ہندوستان کے براہموس حملوں نے پاکستان کا منصوبہ ناکام بنا دیا، شہباز شریف کا اعتراف
پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے اعتراف کیا ہے کہ ہندوستان نے 9 اور 10 مئی کی درمیانی شب کو براہموس میزائلوں کے ذریعے حملہ کر کے پاکستان کے منصوبہ بند فوجی حملے کو ناکام بنا دیا۔ یہ انکشاف انہوں نے آذربائیجان کے شہر لاچن میں ہونے والے پاکستان-ترکی-آذربائیجان سہ فریقی اجلاس کے دوران کیا۔

شہباز شریف کے مطابق پاکستانی فوج، جس کی قیادت چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے تھے، نے 10 مئی کی صبح فجر کی نماز کے بعد 4:30 بجے ہندوستان پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم، اس سے قبل ہی ہندوستان نے مختلف پاکستانی فوجی ٹھکانوں پر براہموس میزائلوں سے حملہ کر دیا۔
شہبازشریف نے کہا:"9اور 10 مئی کی درمیانی شب کو ہم نے ہندوستانی جارحیت کا جواب نپی تلی حکمت عملی کے تحت دینے کا فیصلہ کیا۔ ہماری مسلح افواج صبح 4:30 بجے فجرکی نماز کے بعد کارروائی کے لیے تیار تھیں، لیکن اس سے پہلے ہی ہندوستان نے ایک بار پھر براہموس میزائلوں سے حملہ کر دیا۔ ان حملوں میں راولپنڈی میں نور خان ایئر بیس اور چکوال بیس کو تباہ کر دیا گیا۔"آپریشن سندور
بھارت نے پاہلگام حملے میں 26 شہریوں کی ہلاکت کے بعد “آپریشن سندور” کے تحت پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں پر درست نشانہ لے کر حملے کیے۔ ان حملوں میں 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے 10 قریبی رشتہ دار اور 4 اہم ساتھی بھی شامل تھے۔
کارروائی میں نشانہ بنائے گئے مقامات میں شامل ہیں:
جیش کا مرکز سبحان اللہ (بہاولپور)
تحرہ کالان میں سرجل کیمپ
کوٹلی میں مرکز عباس
مظفرآباد میں سیدنا بلال کیمپ
لشکر طیبہ کا مرکز طیبہ (مریدکے)
مرکز اہل حدیث (برنالہ)
شواعی نالہ کیمپ (مظفرآباد)
حزب المجاہدین کے مراکز راحیل شہید (کوٹلی) اور محمودہ جویہ (سیالکوٹ)
پاکستان کی جانب سے ہندوستان پر ڈرون حملے کیے گئے جنہیں ہندوستانی فضائی دفاعی نظام، بشمول ایس-400 اور آکاش، نے ناکام بنا دیا۔ ہندوستان نے بھی جوابی کارروائی میں پاکستان کے مختلف شہروں پر ڈرونز حملے کئے۔
10 مئی کو پاکستان کی جانب سے ڈی جی ایم او نے دہلی میں اپنے ہم منصب سے رابطہ کر کے جنگ بندی کی اپیل کی جس کے بعد فائر بندی کا اعلان کیا گیا۔
مشن بہار پر پی ایم مودی، پٹنہ میں میگا روڈ شو،اسمبلی چناؤ کے حوالے سے بی جے پی دفتر میں کی میٹنگ
آپریشن سندور کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی بہار کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ اس موقع پر پی ایم مودی نے پٹنہ میں بی جے پی دفتر میں اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے بہار بی جے پی کے سرکردہ لیڈروں کے ساتھ اہم میٹنگ کی۔ پی ایم مودی کے اس دورے کو مشن بہار2025 کے لئے کافی اہم مانا جارہا ہے۔
اس سے پہلے پی ایم مودی نے پٹنہ ائیرپورٹ سے بہار بی جے پی کے دفتر تک لگ بھگ پانچ کلومیٹر کا لمبا روڈ شو کیا۔ پی ایم مودی کا یہ روڈ شو تقریباً ایک گھنٹے تک چلا۔ اس بار پی ایم مودی کالے رنگ کی رینج روور کار میں بیٹھ کر روڈ شو کر رہے تھے۔ اس دوران پی ایم مودی نے گاڑی کے اندر سے ہاتھ ہلا کر لوگوں کا استقبال کیا۔ اس دوران جہاں جہاں سے پی ایم مودی کا قافلہ گزرا، پی ایم مودی کے قافلے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔اس سے پہلے پی ایم مودی نے پٹنہ ائیرپورٹ کی نئی ٹرمینل عمارت کا افتتاح کیا۔ 30 مئی کو پی ایم مودی روہتاس ضلع کے بکرم گنج میں ایک جلسہ عام سے خطاب کریں گے اور کروڑوں روپے کے پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔
600 دن کی جنگ: ملبے اور مزاحمت کے درمیان غزہ کی نہ ختم ہونے والی اذیت
اسرائیل-غزہ جنگ 600 ویں دن میں داخل ہوچکی ہے، انسانی المیہ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اب تک 54,000 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ سفارت کاری اور بقا دونوں ہی نازک دھاگے سے بندھے ہیں۔ایک سیاہ سنگ میل جو تباہی، نقل مکانی اور انسانی کرب کی ایک نہ رکنے والی کہانی سناتا ہے۔ اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والا یہ تنازعہ اب خطے کی جدید تاریخ کی سب سے ہلاکت خیز اور طویل جنگوں میں سے ایک بن چکا ہے۔
غزہ کے کئی علاقے جن میں خان یونس اور رفح شامل ہیں، مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ لوگ کھنڈرات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں صاف پانی، خوراک اور طبی امداد تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ رفح کی بے گھر رہائشی فاطمہ عبد العال کہتی ہیں
کہ مجھے ہیاں 600 دن 600 سال جیسے لگتے ہیں۔ میں نے 30 سال لگا کر اپنے بچوں کے لیے گھر بنایا تھا اب کچھ بھی باقی نہیں۔"
زندگی کی بنیادی ضروریات بھی اب نایاب ہو چکی ہیں۔ ایک اور متاثرہ شہری مجد السلطانی دو کلومیٹر پیدل چل کر صرف دو پانی کے کنٹینر لانے پر مجبور ہیں۔ وہ کہتے ہیں: “پانی بھی اب ایک لکثری بن چکا ہے۔” بچے ٹوٹی چھتوں پر کھیلتے ہیں، ان کی معصومیت مٹی اور صدموں میں دفن ہو چکی ہے۔