لوک سبھامیں اپوزیشن کا ہنگامہ،ایوان کی کاروائی میں پڑا رخنہ ، ایوان میں آج آپریشن سندورپرہوگی میراتھن بحث
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ آرائی جاری ہے۔ پچھلے ہفتہ جہاں ایوان کی کارروائی ختم ہوئی تھی ایسا لگتا ہے کہ وہیں سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ یعنی شور شرابہ اورہنگاموں کا دور دورہ ہے۔ حالانکہ آج لوک سبھا میں آپریشن سندور پرمیراتھن بحث ہونی ہے مگرآج بھی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں ، لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کے ساتھ شروع ہوئی۔
لوک سبھا کی کاروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن پارٹیاں نعرے بازی کرنے لگیں۔ اپوزیشن ارکان کو پرسکون نہ ہوتے دیکھ کر اسپیکر اوم برلا نے لوک سبھا کی کارروائی دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردی۔ ایک بجے جب ایوان کی کاروائی شروع ہوئی ۔ ایوان میں پھر ہنگامہ آرائی ہوئی اور اسپیکرنے لوک سبھا کی کاروائی دو بجے تک کے لیے ملتوی کردی گئی ۔۔اپوزیشن کی طرف سے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو مورچہ سنبھالیں گے۔
ادھر، دوسری جانب بہار میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے معاملے پر راجیہ سبھا میں ایک بار پھر ہنگامہ آرائی دیکھنے کوملی جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردی گئی۔اس دوران سماوادی پارٹی رکن پارلیمان ڈمپل یادو کو لے کر مولانا ساجد رشادی کے قابل اعتراض بیان کے خلاف بی جے پی نے پارلیمنٹ کے مکر دوار پراحتجاج کیا۔
لوک سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ
آپریشن سندور پر لوک سبھا میں ایک طویل بحث شروع ہونے جا رہی ہے جس پر پورے ملک کی نظریں ہیں۔ تاہم ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن پارٹیاں نعرے بازی کرتی نظر آئیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ پچھلے ایک ہفتے سے آپ ایوان کی کارروائی میں خلل ڈال رہے تھے کیونکہ آپ آپریشن سندور پر بحث کرنا چاہتے تھے۔ اب جب آپریشن سندور پر بحث کے لیے ایوان میں اتفاق رائے ہے تو پھر ایوان کی کارروائی میں خلل کیوں ڈالا جا رہا ہے
ادھر،لوک سبھا میں آپریشن سندورپر بحث کے لیے حکومت کی جانب سے مقررین کی فہرست تیار ہے۔ اپوزیشن اس معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے بیان کا مطالبہ کرنے پراڑی ہے وہیں حکومت اپوزیشن کی حکمت عملی کوناکام کرنے کی تیاری کررکھی ہے۔وزیردفاع راجناتھ سنگھ کرینگے بحث کا آغاز
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ لوک سبھا میں آپریشن سندر پر بحث شروع کریں گے۔ اس کے بعد جے پانڈا بولیں گے، درمیان میں تیجسوی سوریا کا نام دیا گیا ہے، لیکن ابھی وقت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ جے شنکر شام 7:30 سے 8 بجے کے درمیان خطاب کرسکتے ہیں ۔
خبر ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ کل صبح بحث کا آغاز کر سکتے ہیں۔ ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ وزیراعظم مودی اس معاملے پر کب مداخلت کریں گے۔
کارروائی میں وقفے کے باوجود غزہ میں اسرائیل کی جارحیت جاری،60سے زیادہ فلسطینیوں کی موت،ٹرمپ نے کہاغزہ میں اب کیا ہوگا نہیں جانتا
غزہ کے چند علاقوں میں دس گھنٹوں کے لیے اسرائیل کی فوجی کارروائیاں روکنے کے فیصلے کے درمیان وہاں ہلاکتوں کے سلسلے میں کمی نہیں آئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آج صبح سے تا دم تحریر بارہ فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں ۔ الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق، غزہ کے نیٹزاریم راہ داری میں امداد کے متلاشیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہلاکتوں کی خبرہے۔تاہم ہلاکتوں کی تعداد کے متعلق کوئی اطلا ع نہیں ہے۔
