Sunday, 1 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





آیت اللہ اعرافی قیادت کونسل کے فقیہ مقرر، عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض ںجام دے گی کونسل
آیت اللہ علی رضا اعرافی کو ایران کی قیادت کونسل کا فقیہ مقرر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد وہ ملک میں سپریم لیڈر کے فرائض سرانجام دینے والی عبوری قیادت کا حصہ بن گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کونسل عارضی طور پر اس وقت تک سپریم لیڈر کی ذمہ داریاں ادا کرے گی جب تک نئے رہبر کا باقاعدہ انتخاب عمل میں نہیں آ جاتا۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ تین رکنی کونسل نہایت اہم آئینی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا قیام ہنگامی یا عبوری حالات میں نظامِ حکومت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں لایا جاتا ہے۔ اس کونسل میں آیت اللہ علی رضا اعرافی بطور فقیہ شامل ہیں، جبکہ دیگر دو اراکین میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ملک کے چیف جسٹس بھی شامل ہیں۔ تینوں شخصیات مل کر اجتماعی طور پر وہ اختیارات استعمال کریں گی جو عام طور پر سپریم لیڈر کے پاس ہوتے ہیں۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس عبوری بندوبست کا مقصد ریاستی امور میں کسی بھی قسم کا خلل پیدا ہونے سے روکنا اور آئینی طریقہ کار کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک نظام کو مستحکم رکھنا ہے۔ ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب مجلس خبرگانِ رہبری کی ذمہ داری ہے، جو ایک بااختیار ادارہ ہے اور ملک کے اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی رہنما کے تقرر کا اختیار رکھتا ہے۔میڈیا رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مجلس خبرگانِ رہبری کی جانب سے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک یہی کونسل رہبر کے تمام آئینی اور انتظامی فرائض انجام دیتی رہے گی۔ اس پیش رفت کو ایران کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں آئینی تقاضوں کے مطابق قیادت کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے عبوری انتظامات کو بروئے کار لایا گیا ہے۔










ایران نے اسرائیل، قطر اور بحرین پر میزائل داغے، خامنہ ای کی موت کے بعد بھارت میں احتجاج
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی حملے میں مارے گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل اس بات کا اعلان کیا تھا جس کی اب ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کر دی ہے۔ اس خبر نے دنیا بھر میں ملے جلے ردعمل کو جنم دیا ہے، جس میں کچھ نے خوشی کا اظہار کیا اور دوسروں نے غم کا اظہار کیا۔

جموں و کشمیر کے لال چوک پر شیعہ مسلمان بھی سیاہ لباس پہن کر جمع ہوئے۔ خامنہ ای کی حمایت اور امریکا کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے خامنہ ای کو تاریخ کے خطرناک ترین لیڈروں میں سے ایک قرار دیا اور ان کی موت کو ایرانی عوام اور دنیا کے لیے “انصاف” قرار دیا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ خامنہ ای جدید ترین انٹیلی جنس اور ٹریکنگ سسٹم سے بچ نہیں سکتے اور یہ آپریشن اسرائیل کے ساتھ مل کر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک پر دوبارہ دعویٰ کرنے کا سب سے بڑا موقع ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کی فوج اور سیکورٹی فورسز کے بہت سے ارکان اب لڑنا نہیں چاہتے اور استثنیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق اگر وہ ابھی ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو انہیں ریلیف مل سکتا ہے ورنہ بعد میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بمباری جاری رہ سکتی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو پورا ایک ہفتہ جاری رہ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مہم کا مقصد مشرق وسطیٰ اور دنیا میں امن قائم کرنا ہے۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے، اور ایران کی جانب سے سرکاری ردعمل کا انتظار ہے۔

ہفتے کی صبح امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی فوجی کارروائی شروع کی۔ اس بڑے حملے کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کا ایک بیراج فائر کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے تنازع کو دو سے تین دن میں ختم کر سکتے ہیں یا اسے طول بھی دے سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کو امریکہ اسرائیل حملوں سے باز آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری مذاکرات میں مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ تہران معاہدے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

دبئی، قطر اور بحرین جیسے محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹ سمیت کئی بین الاقوامی راستے بند ہو گئے۔ تہران میں لڑکیوں کے اسکول میں بم دھماکے میں 108 طالبات کی ہلاکت کی خبر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے مطابق یہ حملہ مہینوں کی ’’قریبی اور مربوط منصوبہ بندی‘‘ کا نتیجہ تھا۔اس سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، صدر اور مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے دفاتر کو حملوں کا ایک سلسلہ نشانہ بنایا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کو “بڑے پیمانے پر اور پائیدار” قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام سے کھلے عام زور دیا ہے کہ وہ اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ یہ ایران میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے لوگوں کے لیے نسلوں میں آخری موقع ہے۔










