گوا نائٹ کلب آتش زدگی کیس : مفرور لوتھرا برادران حراست میں، پاسپورٹ معطل
گوا نائٹ کلب آتش زدگی کیس کے کلیدی ملزمان سوربھ لوتھرا اور گورو لوتھرا کو تھائی لینڈ میں حراست میں لے لیا گیا۔ انھیں جلد بھارت لایا جائے گا۔ آتش زدگی کے چند گھنٹوں کے اندر دونوں بھارت سے تھائی لینڈ فرارہوگئے تھے۔
دونوں ملزمان کے پاسپورٹ بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔ 7 دسمبر بروز ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ہوئے سانحے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
حکام کے مطابق، ایجنسیاں تھائی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھیں اوردونوں بھائیوں کی نقل و حرکت اور ٹھکانے کے بارے میں لگاتار اپ ڈیٹس حاصل کر رہی تھی۔مقامی پولیس کے ساتھ مل کر آج (جمعرات) صبح چھاپے مارے گئے، جس کے نتیجے میں انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ اب امیگریشن کا عمل جاری ہے ۔ امیگریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد دونوں کو بھارت لایا جائے گا۔
پاسپورٹ معطل
اس سے قبل، گوا پولیس نے سوربھ اور گورو لوتھرا کے پاسپورٹ معطل کر دیے تھے۔ان کے خلاف انٹرپول سےبلیو کارنر نوٹس جاری کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ وزارت خارجہ نے پہلے واضح کیا تھا کہ پاسپورٹ ایکٹ 1967 کے سیکشن 10A کے تحت مرکزی حکومت یا کوئی مجاز اہلکار پاسپورٹ کو معطل کر سکتا ہے تاکہ ، پاسپورٹ رکھنے والا کہیں سفرنہ کرسکے۔ لوتھرا براردان ملک سے پہلے ہی فرارہوگئے تھے۔یہ دونوں تھائی لینڈ سے کسی دوسرے ملک فرار نہ ہوں اس لیے ان کا پاسپورٹ معطل کردیا گیا۔لوتھرا برادران کو عدالت سے راحت نہیں
دہلی کی روہنی عدالت نے لوتھرا برادران کو عبوری راحت دینے سے انکار کردیا۔دونوں نے پیشگی ضمانت کی درخواست کی تھی ۔
الٹی پڑگئی پاکستان کی چال ، اقوام متحدہ میں طالبان کی حمایت میں کھل کرسامنے آیا بھارت
پاکستان کو اس کی چال الٹی پڑ گئی۔ پاکستان ، کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر حل کرنے کے لیے بے قرار رہتا ہے اور اب گزشتہ دنوں اروناچل پردیش کے معاملے پر بھی مداخلت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
حال ہی میں پاکستان نے اروناچل پردیش کے معاملے پر چین کی حمایت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا۔ جس کے بعد بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر بحث کے دوران پاکستان کا نام لیے بغیر راست حملہ کیا۔ اس بار بھارت نے کھل کر طالبان حکومت کی حمایت کی۔
بھارت کے مستقل نمائندے ہریش نے افغانستان میں حالیہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کی جس میں خواتین، بچے اور کرکٹرز بھی مارے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حملے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ایک کمزور اور جدوجہد کرنے والے ملک کو مزید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب بھارت نے افغانستان کی حمایت میں مضبوطی سے اپنا موقف پیش کیاہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی نشاندہی ہوئی ہے۔بھارت نے طالبان کی حمایت میں کیا کہا؟
بھارت نے تجارتی اور ٹرانزٹ دہشت گردی کا معاملہ بھی اٹھایا، جو پاکستان کی جانب واضح اشارہ تھا۔ ہندوستان نے وضاحت کی کہ کس طرح لینڈ لاکڈ ملک کے لیے لائف لائن کو منقطع کرنا ڈبلیو ٹی او کے قوانین کے خلاف ہے ۔ ہندوستان نے یہ بھی کہا کہ وہ افغانستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور آزادی کی حمایت کرتا ہے۔ بھارت نےکہا کہ بین الاقوامی برادری کو دہشت گرد تنظیموں جیسے آئی ایس آئی ایل، القاعدہ، لشکر طیبہ، جیش محمد، اور ان کے پراکسیوں کو سرحد پار دہشت پھیلانے سے روکنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
بھارت کا کرارا جواب
دراصل ، پاکستان کی وزارت خارجہ نے حال ہی میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے متعلق معاملات پر مسلسل حمایت کرتا ہے۔ واضح رہے کہ ،چین ،بھارت کی اروناچل پردیش کو ’ژانگنان‘ کہتا ہے اور پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کی حمایت سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر بھارت کے داخلی معاملات میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے۔ اس طرح وہ خود بھارت کو افغان۔پاک معاملے میں مداخلت کرنے پر اکسا رہا ہے۔ پاکستان کی چل الٹی پڑ ی اور اب بھارت کے پاس افغانستان کی کھل کر حمایت کرنے کی وجہ ہے۔بھارت نے دیا افغانستان کا ساتھ
بھارت کے سابق خارجہ سکریٹری کنول سبل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پاکستان کی حماقت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اروناچل پردیش پر چین کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان ڈیورنڈ لائن پر افغانستان کے موقف کی حمایت کرنے کے لیے ہمارے لیے زمین تیار کر رہا ہے۔ سبل کا بیان درست ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ بھارت اب اقوام متحدہ میں افغانستان میں پاکستان کے حملوں کی مذمت کر رہا ہے۔ اس سے قبل ،بھارت نے پاکستان اور افغانستان کے معاملے پر کبھی ایسا بیان نہیں دیا تھاا۔ ایسا بیان جاری کر کے پاکستان نے بھارت کو ڈیورنڈ لائن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر افغانستان کی کھل کر حمایت کا حق دے دیا ہے۔ بھارت اب بلوچستان پر اپنا موقف اختیارکر سکتا ہے۔
وراٹ کوہلی اور روہت شرما کی تنخواہ میں کٹوتی؟ شبمن گل کو نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں A+ گریڈ ملنے کا امکان!
