اتر پردیش کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ : 2.89 کروڑ ووٹروں کے نام خارج،اپنا نام چیک کرنے کا طریقہ جانیں
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اتر پردیش کی ڈرافٹ انتخابی فہرست جاری کر دی ہے، جس میں اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) کے بعد بڑے پیمانے پر تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے مطابق اب اتر پردیش میں 12.55 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔
اس نظرثانی کے دوران 2 کروڑ 88 لاکھ 75 ہزار ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے گئے، جو کہ نظرثانی سے قبل موجود 15 کروڑ 44 لاکھ ووٹروں کا تقریباً 18.70 فیصد بنتا ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق ان ناموں کو خارج کرنے کی وجوہات میں ووٹروں کا انتقال، رہائش کی تبدیلی، یا کسی دوسرے مقام پر ووٹر کے طور پر رجسٹر ہونا شامل ہے۔
اتر پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر نویدپ رنوا نے واضح کیا کہ کسی بھی ووٹر کا نام پیشگی نوٹس کے بغیر SIR ڈرافٹ فہرست سے حذف نہیں کیا جا سکتا۔
زیادہ تر ناموں کا اخراج بڑے شہری مراکز سے رپورٹ ہوا ہے، جن میں لکھنؤ، غازی آباد، پریاگ راج اور کانپور شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اسپیشل انٹینسو ریویژن کا عمل 27 اکتوبر کو ملک کی 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد ڈرافٹ ووٹر لسٹ کی اشاعت میں تین مرتبہ تاخیر ہوئی۔
ڈرافٹ فہرست کے اجرا کے بعد الیکشن کمیشن نے دعویٰ اور اعتراضات داخل کرنے کے لیے ایک ماہ (6 فروری تک) کی مہلت دی ہے۔ تمام اعتراضات اور درخواستوں کی جانچ کے بعد حتمی انتخابی فہرست 6 مارچ کو جاری کی جائے گی، جو آئندہ انتخابات کی بنیاد بنے گی۔
الیکشن کمیشن نے تمام ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا تاخیر اپنی تفصیلات کی جانچ کریں۔
اتر پردیش ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں اپنا نام کیسے چیک کریں؟
ووٹرز الیکشن کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر جا کر اپنی تفصیلات آن لائن چیک کر سکتے ہیں۔
نام، ضلع، اسمبلی حلقہ یا پولنگ اسٹیشن کی معلومات درج کر کے ووٹر اپنی حیثیت کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
اگر کسی ووٹر کا نام فہرست میں شامل نہیں ہے یا تفصیلات میں کوئی غلطی ہے تو وہ آن لائن یا آف لائن طریقے سے دعویٰ اور اصلاحی درخواست جمع کرا سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ عمل دعویٰ و اعتراضات کی مدت کے اندر ہو۔
اتر پردیش بھارت کی سب سے بڑی ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ ووٹرز پائے جاتے ہیں۔ شفاف اور درست انتخابی فہرست جمہوری نظام کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ اسپیشل انٹینسو ریویژن کا مقصد فرضی، متوفی یا نقل مکانی کر جانے والے ووٹروں کے اندراج کو ختم کر کے انتخابی عمل کو مزید شفاف بنانا ہے۔ تاہم، اتنی بڑی تعداد میں ناموں کا اخراج سیاسی اور عوامی سطح پر بحث کا سبب بھی بن رہا ہے۔
بنگلہ دیش کے اوپینین پول میں BNP آگے ، درست ثابت ہورہا طارق رحمان کا داؤ ، واضح اکثریت کے ساتھ الیکشن جیتنے کا امکان
: بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر، انتخابات کا اعلان ایک ایسا اقدام تھا جسے پورے جنوبی ایشیا کے تجزیہ کاروں کی نظر تھی ۔ اگرچہ انتخابات 12 فروری کو ہونے والے ہیں، لیکن رائے عامہ کے جائزے پہلے ہی بتا رہے ہیں کہ ملک کی سیاست فیصلہ کن موڑ پر ہے۔ بنگلہ دیش کے 13ویں عام انتخابات میں برتری حاصل کرنے والی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) ہے۔ اس پارٹی کی قیادت اس وقت خالدہ ضیاء کے صاحبزادے طارق رحمٰن ان کی وفات کے بعد کر رہے ہیں۔
