Sunday, 4 January 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*




وہ غذائیں جنہیں خالی پیٹ کھانے سے وزن کم ہو سکتا ہے
دن کی شروعات اگر درست غذاؤں سے کی جائے تو وزن کم کرنے کے سفر میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
خالی پیٹ کچھ مخصوص غذائیں کھانے سے نہ صرف میٹابولزم تیز ہوتا ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے اور جسم کو ضروری توانائی فراہم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماہرین صحت صبح کے وقت درست خوراک لینے پر خاص زور دیتے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق فٹنس ایکسپرٹ نیہا پریہار نے وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے ایسی پانچ غذاؤں کی نشاندہی کی ہے جو خالی پیٹ کھانے سے فائدہ دیتی ہیں۔
انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ سال کے آخر میں وزن بڑھنے کی بڑی وجہ صرف ایک دن زیادہ کھانا نہیں ہوتا بلکہ غلط صبح کا آغاز، غیر ضروری خواہشات، توانائی کی کمی اور جسم میں چربی کا جمع ہونا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق اگر مقصد تیزی سے چربی کم کرنا اور پیٹ کو فلیٹ بنانا ہے تو صبح خالی پیٹ یہ غذائیں شامل کرنی چاہییں۔
بھگوئے ہوئے بادام یا آخروٹ
نیہا پریہار کے مطابق دن کا آغاز بھگوئے ہوئے بادام یا آخروٹ سے کرنا وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
یہ غذائیں پروٹین، فائبر اور صحت مند فیٹس سے بھرپور ہوتی ہیں جو میٹابولزم کو بہتر بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ دیر تک توانائی فراہم کرتی ہیں اور دن کے آغاز میں غیر ضروری بھوک کو کم کرتی ہیں۔
آملے کا رس
خالی پیٹ بغیر چینی کے آملے کا رس پینا وزن کم کرنے کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔
یہ نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے، میٹابولزم تیز کرتا ہے اور بھوک کو قابو میں رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔برازیل نٹس
برازیل نٹس میں سیلینیم، پروٹین، فائبر اور صحت مند چکنائی پائی جاتی ہے جو جسم کو دیر تک توانا محسوس کراتی ہے۔
یہ تھائیرائیڈ کے افعال کو بہتر بنانے اور ہارمونز کو متوازن رکھنے میں بھی مددگار ہیں۔ انہیں پانی یا بھگوئے ہوئے بادام کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گرم پانی میں ہلدی اور کالی مرچ
خالی پیٹ ہلدی اور کالی مرچ ملا گرم پانی پینا ایک مقبول صحت بخش عادت ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مشروب میٹابولزم کو بہتر بناتا ہے اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
چیا سیڈ کا رس
خالی پیٹ چیا سیڈ والا پانی پینا وزن کنٹرول کرنے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ یہ براہِ راست چربی تو نہیں جلاتا تاہم بھوک کم کرنے اور ہاضمہ بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے کیلوریز کم لینے میں آسانی ہوتی ہے۔
فٹنس کوچ نیہا پریہار کا کہنا ہے کہ اگر ان غذاؤں کو باقاعدگی سے اپنایا جائے، متوازن کھانے، گھر پر سادہ ورزش اور روزانہ خود احتسابی کے ساتھ، تو 30 سے 90 دن میں واضح نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔













