Monday, 2 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





ایران کررہا اس لمحہ کا انتظار، جب تھک جائے گا امریکہ – اسرائیل کا ڈیفنس سسٹم، پھر کرے گا سب سے بڑا حملہ
تہران : مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل نے شدید تباہی مچا رکھی ہے، لیکن ایران ابھی اپنی اصل طاقت چھپا کر بیٹھا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران نے ابھی تک اپنی سب سے مہلک میزائلوں کا استعمال نہیں کیا۔ یہ ایران کی ایک بڑی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ایران جان بوجھ کر چھوٹے اور کم مار کرنے والے ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ اس کا اصل مقصد اسرائیل اور امریکہ کے جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز کو مکمل طور پر تھکا دینا ہے۔

جب آئرن ڈوم اور پیٹریاٹ جیسے سسٹمز اپنی مہنگی میزائلیں ختم کر لیں گے تو ایران اپنا سب سے بڑا اور تباہ کن حملہ کرے گا۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک بڑا جال ثابت ہو سکتا ہے۔ جب اینٹی میزائل سسٹم مکمل طور پر تھک جائیں گے تو ایران کی فتح جیسی ہائپر سونک میزائلیں اصل تباہی مچائیں گی۔ اس سفارتی حکمتِ عملی نے پوری دنیا کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ڈیفنس سسٹم کو تھکانے کا منصوبہ
ایران اس ممکنہ جنگ میں بڑی چالاکی سے کام لے رہا ہے۔ وہ امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی نظام کی مسلسل جانچ کر رہا ہے۔ ایران جان بوجھ کر سستے ڈرونز اور پرانی میزائلیں داغ رہا ہے، جبکہ اسرائیل انہیں گرانے کے لیے اپنی مہنگی میزائلیں استعمال کر رہا ہے۔ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب اسرائیل کے پاس انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید کمی ہو جائے گی۔ اسی کمی کا فائدہ اٹھا کر ایران اپنا سب سے خطرناک حملہ کرے گا۔

فتح اور خیبر میزائلیں مچائیں گی شدید تباہی
ایران کے پاس فتح جیسی خطرناک ہائپر سونک میزائل موجود ہے۔ اس کے علاوہ خیبر جیسی بھاری بیلسٹک میزائلیں بھی اس کے ذخیرے میں شامل ہیں۔ ایران نے ابھی تک ان ہتھیاروں کو محفوظ رکھا ہے۔ جب امریکہ اور اسرائیل کا ایئر ڈیفنس سسٹم کمزور پڑ جائے گا تو ایران ان مہلک میزائلوں سے انتہائی درست نشانہ لگائے گا۔ تھکے ہوئے دفاعی نظام کے لیے انہیں روکنا نہایت مشکل ہوگا۔

اسرائیل کے آئرن ڈوم پر منڈلاتا بڑا خطرہ
اسرائیل کا آئرن ڈوم اور ایرو سسٹم مسلسل کام کر رہے ہیں۔ امریکہ نے بھی اپنا پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹم وہاں تعینات کر رکھا ہے۔ تاہم ان تمام سسٹمز کی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر ایران ایک ساتھ ہزاروں میزائل داغ دے تو کوئی بھی اینٹی میزائل نظام اوورلوڈ ہو کر ناکام ہو سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اسی اوورلوڈ اور تھکاوٹ کا انتظار کر رہا ہے۔ یہ حکمتِ عملی امریکہ اور اسرائیل کے لیے بھاری ثابت ہو سکتی ہے۔

