Sunday, 1 October 2023

بے لگام سانڈ

شکیل رشید ( ایڈیٹر ، ممبئی اردو نیوز )
’’ بھارت تقسیم اور نفرت کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابی فوائد کے لیے پھیلائی جانے والی نفرت اب اس قدر گہرائی میں داخل ہو چکی ہے کہ اسے کوئی نہیں روک سکتا ۔ نہ وزیر اعظم نریندر مودی ، نہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ، نہ ہی کسی مذہب کی بنیاد پرست تنظیمیں ، اور نہ ہی وہ پروپیگنڈہ کرنے والے جو ہندوستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔‘‘ یہ ، سینیئر جرنلسٹ ویر سنگھوی کے ایک مضمون کی ابتدائی سطریں ہیں ۔ اگر ان سطروں کے حوالے سے ادھر چند روز کی کچھ خبروں پر نظر ڈالی جائے ، تو حالات واقعی اس قدر دگرگوں نظر آتے ہیں کہ ، ایک امید پرست بھی ہمت ہار سکتا ہے ۔ بہرائچ سے ایک عجیب و غریب خبر آئی ہے ؛ ’ گرو کرپا ڈیوائن گریس پبلک اسکول ‘ نام کے ایک پرائیویٹ اسکول میں ششماہی امتحانات چل رہے ہیں ۔ اسکول کے نویں جماعت کے ہندی کے امتحانی پرچہ میں ’ ہندوستانی مسلم دہشت گردی ‘ لکھا گیا ہے ۔ اس پرچہ کے منظر عام پر آنے کے بعد مسلم کمیونٹی میں ، فطری طور پر غم و غصہ پھیل گیا ہے ۔ اسکول کا سوالیہ پرچہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی موضوع بحث بن گیا ہے ۔ حالانکہ اس معاملے کی تفتیش کا حکم دے دیا گیا ہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کا پرچہ کسی نے بنانے کی ہمت کیسے کی ؟ کیا جس نے پرچہ بنایا اُسے یہ نہیں پتہ کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی ۲۰ فیصد ہے ، اور مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں ؟ دراصل ایک بیانیہ جو چلا دیا گیا ہے ، پھیلا دیا گیا ہے اور عام لوگوں کے دماغوں میں ٹھونس دیا گیا ہے ، اس کا اثر کیا جہلا اور کیا تعلیم یافتہ ، سب کے ذہنوں پر اس طرح سے مرتب ہو گیا ہے کہ ’ سچ ‘ جانتے ہوئے بھی وہ ’ جھوٹ ‘ کو ’ سچ ‘ سمجھنے پر مجبور ہیں ۔ اور یہی مجبوری ان سے ایسے نفرت بھرے امتحانی پرچے مرتب کراتی ہے ۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب سوالیہ پرچوں میں مسلم مخالف سوالات پوچھے گیے ہیں ، پہلے بھی کئی بار یہ ہو چکا ہے ، اور اگر اس کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں بھی ایسے سوالیہ پرچے آتے رہیں گے ۔ لیکن کیا واقعی پرچہ بنانے والے / والوں کے خلاف سخت کارروائی ممکن ہے ؟ اترپردیش ہی میں مظفرنگر میں ایک پرائیوٹ اسکول میں مذہبی عصبیت کا ایک گھناؤنا مظاہرہ لوگ دیکھ چکے ہیں ، لدھیانہ کے اسکول کی خبر بھی لوگوں میں پھیل چکی ہے ، انتظامیہ نے ایف آئی آر بھی درج کی ہے ، لیکن جیسا کہ ویر سنھگوی نے لکھا ہے اب نفرت کی جڑ اس قدر گہری ہوچکی ہے کہ وہ افراد اور تنظیمیں بھی ، جو نفرت کے پرچار میں پیش پیش رہی ہیں ، یا یہ کہہ لیں کہ جنہوں نے انتخابی فوائد کے لیے نفرت کو پروان چڑھایا ہے ، وہ بھی اسے ختم کرنا چاہیں تو ختم نہیں کر سکتیں ۔ پی ایم نریندر مودی اور ان کے رفقا اور سنگھ پریوار نے جو ایک ’ فرنکسٹائن ‘ بنایا ہے ، وہ اب بے لگام ہو چکا ہے ، اور کسی کے روکے اب رکنے والا نہیں ہے ۔ ایک خبر مزید دیکھیں ؛ میرٹھ میں ایک نوجوان کو صرف اس لیے بُری طرح سے مارا پیٹا گیا کہ اُس نے سَر پر ٹوپی پہن رکھی تھی ! اگر اس نوجوان کی بہن نے ہمت نہ دکھائی ہوتی تو وہ نوجوان کی ماب لنچنگ ہو جاتی ۔ یہ ماب لنچنگ کی لہر یا وبا کوئی اچانک نہیں آئی ہے ، اسے پیدا ہونے دیا گیا ہے ۔ پونے سے لے کر دادری تک ماب لنچنگ میں ملوث لوگوں کو قانون کی گرفت سے بچایا گیا ہے ، پروان چڑھایا گیا ہے ، اور انتخابی فائدے کے لیے انہیں کھلی ہوئی چھوٹ دی گئی ہے ۔ اگر ان کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہوتیں تو آج تشدد کے واقعات نہ ہو رہے ہوتے ۔ لیکن اب درندوں کے منھ کو خون لگ چکا ہے ، لہذا وہ اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے اپنے شکار تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ کسی نے ریلوے پلیٹ فارم یا ریل کے ڈبہ میں نماز پڑھ لی ، اور یہ ٹوٹ پڑے ، کوئی دودھ کے لیے گائے خرید کر لے جاتا نظر آیا کہ انہوں نے ہلہ بول دیا ۔ کسی نے ’ جئے شری رام ‘ کا نعرہ لگانے سے انکار کر دیا کہ ان کا پارہ چڑھ گیا ۔ ایک بھیڑ ہے جو اسی طرح آزاد ، سب کو تباہ اور برباد کرنے کے لیے چھوڑ دی گئی ہے ، جیسے کہ سانڈ آزاد چھوڑے جاتے ہیں ۔ اب یہ عناصر بےلگام سانڈوں کی طرح گھوم رہے ہیں ، ان کے دلوں میں نفرت بھری ہوئی ہے ، اور یہ کسی کو بھی ، مودی کو بھی ، خاطر میں لانے کو تیار نہیں ہیں ۔ ایک دن یہ سب کو روند دیں گے ، انہیں بھی جو ان عناصر کو اپنا سمجھتے ہیں ، اور ان سیاست دانوں کو بھی جو خود کو ان کا آقا مانتے ہیں ۔ انتخابی بازی پلٹنے کے قریب ہے ، جیسی کرنی ویسی بھرنی کا نظارہ سامنے آنا ہی چاہتا ہے ۔
_____
عالمی افسانہ میلہ. 2023ء
افسانہ نمبر۔14
"محبت کْل ہے"
افسانہ نگار:ثمینہ سید۔لاھور پاکستان ۔
 تہی دست اور تہی دامن نظر آنے والا ضروری نہیں کہ تہی ہی ہو۔آنکھ سے دیکھا اور کان سے سنا بھی جھوٹ ہو سکتا ہے۔عمر کا ایک تہائی گزار کر گلی کے تھڑے پہ اداس بیٹھے شخص کو تہی دامن نہ سمجھو۔یہ سمجھنا بھی غلط فہمی ہوسکتی ہے کہ اس کا معاشرے میں مقام یہی ہے جو نظر آرہا ہے۔۔۔۔۔نہیں نہیں یہ ضروری نہیں ہے۔۔۔۔ہوسکتا ہے وہ اپنی یاد سے منسلک کسی گلی میں آ نکلا ہواور خود کو یاد کے سپرد کرکے بیٹھ گیا ہو۔۔۔دانستہ ۔۔۔ 
کبھی کبھی اس کی آنکھوں میں نشہ سا ہلکورے لیتا ہے۔ لال ڈورے تن جاتے ہیں۔ یہ خمار کسی سہانی یاد کا ہے جو اسے نَکو نک بھر دیتا ہے تو وہ شانت ہوجاتا ہے۔ درد بھرے ان خالی دنوں کا ملال زائل ہوجاتا ہے۔ شام ڈھلے تھڑے سے اٹھ کر گھر جاتے سمے وہ ویسا اداس نہیں رہتا، یاد کی چنچل پائل نے اس کے اندر خوب رونق لگا دی ہے۔ اب کچھ دن تو وہ اسی تال پہ محو رقص رہے گا۔ اپنے آپ سے اوراپنے ماحول کی تلخی سے دور، صرف اس یاد کی یاد میں گم۔ یاد ساون رت کی طرح گردونواح کو جل تھل کردیتی ہے۔ ایک دم ٹھنڈا ٹھار۔۔۔۔۔۔۔ یاد میں ایک مانوس سی خوشبو تھی جس نے اس کے پورے وجود کو لپیٹا مار لیا تھا۔اس تعفن زدہ گردوپیش سے اچک لیا تھا۔ 

