سردار ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج ۔مالیگاوں میں نشہ، خودکشی کی روک تھام اور بیداری کے لئے ریلی کا اہتمام کیاگیا جس میں اساتذہ کرام کی رہنمائ میں طلباء و طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور خوب نعرے لگائے مثلأ آو شہر کو سماجی برائیوں سے پاک کریں خودکشی حرام ہے، نشہ حرام ہے ، جوا، سٹہ، نشہ، شراب و سود حرام ہے، سماجی برائیاں شہر پر بدنما داغ ہیں، شہر کو سماجی برائیوں سے پاک کرو، تعلیم کو عام کرو، امت کی زبوں حالی کا تعلیم ہی واحد حل، وغیرہ نعروں سے گرووار وارڈ، اسلام نگر، امن چوک، راجہ نگر و خوشامد پورہ کا علاقہ گونج اٹھا، پرنسپل ایوبی شاہد سر کی ایماء پر اساتذہ و معلمات کی نگرانی میں ریلی کا کامیاب انعقاد ہوا-
*ایک آفیسر ایسا بھی....*
( مالیگاؤں)
ہم آۓ دن دیکھتے ہیں کہ شہر بھر میں ہر طرف اتی کرمن اور ٹریفک کی بھر مار سے جگہ جگہ بھیڑ جمع ہوجاتی ہے
لوگوں کو آنے جانے میں بے حد دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے.
اسکولی طلبہ و طالبات بے حد مشکل سے اسکول اور گھر پہنچتے ہیں،
ایسے میں آج دوپہر ایک بجے کے قریب ایک دلچسپ واقعے نے بے ساختہ نظریں کھینچ لی.
واقعہ یہ تھا کہ ہزار کھولی میں سخاوت ہوٹل سے آگے جاتے ہوۓ
اچھا خاصاٹریفک جمع ہوگیا
بھیڑ میں بچے، بوڑھے اور بائیک سوار بھی شامل تھے
ہارن بجنے اور بجاۓ جانے کے بعد بھی بائیک سوار جنہوں نے اپنی بائیک بے ہنگم انداز میں سڑک کے کافی بیچ میں کھڑی کر رکھی تھی اور ہٹانے کیلئے تیار نہیں تھے، نا ہی کسی کے کان پر جوں رینگ رہی تھی
جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوچکا تھا
اسی وقت عائشہ نگر پولس اسٹیشن کی ایک پولس وین کا بھی گزر وہاں سے ہوا.
اور اس وقت سادی وردی میں انسپکٹر پرشانت آہیرے سر بھی گاڑی سے وہاں سے گزرے.
آپ نے اشارے سے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا اشارہ کیا
اور آپ گاڑی سے باہر نکل کر آ ۓ،
پرشانت سر کو پولس کو گاڑی سے اترتے دیکھ کر لوگوں نے دَم سادھ لیا
ہر کوئی وہیں رک رک کر دیکھنے لگا کہ اب کیا ہوتا ہے، لوگ اچُک اُچک کر دیکھنے کی کوشش کرنے لگے، پورے مجمع پر خاموشی چھا گئی،
آفیسر پرشانت اپنے خاموش انداز میں گاڑی سے اتر کر بھری دھوپ میں چلتے ہوۓ بائیک تک آ ۓ
انہوں نے نا اپنے پولس ہونے کا رعب جمایا نا ہی کسی کو نظر اٹھا کر گھورا نا غراّۓ، وہ بے حد سنجیدگی سے بائیک تک چل کر آۓ اور بائیک جس بے تُکے طریقے سے سڑک کے بیچوں بیچ پارک تھی آپ نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ یہ بائیک کس کی ہے
نا ہی کسی کو طلب کیا ایک لمحہ کیلئے مجمع پریشانی سے بائیک سوار کو دیکھنے لگا جس کے چہرے پر خوف کے آثار تھے آفیسر پرشانت نے نہایت سنجیدگی سے اپنے جیب سے چابی نکالی اور بائیک کے دونوں ٹائرؤں سے ہوا نکال دی،
اور اسی سنجیدگی سے مخصوص انداز میں چلتے اپنی وین میں واپس جا کر بیٹھ گئے.
