Sunday, 27 July 2025

نائب صدر کے انتخاب کی تیاریاں مکمل، الیکشن کمیشن نے کی انتخابی افسران کی تقرری


نئی دہلی: نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن نے اہم تقرریوں کا اعلان کر دیا ہے۔ راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل پرمود چندر مودی کو انتخابی افسر (ریٹرننگ آفیسر) مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جوائنٹ سکریٹری گریما جین کو معاون انتخابی افسر اور ڈائریکٹر وجے کمار کو بھی معاون انتخابی افسر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کمیشن نے جمعہ کے روز ایک باضابطہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ یہ تقرریاں آئین ہند کے آرٹیکل 324 کے تحت کی گئی ہیں اور وزارت قانون و انصاف کی مشاورت سے عمل میں لائی گئی ہیں۔ نائب صدر کے انتخاب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے یہ تقرریاں ایک منظم اور غیرجانبدار انتخابی عمل کو یقینی بنانے کی غرض سے کی گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ موجودہ نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے حال ہی میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد نئے نائب صدر کے انتخاب کے لیے پارلیمانی سطح پر تیاریاں تیز ہو گئی ہیں۔ انتخابی شیڈول کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے اور اس عمل میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے تمام ارکان ووٹنگ کے اہل ہوں گے۔

نائب صدر کا انتخاب ایک خاص انتخابی طریقہ کار کے تحت ہوتا ہے، جس میں صرف پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے منتخب اور نامزد ارکان ہی ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اس انتخاب میں ریاستی اسمبلیوں کے ارکان کو ووٹ کا حق حاصل نہیں ہوتا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق، پرمود چندر مودی کی بطور انتخابی افسر تقرری اس لحاظ سے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ روایتاً صدر اور نائب صدر کے انتخاب میں پارلیمنٹ کے کسی ایوان کے سکریٹری جنرل کو یہ ذمہ داری دی جاتی ہے۔ گزشتہ نائب صدر کے انتخاب میں لوک سبھا کے سکریٹری جنرل کو انتخابی افسر مقرر کیا گیا تھا، جبکہ اس بار راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے امید ظاہر کی ہے کہ نائب صدر کے انتخاب کا عمل صاف، منصفانہ اور وقت پر مکمل کیا جائے گا، اور پارلیمنٹ کے ارکان اپنی آئینی ذمے داری کو بخوبی نبھائیں گے۔ اس وقت تمام تر نظریں الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی تاریخوں کے باضابطہ اعلان پر مرکوز ہیں۔

سپریم کورٹ کا خودکشی کے واقعات پر سخت نوٹس، کوچنگ سینٹروں کے اندراج سمیت 15 ہدایات جاری

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے تعلیمی دباؤ، ذہنی دباؤ اور خودکشی کے واقعات کے بڑھتے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعہ کے روز تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 15 جامع اور پابند ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات کا مقصد تعلیمی اداروں، خصوصاً نجی کوچنگ سینٹروں میں طلبہ کی ذہنی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا اور خودکشی جیسے سانحات کی روک تھام کرنا ہے۔

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی دو رکنی بنچ نے یہ فیصلہ مغربی بنگال کی ایک 17 سالہ طالبہ کی مشتبہ موت کے معاملے کی سماعت کے دوران سنایا۔ متوفیہ طالبہ وشاکھاپٹنم کے ایک نجی کوچنگ ادارے میں میڈیکل کورسز میں داخلے کے لیے قومی اہلیتی امتحان (این ای ای ٹی) کی تیاری کر رہی تھی۔ پندرہ جولائی 2023 کو وہ مبینہ طور پر ہاسٹل کی چھت سے گر گئی، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔ اہل خانہ نے واقعے کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جانچ کا مطالبہ کیا تھا، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔عدالت نے قرار دیا کہ دماغی صحت آئین کے آرٹیکل 21 یعنی زندگی اور شخصی آزادی کے حق کا لازمی جزو ہے۔ بنچ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں تعلیمی دباؤ کے باعث طلبہ، خاص طور پر کوچنگ سینٹروں میں، خودکشی کے کئی واقعات پیش آئے ہیں، جو مایوسی کے بڑھتے رجحان کی غمازی کرتے ہیں اور اس کے سدباب کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
عدالت نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی کہ وہ:

تمام نجی کوچنگ سینٹروں کا دو ماہ کے اندر اندراج کریں۔

طلبہ کی ذہنی صحت سے متعلق رہنما اصول وضع کریں۔

شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام قائم کریں۔

طالب علموں کے لیے ہیلپ لائن اور کونسلنگ مراکز قائم کریں۔

تعلیمی اداروں میں باقاعدہ ذہنی صحت کا جائزہ لیں۔

ضلعی سطح پر مانیٹرنگ کمیٹیاں بنائیں، جن کی سربراہی ضلع مجسٹریٹ کریں۔

کوچنگ سینٹروں پر طلبہ پر دباؤ ڈالنے والے ہتھکنڈوں پر پابندی لگائیں۔

والدین اور اساتذہ کو ذہنی صحت سے متعلق تربیت دی جائے۔

ہاسٹل اور ہاؤسنگ سہولیات کی نگرانی کی جائے۔

داخلے کے عمل کو شفاف اور دباؤ سے پاک بنایا جائے۔

طلبہ کے لیے غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔

ناکامی کے بعد طلبہ کو سنبھالنے کے لیے خاص پروگرام بنائے جائیں۔

تعلیمی اداروں میں سخت نگرانی کا نظام نافذ کیا جائے۔

مقامی سطح پر سماجی مدد کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔

اسکولوں، کالجوں اور کوچنگ مراکز میں باقاعدہ معائنہ کیا جائے
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے طالب علموں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ذہنی صحت کو تعلیم کے نظام کا مرکزی حصہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ عدالت نے تمام اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور طلبہ کے لیے ایک محفوظ، معاون اور خوشگوار تعلیمی ماحول فراہم کریں۔
اہل ِ غزہ کادرد، دفتراقوام متحدہ کےگھیراؤ کی کوشش



غزہ میں اسرائیل نے اہل غزہ کی کیا حالت کردی ہے اس کا اندازہ وہاں کی تصاویر اور ویڈیوز سے ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے پوری دنیا میں اسرائیل کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کو بھی اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے کہ وہ اب تک اسرائیل کو اس ظلم سے باز نہیں رکھ سکا ۔ اقوام متحدہ کے خلاف غصہ ویسے بھی بڑھتا جارہا ہے کیوں کہ وہ اتنے بڑے انسانی بحران کو ٹالنے کے لئے اپنے طور پرکچھ نہیں کرپا رہا ہے۔ 
اقوام متحدہ کا صدر دفتر نشانہ 
 اسی غم و غصہ میں گزشتہ روز اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے سامنے سیکڑوں مظاہرین نے جنگ زدہ غزہ میں بڑھتے ہوئے اسرائیل کے مسلط کردہ قحط جیسے حالات اور خصوصاً بچوں کی حالت زار پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے شدید احتجاج کیا۔ یہ لوگ اقوام متحدہ کے صدر دفتر کو گھیرنے کی کوشش کررہے تھے تاکہ وہاں کے حکام کو خواب غفلت سے جگایا جاسکے لیکن سیکوریٹی ایجنسیوں نے ایک حد تک انہیں جانے دینے کے بعد بھیڑ کو منتشر کردیا۔ امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری عالمی مداخلت نہ کی گئی تو غذائی قلت جان لیوا شکل اختیار کر سکتی ہے۔مظاہرین نے وہاں کھڑے رہ نعرے لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اب وقت آگیا ہے