فتح ہائپر سونک میزائل: دشمن کے ہوش اڑا دے گی
فتح ایران کی پہلی اور سب سے مہلک ہائپر سونک میزائل ہے۔ یہ آواز کی رفتار سے 15 گنا زیادہ تیز چلتی ہے۔ اپنی تیز رفتار کی وجہ سے اسے ریڈار سے پکڑنا مشکل بتایا جاتا ہے۔ یہ کسی بھی جدید ایئر ڈیفنس سسٹم کو چکما دے سکتی ہے۔ اس میزائل کی رینج تقریباً 1400 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، جو اسرائیل کے کسی بھی شہر تک چند منٹوں میں پہنچ سکتی ہے۔خیبر بیلسٹک میزائل: 2000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت
خیبر ایران کی ایک جدید بیلسٹک میزائل ہے، جسے خرم شہر-4 بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی رینج تقریباً 2000 کلومیٹر تک ہے۔ یہ میزائل 1500 کلوگرام تک وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کی مہلک صلاحیت دشمنوں میں شدید خوف پیدا کرتی ہے۔











ضلع پریشد جلگاؤں کا ایک "مثالی اسکول اور مثالی بچے"
ضلع پریشد اردو اسکول، رانجن گاؤں، تعلقہ چالیس گاؤں ضلع جلگاؤں

چند روز قبل، رانجن گاؤں ضلع پریشد اردو اسکول کے بچوں کی دو تعلیمی ویڈیوز دیکھنے کا اتفاق ہوا، خوشی ہوئی، میں نے ویڈیوز بھیجنے والے شکیل سبحانی سر سے اجازت چاہی کہ کیوں نا اسے "ربانی دی اسکالر یو ٹیوب چینل" پر نشر کردیا جائے موصوف نے شکریہ کے کلمات ادا کرتے ہوئے یہ گزارش کی کہ بہتر ہوگا آپ اس اسکول کی وزٹ کریں واٹس ایپ میسیج کے ذریعے ہوئی یہی گفتگو، رانجن گاؤں ضلع پریشد اردو اسکول پہنچنے کا سبب بنی، جب میں نے چھوٹے سے اک گاؤں میں پہنچ کر وہاں کے طلبا و طالبات کی تعلیمی کیفیت کا جائزہ لیا تو دل خوشیوں سے جھوم اٹھا، میرے تصور سے کہیں بڑھ کر یہاں کا تعلیمی نظام نظر آیا
اردو ہی کیا؟ انگریزی کی ہی بات کیوں؟ مراٹھی تو مراٹھی الجبرا اور جیومیٹری جیسے مضامین میں بھی اس اسکول کے بچے کسی بھی پرائیویٹ اسکولوں کے طلبا سے کمتر نہیں ہیں ان طلبہ کے اندر جو خود اعتمادی ہے، وہ اس بات کے اظہار کے لیے کافی ہے کہ ان کے اساتذہ نے بڑی محنت توجہ اور دیانت داری کے ساتھ انہیں علم سے آراستہ کرنے کی کوشش کی ہے میں اس بات کے اظہار میں کوئی مبالغہ نہیں سمجھتا کہ ضلع پریشد جلگاؤں کا یہ اردو اسکول صرف چالیس گاؤں تعلقہ کا ہی نہیں بلکہ پورے ضلع جلگاؤں کا ایک مثالی اردو اسکول ہے اور یہاں کے طلبہ بھی مثالی ہیں، اس اسکول کے اساتذہ شکیل سبحانی سر، مشتاق احمد شفیع سر اور یوسف اقبال سر، اسی طرح ان اساتذہ کے ذریعے اسکول میں اپوائنٹ کی گئیں محترمہ کریمہ باجی کو میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرنا چاہوں گا کہ ان سب نے مل کر اردو اسکول رانجن گاؤں کے طلبہ کی تعلیمی ترقی کو قابل رشک بنایا ہے، شکیل سبحانی سر نے بتایا کہ کیندر پرمکھ ناصر خان سر اور اردو اسکول رانجن گاؤں کے سابق اساتذہ عثمان جناب، لئیقہ میڈم، نوید سر، شبیر سر، خضر سر وغیرہ کی خدمات کو ہم نے آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں

محترم قارئین! نپون بھارت اور نپون مہاراشٹر کے لیے راجیہ اور کیندر سرکاریں، پانی کی طرح روپیہ بہا رہی ہیں، جس کا مقصد طلبہ کی تعلیمی ترقی ہے، جلگاؤں ضلع کی سی او میڈم محترمہ"مینل کرنوال" نے اس تعلق سے پورے جلگاؤں ضلع میں زبردست بیداری پیدا کی ہے، جس کے تحت چالیس گاؤں تعلقہ کے گٹ شکشن ادھیکاریَ شری ولاس بھوئی صاحب کی قیادت میں تعلقہ کی اسکولوں میں بہتر کام ہورہا ہے، میں سمجھتا ہوں، ضلع پریشد اردو اسکول رانجن گاؤں کے طلبہ کی یہ تعلیمی ترقی سی او میڈم صاحبہ کی کوششوں کا ہی ایک اہم حصہ ہے کہ ان کی رہنمائی میں اساتذہ محنت کر رہے ہیں اور ضلع پریشد جلگاؤں کا ایک اردو اسکول ایسا ہے، جہاں کے بچوں کی تعلیمی ترقی کو بڑی شان کے ساتھ پورے مہاراشٹر میں پیش کیا جاسکتا ہے میں نے جو تاثرات پیش کیے ہیں، اس کی تصدیق کے لیے آپ "ربانی د اسکالر یوٹیوب چینل" پر یکے بعد دیگرے آنے والی ویڈیو کلپس کو آپ دیکھیں اور بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنے کمنٹس بھی درج کریں مجھے یقین ہے کہ آپ بھی اسے غیر معمولی اور مثالی کاوش قرار دیں گے-
رضوان ربانی،
 معاون مدرس سردار ہائی اسکول، مالیگاؤں









کیا اب جنگ ’ایٹمی‘ رخ اختیار کرے گی؟ ایران کے سب سے بڑے جوہری مرکز پر حملہ، تہران کا دعویٰ — خطرے میں ہے پوری دنیا
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ آج تیسرے دن میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ افواج ایران پر مسلسل فضائی حملے اور بمباری کر رہی ہیں، جبکہ ایران بھی مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے۔اسی دوران ایران نے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی افواج نے اس کے جوہری مرکز پر تباہ کن حملہ کیا ہے، جس کے باعث متعلقہ علاقے میں تابکاری (ریڈی ایشن) کی سطح بڑھنے کا سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے میں ایران کے سفیر رضی نجفی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ افواج نے ایران کے نطنز جوہری کمپلیکس پر حملہ کیا ہے۔

پرامن نگرانی میں چل رہی تھی جوہری تنصیب

ایرانی سفیر کی جانب سے یہ بیان انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے اجلاس کے دوران دیا گیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے اس جوہری مرکز کو نشانہ بنایا جو بین الاقوامی نگرانی میں پرامن مقاصد کے تحت کام کر رہا تھا۔ واضح رہے کہ نطنز جوہری سائٹ ایران کا سب سے اہم یورینیم افزودگی مرکز ہے، جس پر اسرائیل اور مغربی ممالک کئی برسوں سے تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ نطنز کا علاقہ ایران کے وسطی حصے میں صوبہ اصفہان کے قریب واقع ہے۔

زیرِ زمین قائم ہے نطنز جوہری مرکز

نطنز جوہری سائٹ ایک زیرِ زمین افزودگی مرکز ہے، جسے ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے زمین کے اندر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہاں یورینیم کو گیس کی شکل میں تبدیل کر کے اس کی افزودگی کی جاتی ہے۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے ایران کے اس دعوے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ عالمی ایجنسی کے مطابق اگر واقعی جوہری تنصیب پر حملہ ہوا ہے تو تابکاری کے اخراج کا سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔گزشتہ تین دنوں سے جاری اس جنگ کے دوران اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے ایک ہزار سے زائد مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان حملوں میں دو ہزار سے زیادہ بم گرائے گئے، جن کے نتیجے میں 550 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی حملوں میں امریکہ کے تین فوجیوں کی ہلاکت کی بھی خبر سامنے آئی ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*

کیا آیت اللہ علی خامنہ ای کا پنڈت جواہر لال نہرو کا مداح ہونا وزیر اعظم مودی کی ناراضگی کی وجہ بنا؟شرد پوار کے بیان نے چھیڑی نئ...