سعودی عرب سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں عقیدت واحترام سے منائی جارہی ہے عیدالاضحیٰ ، نمازعید کے بعدقربانی کا سلسلہ جاری
عالم عرب میں آج عیدالاضحیٰ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ سب سے بڑے اجتماعات مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں ہوئے ۔ جہاں لاکھوں کی تعداد میں موجود حجاج اور دیگر افراد نے نماز عید ادا کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، سعودی عرب کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی چھوٹی بڑی مساجد میں بھی نماز عید کے اجتماعات ہوئے، جن میں سعودی شہریوں کے علاوہ لاکھوں غیر ملکی مسلمان بھی شریک ہوئے۔ عید کے خطبے میں عالم اسلام میں اتحاد، قربانی، ایثار، انسانیت اور مظلوموں کے لیے دعا پر زور دیا گیا۔
عید کی نماز کے اجتماعات کے بعد سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے حجاج قربانی کا فریضہ ادا کیا اور حلق کروایا۔ مکہ مکرمہ کے باہر واقع وادی منیٰ میں لاکھوں حجاج کرام نے جمعہ کی صبح رمی جمرات ادا کی جس کے دوران شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔اس سے قبل 5 جون یعنی جمعرات کو حجاج نے حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کیا۔ خطبہ حج کے بعد حجاج نے ظہر اور عصر کی نماز مسجد نمرہ میں ایک ساتھ ادا کی اور رات مزدلفہ میں گزاری، حج کے موقع پر خطبہ حج جسے خطبہ عرفات بھی کہا جاتا ہے پوری اسلامی دنیا کے لیے اہم پیغام سمجھا جاتا ہے۔
مسجد الحرام کے امام شیخ ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ نے خطبۂ حج دیتے ہوئے دنیا کے 100 سے زیادہ ملکوں سے آئے ہوئے عازمین حج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی مسلمانوں کے لیے خصوصی طور پر دعا کریں۔سعودی عرب کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، ترکی، شام، اردن، عمان اور عراق میں بھی آج ہی عید الاضحیٰ منائی جا رہی ہے جبکہ برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں مقیم مسلمان بھی آج ہی کے دن عیدِ قربان منا رہے ہیں۔
جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ جلد ملے گا، سی ایم عمر عبداللہ کو یقین
کٹرہ۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو ریل پروجیکٹوں میں اپنے کردار کو ‘گڈ لک’ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “وزیر اعظم صاحب، اسے قسمت کہیے، مقدر کہیے، درمیان میں جب بھی کوئی بڑا ریل پروگرام ہوا، کہیں نہ کہیں یہ میری خوش قسمتی رہی کہ مجھے ان سے جڑنے کا موقع ملا، جب پہلی بار اننت ناگ ریلوے اسٹیشن کا افتتاح ہوا، جب بانہال ریلوے ٹنل کھلی ، اس میں شامل تھا۔ اور شاید میری پہلی بار حکومت کا آخری پروگرام ٹھیک اسی جگہ پر 2014 میں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا، “اور یہ اتفاق کی بات ہے کہ وزیر اعظم صاحب، اس پروگرام میں جو چار لوگ موجود تھے وہ آج بھی آپ کے ساتھ اس اسٹیج پر بیٹھے ہیں، آپ اس وقت پہلی بار وزیر اعظم بنے تھے، آپ انتخابات کے فوراً بعد یہاں آئے تھے اور آپ نے یہاں کٹرا ریلوے اسٹیشن کا افتتاح کیا تھا۔اس کے بعد آپ مسلسل تین بار الیکشن جیت کر اس ملک کے وزیراعظم رہے۔ اس پروگرام میں آپ کے ساتھ وزیر پی ایم او ڈاکٹر جتیندر سنگھ صاحب بھی موجود تھے۔ یہاں تک کہ ہمارے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا صاحب بھی اس وقت ریلوے کی وزارت میں وزیر مملکت کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے، جب یہاں کٹرا ریلوے اسٹیشن کا افتتاح ہوا تھا۔ اور میں خود وزیر اعلی کے طور پر وہاں موجود تھا۔کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ ملے گا
عمر عبداللہ نے کہا، “اگر آپ دیکھیں، منوج سنہا صاحب کو ترقی ملی، اگر آپ میری بات پر یقین کریں تو میں تھوڑا سا تنزلی کا شکار ہوا، میں ایک ریاست کا وزیر اعلی تھا، اب میں ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے کا وزیر اعلی ہوں، لیکن میں مان کر چل رہاہوں کہ اسے درست ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ اور آپ ہی کے ہاتھوں جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ حاصل ہوگا۔
یوکرین کے آپریشن اسپائیڈر پر پیوٹن کا انتقامی حملہ! کیف پر میزائلوں کی بارش، 3 ہلاک، 20 زخمی
کیف۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے ایک بار پھر خوفناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ‘آپریشن اسپائیڈر ویب’ کا بدلہ لینے کے عزم کے بعد روس نے کیف سمیت یوکرین کے کئی شہروں پر میزائلوں اور ڈرونز سے تباہی مچادی۔ جمعے کی رات ہونے والا حملہ اتنا زوردار تھا کہ دارالحکومت کیف میں رات بھر دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔
روس کے حملے میں تین فائر فائٹرز سمیت چار افراد ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہو گئے۔ حملوں نے کیف کی میٹرو سروس کو روک دیا اور درجنوں رہائشی عمارتوں میں آگ لگ گئی۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اتحادی ممالک سے روس پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ‘اگر دنیا نے فیصلہ کن اقدامات نہ کیے تو وہ اس جنگ کی ذمہ دار بھی ہوگی۔’ روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے ‘یوکرین کی دہشت گردانہ کارروائیوں’ کے جواب میں کیے گئے۔آپ کو بتاتے چلیں کہ چند روز قبل یوکرین نے آپریشن اسپائیڈر ویب کے تحت 41 روسی بمبار طیاروں کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔ روس کے تازہ حملوں میں کیف کے ضلع سولومینسکی میں ایک رہائشی عمارت بری طرح تباہ ہو گئی جب کہ ڈارنٹسکی اور مغربی اضلاع میں بھی آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میٹرو اسٹیشنوں کے درمیان چلنے والی ٹرین بھی حملے کی زد میں آئی۔دوسرے شہروں کی حالت بھی خراب تھی۔ Ternopil میں 10 افراد زخمی ہوئے جن میں پانچ ایمرجنسی ورکرز بھی شامل ہیں۔ پولٹاوا اور Khmelnitsky میں عمارتوں اور کیفے پر بھی حملے کیے گئے۔ Lviv میں فضائی دفاعی نظام نے تین روسی میزائلوں کو مار گرایا۔ عالمی برادری سے ردعمل کا مطالبہ کرتے ہوئے، یوکرین کے انسانی حقوق کمشنر نے روس کو “دہشت گرد ریاست” قرار دیتے ہوئے ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کیا۔