*مہاراشٹر کا نظامِ تعلیم*
*’بدعنوانی کی دیمک‘ اور بچوں کا تاریک مستقبل*
*وسیم رضا خان* ✍️
مہاراشٹر، جسے ترقی پسند خیالات کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، آج اس کا نظامِ تعلیم ایک گہرے بحران سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں محکمۂ تعلیم میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے معاملات محض مالی گھوٹالے نہیں ہیں بلکہ یہ ریاست کے کروڑوں بچوں کے بنیادی حقوق پر براہِ راست حملہ ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں ’ٹی ای ٹی‘ گھوٹالے نے پورے صوبے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہزاروں نااہل امیدواروں کو رشوت لے کر کامیاب قرار دیا گیا، جبکہ اہل اور باصلاحیت امیدوار سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے۔ یہ بھارتی آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جب نااہل اساتذہ نظام میں داخل ہوتے ہیں تو تعلیم کے معیار کا گرنا یقینی ہو جاتا ہے۔ ضلع پریشد اور میونسپل اسکولوں میں بچوں کو دی جانے والی مڈ ڈے میل، یونیفارم اور وظائف میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی خبریں عام ہیں۔ کاغذوں پر اسکول ’ڈیجیٹل‘ بن رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کئی دیہات میں اسکولوں کی چھتیں ٹپک رہی ہیں اور پینے کے صاف پانی تک کا انتظام نہیں ہے۔ افسران اور ٹھیکیدار ملی بھگت کرکے بچوں کے حق کا پیسہ اپنی تجوریوں میں بھر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ کو ملنے والی بنیادی سہولتوں میں بھاری کٹوتی ہو رہی ہے۔ ریاست کے ہر شہر اور گاؤں میں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ایک ہی استاد کو بیک وقت دو یا تین جماعتوں کی ذمہ داری سنبھالنی پڑ رہی ہے۔ اساتذہ کو مردم شماری، انتخابی ڈیوٹی اور دیگر سرکاری سرویز میں اس قدر مصروف رکھا جاتا ہے کہ ان کے پاس پڑھانے کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔
مقامی بلدیاتی اداروں میں محکمۂ تعلیم کو سب سے کم ترجیح دی جا رہی ہے۔ افسران کی بے عملی کے باعث اسکولوں کا معائنہ نہیں ہوتا اور شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ حکومت آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے، جس سے بدعنوانی کو فروغ مل رہا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے میونسپلٹیوں اور میٹروپولیٹن کارپوریشنوں کے ’اسکول بورڈ‘ کو ختم کرنے کا فیصلہ خودکُش ثابت ہوا ہے۔ پہلے اسکول بورڈ خصوصی طور پر تعلیم پر توجہ دیتے تھے، مگر اب یہ ذمہ داری عام انتظامی افسران کے پاس ہے، جن کے پاس نہ تو وقت ہے اور نہ ہی تعلیمی امور کی باریکیوں کو سمجھنے کی مہارت۔ اس کے نتیجے میں فیصلوں میں تاخیر، بجٹ کا غلط استعمال اور نگرانی میں کمی آئی ہے۔ اسے فوری طور پر دوبارہ بحال کرنا ناگزیر ہے۔ حقِ تعلیم قانون 2009 کے تحت حکومت ہر بچے کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے، لیکن آر ٹی ای کے مقررہ تناسب پر عمل نہیں ہو رہا۔ بدعنوانی انسداد قانون کے تحت قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی نہ ہونا حکومت کی ملی بھگت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ تعلیم کوئی کاروبار نہیں بلکہ قوم سازی کی بنیاد ہے۔ اگر اساتذہ کی بھرتی میں شفافیت نہ لائی گئی، اسکول بورڈ کو بحال نہ کیا گیا اور اساتذہ کو غیر تعلیمی کاموں سے آزاد نہ کیا گیا تو مہاراشٹر کی آنے والی نسل ذہنی طور پر مفلوج ہو جائے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام اور عدلیہ اس نظام کا احتساب کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ مہاراشٹر کا ’تعلیمی ماڈل‘ آج بدعنوانی، خالی آسامیوں اور انتظامی بے حسی کی نذر ہو چکا ہے۔ ایک طرف ہم ’وشو گرو‘ بننے کا خواب دیکھتے ہیں، دوسری طرف ہمارے ضلع پریشد اسکولوں میں ایک ہی استاد تین جماعتوں کو سنبھالنے پر مجبور ہے۔ تعلیمی نظام سے وابستہ سرکاری اہلکاروں، خصوصاً وزیرِ تعلیم، کو ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ بھارتی آئین کے تحت 6 سے 14 سال کے بچوں کو ’مفت اور لازمی تعلیم‘ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کیا خستہ حال عمارتیں، اساتذہ کی کمی اور مڈ ڈے میل میں بدعنوانی اس حق کا مذاق نہیں ہیں؟
