انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر کی گرفتاری پر سیاست گرم، ’اقتدار کو سچ کا آئینہ دکھانا کوئی جرم نہیں بلکہ حب الوطنی ہے‘: راہل گاندھی
نئی دہلی: اے آئی سمٹ احتجاج معاملے میں انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر اور دیگر کارکنان کی گرفتاری کے بعد ملکی سیاست میں ایک بار پھر شدید ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈروں نے اس کارروائی کو جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے واضح الفاظ میں کہا کہ اقتدار کو سچ کا آئینہ دکھانا کوئی جرم نہیں بلکہ اصل حب الوطنی ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پرامن احتجاج ہندوستان کی تاریخی روایت رہی ہے اور یہ ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یوتھ کانگریس کے ان کارکنان پر فخر ہے جنہوں نے بے خوف ہوکر ملک کے مفاد میں آواز بلند کی۔ انہوں نے وزیر اعظم پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، مگر سچ کو قید نہیں کیا جا سکتا۔کانگریس لیڈر نے امریکہ کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اس معاہدے میں قومی مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس ڈیل سے ملک کے کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے جبکہ ڈیٹا سکیورٹی کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ انہی معاملات کو عوام کے سامنے لانے کی وجہ سے یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب سمیت کئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا، جو جمہوری نظام کے لیے تشویشناک اشارہ ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے بھی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے جہاں نوجوانوں کو پرامن احتجاج پر جیل بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس اس معاملے کو عدالت، سڑک اور پارلیمنٹ ہر سطح پر اٹھائے گی اور گرفتار کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ جاری رکھے گی۔
اسی دوران کانگریس کے قومی صدر ملیکارجن کھڑگے نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا نوجوان روزگار کے بحران سے پریشان ہے جبکہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے احتجاج کرنے والوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوام میں ناراضی بڑھ رہی ہے اور اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش جمہوریت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نہ کبھی ڈری ہے اور نہ ہی دباؤ میں آنے والی جماعت ہے۔ پارٹی جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق نوجوان قیادت کو خوفزدہ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور ملک کے مفادات کے خلاف کسی بھی اقدام کی مخالفت جاری رہے گی۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اے آئی سمٹ احتجاج کے بعد شروع ہونے والا یہ تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ اپوزیشن اسے اظہارِ رائے کی آزادی کا مسئلہ قرار دے رہی ہے جبکہ حکومت قانون و نظم کی پاسداری کو ضروری بتا رہی ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر ملک میں احتجاج، جمہوری حقوق اور حکومتی کارروائیوں کے توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ فی الحال گرفتار یوتھ کانگریس کارکنان کی رہائی کو لے کر سیاسی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ عدالتوں اور پارلیمنٹ دونوں میں زور و شور سے اٹھایا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو جمہوری حقوق کی لڑائی کے طور پر پیش کریں گی، جبکہ حکومت کی جانب سے ابھی مزید باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
نالے میں گر گئیں عمران خان کی بہن ، اڈیالہ جیل کے باہر بڑا ہنگامہ
اسلام آباد: پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کی آنکھوں کی بینائی کافی کم ہوگئی ہے ۔ جیل سے یہ خبر سامنے آئی تو دنیا بھر میں شہباز اور منیر کی شدید مذمت کی گئی۔ اب عمران خان کی بہن کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہے جس سے ایک بار پھر پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بدنامی یقینی ہے۔ عمران خان کی بہن نورین نیازی ناقص سڑکوں اور پولیس ناکہ بندی کے باعث اڈیالہ جیل کے باہر گہرے نالے میں گر گئیں۔ وہ اپنے بھائی سے ملنے اور ان کی خیریت دریافت کرنے جیل گئی تھیں جہاں یہ حادثہ پیش آیا۔