ناگپور کی ایس بی ایل انرجی فیکٹری میں زوردار دھماکہ، 15 مزدور ہلاک، متعدد شدید زخمی
ممبئی: ریاست مہاراشٹر کے ضلع ناگپور کی کٹول تحصیل کے راؤل گاؤں میں قائم ایس بی ایل انرجی لمیٹڈ کے صنعتی و کانکنی دھماکہ خیز مواد تیار کرنے والے کارخانے میں اتوار کی صبح زوردار دھماکہ پیش آیا جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک جبکہ متعدد کارکن شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق حادثہ صبح کے وقت اس وقت پیش آیا جب فیکٹری میں معمول کے مطابق کام جاری تھا اور تقریباً 20 سے 25 مزدور مختلف شعبوں میں مصروف تھے۔ اچانک ہونے والے شدید دھماکے نے پوری عمارت کو ہلا کر رکھ دیا جس کے باعث فیکٹری کا ایک بڑا حصہ منہدم ہوگیا۔ دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی جس سے قریبی دیہات میں خوف و ہراس پھیل گیا۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد آگ کا بڑا گولا اور گھنا دھواں فضا میں بلند ہوا جس کے بعد مزدوروں اور مقامی افراد میں بھگدڑ مچ گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کیا گیا۔ حادثے میں زخمی ہونے والے کم از کم 18 افراد کو فوری طور پر ناگپور کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق متعدد افراد شدید جھلسنے اور دھماکے کے اثرات کے باعث گہرے زخموں کا شکار ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ انتظامیہ متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کر رہی ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں تاکہ کسی مزید حادثے سے بچا جا سکے۔ فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیوں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا۔ حکام کے مطابق فیکٹری کے حساس حصوں کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ پولیس نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی جانچ میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کی غلط ہینڈلنگ یا حفاظتی اصولوں میں کوتاہی حادثے کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔ فیکٹری انتظامیہ اور ذمہ دار افسران سے پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ لائسنس، حفاظتی آلات اور آپریشنل معیار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد اور آتش گیر سامان تیار کرنے والی فیکٹریوں میں معمولی لاپرواہی بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مہاراشٹر سمیت مختلف ریاستوں میں اس نوعیت کے کئی حادثات پیش آ چکے ہیں جنہوں نے صنعتی حفاظتی نظام پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ ریاستی حکومت نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ زخمیوں کے علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔


*🔴سیف نیوز اردو*


مالیگاؤں میں بجلی کمپنی کی لاپرواہی، 11KV لائن زمین پر گرنے سے زمین پگھل کر لاوا بن گئی*
(​مالیگاؤں درے گاؤں): *عمیر انصاری*
شہر کے نواحی علاقے درے گاؤں میں بجلی کمپنی کی سنگین لاپرواہی اور حفاظتی نظام کی مکمل ناکامی کا ایک ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 11,000 وولٹ (11KV) کی ہائی ٹینشن لائن پوری رات زمین سے ٹچ رہی، جس کے نتیجے میں زمین کی مٹی پگھل کر لاوے میں تبدیل ہو گئی۔

​عمیر انصاری کے مطابق، بجلی کا پول ہائی ٹینشن تاروں کی زد میں تھا جس سے کرنٹ زمین میں اترتا رہا۔ دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اتنی بڑی خرابی (Fault) کے باوجود مالیگاؤں پاور سپلائے لمیٹیڈ کا خودکار حفاظتی نظام (Circuit Breaker) ٹرپ نہیں ہوا، جس سے بجلی کی سپلائی جاری رہی۔

​زمین بن گئی دہکتا ہوا تندور رات بھر ہائی وولٹیج کرنٹ زمین میں اترنے کی وجہ سے وہاں پیدا ہونے والی شدید حرارت نے مٹی اور ریت کو پگھلا کر شیشے نما سیاہ لاوے (Fulgurite) میں تبدیل کر دیا۔ ماہرین کے مطابق، یہ درجہ حرارت 1500 ڈگری سے زائد رہا ہوگا۔
​عوام کی جان و مال کو شدید خطرہ
اس واقعے نے "اسٹیپ پوٹینشل" (Step Potential) کے باعث وہاں سے گزرنے والے انسانوں یا مویشیوں کے لیے فوری موت کا خطرہ پیدا کر دیا تھا۔ اگر اس لاوے کے قریب کوئی خشک گھاس یا املاک ہوتی تو شہر میں ہولناک آگ لگ سکتی تھی۔


​حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
عمیر انصاری نے اس واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے کہ آخر حفاظتی نظام کیوں ناکام ہوا؟ کیا مالیگاؤں پاور سپلائے لمیٹیڈ کے ملازمین عوامی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں؟ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ذمہ داران اور لائن اسٹاف کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پورے علاقے کا سیفٹی آڈٹ کیا جائے











*جالنہ میں ’21ویں صدی کا خواتین ادب‘ پر ایک روزہ قومی کانفرنس کا شاندار انعقاد*
*اردو نے ہمیشہ خواتین ادب کو عزت و احترام دیا ہے: سید حسین اختر*
*خواتین قلم کاروں کی ادبی خدمات پر سنجیدہ مکالمہ، مختلف زبانوں کے ماہرین کی شرکت*
جالنہ (نامہ نگار):اردو ادب کی روشن روایت اور اس کے وسیع و ہمہ گیر مزاج کو اجاگر کرتی ہوئی ایک روزہ قومی کانفرنس بعنوان “21ویں صدی کا خواتین ادب” کا شاندار انعقاد راشٹرماتا اندرا گاندھی آرٹس کامرس اینڈ سائنس کالج میں عمل میں آیا۔ اس قومی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کے چیئرمین سید حسین اختر نے کہا کہ اردو ادب نے ہمیشہ خواتین قلم کاروں کو عزت، وقار اور مساوی مقام عطا کیا ہے۔انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ اردو کا ادبی سرمایہ صرف مرد قلم کاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ خواتین اہلِ قلم نے بھی ہر دور میں اردو ادب کو فکری، تخلیقی اور تحقیقی سطح پر مضبوط کیا ہے۔ سید حسین اختر نے کہا کہ مہاراشٹر میں اردو ادب کے فروغ کے لیے جو سہولتیں مردوں کو فراہم کی جاتی ہیں، وہی سہولتیں خواتین قلم کاروں کے لیے بھی دستیاب ہیں، کیونکہ اردو ادب کی ترقی صنفی تفریق کے بغیر ممکن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 21ویں صدی میں خواتین ادب کو درپیش مسائل، امکانات اور نئے رجحانات پر غور و فکر وقت کی اہم ضرورت ہے اور ایسی کانفرنسیں نہ صرف خواتین قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں بلکہ نئی نسل کو ادبی میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دیتی ہیں۔اس اجلاس کی صدارت ادارے کے ذمہ دار ست سنگ منڈے نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ان کا ادارہ تمام زبانوں کو یکساں اہمیت دیتا ہے، اسی فکر کے تحت اردو، مراٹھی، ہندی اور انگریزی زبانوں میں خواتین ادب کے موضوع پر یہ قومی کانفرنس منعقد کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد 21ویں صدی میں خواتین کے ادبی کردار کو نمایاں کرنا ہے۔استقبالیہ خطاب میں کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سنندہ تڑکے نے کہا کہ ان کا ادارہ بلا لحاظ مذہب و ملت اور زبان، سبھی کو مساوی تعلیمی و ادبی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ریاست کے مختلف حصوں سے تشریف لانے والے ادبا، محققین اور دانشوروں کا تہہ دل سے استقبال کیا۔کانفرنس کی کنوینیر ڈاکٹر عالیہ کوثر نے کانفرنس کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ادب کو عصری تناظر میں سمجھنا اور اس کی فکری جہتوں کو اجاگر کرنا ہی اس علمی نشست کا بنیادی مقصد ہے۔اردو سیشن میں ڈاکٹر سلیم محی الدین نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے تانیثیت اور تانیسی ادب پر مفصل روشنی ڈالی اور مختلف ادوار میں خواتین کی ادبی خدمات کو حوالوں کے ساتھ پیش کیا۔ اسی طرح مراٹھی، ہندی اور انگریزی زبانوں کے ماہرین نے بھی اپنے اپنے کلیدی خطبات میں خواتین ادب کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔اردو تحقیقی سیشن کی صدارت ڈاکٹر اسلم مرزا نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر مسرت فردوس نے تانیسی ادب میں خواتین قلم کاروں کی نمایاں خدمات پر اظہارِ خیال کیا اور ملک کی مختلف خواتین ادیباؤں کے حوالوں سے ان کی فکری و تخلیقی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر ڈاکٹر رفیع الدین ناصر نے اورنگ آباد کی خواتین قلم کاروں کی اردو سائنسی خدمات پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا، جب کہ دیگر محققین نے بھی خواتین ادب سے متعلق مختلف عنوانات پر اپنے مقالہ جات پیش کر کے کانفرنس کو علمی وقار بخشا۔پورے پروگرام کی نظامت و کوآرڈینیشن شعبۂ اردو کی صدر ڈاکٹر عالیہ کوثر نے انجام دی۔ انہوں نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا اور اظہارِ تشکر کے ساتھ اس عظیم الشان ایک روزہ قومی کانفرنس کے اختتام کا اعلان کیا۔