’پوتر پورٹل‘ اور بھرتی کے عمل میں تاخیر اور بدعنوانی نے ہزاروں اہل نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر دیا ہے۔ کیا حکومت ان خالی آسامیوں کو شفاف طریقے سے پُر کرنے کا حوصلہ دکھائے گی؟ اساتذہ کو مردم شماری، انتخابات اور دیگر سرکاری سرویز کا ’کلرک‘ بنا دیا گیا ہے، حالانکہ آر ٹی ای قانون کی دفعہ 27 واضح طور پر اساتذہ کو غیر تعلیمی کاموں سے محفوظ رکھنے کی بات کرتی ہے، پھر بھی مہاراشٹر میں اس کی خلاف ورزی کیوں ہو رہی ہے؟ مقامی اداروں میں ’اسکول بورڈ‘ کو ختم کرکے تعلیم کے اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کو ختم کر دیا گیا ہے۔ کیا طلبہ کے مفاد میں اس ماہر بورڈ کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟ محکمۂ تعلیم میں جاری یہ بدعنوانی صرف ’مالی جرم‘ نہیں بلکہ ریاست کی آنے والی نسلوں کے ساتھ کیا جانے والا ’فکری جرم‘ ہے۔ افسران کی بھرتی ہوئی تجوریاں اور خالی ہوتے اسکول اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت بچوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ مطالبہ ہے کہ محکمۂ تعلیم میں بدعنوانی کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور ’تعلیم بچاؤ‘ مہم کے تحت جنگی بنیادوں پر اصلاحات نافذ کی جائیں۔ بصورتِ دیگر تاریخ آپ کو ان بچوں کے مستقبل کو برباد کرنے کے لیے یاد رکھے گی جن کے پاس اپنی آواز بلند کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
*ایران اسرائیل کشیدگی: پاور لوم انڈسٹری پر منڈلاتے خطرات*
تحریر: [ *عمیر انصاری*]
مشرقِ وسطیٰ میں ابھرتی ہوئی حالیہ کشیدگی، خصوصاً ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ محاذ آرائی نے عالمی معیشت کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس صورتحال کے اثرات صرف جنگی علاقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کی تپش بھارت جیسی ٹیکسٹائل پر مبنی معیشتوں، بالخصوص ہماری پاور لوم انڈسٹری تک پہنچنے کا شدید خدشہ ہے۔
ہماری پاور لوم انڈسٹری کا دارومدار 'یارن' (Yarn) پر ہے، اور اس وقت مارکیٹ میں PSF، POY اور دیگر سنتھیٹک دھاگوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ریلائنس (RIL) اور دیگر بڑے اداروں کی جانب سے قیمتوں میں 4 سے 6 روپے فی کلو کا اضافہ محض شروعات ہو سکتی ہے۔
اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ لمبے عرصے جاری رہتی ہے تو خام تیل (Crude Oil) کی قیمتیں $100 فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ چونکہ پالئیےسٹر اور دیگر سنتھیٹک دھاگے پیٹرولیم کی ضمنی مصنوعات (PTA/MEG) سے بنتے ہیں، اس لیے یارن کی قیمتوں میں اچانک اور بڑا اضافہ ہماری پیداواری لاگت کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا سکتا ہے۔
اس بحران کی صورت میں ہماری صنعت کو دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا:
*پیداواری لاگت میں اضافہ:* نہ صرف یارن مہنگا ہوگا بلکہ پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ کپڑے کی فی میٹر لاگت (Cost of Production) بڑھ جائے گی۔
*عالمی مانگ میں کمی:* جب دنیا بھر میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو عام آدمی کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے۔ بین الاقوامی خریدار (خصوصاً یورپ اور امریکہ) ٹیکسٹائل کے آرڈرز کم کر دیتے ہیں، جس سے تیار شدہ کپڑے کی فروخت میں مندی آ سکتی ہے