جمال ترمذی ہمہ وقت محبت کے احساس میں گھرا رہتا اور ہزار بار شکر کرتا کہ یہ قیمتی احساس تو اس کے پاس ہے ورنہ زندگی میں کیا ہوتا۔۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔ وہ آئینے میں خود کو دیکھ کر مونچھیں درست کرنے لگا۔ تبھی کوئی اور چہرہ بھی آئینے میں ابھر آیا۔
 
" ہم سے زیادہ عقلمند تو ہمارے بچے ہیں جمال۔۔۔۔ زمانہ شناس زندگی کے فلسفے کو چند ہی سالوں میں سمجھ گئے، ایک ہم ہیں جو سمجھ ہی نہیں سکے کہ زندگی آگے کی طرف بڑھتی ہے۔ اورررر ماں باپ کو بچوں کے احساسات کا ان کے معاشرے میں مقام کا خیال رکھنا چاہیے جبکہ۔۔۔۔ بچوں کو اپنی زندگی میں آنے والے جیون ساتھی۔۔۔۔۔ جو ابھی ابھی ان کی زندگی میں آیا اس کا خیال رکھنا چاہیے نہ کہ والدین کا۔۔ " وہ ہتھیلیوں سے گالوں پہ پھسلتے آنسو صاف کرتی جاتی آنسو پھر بھگوتے جاتے۔
" تو ہمارا خیال کون رکھے گا۔۔۔۔ میرا خیال؟ تم تو مرد ہو ناں تمہارا تو ہر حکم مانیں گے تمہارے بیوی بچے۔۔۔۔۔۔ لیکن میں "ایک سسکی سارے ماحول میں سرایت کرنے لگی۔ تو جمال نے اس کے کانپتے ہاتھ اپنے گرم ہاتھوں میں لے لیے۔
" میں رکھتا تو ہوں تمہارا خیال، ہر وقت۔۔۔۔ ہر لمحہ " وہ اپنے ہاتھ چھڑا کر ذرا سی دور کھسکی
" تم میرے خیال سے اپنے آپ کو خوش رکھتے ہو اور مجھے بھی اس سے کسی قدر خوشی ملتی ہے لیکن میں " اس خیال " کی بات نہیں کر رہی جمال۔ "

