Sunday, 1 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*


مالیگاؤں میں بجلی کمپنی کی لاپرواہی، 11KV لائن زمین پر گرنے سے زمین پگھل کر لاوا بن گئی*
(​مالیگاؤں درے گاؤں): *عمیر انصاری*
شہر کے نواحی علاقے درے گاؤں میں بجلی کمپنی کی سنگین لاپرواہی اور حفاظتی نظام کی مکمل ناکامی کا ایک ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 11,000 وولٹ (11KV) کی ہائی ٹینشن لائن پوری رات زمین سے ٹچ رہی، جس کے نتیجے میں زمین کی مٹی پگھل کر لاوے میں تبدیل ہو گئی۔

​عمیر انصاری کے مطابق، بجلی کا پول ہائی ٹینشن تاروں کی زد میں تھا جس سے کرنٹ زمین میں اترتا رہا۔ دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اتنی بڑی خرابی (Fault) کے باوجود مالیگاؤں پاور سپلائے لمیٹیڈ کا خودکار حفاظتی نظام (Circuit Breaker) ٹرپ نہیں ہوا، جس سے بجلی کی سپلائی جاری رہی۔

​زمین بن گئی دہکتا ہوا تندور رات بھر ہائی وولٹیج کرنٹ زمین میں اترنے کی وجہ سے وہاں پیدا ہونے والی شدید حرارت نے مٹی اور ریت کو پگھلا کر شیشے نما سیاہ لاوے (Fulgurite) میں تبدیل کر دیا۔ ماہرین کے مطابق، یہ درجہ حرارت 1500 ڈگری سے زائد رہا ہوگا۔
​عوام کی جان و مال کو شدید خطرہ
اس واقعے نے "اسٹیپ پوٹینشل" (Step Potential) کے باعث وہاں سے گزرنے والے انسانوں یا مویشیوں کے لیے فوری موت کا خطرہ پیدا کر دیا تھا۔ اگر اس لاوے کے قریب کوئی خشک گھاس یا املاک ہوتی تو شہر میں ہولناک آگ لگ سکتی تھی۔


​حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
عمیر انصاری نے اس واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے کہ آخر حفاظتی نظام کیوں ناکام ہوا؟ کیا مالیگاؤں پاور سپلائے لمیٹیڈ کے ملازمین عوامی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں؟ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ذمہ داران اور لائن اسٹاف کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پورے علاقے کا سیفٹی آڈٹ کیا جائے











*جالنہ میں ’21ویں صدی کا خواتین ادب‘ پر ایک روزہ قومی کانفرنس کا شاندار انعقاد*
*اردو نے ہمیشہ خواتین ادب کو عزت و احترام دیا ہے: سید حسین اختر*
*خواتین قلم کاروں کی ادبی خدمات پر سنجیدہ مکالمہ، مختلف زبانوں کے ماہرین کی شرکت*
جالنہ (نامہ نگار):اردو ادب کی روشن روایت اور اس کے وسیع و ہمہ گیر مزاج کو اجاگر کرتی ہوئی ایک روزہ قومی کانفرنس بعنوان “21ویں صدی کا خواتین ادب” کا شاندار انعقاد راشٹرماتا اندرا گاندھی آرٹس کامرس اینڈ سائنس کالج میں عمل میں آیا۔ اس قومی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کے چیئرمین سید حسین اختر نے کہا کہ اردو ادب نے ہمیشہ خواتین قلم کاروں کو عزت، وقار اور مساوی مقام عطا کیا ہے۔انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ اردو کا ادبی سرمایہ صرف مرد قلم کاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ خواتین اہلِ قلم نے بھی ہر دور میں اردو ادب کو فکری، تخلیقی اور تحقیقی سطح پر مضبوط کیا ہے۔ سید حسین اختر نے کہا کہ مہاراشٹر میں اردو ادب کے فروغ کے لیے جو سہولتیں مردوں کو فراہم کی جاتی ہیں، وہی سہولتیں خواتین قلم کاروں کے لیے بھی دستیاب ہیں، کیونکہ اردو ادب کی ترقی صنفی تفریق کے بغیر ممکن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 21ویں صدی میں خواتین ادب کو درپیش مسائل، امکانات اور نئے رجحانات پر غور و فکر وقت کی اہم ضرورت ہے اور ایسی کانفرنسیں نہ صرف خواتین قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں بلکہ نئی نسل کو ادبی میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دیتی ہیں۔اس اجلاس کی صدارت ادارے کے ذمہ دار ست سنگ منڈے نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ان کا ادارہ تمام زبانوں کو یکساں اہمیت دیتا ہے، اسی فکر کے تحت اردو، مراٹھی، ہندی اور انگریزی زبانوں میں خواتین ادب کے موضوع پر یہ قومی کانفرنس منعقد کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد 21ویں صدی میں خواتین کے ادبی کردار کو نمایاں کرنا ہے۔استقبالیہ خطاب میں کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سنندہ تڑکے نے کہا کہ ان کا ادارہ بلا لحاظ مذہب و ملت اور زبان، سبھی کو مساوی تعلیمی و ادبی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ریاست کے مختلف حصوں سے تشریف لانے والے ادبا، محققین اور دانشوروں کا تہہ دل سے استقبال کیا۔کانفرنس کی کنوینیر ڈاکٹر عالیہ کوثر نے کانفرنس کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ادب کو عصری تناظر میں سمجھنا اور اس کی فکری جہتوں کو اجاگر کرنا ہی اس علمی نشست کا بنیادی مقصد ہے۔اردو سیشن میں ڈاکٹر سلیم محی الدین نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے تانیثیت اور تانیسی ادب پر مفصل روشنی ڈالی اور مختلف ادوار میں خواتین کی ادبی خدمات کو حوالوں کے ساتھ پیش کیا۔ اسی طرح مراٹھی، ہندی اور انگریزی زبانوں کے ماہرین نے بھی اپنے اپنے کلیدی خطبات میں خواتین ادب کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔اردو تحقیقی سیشن کی صدارت ڈاکٹر اسلم مرزا نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر مسرت فردوس نے تانیسی ادب میں خواتین قلم کاروں کی نمایاں خدمات پر اظہارِ خیال کیا اور ملک کی مختلف خواتین ادیباؤں کے حوالوں سے ان کی فکری و تخلیقی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر ڈاکٹر رفیع الدین ناصر نے اورنگ آباد کی خواتین قلم کاروں کی اردو سائنسی خدمات پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا، جب کہ دیگر محققین نے بھی خواتین ادب سے متعلق مختلف عنوانات پر اپنے مقالہ جات پیش کر کے کانفرنس کو علمی وقار بخشا۔پورے پروگرام کی نظامت و کوآرڈینیشن شعبۂ اردو کی صدر ڈاکٹر عالیہ کوثر نے انجام دی۔ انہوں نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا اور اظہارِ تشکر کے ساتھ اس عظیم الشان ایک روزہ قومی کانفرنس کے اختتام کا اعلان کیا۔










