مودی حکومت کرائے گی ذات پر مبنی مردم شماری، کابینہ کی میٹنگ میں ہوا اہم فیصلہ
Caste Census News : مرکزی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کرائے گی اور یہ اگلی مردم شماری میں ہی ہو گا۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے بدھ کو کابینہ کی بریفنگ میں یہ معلومات فراہم کیں ۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ کانگریس کی حکومتوں نے ذات پر مبنی مردم شماری کی مخالفت کی ہے، 1947 سے ذات پر مبنی مردم شماری نہیں کرائی گئی۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ کانگریس نے یو پی اے حکومت کے دوران ذات پر مبنی مردم شماری کی بجائے ذات پر مبنی سروے کرایا۔ کئی ریاستوں نے سیاسی نقطہ نظر سے ذات پر مبنی سروے کرائے ہیں۔ ذات پر مبنی مردم شماری کو اصل مردم شماری میں ہی شامل کیا جانا چاہئے۔ وزیراعظم مودی کی قیادت میں سیاسی امور کی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلی مردم شماری میں ذات پر مبنی مردم شماری کو بھی شامل کیا جائے گا ۔کابینہ اجلاس میں کیا فیصلے کیے گئے؟
اشونی ویشنو نے کہا کہ کانگریس کی حکومتوں نے ذات پات پر مبنی مردم شماری کی مخالفت کی ہے، 1947 سے ذات پات کی مردم شماری نہیں ہوئی ہے۔ وزیراعظم مودی کی قیادت میں سیاسی امور کی کابینہ کمیٹی نے آئندہ مردم شماری میں ذات پات کی مردم شماری کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مرکزی کابینہ کے فیصلوں پر بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا، ‘26-2025 کے چینی سیزن کے لیے گنے کی مناسب اور منافع بخش قیمت 355 روپے فی کوئنٹل مقرر کی گئی ہے۔ یہ بینچ مارک قیمت ہے، جس کے نیچے اسے خریدا نہیں جا سکتا۔مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے اعلان کیا کہ کابینہ نے شیلانگ - سلچر 166.8 کلومیٹر طویل چار لین کاریڈور ہائی وے کو منظوری دے دی ہے جو میگھالیہ اور آسام کو جوڑتی ہے جس پر 22,864 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔
پہلگام حملہ میں بڑا انکشاف، جانچ میں این آئی اے کو مل گئے اہم سراغ، ریڈار پر یہ 15 اوور گراونڈ ورکرز
جموں و کشمیر کے پہلگام میں 22 اپریل کو ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 26 سیاح کی موت ہوگئی تھی ۔ اس کے بعد سے ہندوستانی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس واقعے کی جانچ شروع کر دی ہے اور اس واقعے کے پیچھے کے مجرموں کو تلاش کررہی ہے۔ پہلگام حملے کی جانچ این آئی اے یعنی قومی تحقیقاتی ایجنسی کے سپرد کی جاچکی ہے ۔ تحقیقات کے دوران این آئی اے کو کئی اہم سراغ ملے ہیں، جن سے پہلگام حملے کا معمہ حل ہو سکتا ہے اور پاکستان کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔ این آئی اے نے 2000 سے زیادہ اوور گراونڈ ورکرس سے پوچھ گچھ کی ہے۔ ان میں سے کم از کم 15 او جی ڈبلیوز این آئی اے کے ریڈار پر ہیں۔
ذرائع کی مانیں تو ان 15 اوور گراؤنڈ ورکرز کی سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے سخت پوچھ گچھ کے بعد شناخت کی گئی ہے۔ پہلگام حملے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس حملے میں پاکستان میں مقیم دہشت گردوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ وانٹیڈ دہشت گردوں میں سے ایک لشکر طیبہ کا کمانڈر فاروق احمد ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پاکستان کے قبضہ والے کشمیر (پی او کے) سے کام کر رہا ہے۔ جموں و کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں اس کا گھر ان دس مکانات میں شامل تھا، جنہیں سیکورٹی فورسز نے گزشتہ ہفتے مسمار کردیا تھا۔انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد فاروق نے پاکستانی دہشت گردوں کی دراندازی میں مدد کی اور انہیں اپنے اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیو) نیٹ ورک سے ملوایا۔ پہلگام حملہ آوروں کی مدد کرنے والوں کی شناخت معلوم کرنے کے لیے ان او جی ڈبلیوز سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ اس دوران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستانی فوج مسلسل چھ دنوں سے لائن آف کنٹرول (LOC) پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ حالانکہ ہندوستانی فوج نے بھی منہ توڑ جواب دیا ہے۔
این آئی اے نے سنبھالا مورچہ
تاہم پہلگام حملے کے بعد سیکورٹی فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور تحقیقاتی ٹیمیں کشمیر میں مسلسل آپریشن کر رہی ہیں۔ لوگوں کو بڑے پیمانے پر حراست میں لیا جا رہا ہے۔ سیکورٹی فورسز نے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کی مدد کی تھی۔ این آئی اے یعنی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے باضابطہ طور پر جموں و کشمیر پولیس سے تفتیش اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے 10 مکانات مسمار کر دیے گئے۔ مقامی حکومت نے جموں و کشمیر میں 40 سے زیادہ سیاحتی مقامات کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان مقامات کے سیکورٹی آڈٹ کا جائزہ لیا جا سکے۔3 اوور گراؤنڈ ورکرز گرفتار
دریں اثنا، پولیس نے جموں و کشمیر کے بانڈی پورہ میں دہشت گردوں کے تین اوور گراؤنڈ ورکرز کو گرفتار کیا ہے کیونکہ وادی میں دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پہلگام حملے کا ماسٹر مائنڈ ہاشم موسی کشمیر میں چھپا ہوا ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔
وزیراعظم اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا رابطہ، ’خودمختاری کا دفاع کریں گے‘
وزیراعظم شہبازشریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا کی طرف سے کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا پوری طاقت سے دفاع کرے گا۔
منگل کو وزیراعظم کے دفتر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے کہا کہ وہ انڈیا کو ذمہ داری سے کام لینے اور تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بہت سی قربانیاں دی ہیں اور وہ دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر میں مذمت کرتا ہے۔پاکستان کے خلاف انڈیا کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان کو پہلگام واقعہ سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کیا اور واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔
انہوں نے خاص طور پر سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انڈیا کے غیرقانونی و غیر ذمہ دارانہ اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس کا پانی 24 کروڑ لوگوں کی لائف لائن ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
وزیراعظم نے بین الاقوامی برادری کے ذمہ دار رکن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا اس اہم وقت میں خطے میں کسی قسم کی کشیدگی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
انتونیو گوتیرس نے انڈین وزیر خارجہ جے شنکر سے بھی رابطہ کیا اور دونوں فریقین سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی۔
سیکریٹری جنرل کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’انتونیو گوتیرس نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتے تناؤ پر تشویش کا اظہار کیا اور تصادم سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا جس کے بھیانک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کشیدگی کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کی۔‘