وہ جانتا تھا وہ کس خیال کی بات کررہی ہے لیکن انجان بننا اس کی بھی مجبوری تھی۔ کیسے کہہ دیتا کہ میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں۔ ہر طرح کے حالات میں، کیسے کہہ دیتا کہ میں تمہیں دنیا سے چرا کر اپنے دل کے نہاں خانوں میں چھپا لینا چاہتا ہوں۔۔۔۔ جہاں اس دنیا کی روک ٹوک، رسم و رواج، اصول قائدے نہ ہوں۔۔۔ بس تم میری پناہ میں رہو۔۔ اور کوئی تمہیں دکھ نہ دے۔۔ ۔۔ تمہارے اپنے بھی نہیں، میں کسی کو بھی تم تک رسائی نہیں دینا چاہتا۔۔۔کیونکہ تم نے مجھے وہ محبت دی ہے جس نے مجھے سیر کردیا ہے۔۔۔تم میری طلب کی تشفی ہو۔ ۔ لیکن بولا تو صرف اتنا
" تمہیں میری محبت کافی نہیں لگتی یار؟ میں صرف تمہیں سوچتا ہوں، صرف تمہیں چاہتا ہوں۔۔۔ اور یہ سارے حالات تو ایسے ہی تھے جب ہم ملے تھے، ہم ان سارے رشتوں کی بندش میں تھے پہلے سے۔۔۔ تمہیں بھی سب پتہ تھا ناں، میں نے تمہیں کوئی دھوکا تو نہیں دیا۔۔۔"
جمال نے یہ جملے سو سے زیادہ بار بولے ہوں گے اور فرحین نے اس سے دوگنی بار سنے تھے کیونکہ وہ اس کی ہر بات کی بازگشت میں جیتی تھی۔پہلے پہل تو کہتی بھی تھی

 " زندگی کی ترتیب میں اگر ہم مل ہی گئے تو تم مجھے اپنی زندگی میں شامل کر لو، بہت سے لوگ ایسا بھی تو کرتے ہیں کوئی قیامت نہیں ٹوٹتی۔۔۔۔"

اس پر جمال اس کے اور قریب ہو جاتا۔ 

" یقین کرو میاں بیوی کا رشتہ بہت ہی فضول ہے، ساری محبت۔۔ سارا لحاظ ختم ہوجاتا ہے۔ ایسی لطافت ایسی کشش نہیں رہتی۔ جیسی ہم اتنے سالوں بعد بھی محسوس کررہے ہیں۔۔۔۔ ایسے جیسے پہلی بار مل رہے ہوں، دھڑکن سنو اور کہو۔۔۔ میں جھوٹ کہہ رہا ہوں؟۔۔۔ کہتے ہیں کچی عمر کی محبت ہمیشہ لو دیتی ہے لیکن یہ۔۔۔۔ اس عمر کی محبت تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دلی اور ذہنی سکون ہے۔ "

وہ سر جھکا لیتی۔۔۔ آنکھیں بھر آتیں، بے بسی کی شدت سے اٹھ کر ٹہلنے لگتی۔ اور پھر بات بدل جاتی۔ 

جمال کا چہرہ اشکوں سے تر ہوگیا اس نے اپنے وجود کو آئینے میں ڈوبتے دیکھا۔ لیکن اسی پل اپنی بیٹی کی آواز پر اسے ابھرنا پڑا اس نے بساط سمیٹی اور کمرے سے نکل آیا۔

" کبھی کبھی ہم شعروں کا سہارا لے کر اپنی داستانِ دل بیان کرتے ہیں اور کبھی کبھی ہمارا اپنا ہی کوئی شعر ہماری نئی تشکیل، نیا جنم کر دیتا ہے ہم اس کی کیفیت میں ڈھل جاتے ہیں۔ شعر ہمیں اگل دیتا ہے۔۔۔ بس اتنی سی ہماری اوقات ہے، ہم لفظوں کے کھلاڑی اپنے ہی لفظوں سے مات کھا جاتے ہیں۔ "

