڈھانچہ تیار کرنے کے بجائے ماضی کی کھدائی اور انتخابی ریلیوں میں مصروف ہو جائے، تو بحران کی دستک سنائی دینے لگتی ہے۔ موجودہ تناظر میں یہ ایک ستم ظریفی ہی ہے کہ ایک طرف عام آدمی مہنگائی اور بے روزگاری سے نبرد آزما ہے، اور دوسری طرف اقتدار کے گلیاروں سے ایسے بیانات آ رہے ہیں جو معیشت کی بنیادوں کو ہی چیلنج کر رہے ہیں۔

وزیراعظم کی ریلیوں میں اپوزیشن پر طنز، نہرو گاندھی خاندان پر تنقید اور جذباتی مسائل کا غلبہ تو نظر آتا ہے، لیکن ملک کی 'بیلنس شیٹ' پر بحث اکثر غائب رہتی ہے۔ جب ملک کا 'پردھان سیوک' (اعلیٰ خادم) جھال مڑی کھانے یا مخالفین کو لتاڑنے میں اپنی توانائی صرف کرتا ہے، تو پالیسی سازی کے فیصلوں میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ الیکشن جیتنا کسی بھی جماعت کا ہدف ہو سکتا ہے، لیکن جب الیکشن جیتنے کی سفارت کاری ملک کی معیشت پر حاوی ہونے لگے، تو نتائج ہولناک ہوتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں سونا نہ خریدنے، ایندھن کے استعمال میں کٹوتی کرنے اور غیر ملکی دوروں سے بچنے جیسے جو 'مول منتر' دیے گئے ہیں، وہ معاشیات کے اصولوں کے برعکس معلوم ہوتے ہیں۔ بھارتی معیشت کا ایک بڑا حصہ گھریلو کھپت پر ٹکا ہوا ہے۔ اگر عوام خریداری بند کر دیں، تو بازار میں طلب (Demand) گر جائے گی۔ سونے اور ایندھن جیسے شعبوں سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ ایسے بیانات سے بازار میں غیر یقینی صورتحال پھیلتی ہے، جس کی وجہ سے تاجر سرمایہ کاری کرنے سے ڈر رہے ہیں اور ملازمین پر چھانٹی کی تلوار لٹک رہی ہے۔

معیشت ایک پہیے کی طرح ہے؛ جب لوگ خرچ کرتے ہیں، تب ہی پیداوار بڑھتی ہے اور نوکریاں پیدا ہوتی ہیں۔ 'خرچ مت کرو' کا پیغام اس پہیے کو جام کر سکتا ہے۔ موجودہ وقت میں بھارتی معیشت کئی محاذوں پر جدوجہد کر رہی ہے، جسے محض نعروں سے نہیں سدھارا جا سکتا۔ نوجوانوں کے پاس ڈگریاں تو ہیں، لیکن روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ غیر منظم شعبے (Unorganized Sector) کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ عالمی منڈی میں روپے کی گرتی ہوئی قیمت درآمدات کو مہنگا کر رہی ہے، جس سے بالآخر مہنگائی بڑھتی ہے۔

حکومت کے اخراجات اس کی آمدنی سے زیادہ بنے ہوئے ہیں، جس سے مستقبل کی سرمایہ کاری پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں اجرت کی شرح مستحکم ہے اور مہنگائی زیادہ، جس کی وجہ سے گاؤں والوں کی قوتِ خرید کم ہو گئی ہے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ معیشت کا نظام سیاسی تقریروں سے نہیں بلکہ معاشی ماہرین کے مشوروں سے چلنا چاہیے۔ نہرو، اندرا یا پرانی حکومتوں کی غلطیاں گنوا کر موجودہ ناکامی کو نہیں چھپایا جا سکتا۔

حکومت اپوزیشن اور معاشی ماہرین کے ساتھ مل کر ایک ٹھوس 'روڈ میپ' تیار کرے۔ انتخابی جیت کو ترقی کا واحد پیمانہ ماننا بند کیا جائے۔ بیان بازی کے بجائے ان پالیسیوں پر توجہ دی جائے جس سے بازار میں نقدی (Liquidity) اور اعتماد بحال ہو۔ اگر وقت رہتے اقتدار نے اپنی ترجیحات انتخاب سے ہٹا کر معیشت پر مرکوز نہیں کیں، تو اندھی عقیدت کے شور میں ملک ایک ایسے گہرے معاشی گڑھے میں گر سکتا ہے، جس سے نکلنا آنے والی کئی نسلوں کے لیے ناممکن ہوگا۔ معیشت کو بچانے کے لیے اب صرف سوال ہی نہیں، بلکہ فیصلہ کن اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کا وقت ہے۔