ممبئی: جب 22 دسمبر کو بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (BCCI) اپنی سالانہ جنرل میٹنگ (AGM) منعقد کرے گا تو وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے سنٹرل کنٹریکٹ پر کوئی بڑا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر ان کی تنخواہوں میں نمایاں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ دونوں بھارتی سپر اسٹارز کے مستقبل کے ساتھ ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ میں خواتین کھلاڑیوں کے معاہدوں میں تبدیلی پر بھی بات ہوگی!
گل کو ٹاپ کیٹیگری میں شامل کیا جا سکتا ہے
اپیکس کونسل کی 31ویں AGM آن لائن منعقد ہوگی، جہاں کوہلی اور روہت کے معاہدوں پر فیصلہ متوقع ہے۔ دونوں نے گزشتہ سال ٹیسٹ اور T20 انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی ہے اور اب صرف ون ڈے فارمیٹ کھیلتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، ہندوستان کے ٹیسٹ اور ون ڈے کپتان، شبمن گل، سینئر آل راؤنڈر رویندرا جدیجا اور تیز گیند باز جسپریت بمراہ کے ساتھ ‘A+’ کیٹیگری میں شامل ہو سکتے ہیں۔زمرہ۔ کھلاڑی۔ فیس
A+ گریڈ روہت شرما، ویرات کوہلی، جسپریت بمراہ، رویندرا جدیجا 7 کروڑ
اے گریڈ محمد سراج، کے ایل راہول، شبمن گل، ہاردک پانڈیا، محمد شامی، رشبھ پنت 5 کروڑ
بی گریڈ سوریہ کمار یادو، کلدیپ یادو، اکسر پٹیل، یاشاسوی جیسوال، شریاس ایر 3 کروڑ
سی گریڈ رنکو سنگھ، تلک ورما، رتوراج گائیکواڑ، شیوم دوبے، روی بشنوئی، واشنگٹن سندر، مکیش کمار، سنجو سیمسن، ارشدیپ سنگھ، پرسید کرشنا، رجت پاٹیدار، دھرو جوریل، سرفراز خان، نتیش کمار ریڈی، ایشان کشن، ابھیشیک شرما، آکاش وراتھ، آکاش رانا، سنجو سیمسن 1 کروڑ
روہت، کوہلی کے تنخواہ میں 2 کروڑ کی کمی ہو سکتی ہے
روہت شرما اور وراٹ کوہلی، جو T20 اور ٹیسٹ فارمیٹس سے ریٹائر ہو چکے ہیں، کو بھی BCCI کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں A+ گریڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں یہ دیکھنا باقی ہے۔ اگر Ro-Co کو اے کیٹیگری میں رکھا جاتا ہے تو ان کی تنخواہوں میں 2 کروڑ روپے کی کمی ہوگی۔ فی الحال، مرکزی تنخواہیں بالترتیب ₹7 کروڑ (A+)، ₹5 کروڑ (A)، ₹3 کروڑ (B)، اور ₹1 کروڑ (C) ہیں۔
دو بھائی، دونوں آفات… ویرات کوہلی دنیا کے نمبر 2 بلے باز بن گئے، روہت شرما کا راج جاری
نئی ایگزیکٹو کے بعد پہلی AGM
دیگر معاملات کے علاوہ امپائرز اور میچ ریفریز کی تنخواہوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ بورڈ کے ڈیجیٹل اثاثوں کی اپ ڈیٹس پر بھی بات کی جائے گی۔ بی سی سی آئی کے عہدیداروں میں ردوبدل کے بعد یہ ایپکس کونسل کی پہلی اے جی ایم ہوگی۔متھن منہاس ستمبر میں بورڈ کے صدر بنے، اور رگھورام بھٹ کو خزانچی مقرر کیا گیا، جب کہ دیوجیت سائکیا اور پربھتیج سنگھ بھاٹیہ کو بالترتیب سیکریٹری اور جوائنٹ سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ گزشتہ بورڈ انتخابات میں سوراشٹرا کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر جے دیو شاہ نے بھی کونسلر کے طور پر بورڈ میں شمولیت اختیار کی تھی۔