پاور لوم مالکان موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنی ضرورت کے مطابق یارن کا معقول اسٹاک رکھیں، تاکہ قیمتوں میں اچانک بڑے اضافے کے اثرات سے بچا جا سکے۔ نئے آرڈرز بک کرتے وقت مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو مدِنظر رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ آرڈر پرانے ریٹ پر لیں اور مال تیار کرتے وقت لاگت بڑھ جائے۔
*جنگی حالات کسی کے بس میں نہیں ہوتے، لیکن بروقت منصوبہ بندی اور مارکیٹ کے حالات سے باخبر رہ کر ہم اپنے نقصان کو کم سے کم کر سکتے ہیں۔ یہ وقت گھبرانے کا نہیں بلکہ متحد ہو کر اور سمجھداری سے فیصلے کرنے کا ہے۔*
رمضان میں بڑھتی گرمی کے درمیان روزہ دار کیسے رہیں ڈی ہائیڈریشن سے محفوظ، ڈاکٹر نے دیا ضروری مشورہ
علی گڑھ: رمضان المبارک کا مقدس مہینہ سایہ فگن ہے، جس میں روزہ دار روزہ رکھ کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس دوران گرمی کی شدت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے خاص طور پر میدان یا دھوپ میں کام کرنے والے افراد کو ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں روزہ رکھتے ہوئے صحت کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے علی گڑھ میڈیکل کالج کے شعبہ فارماکولوجی کے پروفیسر اور ہیڈ ڈاکٹر سید ضیاء الرحمٰن نے بتایا کہ روزہ ہر مسلمان پر فرض ہے اور ہر سماجی و معاشی طبقے کے لوگ اسے عقیدت کے ساتھ رکھتے ہیں۔ تاہم جو لوگ دھوپ میں محنت مزدوری کرتے ہیں، انہیں اپنی صحت کے بارے میں خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔
مناسب مقدار میں پانی ضروریانہوں نے مشورہ دیا کہ روزہ داروں کو سحری ضرور کرنی چاہیے، کیونکہ سحری کرنا سنت بھی ہے اور پورے دن جسم کو توانائی فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سحری کے دوران ہلکی مگر غذائیت سے بھرپور غذا لینی چاہیے اور مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔ کھجور، پھل یا جوس جیسی اشیا جسم میں توانائی برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ افطار کے وقت پورے دن کی گرمی اور تھکن کے بعد جسم کو دوبارہ ہائیڈریٹ کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لیے شربت، جوس یا موسمی پھل لینا مفید رہتا ہے۔ اگر مہنگے مشروبات دستیاب نہ ہوں تو تربوز، خربوزہ، پپیتا جیسے رسیلے پھلوں کی چاٹ بنا کر کھانا بھی اچھا متبادل ہے۔
سلاد کا استعمال مفید
انہوں نے کہا کہ افطار ہلکا رکھنا چاہیے اور نماز کے بعد متوازن اور غذائیت سے بھرپور کھانا لینا بہتر ہوتا ہے۔ افطار سے لے کر سحری تک وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا پانی پیتے رہنا چاہیے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ ہری سبزیاں، سلاد اور پانی سے بھرپور غذائیں جیسے کھیرا، ٹماٹر، لیموں اور پتوں والی سبزیاں جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ سلاد اور سبزیوں کا باقاعدہ استعمال ڈی ہائیڈریشن سے بچاؤ میں کافی فائدہ مند ہوتا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھاری اور زیادہ مسالے دار یا گوشت پر مشتمل غذا جسم میں پانی کی ضرورت بڑھا دیتی ہے، اس لیے روزہ داروں کو ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا اختیار کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی دھوپ میں کام کرنے والے افراد کو جہاں تک ممکن ہو براہ راست دھوپ سے بچنے اور سائے میں کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے روزہ دار بغیر ڈی ہائیڈریشن کے مسئلے کے اپنا روزہ بہتر انداز میں مکمل کر سکتے ہیں۔