فرحین آغا نے یہ سب کہتے ہوئے اپنے لہجے کو بمشکل ہموار کیا۔ آنسوؤں کی نمی اب اس کی راہ میں حائل نہیں ہوتی تھی۔ انٹرویو کرنے والی لڑکی نے شوخ لہجے میں پوچھا۔ 

" آپ کیا سمجھتی ہیں محبت ہی ہے جو کسی بھی عام انسان کو خاص بنادیتی ہے اور وہ شعر کہنے لگتا ہے، کہانیاں لکھنے لگتا ہے۔؟ "

فرحین نے کچھ پل سوچا، حسبِ عادت لمبی سانس کھینچی جس میں وہ ساری توڑ پھوڑ اپنے اندر اتار لیتی تھی۔ 

" ہمممم ایسا ہی ہے۔۔۔ محبت بہت منہ زور ہوتی ہے اور فطری بھی، وحی کی صورت در دل پر اترتی ہے، بغیر اجازت ہماری پوری ہستی کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔اس کے اترنے کا کوئی وقت یا عمر بھی مقرر نہیں۔۔۔ ہاں خاص بھی بنا دیتی ہے، ہم ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کرتے ہیں اپنے آپ کو۔۔۔ لیکن جتنی بھی طاقتور ہو۔۔۔۔۔۔ہار جاتی ہے۔

آپ ملتے یا پھر جدا ہوتے
مجھے دونوں طرح خسارا تھا"

 فرحین نے مسکرا کر شعر پڑھا اور بولی "یہ خسارے کا ہی سودا ہے۔ "

" آپ کا مطلب ہے کہ محبت مر جاتی ہے اور کیا آپ سمجھتی ہیں کہ محبت بار بار ہوتی ہے؟"

سوال پوچھ کر لڑکی فرحین آغا کو غور سے دیکھنے لگی۔۔۔ کیمرے نے فرحین کی آنکھ کے کونے پر رکا اشک دکھایا، وہ سنبھلی پھر بولی

" نہیں محبت کبھی مرتی نہیں۔۔۔۔ میرے مطابق تو بار بار بھی ان کو ہوتی ہے جو محبت کے ساگر میں پوری طرح نہیں بھیگتے جو سیر چشم نہیں ہوتے۔ یا پھر جو اپنی محبت کو اپنے اندر مرنے دیتے ہیں، دفن کر کے آگے بڑھتے ہوں گے۔۔۔۔۔۔یقیناً۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ محبت لافانی جذبہ ہے۔۔۔ شکر گزار ہوں کہ محبت شناس ہوں،میرے خیال میں اگر محبت ہارتی ہے تو صرف رشتوں کے ہاتھوں ہارتی ہے۔ رشتے محبت کے سچے جذبے سے بھی زیادہ توانائی رکھتے ہیں۔۔۔۔۔ہر چیز کو مات دے دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہم رشتوں کو محبت کا فلسفہ سمجھا سمجھا کے تھک جاتے ہیں تو ان کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ان کی مان لیتے ہیں۔۔۔۔چلو بہت لمبا انٹرویو ہوگیا۔ میرا پیغام محبت ہی ہے تمہارے قارئین کے لیے۔۔۔ اب سمیٹو یہ بساط۔ "
فرحین نے اپنی ازلی مسکراہٹ کو چہرے پر سجایا۔ 
پھر کیمرے نے دکھایا۔ 
فرحین آغا نے اپنے بچوں کو بلالیا ان کے ساتھ چند تصویریں بنوائیں، انٹرویو ٹیم کو کھانا کھلایا اور کیمرہ کلوز ہوگیا۔
جمال ترمذی نے فرحین کا پورا انٹرویو سنا اور اسے بغور دیکھا، دل میں اتارا۔کتنی مدت بعد وہ اسے دیکھ رہا تھا کبھی جسے دیکھے اور سنے بغیر شام ہی نہیں ڈھلتی تھی۔ 
۔ وہ دل سے اس عورت کے حرف حرف کا معترف تھا اور مجرم بھی۔۔۔اپنے ادھورے وجود کے ساتھ وہ بھی تو یہی کرتا پھر رہا تھا۔بہت بڑا آدمی،اپنے بیوی بچے، اپنی دنیا کی گہما گہمی ، بس مکمل ہونے کا ڈھونگ اور ایک یاد ۔۔۔۔۔۔ یہی تو کل تھا۔۔۔۔۔۔محبت کل ہے۔۔۔۔ انسان تو بس جزوِ محض ہے۔ محبت کے سمندر کا ایک ذرہ۔