یہ دیکھ کر جس بھائی کی بائیک بے سٹل انداز میں کھڑی تھی اسے بے حد شرمندگی کا احساس ہوا،
اور انہیں دیکھ کر دوسرے سارے لوگوں نے فوراً بائیک کو صحیح انداز سے لگانا دوکان کے آس پاس لگانا اور راستوں سے ہٹانا شروع کیا آناً فاناً پورا راستہ صاف ہوگیا اور آمد و رفت میں بے حد آسانی ہوگئی
لوگوں کو تربیت دینے اور سکھانے کا یہ انداز نرالا تھا
جو ایک فرض شناس آفیسر ہی کر سکتا ہے جنہوں نے ایک لفظ بھی کہے بغیر، رعب جماۓ بغیر لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس دلایا
اور مجمع کا دل جیت لیا.
اسٹاف رپورٹ:شگفتہ سبحانی
____________
افسانہ
حامد سراج
:
ڈھولک کی تھاپ پر لڑکیاں رخصتی کا گیت گا رہی تھیں ………!
کِناں جمیاں تے کِناں لے جانڑیاں (کس گھر جنم لیا اور کون ہمیشہ کے لیے لے جائے گا)
میں لڑکیوں کے جھرمٹ میں گیت کے بول سن کر ایک لمحے کو اداس ہوئی اور کسی بہانے کمرے سے نکل کر باہر صحن میں آ گئی۔آسمان تاروں سے جگمگا رہا تھا ۔ہوا میں خنکی تھی۔فضا میں جھینگر کی آواز ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔میں نے دیوار ودر کو غور سے دیکھا۔اینٹوں کی درزوں سے میرابچپن نکل آیا۔میں صحن میں سٹاپو کھیلنے لگی ۔کھیلنے کے بعد نل سے پانی کی بالٹی بھر لائی۔ماں کے ساتھ چولہے میں لکڑیاں رکھنے میں ہاتھ بٹایا۔توے پر روٹی ڈالی اور گرم گرم روٹی با با کے سامنے لا رکھی۔
بابا ……….. سالن میں مرچیں تیز تو نہیں ہو گئیں ….؟
نہیں بیٹا …
با با … ٹہریں میں دودھ لا دیتی ہوںآپ تو ایسے ہی کہہ دیتے ہیں کہ مرچیں نہیں ہیں۔
میں نے بابا کے سامنے سے پلیٹ اٹھا لی اور دودھ کا گلاس رکھ دیا۔
بچپن اینٹ کی درزوں کا رستہ بھول گیا۔
میں بچپن کا ہاتھ تھام کے رو دی …… کیا میں اس گھر سے ہمیشہ کے لیے جا رہی ہوں۔یہ درخت‘ منڈیر پر بیٹھا کوا‘ برآمدے میں چڑیوں کا گھونسلہ‘ ماں ‘ بھائی بہن‘نل سے گرتا تازہ پانی‘ توے پر سے اترتی گرم روٹی‘ بابا کا سالن‘ سہیلیاں ،سٹاپو ‘ گڑیاں پٹولے سب کے سب چھوڑ جاؤ ں گی …..؟وہ آذادی جو مجھے اس گھر میں تھی کیا اسے کھو دوں گی ….؟ماں باپ سے لڑنا جھگڑنا‘ محبت اور ضد‘ اپنی بات منوا لینے کا مان‘ کیا یہ سب دیوار کے اس پار جس گھر میں جا رہی ہوں وہاں نہیں ہو گا۔
اینٹ کی درزوں سے جھانکتا بچپن میرے وجود سے لپٹ گیا۔میں ایک لمحے میں وہ تمام لمحے کھنگال آئی جو میری زندگی کا حاصل تھے۔بیمار ہونا‘ میری بیماری میں بابا اور ماں کا بے چین ہونا‘ہر موسم میں میری ہر ضرورت کا خیال رکھنا‘ بابا کا پنسل تراش کے دینا‘ سکول کی کاپیوں پر خاکی رنگ کے کور چڑھانا‘ کتابوں کی جلد بندی سے یونیفارم اور سکول کے بستے کے رنگ میرے من میں رنگ بھرنے لگے۔
میں نے کچے صحن کی مٹی کو ہاتھ سے چھوا اور چوم لیا۔
یہ میرے بابا کا گھر ہے۔اسے کون چھین سکتا ہے مجھ سے ….؟ میں اسے مکمل اپنے اندر تعمیر کر لوں گی۔سسرال میں کون روک سکے گا مجھے۔سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں میں بابا کے گھر کود جایا کروں گی۔