گھنی دھند اور سخت سردی کے درمیان بنگلہ دیش کی سیاست فیصلہ کن موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ آئندہ عام انتخابات سے پہلے، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) مکمل طور پر ایکشن موڈ میں داخل ہو چکی ہے، اور اس کے اثرات واضح ہیں۔ بنگلہ دیش کے ایمینینس ایسوسی ایٹس فار سوشل ڈیولپمنٹ کی جانب سے قومی انتخابات کے حوالے سے کرائے گئے ایک حالیہ رائے شماری میں حیران کن اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ سروے کے مطابق بی این پی کو 70 فیصد آبادی کی حمایت حاصل ہوتی نظر آرہی ہے۔اوپینین پولز طارق رحمان کے لیے اچھی خبر
اس وقت بی این پی کی اولین ترجیح پارٹی قیادت کو باقاعدہ بنانا ہے۔ پارٹی کے قائم مقام رہنما طارق رحمان کو جلد ہی باضابطہ طور پر پارٹی صدر مقرر کیا جائے گا۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری فخر الاسلام عالمگیر نے سلہٹ میں پریس کانفرنس کے دوران عندیہ دیا کہ یہ فیصلہ ایک یا دو دن میں ہو سکتا ہے۔ طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی نہ صرف اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کر رہی ہے بلکہ اپنی انتخابی حکمت عملی بھی بنا رہی ہے۔ پارٹی قیادت کو امید ہے کہ طارق رحمان اپنی انتخابی مہم کا آغاز سلہٹ سے کریں گے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے خالدہ ضیا اپنی انتخابی مہم چلاتی تھیں اور پارٹی اسے ایک جذباتی اور علامتی اقدام کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
کون سی پارٹی کو کتنی حمایت ؟
بی این پی کے لیے سب سے بڑی ریلیف ایک حالیہ رائے شماری سے سامنے آئی ہے۔ نجی تنظیم ایمینینس ایسوسی ایٹس فار سوشل ڈیولپمنٹ کی جانب سے کرائے گئے اس سروے میں 300 پارلیمانی حلقوں میں 20,000 سے زائد لوگوں سے بات چیت کی ئی ۔ سروے کے مطابق تقریباً 70 فیصد ووٹرز بی این پی کے حق میں ہیں۔ اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی کو صرف 19 فیصد حمایت ملتی نظر آرہی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال اگست میں شیخ حسینہ حکومت کے خلاف طلبہ کی تحریک سے ابھرنے والی نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) کو صرف 2.6 فیصد حمایت ملی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سڑکوں پر ہونے والے مظاہرے اور تنظیمی طاقت کا نتخابی حمایت میں تبدیل ہونا ضرو ری نہیں ۔ سروے کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کے 60 فیصد سابق ووٹرز اب بی این پی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 20 فیصد سے زائد ووٹرز جماعت اسلامی کی طرف جانا چاہتے ہیں۔
سونیا گاندھی کو سانس کی تکلیف کے باعث سر گنگا رام اسپتال میں داخل کرایا گیا، حالت مستحکم
نئی دہلی: کانگریس کی رکن پارلیمنٹ سونیا گاندھی کو سانس لینے میں تکلیف کے باعث قومی دارالحکومت کے سر گنگا رام اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق اس وقت ان کی حالت مستحکم ہے اور وہ علاج پر مثبت ردعمل دے رہی ہیں۔
طبی معائنے کے بعد فیصلہ
سر گنگا رام اسپتال کے چیئرمین اجے سروپ نے بتایا کہ تفصیلی طبی معائنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ سونیا گاندھی کے برونکیل دمے میں ہلکا سا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سرد موسم اور دہلی میں موجود فضائی آلودگی کا مشترکہ اثر ہے۔ احتیاطی تدبیر کے طور پر ڈاکٹروں نے انہیں مشاہدے اور بہتر طبی نگہداشت کے لیے اسپتال میں داخل کرنے کا فیصلہ کیا۔
علاج اور موجودہ حالت
اجے سروپ کے مطابق سونیا گاندھی کو سانس سے متعلق تکلیف محسوس ہو رہی تھی، تاہم بروقت علاج کے بعد ان کی حالت مکمل طور پر قابو میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کانگریس کی رکن پارلیمنٹ کو اینٹی بایوٹکس اور دیگر معاون ادویات دی جا رہی ہیں، جن پر وہ اچھی طرح ردعمل دے رہی ہیں۔
جلد ڈسچارج کا امکان
اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ سونیا گاندھی کی حالت مسلسل بہتر ہو رہی ہے اور انہیں ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ ان کی طبی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے معالجین ایک یا دو دن میں اسپتال سے چھٹی دینے کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