**عالمی معاشی بحران اور پاورلوم صنعت کی زبوں حالی: عمیر انصاری کا حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ**
**مالیگاؤں:** مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی تنازع اور عالمی معاشی مندی کے بادل مالیگاؤں کی پاورلوم صنعت پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر **عمیر انصاری** (سیکرٹری، درے گاؤں پاورلوم سنگھرش سمیتی) نے وزیر اعلیٰ، وزیر توانائی اور پولیس انتظامیہ کو ایک ہنگامی مراسلہ روانہ کیا ہے جس میں بنکروں کو فوری راحت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

**عمیر انصاری** نے اپنے مراسلے میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بنکر پہلے ہی معاشی طور پر ٹوٹ چکے ہیں، اوپر سے بجلی بلوں میں "پاور فیکٹر" اور "اوور لوڈ" کے نام پر لگائی جانے والی بھاری پینلٹی نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ بہت سے کنزیومرز کو "فالٹی" (غلط) بل موصول ہو رہے ہیں جو ان کی اصل کھپت سے کہیں زیادہ ہیں۔ **عمیر انصاری** نے مطالبہ کیا ہے کہ ان غلط بلوں کی فوری درستگی کی جائے اور کنزیومرز کو یہ سہولت دی جائے کہ وہ اپنے درست شدہ بلوں کی ادائیگی آسان اقساط میں کر سکیں، تاکہ صنعت کا پہیہ چلتا رہے۔

مضمون میں **عمیر انصاری** نے واضح طور پر یہ مطالبہ بھی رکھا ہے کہ بجلی کنکشن منقطع کرنے کی مہم میں پولیس فورس کا استعمال ہرگز نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنکر کوئی مجرم نہیں بلکہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ معاشی مجبوری کی وجہ سے بل ادا نہ کر پانے والے بنکروں کے خلاف پولیس فورس کا استعمال کرنا غیر اخلاقی اور ناانصافی ہے۔ انہوں نے اے ایس پی (ASP) مالیگاؤں سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ اس انسانی مسئلے کو سمجھیں اور انتظامیہ کو اس طرح کی کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکیں۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے خام تیل اور سوت (Yarn) کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ سورت اور گجرات کی منڈیوں میں مالیگاؤں کے بنکروں کا کروڑوں روپیہ پھنسا ہوا ہے۔ **عمیر انصاری** نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت اور بجلی کمپنی نے فوری طور پر بلوں کی وصولی میں نرمی اور پینلٹی کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا، تو مالیگاؤں کی پاورلوم صنعت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔








انتقال پُر ملال 
تاریخ 13 مئی 2026 بروز بدھ 
_________________________________________
      یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ دی جارہی ہیکہ شہر مالیگاوں کی مشہور و معروف دینی و صنعتی شخصیت امیر تبلیغی جماعت مالیگاوں ضلع ناسک ،حاجی نذیر احمد کے فرزند عزیزالرحمن چھوٹے حاجی 62 نمبر اور حفیظ الرحمن 62 نمبر کے برادرِ بزرگوار *حاجی عبدالرحمٰن 62 نمبر والے* کا انتقال ہوگیا ہے...... انا للہ وانا الیہ را جعون.....
اللہ غفور الرحیم مرحوم کی مغفرت فرمائے.. جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے.. درجات کو بلند فرمائے... اہلِ خانہ اور جملہ متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے.. آمین یا رب العالمین.....
*تدفین عشاء کے فوراً بعد حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان میں ہوگی*

*🛑سیف نیوز اُردو*

*ڈاکٹر ذیشان احمد ریاض احمد عازم حج* الحمدللہ رب العالمین، اللہ ربّ العزت کا بے پناہ کرم ہے کہ مجھ خاکسار کو رب العا...