رمضان کا دوسرا عشرہ: مغفرت، توبہ اور دل کی اصلاح کا پیغام
رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ، جو 11ویں روزے سے شروع ہو کر 20ویں روزے تک جاری رہتا ہے، مغفرت کا عشرہ کہلاتا ہے۔ یہ وہ بابرکت ایام ہیں جب بندہ اپنے گناہوں کی معافی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے اور سچی توبہ کے ذریعے اپنی زندگی کا رخ بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر پہلا عشرہ رحمت کا پیغام لاتا ہے تو دوسرا عشرہ اس رحمت کو مغفرت میں تبدیل کرنے کا سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان خطا کا پتلا ہے، لیکن بہترین وہ ہے جو غلطی کے بعد توبہ کر لے۔ رمضان کا دوسرا عشرہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ماضی کی کوتاہیوں پر نادم ہو کر اللہ سے معافی مانگی جائے اور آئندہ زندگی کو بہتر بنانے کا عزم کیا جائے۔ توبہ صرف زبان سے الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے ندامت محسوس کرنا اور گناہ کو چھوڑ دینے کا پختہ ارادہ کرنا ہی اصل توبہ ہے۔اس عشرے میں کثرت سے استغفار کی تاکید کی جاتی ہے۔ معروف دعا ہے: اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّی مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ یعنی میں اللہ سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔علمائے کرام کہتے ہیں کہ استغفار دل کو نرم کرتا ہے، روح کو پاکیزگی بخشتا ہے اور انسان کے اندر مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں نہ صرف اپنے اور اللہ کے درمیان تعلق مضبوط کرنا چاہیے بلکہ لوگوں کے حقوق بھی ادا کرنے چاہئیں۔ اگر کسی کا حق مارا ہو تو واپس کیا جائے، اگر کسی سے ناراضی ہو تو صلح کی جائے، اور اگر دل میں کینہ ہو تو اسے نکال دیا جائے۔ رمضان کا دوسرا عشرہ ہمیں سماجی اصلاح کا بھی درس دیتا ہے۔ معاشرے میں امن، محبت اور بھائی چارہ اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب افراد ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں۔ جو بندہ دوسروں کو معاف کرتا ہے، اللہ بھی اس کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔ اس لیے یہ عشرہ صرف انفرادی عبادت تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے۔ آج کے مصروف اور مادی دور میں انسان گناہوں اور غفلت میں الجھ جاتا ہے۔ رمضان کا دوسرا عشرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی مصروفیات کے باوجود اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے۔ سچی توبہ انسان کو نہ صرف آخرت میں کامیابی دیتی ہے بلکہ دنیا میں بھی دل کا سکون عطا کرتی ہے۔یہ ایام ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں، قرآن مجید کی تلاوت میں اضافہ کریں، نوافل ادا کریں، اور دل سے اللہ کی بارگاہ میں جھک جائیں۔ کیونکہ شاید یہی وہ لمحہ ہو جب اللہ تعالیٰ ہماری سچی پکار سن کر ہمیں معاف فرما دے اور ہماری تقدیر بدل دے۔ رمضان کا دوسرا عشرہ دراصل امید کا پیغام ہے — یہ یقین کہ اللہ کی رحمت ہر گناہ سے بڑی ہے، اور جو سچے دل سے لوٹ آئے، اس کے لیے مغفرت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

*🔴سیف نیوز اردو*

آیت اللہ اعرافی قیادت کونسل کے فقیہ مقرر، عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض ںجام دے گی کونسل آیت اللہ علی رضا اعرافی...