اڈیالہ جیل کے باہر اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا جب عمران خان کی بہن نورین نیازی جاتے ہوئے توازن کھو بیٹھیں اور سیدھی نالے میں گر گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے جیل کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو بند کر دیا تھا جس سے پیدل چلنا بھی مشکل ہو گیا تھا ۔ نورین اپنے بھائی کی خیریت دریافت کرنے کے لیے وہاں گئی تھیں لیکن ناقص انتظامات کے باعث وہ خود حادثے کا شکار ہو گئی۔عمران خان کی دوسری بہن علیمہ خان نے سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے۔ علیمہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں جیل کے گیٹ تک پہنچنے سے روکا۔ انہوں نے پمز ہسپتال کی رپورٹ پر بھی شکوک کا اظہار کیا جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کو آدھی رات کو اپنی دوسری آنکھ میں انجکشن لگایا گیا تھا۔ علیمہ نے سوال کیا کہ “اگر حکومت کچھ نہیں چھپا رہی تو رات گئے علاج کی ضرورت کیوں تھی؟ اور فیملی ڈاکٹروں کو خان سے ملنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟”
علیمہ خان نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی کو گزشتہ 4 ماہ سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف 20 منٹ کے لیے ان سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی طبیعت خراب ہو رہی ہے اور انہیں فوری طور پر اسلام آباد کے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کے ذاتی ڈاکٹر ان کا معائنہ کر سکیں۔
بہار سیاست میں ہلچل : بہار کے راجیہ سبھا انتخابات سے پہلے نیا موڑ،اویسی نے کردیا گیم۔اب کیاکرینگے تیجسوی
بہار کی پانچ راجیہ سبھا نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور اتحادوں کے اندر نئی صف بندی شروع ہو گئی ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج اس وقت سامنے آیا جب AIMIM نے مہاگٹھ بندھن سے ایک نشست کا مطالبہ کر دیا، جس سے RJD کی حکمت عملی متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق آر جے ڈی کو امید تھی کہ اے آئی ایم آئی ایم کے پانچوں اراکین اسمبلی اس کے امیدوار کی حمایت کریں گے، مگر پارٹی کے نئے مؤقف نے سیاسی حساب کتاب کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اویسی کی پارٹی کا مطالبہ، اپوزیشن کے لیے نئی مشکل
اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اخترالایمان نے واضح طور پر کہا کہ اگر مہاگٹھ بندھن دانشمندی کا مظاہرہ کرے تو اپوزیشن کم از کم ایک نشست جیت سکتی ہے، لیکن اس کے لیے اے آئی ایم آئی ایم کو موقع دینا ہوگا۔ انہوں نے پارٹی سربراہ Asaduddin Owaisi کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایوان بالا میں پارٹی کی نمائندگی ضروری ہے۔
اس بیان کے بعد اپوزیشن اتحاد میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور اب سب کی نظریں آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کے فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں۔
حنا شہاب کے نام پر بھی بحث تیز
آر جے ڈی کے رکن اسمبلی بھائی وریندر نے حنا شہاب کو راجیہ سبھا امیدوار بنانے کی کھل کر حمایت کی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس قدم سے کئی سیاسی فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں، تاہم اصل مسئلہ نمبروں کا ہے کیونکہ اپوزیشن کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود نہیں۔
مہاگٹھ بندھن کو اضافی حمایت کی ضرورت ہے، خاص طور پر چھوٹی پارٹیوں اور اے آئی ایم آئی ایم جیسے اتحادیوں کی۔
اسمبلی کا نمبر گیم : این ڈی اے مضبوط پوزیشن میں
بہار اسمبلی میں NDA کے پاس تقریباً 202 ارکان اسمبلی ہیں، جس سے وہ چار نشستیں آسانی سے جیتنے کی پوزیشن میں ہے جبکہ پانچویں نشست پر بھی دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔
اتحاد کے اندر نشستوں کی تقسیم کو لے کر کشمکش جاری ہے :
JD(U) دو نشستوں کا مطالبہ کر رہی ہے
BJP اپنے 89 اراکین کی بنیاد پر دو نشستوں کی مضبوط دعویدار ہے
باقی ایک نشست پر اتحادی جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری ہے
انتخابی شیڈول کا اعلان
Election Commission of India نے بہار کی پانچ راجیہ سبھا نشستوں کے لیے انتخابی پروگرام جاری کر دیا ہے :
26 فروری : نوٹیفکیشن جاری
5 مارچ : نامزدگی کی آخری تاریخ
6 مارچ : کاغذات کی جانچ
9 مارچ : نام واپسی کی آخری تاریخ
16 مارچ : ووٹنگ
ان نشستوں پر موجودہ اراکین کی مدت 9 اپریل 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔
مہاگٹھ بندھن کی کمزور پوزیشن
اپوزیشن اتحاد میں آر جے ڈی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کو ملا کر تقریباً 35 اراکین اسمبلی ہیں، جو ایک نشست جیتنے کے لیے درکار کوٹے سے کم ہیں۔ اس لیے اپوزیشن کو یا تو اضافی حمایت حاصل کرنا ہوگی یا کراس ووٹنگ پر انحصار کرنا پڑے گا۔
بہار میں راجیہ سبھا انتخابات کی اہمیت
بہار میں راجیہ سبھا انتخابات ہمیشہ سے اتحاد کی سیاست کا امتحان رہے ہیں۔ چونکہ راجیہ سبھا کے ارکان کا انتخاب ریاستی اسمبلی کے ارکان کرتے ہیں، اس لیے اسمبلی میں عددی طاقت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں این ڈی اے مضبوط دکھائی دیتی ہے جبکہ اپوزیشن کو اندرونی اتحاد برقرار رکھنے اور نئے سیاسی ساتھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
اے آئی ایم آئی ایم کی جانب سے نشست کا مطالبہ اسی سیاسی پس منظر میں ایک اہم موڑ بن کر سامنے آیا ہے، جس سے مہاگٹھ بندھن کی حکمت عملی متاثر ہو سکتی ہے۔