کہ اقوام متحدہ کوئی فیصلہ کن کارروائی کرے ۔ یا تو وہ غزہ کی ناکہ بندی کھلوائے اور وہاں امداد پہنچانے کا انتظام کرے یا پھر اسرائیلی قیادت کو سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلنے کا انتظام کرے۔
مظاہرہ میں شامل افراد کا کیا کہنا ہے؟
 اس مظاہرے میں شامل ناس جوزف(۲۷) جو نیویارک میں فلسطینی یوتھ موومنٹ کی ترجمان ہیں، نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’غزہ سے جو تصاویر آرہی ہیں وہ ناقابلِ بیان ہیں ۔بچوں، عورتوں اور مردوں کو سڑکوں پر بھوک سے نڈھال اور گرتا ہوا دیکھنا ناقابلِ برداشت ہے۔ اگرچہ فوری امداد ضروری ہے لیکن ایسے سیکڑوں، شاید ہزاروں افراد ہیں جن کیلئے یہ بھی ناکافی ہوگی۔ ان لوگوں کو فوری طورپر اسپتال منتقل کرکے کئی ہفتوں تک نگرانی میں رکھنا پڑے گا۔‘‘ انہوں نے عالمی برادری، بالخصوص فرانس، برطانیہ اور امریکہ پر زور دیا کہ صرف زبانی مذمت کافی نہیں اسرائیل پر اسلحہ اور تجارتی پابندیاں عائد کی جائیں اور اسرائیلی سفیر کو ان ممالک سے ملک بدر کیا جائے۔ 
یہودی بھی مظاہرے میں شامل ہوئے
 اس مظاہرے میں شامل یہودی مذہبی رہنما ربی ڈیوڈ فیلڈ مین نے شدید رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم چھوٹے بچوں کو بھوک سے مرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ یہ ناقابلِ قبول ہے۔ دنیا آہستہ آہستہ جاگ رہی ہے بلکہ کوئی کارروائی ہی نہیں کررہی ہے۔ باقی ممالک کو بھی فوری قدم اٹھانا ہوگا۔‘‘امریکی شہری پال اسٹائن نے کہا کہ غزہ میں ظلم کی انتہا کی مسلسل خبریں دیکھ کر ان کی نیند حرام ہو گئی ہے۔ غزہ میں اسرائیل جو کررہا ہے اسے نسل کشی کہتے ہیں ۔ کیا امریکی حکومت کو یہ نظر نہیں آرہا ہے ؟ ہم امریکی ہیں، ہمیں اس قتل و غارت کو روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا چا ہئے لیکن ابھی تک ہم کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ ‘‘
بحران سنگین تر 
  مقامی یونیورسٹی کے پروفیسر سانان مرادی نے امریکہ پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ اسرائیل کو اسلحہ دینا بند کریں، جنگ بند کریں۔‘‘مظاہرین نے جنگ بندی، محاصرہ ختم کرنے اور جنگی جرائم پر احتساب کے مطالبات کے ساتھ پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے تاحال رسمی بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم امدادی ایجنسیاں خبردار کر چکی ہیں کہ غزہ میں غذائی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین تر ہو رہا ہے اور بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اس تعلق سے جو ویڈیوز اور تصاویر سامنے آرہی ہیں ان سے بالکل واضح ہو رہا ہے کہ یہ بحران کس نہج پر پہنچ گیا ہے اور اس کے لئے سراسر اسرائیلی حکومت ذمہ دار ہے۔
اقوام متحدہ کے صدر دفتر جانے والی سڑک جام 
  واضح رہے کہ — غزہ میں شدید غذائی بحران پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئےنیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے باہر یہ سیکڑوںفلسطین حامی مظاہرین جمع ہوئے تھے۔ ان کی وجہ سے صدر دفتر کی جانب جانے والی سڑک پوری طرح سے جام ہو گئی تھی ۔ چونکہ انتظامیہ کو اندازہ تھا کہ یہاں بڑی تعداد میں لوگ پہنچیں گے اس لئے انہوں نے پہلے ہی ٹریفک کو دوسرے راستوں پر موڑ دیا تھا ۔ 
بین الاقوامی تنظیموں کی وارننگ 
 دریں اثناء بین الاقوامی امدادی تنظیمیں بار بار خبردار کر رہی ہیں کہ غزہ میں بالخصوص بچوں میں بھوک اور غذائی قلت کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔یاد رہے کہ اسرائیل نے رواں سال مارچ میں غزہ پر مکمل امدادی ناکہ بندی عائد کی تھی تاہم اقوام متحدہ کی زیر قیادت قائم پرانی امدادی تقسیم کی تنظیمی بنیادوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اس اقدام نے انسانی امداد کی رسائی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔بین الاقوامی طبی تنظیم ’ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز ‘نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے کلینکوں میں پچھلے ہفتے جن بچوں اور حاملہ یا دودھ پلانے والی ماؤں کا معائنہ کیا گیا، ان میں سے ہر چوتھی خاتون یا بچہ شدید غذائی قلت کا شکار پایا گیا۔یہ تشویشناک انکشاف اقوام متحدہ کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ سٹی میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی ادارے اور دیگر تنظیمیں مسلسل دہائی دے رہی ہیں کہ غزہ میں انسانی بحران ایک غیر انسانی سطح پر پہنچ چکا ہے اور اس کے لئے نیتن یاہو کا پاگل پن ذمہ دار ہے۔ نیتن یاہو کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے

*🛑سیف نیوز اُردو*

*ادارہ نثری ادب کی233 ویں ماہانہ ادبی نشست* *ادارہ نثری ادب کی233 ویں ماہانہ ادبی نشست*  *ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشست نمب...