ادھر، وسطی غزہ پر اسرائیلی حملے میں ایک خاتون جاں بحق ہوگئی۔الاقصیٰ شہداء اسپتال کا کہنا ہے کہ وسطی دیر البلاح کے علاقے الباسہ پر اسرائیلی حملے میں ایک فلسطینی خاتون جاں بحق اور متعددافراد زخمی ہوگئے ہیں۔اس سے قبل اتوار کے دن جب فوجی کاروائیوں میں تین مقامات پروقفے کا اعلان کیا گیا۔تب سے صرف اتوار کو ہی غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔خیال رہے کہ ،اسرائیل نے بعض علاقوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وقفے کے نفاذ کے باوجود غزہ پر بمباری جاری رکھی ہے۔اتوار کے روز ہوئی 63 ہلاکتوں میں 34 امداد کے متلاشی شامل تھے۔
اس دوران بھوک کی شدت سے مزید6 فلسطینیوں کی موت ہوئی ہے۔ان میں دو بچے بھی شامل ہیں ۔ اس طرح بھوک سے مرنے والوں کی تعداد 133ہوگئی ہے۔
اسرائیل نے امداد کے لیے پابندیاں نرم کیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں امدادی نقل و حرکت پر عائد کچھ پابندیاں نرم کیں ہیں ۔فلیچر کے مطابق ابتدائی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 100 سے زائد امدادی ٹرک غزہ میں داخلے کے لیے سرحدی گزرگاہوں پراکھٹا ہو چکے ہیں۔انھوں نےمانا کہ یہ پیش رفت ضرور ہے لیکن قحط اور صحت کی سنگین بحرانی صورتِ حال کو روکنے کے لیے بہت بڑی مقدار میں امدادکی ضرورت ہے۔
ٹرمپ نے کہامیں نہیں جانتا اب غزہ میں کیاہوگا
اے بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ صورتحال کو گڑبڑقراردیا۔انھوں نے مزید کہا کہ امدادی پابندیوں میں نرمی کے چند گھنٹے بعد اسرائیل کو غزہ پٹی میں اپنے اگلے اقدامات کے بارے میں فیصلہ کرنا پڑے گا۔صدر ٹرمپ نے اشارہ دیاکہ حماس نے جنگ سے تباہ حال غزہ پٹی میں جنگ بندی کے بدلے میں 50 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات پر اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد نہیں جانتا اب غزہ میں کیا ہوگا۔ٹرمپ نے یرغمالیوں کی رہائی کو ضروری قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حماس نے مذاکرات میں سخت مؤقف اپنایا جس سے صورتحال پیچیدہ ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ اب اسرائیل کو غزہ میں آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق فیصلہ خود کرنا ہوگا۔
لوک سبھامیں آج آپریشن سندورپر ہوگی بحث، وزیردفاع راجناتھ سنگھ کرینگے بحث کا آغاز
پارلیمنٹ میں آج آپریشن سندور کی گونج سنائی دے گی۔ لوک سبھا میں آپریشن سندورپر12 بجے لوک سبھا میں شروع ہوگی۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بحث کا آغاز کریں گے۔ وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی اس بحث میں حصہ لیں گے، جب کہ وزیر اعظم نریندر مودی دونوں ایوانوں میں ہونے والی بحث میں مداخلت کریں گے۔ لوک سبھا میں آپریشن سندور پر 16 گھنٹے بحث ہوگی۔
راجیہ سبھا میں بھی منگل 29 جولائی کو آپریشن سندور پر بحث ہوگی۔ اس بیچ ، اپوزیشن انڈیا اتحاد کے فلور لیڈر آج صبح 10 بجے ایک اسٹریٹجک میٹنگ کریں گے تاکہ اس معاملے پر مشترکہ حکمت عملی طے کی جاسکے۔لوک سبھا میں آج، بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) اور قومی جمہوری اتحاد
(NDA) کح جماعتیں اس آپریشن کی بھرپور حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ وی ڈی شرما کا کہنا ہے کہ دنیا نے دیکھا کہ ہماری فوج نے پی ایم مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں تاریخ رقم کی ہے، اور اس پر ایوان میں بحث ہوگی۔
مرکزی وزیر سکانت مجمدار نے آپریشن سندور کو تینوں فوج کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ایوانوں میں ہونے والی بحث سے ہم وطنوں کو اس کا گہرا ادراک حاصل ہوگا۔ بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر، نشی کانت دوبے اور ٹی ڈی پی کے لاو سری کرشنا دیورائیلو اور جی ایم ہریش بالیوگی جیسے علاقائی لیڈروں سے حکومت کی حمایت کی توقع ہے۔فوج کی ناردرن کمانڈ نے X پر ایک ویڈیو شیئر کیا ہے جس میں آپریشن سندور کی کامیابی کو دکھایا گیا ہے۔یہ آپریشن کتنا مؤثر تھا اس میں یہ بتایا گیا ہے۔ یہ آپریشن 7 مئی 2025 کو شروع ہوا تھا جس کا مقصد 22 اپریل کو پہلگام دہشت گرد حملے کا بدلہ لینا اور اس
میں ملوث دہشت گردوں کے آقاؤں کو سبق سکھانا تھا۔ ہندوستانی فوج نے اس آپریشن کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا ۔ پاکستان اور پی او کے میں واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔22 منٹ میں فوج نے س آپریشن کو مکمل کیا تھا۔