اندر ڈھولک کی تھاپ پر گیت کے بول اٹھاتی لڑکیوں کے قہقہے مجھے سنائی دیے‘ بچپن چپکے سے اینٹوں کی درزوں میں چھپ گیا۔میں کمرے میں آ گئی۔شادی کی تیاریاں جوبن پر تھیں ۔کپڑے سجائے اور دکھائے جا رہے تھے۔زیور‘ رنگ برنگی چوڑیاں‘ میک اپ کا سامان ‘رشتہ دار ‘ باتیں ،قہقہے‘ سہیلیاں ‘ کھانے ‘ چائے‘ رنگ ونور کی برسات تھی۔
رخصتی کے روز سورج قریباً نو گھنٹے کا سفر طے کر کے میرے گھر کی دیواروں پر اداسی کے قلم سے ہجر کے نقش و نگار بنا رہا تھا۔کار ریورس کر کے لگا دی گئی تھی ۔پاؤں کے نیچے سے سرکتی زمین پر پاؤں دھرتی میں کار تک پہنچی۔ ماں کی آنکھیں سرخ تھیں۔بابا جو سنبل کے درخت کی آدھی چھاؤں میں کھڑا تھا۔اس کا ضبط کا بندھن بھی ٹوٹ چکا تھا۔
میرا بچپن گھر کی دیواروں سے اتر کرمیرے ساتھ کار میں بیٹھنا بھول گیا۔
کار جب بستی کا آخری موڑ مڑی تو منظر دھندلا گئے۔
بابا جو سنبل کے درخت کی آدھی چھاؤں میں کھڑا تھا۔۔۔اس نے دھندلی آنکھوں سے دیوار و در کو دیکھا۔
گھر ایک دم خالی ہو گیا ……… بنجر‘ اداس‘ بکھرا‘اجڑا سا ……‘‘
گھر کی روح کار میں بیٹھ کر گھر سے رختِ سفر باندھ گئی۔
تیسرے روز کی بات ہے،
گھر میں چہل پہل تھی‘ رونق ‘ رنگ ونور کی برسات …….‘‘
میں گھر آئی تھی۔
عصر کے وقت میں نے کھنکتی ہوئی آواز میں پوچھا،بابا …. اب یہاں اس گھر میں میں مکمل نماز ادا کروں گی یا نمازِ قصریعنی سفر کی نماز ……….؟
بیٹا …. یہ گھر اب تمہارا نہیں ہے تم نمازِ قصر ادا کرو گی!!
دیواروں کی درزوں میں میرا بچپن رونے لگا …..!‘‘
_______
🔴ورن آنند لدھیانہ
🎬 غزل
چاند ستارے پھول پرندے شام سویرا ایک طرف
ساری دنیا اس کا چربہ اس کا چہرا ایک طرف
وہ لڑ کر بھی سو جائے تو اس کا ماتھا چوموں میں
اس سے محبت ایک طرف ہے اس سے جھگڑا ایک طرف
جس شے پر وہ انگلی رکھ دے اس کو وہ دلوانی ہے
اس کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف
ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابہ ہے
سب کا کہنا ایک طرف ہے اس کا کہنا ایک طرف
زخموں پر مرہم لگواؤ لیکن اس کے ہاتھوں سے
چارہ سازی ایک طرف ہے اس کا چھونا ایک طرف
اس نے ساری دنیا مانگی میں نے اس کو مانگا ہے
اس کے سپنے ایک طرف ہیں میرا سپنا ایک طرف
___________
غزل
سانس لیتے ہوئے گھن آتی ہے ۔۔
یہ زمیں ویشیا کی چھاتی ہے۔۔
ہم کسی اور ہی جہان کے تھے ۔۔
آدمی ہونا حادثاتی ہے ۔۔
مجھ کو کہتی ہے پورے پاگل ہو۔۔
اور انگلی کو یوں گھماتی ہے ۔۔
تجھ حیا کو جو کھینچتی ہے ہوس ۔۔
یوں سمجھ ، جوئےشیر لاتی ہے ۔۔
اک بدن سے جڑی ہوئی ہے حس ۔۔
دیکھیے کب فراغ پاتی ہے ۔۔
نرگسی پھول نیلے پانی پر ۔۔
ایک کشتی ندی میں گاتی ہے ۔۔
زندگی ، موت کے نشے میں ہے۔۔
دم بہ دم ڈولتی ہی جاتی ہے۔۔
کن کواڑوں سے جھانکتی ہے حیات ۔۔
روشنی کس جگہ سے آتی ہے ۔۔
میں کوئی شام ہوں جسےراشد۔۔
زندگی بے طرح مناتی ہے۔۔
راشد امام