اپنی سانسوں کو توازن میں چلانے کے لیے
ایک بے نام تعلق بھی بہت ہوتا ہے
____
ایک غزل احباب کی نذر 
غزل 
لاکھ پیچھے غموں کا لشکر ہے
پھر بھی چہرا مرا گلِ تر ہے

کوئی صحرا کوئی سمندر ہے 
سب کا اپنا میاں! مقدّر ہے 

آج پھر اوج پہ مقدر ہے 
ہے جبیں میری اور ترا درہے

اس کےاندر بھی ایک منظر ہے 
آئینہ آئینے کےاندر ہے 

مجھ پہ چلتا نہیں کوئی جادو
یاد مجھکو بھی ایسا منتر ہے

چاہے مفلس ہو یا تونگر ہو
سب نظر میں مری برابر ہے

میں تری دسترس میں ہوں لیکن
تو مری دسترس سے باہر ہے

میرے حصّے میں کیسے آئے گا
وہ کسی اور کا مقدّر ہے

نفس کہتے ہیں اس کو اے لوگو!
اپنا دشمن جو اپنے اندر ہے

پیاس اپنی بجھا نہیں سکتا 
وہ بظاہر تو اک سمندر ہے

آج سب کو سمجھ میں آئے گا
کون شیشہ ہے کون پتھر ہے

مجھ پہ سایہ ہے میرے مرشد کا
اور دعاؤں کی سر پہ چادر ہے

شعر دیتے نہیں سلامی یوں
میرا لہجہ ذرا سا ہٹ کر ہے

روز ڈھاتا ہے تو ستم مجھ پر
یار! دلبر ہے یا ستمگر ہے

وہ جو رہتے ہیں شیش محلوں میں
سنگ باری کا بس انھیں ڈر ہے

سب کا اپنا نصیب ہے پیارے
کوئی مفلس کوئی تونگر ہے

کیسے اس کو گلے لگاؤں میں
میں ہوں سورج وہ موم پیکر ہے

میرے رونے پہ ہنس رہےہو تم
بعد میرے تمہارا نمبر ہے

آج تہذیب ان سے زندہ ہے
سر پہ بوسیدہ جن کے چادر ہے

بچ کے رہنا کہ اب بھی لشکر میں
میر صادق ہی میر جعفر ہے

اس کو کیوں یہ سمجھ نہیں آتا
وہ مری زندگی کا محور ہے

یاد رکھ خوش دلی سے ڈھونا ہے
بار رشتوں کا جو ترے سر ہے

عرفان ندیم مالیگاؤں
_____
ایک تجرباتی غزل جو بحر متدارک مثمن سالم کے نصف ارکان پر مشتمل ہے ۔جسے بحر متدارک مربّع سالم کہہ سکتے ہیں۔
               غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شفیق ناظم
راستے پُر خطر بے خبر راہبر
حوصلہ ہے اگر آسماں آنکھ بھر
سو دکھوں کی دوا آپ کی اک نظر
خاک پر ہے جبیں تذکرہ عرش پر
حال دل کا بیاں چشم تر چشم تر
بوسہء تیغ ہے لذّت ِ خوب تر
زندگی کر فدا مرضیء یار پر
عقل دل درمیاں فاصلہ اس قدر
تو الف تو ہی یا قصّہ المختصر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جلگاؤں۔۔مہاراشٹر۔۔۔انڈیا

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...