کیا گوگل کی مصنوعی ذہانت غلط معلومات سے لوگوں کی صحت کو خطرے میں ڈال رہی ہے؟
برطانوی اخبار دی گارڈین کی تحقیق کے مطابق گوگل کے کے مصنوعی ذہانت کے اوورویوز، جو سرچ نتائج کے اوپر ظاہر ہوتے ہیں، بعض اوقات صحت کی غلط اور گمراہ کن معلومات فراہم کرتے ہیں، جس سے لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ خلاصے ’مددگار‘ اور ’قابل اعتماد‘ ہیں، لیکن ماہرین نے کئی مثالوں کو خطرناک قرار دیا ہے۔
ایک کیس میں گوگل نے لبلبے کے کینسر کے مریضوں کو زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا، جو ماہرین کے مطابق بالکل غلط ہے اور مریض کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔اسی طرح جگر کے فنکشن ٹیسٹ کے بارے میں دی گئی معلومات بھی غلط تھیں، جس سے سنگین بیماری کے شکار افراد خود کو صحت مند سمجھ سکتے ہیں۔ خواتین کے کینسر ٹیسٹ کے بارے میں بھی سرچ نتائج میں ’بالکل غلط‘ معلومات دی گئیں، جیسے کہ پیپ ٹیسٹ کو اندام نہانی کے کینسر کا ٹیسٹ قرار دینا، جو حقیقت میں درست نہیں۔
صحت کے ماہرین اور چیریٹیز نے خبردار کیا ہے کہ ایسے غلط مشورے لوگوں کو علاج سے دور رکھ سکتے ہیں یا جان لیوا نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔
مریضوں کے حقوق کے فورم کی ڈائریکٹر صوفی رینڈل نے کہا کہ گوگل کے اے آئی اوورویوز آن لائن سرچز کے اوپر غلط معلومات رکھ کر لوگوں کی صحت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں
میری کیوری چیریٹی کی سٹیفنی پارکر نے کہا کہ ’لوگ پریشانی کے وقت انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں، اگر معلومات غلط ہوں تو یہ نقصان دہ ہے۔‘
دی گارڈین نے کئی مثالیں پیش کیں جن میں گوگل کے اے آئی اوورویوز نے نفسیاتی بیماریوں اور کھانے کی خرابیوں کے بارے میں بھی خطرناک اور غلط مشورے دیے۔ ماہرین نے کہا کہ یہ معلومات نہ صرف غلط ہیں بلکہ لوگوں کو مدد لینے سے روک سکتی ہیں۔
گوگل کا کہنا ہے کہ اس کے زیادہ تر اے آئی اوورویوز درست اور مددگار ہیں اور کمپنی معیار کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سرچ نتائج میں اس طرح کی غلط معلومات لوگوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔















قومی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ کھیلنے انڈیا نہیں جائے گی: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ
بنگلہ دیش نے اگلے ماہ شروع ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ کے اپنے میچز انڈیا سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انڈیا نے آئی پی ایل میں ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی کو حصہ لینے سے روک دیا تھا۔
سنہ 2024 کے اواخر میں ڈھاکہ میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کے پڑوسی ملک انڈیا سے سفارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی جو تاحال جاری ہے۔حسینہ واجد کو انڈیا کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا اور وہ اپنے ملک سے فرار ہو کر پڑوسی ملک میں پناہ لے چکی ہیں۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے اتوار کو کہا کہ اُس نے باضابطہ طور پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے اپنی ٹیم کے میچز انڈیا سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔
بی سی بی کے بیان کے مطابق ’بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فیصلہ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم موجودہ صورتحال میں ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے انڈیا نہیں جائے گی۔‘ 
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کی ’سکیورٹی کے بڑھتے خدشات‘ کے باعث کیا گیا اور اس میں حکومت کی سفارش بھی شامل تھی۔
بنگلہ دیش کے بولر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز نے فارغ کر دیا گیا اور اس کی وجہ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (بی سی سی آئی) کی سفارش کو قرار دیا تھا۔
قبل ازیں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں نوجوانوں اور سپورٹس کے مشیر آصف نذرل نے کہا تھا کہ ’کسی بھی قسم کے حالات میں بنگلہ دیش کرکٹ، کرکٹرز اور بنگلہ دیش کی کسی طرح کی توہین قبول نہیں کی جائے گی۔‘اُن کی جانب سے جاری کیا گیا بیان سرکاری نیوز ایجنسی ’بی ایس ایس‘ نے شائع کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’غلامی کے دن گزر چکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی معاہدے کے باوجود انڈیا میں نہیں کھیل سکتا وہاں پوری بنگلہ دیشی ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے میں خود کو محفوظ تصور نہیں کر سکتی۔‘

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...