رمضان کا دوسرا عشرہ: مغفرت، توبہ اور دل کی اصلاح کا پیغام
رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ، جو 11ویں روزے سے شروع ہو کر 20ویں روزے تک جاری رہتا ہے، مغفرت کا عشرہ کہلاتا ہے۔ یہ وہ بابرکت ایام ہیں جب بندہ اپنے گناہوں کی معافی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے اور سچی توبہ کے ذریعے اپنی زندگی کا رخ بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر پہلا عشرہ رحمت کا پیغام لاتا ہے تو دوسرا عشرہ اس رحمت کو مغفرت میں تبدیل کرنے کا سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان خطا کا پتلا ہے، لیکن بہترین وہ ہے جو غلطی کے بعد توبہ کر لے۔ رمضان کا دوسرا عشرہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ماضی کی کوتاہیوں پر نادم ہو کر اللہ سے معافی مانگی جائے اور آئندہ زندگی کو بہتر بنانے کا عزم کیا جائے۔ توبہ صرف زبان سے الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے ندامت محسوس کرنا اور گناہ کو چھوڑ دینے کا پختہ ارادہ کرنا ہی اصل توبہ ہے۔اس عشرے میں کثرت سے استغفار کی تاکید کی جاتی ہے۔ معروف دعا ہے: اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّی مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ یعنی میں اللہ سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔علمائے کرام کہتے ہیں کہ استغفار دل کو نرم کرتا ہے، روح کو پاکیزگی بخشتا ہے اور انسان کے اندر مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں نہ صرف اپنے اور اللہ کے درمیان تعلق مضبوط کرنا چاہیے بلکہ لوگوں کے حقوق بھی ادا کرنے چاہئیں۔ اگر کسی کا حق مارا ہو تو واپس کیا جائے، اگر کسی سے ناراضی ہو تو صلح کی جائے، اور اگر دل میں کینہ ہو تو اسے نکال دیا جائے۔ رمضان کا دوسرا عشرہ ہمیں سماجی اصلاح کا بھی درس دیتا ہے۔ معاشرے میں امن، محبت اور بھائی چارہ اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب افراد ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں۔ جو بندہ دوسروں کو معاف کرتا ہے، اللہ بھی اس کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔ اس لیے یہ عشرہ صرف انفرادی عبادت تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے۔ آج کے مصروف اور مادی دور میں انسان گناہوں اور غفلت میں الجھ جاتا ہے۔ رمضان کا دوسرا عشرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی مصروفیات کے باوجود اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے۔ سچی توبہ انسان کو نہ صرف آخرت میں کامیابی دیتی ہے بلکہ دنیا میں بھی دل کا سکون عطا کرتی ہے۔یہ ایام ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں، قرآن مجید کی تلاوت میں اضافہ کریں، نوافل ادا کریں، اور دل سے اللہ کی بارگاہ میں جھک جائیں۔ کیونکہ شاید یہی وہ لمحہ ہو جب اللہ تعالیٰ ہماری سچی پکار سن کر ہمیں معاف فرما دے اور ہماری تقدیر بدل دے۔ رمضان کا دوسرا عشرہ دراصل امید کا پیغام ہے — یہ یقین کہ اللہ کی رحمت ہر گناہ سے بڑی ہے، اور جو سچے دل سے لوٹ آئے، اس کے لیے مغفرت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

*🔴سیف نیوز اردو*

آیت اللہ اعرافی قیادت کونسل کے فقیہ مقرر، عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض ںجام دے گی کونسل آیت اللہ علی رضا اعرافی...